Loading...

Loading...
کتب
۶۶ احادیث
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار باتیں انبیاء و رسل کی سنت میں سے ہیں: حیاء کرنا، عطر لگانا، مسواک کرنا اور نکاح کرنا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے –
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا حفص بن غياث، عن الحجاج، عن مكحول، عن ابي الشمال، عن ابي ايوب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اربع من سنن المرسلين الحياء والتعطر والسواك والنكاح " . قال وفي الباب عن عثمان وثوبان وابن مسعود وعايشة وعبد الله بن عمرو وابي نجيح وجابر وعكاف . قال ابو عيسى حديث ابي ايوب حديث حسن غريب . حدثنا محمود بن خداش البغدادي، حدثنا عباد بن العوام، عن الحجاج، عن مكحول، عن ابي الشمال، عن ابي ايوب، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث حفص . قال ابو عيسى وروى هذا الحديث هشيم ومحمد بن يزيد الواسطي وابو معاوية وغير واحد عن الحجاج عن مكحول عن ابي ايوب ولم يذكروا فيه عن ابي الشمال وحديث حفص بن غياث وعباد بن العوام اصح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہم نوجوان تھے، ہمارے پاس ( شادی وغیرہ امور میں سے ) کسی چیز کی مقدرت نہ تھی۔ تو آپ نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تمہارے اوپر ۱؎ نکاح لازم ہے، کیونکہ یہ نگاہ کو نیچی کرنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے۔ اور جو تم میں سے نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس پر صوم کا اہتمام ضروری ہے، کیونکہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس سند سے کئی لوگوں نے اسی کے مثل اعمش سے روایت کی ہے، ۳- اور ابومعاویہ اور محاربی نے یہ حدیث بطریق: «الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، ۴- دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن عمارة بن عمير، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله بن مسعود، قال خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ونحن شباب لا نقدر على شيء فقال " يا معشر الشباب عليكم بالباءة فانه اغض للبصر واحصن للفرج فمن لم يستطع منكم الباءة فعليه بالصوم فان الصوم له وجاء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا الاعمش، عن عمارة، نحوه . قال ابو عيسى وقد روى غير، واحد، عن الاعمش، بهذا الاسناد مثل هذا . وروى ابو معاوية، والمحاربي، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . قال ابو عيسى كلاهما صحيح
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شادی زندگی گزارنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زید بن اخزم نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ قتادہ نے یہ آیت کریمہ: «ولقد أرسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم أزواجا وذرية» ۲؎ ”ہم آپ سے پہلے کئی رسول بھیج چکے ہیں، ہم نے انہیں بیویاں عطا کیں اور اولادیں“ پڑھی ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اشعث بن عبدالملک نے یہ حدیث بطریق: «الحسن عن سعد بن هشام عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، ۳- کہا جاتا ہے کہ یہ دونوں ہی حدیثیں صحیح ہیں، ۴- اس باب میں سعد، انس بن مالک، عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو هشام الرفاعي، وزيد بن اخزم الطايي، واسحاق بن ابراهيم البصري، قالوا حدثنا معاذ بن هشام، عن ابيه، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن التبتل . قال ابو عيسى وزاد زيد بن اخزم في حديثه وقرا قتادة : (ولقد ارسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم ازواجا وذرية ) . قال وفي الباب عن سعد وانس بن مالك وعايشة وابن عباس . قال ابو عيسى حديث سمرة حديث حسن غريب . وروى الاشعث بن عبد الملك هذا الحديث عن الحسن عن سعد بن هشام عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . ويقال كلا الحديثين صحيح
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون کو بغیر شادی کے زندگی گزارنے کی اجازت نہیں دی، اگر آپ انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، وغير، واحد، قالوا اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن سعد بن ابي وقاص، قال رد رسول الله صلى الله عليه وسلم على عثمان بن مظعون التبتل ولو اذن له لاختصينا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہیں کوئی ایسا شخص شادی کا پیغام دے، جس کی دین داری اور اخلاق سے تمہیں اطمینان ہو تو اس سے شادی کر دو۔ اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور فساد عظیم برپا ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی اس روایت میں عبدالحمید بن سلیمان کی مخالفت کی گئی ہے، اسے لیث بن سعد نے بطریق: «ابن عجلان عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً ( منقطعاً ) روایت کی ہے ( یعنی: ابن وشیمہ کا ذکر نہیں کیا ہے ) ، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کا کہنا ہے کہ لیث کی حدیث اشبہ ( قریب تر ) ہے، انہوں ( بخاری ) نے عبدالحمید کی حدیث کو محفوظ شمار نہیں کیا، ۳- اس باب میں ابوحاتم مزنی اور عائشہ رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الحميد بن سليمان، عن ابن عجلان، عن ابن وثيمة النصري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا خطب اليكم من ترضون دينه وخلقه فزوجوه الا تفعلوا تكن فتنة في الارض وفساد عريض " . قال وفي الباب عن ابي حاتم المزني وعايشة . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة قد خولف عبد الحميد بن سليمان في هذا الحديث . فرواه الليث بن سعد عن ابن عجلان عن عبد الله بن هرمز عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . قال ابو عيسى قال محمد وحديث الليث اشبه . ولم يعد حديث عبد الحميد محفوظا
ابوحاتم مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس جب کوئی ایسا شخص ( نکاح کا پیغام لے کر ) آئے، جس کی دین داری اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس سے نکاح کر دو۔ اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور فساد برپا ہو گا ۱؎ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر اس میں کچھ ہو؟ آپ نے تین بار یہی فرمایا: ”جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص آئے جس کی دین داری اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس سے نکاح کر دو ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوحاتم مزنی کو شرف صحبت حاصل ہے، ہم اس کے علاوہ ان کی کوئی حدیث نہیں جانتے جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو۔
حدثنا محمد بن عمرو السواق البلخي، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن عبد الله بن مسلم بن هرمز، عن محمد، وسعيد، ابنى عبيد عن ابي حاتم المزني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا جاءكم من ترضون دينه وخلقه فانكحوه الا تفعلوا تكن فتنة في الارض وفساد " . قالوا يا رسول الله وان كان فيه قال " اذا جاءكم من ترضون دينه وخلقه فانكحوه " . ثلاث مرات . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وابو حاتم المزني له صحبة ولا نعرف له عن النبي صلى الله عليه وسلم غير هذا الحديث
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت سے نکاح اس کی دین داری، اس کے مال اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے کیا جاتا ہے ۱؎ لیکن تو دیندار ( عورت ) سے نکاح کو لازم پکڑ لو ۲؎ تمہارے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عوف بن مالک، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا، عبداللہ بن عمرو، اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن محمد بن موسى، اخبرنا اسحاق بن يوسف الازرق، اخبرنا عبد الملك بن ابي سليمان، عن عطاء، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان المراة تنكح على دينها ومالها وجمالها فعليك بذات الدين تربت يداك " . قال وفي الباب عن عوف بن مالك وعايشة وعبد الله بن عمرو وابي سعيد . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن صحيح
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک عورت کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے دیکھ لو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں محمد بن مسلمہ، جابر، ابوحمید اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں: اسے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں جب وہ اس کی کوئی ایسی چیز نہ دیکھے جس کا دیکھنا حرام ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- اور «أحرى أن يؤدم بينكما» کے معنی یہ ہیں کہ یہ تم دونوں کے درمیان محبت پیدا کرنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابن ابي زايدة، قال حدثني عاصم بن سليمان، هو الاحول عن بكر بن عبد الله المزني، عن المغيرة بن شعبة، انه خطب امراة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انظر اليها فانه احرى ان يودم بينكما " . وفي الباب عن محمد بن مسلمة وجابر وانس وابي حميد وابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد ذهب بعض اهل العلم الى هذا الحديث وقالوا لا باس ان ينظر اليها ما لم ير منها محرما . وهو قول احمد واسحاق . ومعنى قوله " احرى ان يودم بينكما " قال احرى ان تدوم المودة بينكما
محمد بن حاطب جمحی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حرام اور حلال ( نکاح ) کے درمیان فرق صرف دف بجانے اور اعلان کرنے کا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- محمد بن حاطب کی حدیث حسن ہے، ۲- محمد بن حاطب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، لیکن وہ کم سن بچے تھے، ۳- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا، جابر اور ربیع بنت معوذ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا ابو بلج، عن محمد بن حاطب الجمحي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فصل ما بين الحرام والحلال الدف والصوت " . قال وفي الباب عن عايشة وجابر والربيع بنت معوذ . قال ابو عيسى حديث محمد بن حاطب حديث حسن . وابو بلج اسمه يحيى بن ابي سليم ويقال ابن سليم ايضا . ومحمد بن حاطب قد راى النبي صلى الله عليه وسلم وهو غلام صغير
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نکاح کا اعلان کرو، اسے مسجدوں میں کرو اور اس پر دف بجاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں یہ حدیث غریب حسن ہے، ۲- عیسیٰ بن میمون انصاری حدیث میں ضعیف قرار دیے جاتے ہیں، ۳- عیسیٰ بن میمون جو ابن ابی نجیح سے تفسیر روایت کرتے ہیں، ثقہ ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا عيسى بن ميمون الانصاري، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اعلنوا هذا النكاح واجعلوه في المساجد واضربوا عليه بالدفوف " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب حسن في هذا الباب . وعيسى بن ميمون الانصاري يضعف في الحديث . وعيسى بن ميمون الذي يروي عن ابن ابي نجيح التفسير هو ثقة
ربیع بنت معوذ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جس رات میری شادی اس کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے۔ آپ میرے بستر پر ایسے ہی بیٹھے، جیسے تم ( خالد بن ذکوان ) میرے پاس بیٹھے ہو۔ اور چھوٹی چھوٹی بچیاں دف بجا رہی تھیں اور جو ہمارے باپ دادا میں سے جنگ بدر میں شہید ہوئے تھے ان کا مرثیہ گا رہی تھیں، یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا: ہمارے درمیان ایک نبی ہے جو ان چیزوں کو جانتا ہے جو کل ہوں گی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”یہ نہ کہہ۔ وہی کہہ جو پہلے کہہ رہی تھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا حميد بن مسعدة البصري، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا خالد بن ذكوان، عن الربيع بنت معوذ، قالت جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل على غداة بني بي فجلس على فراشي كمجلسك مني وجويريات لنا يضربن بدفوفهن ويندبن من قتل من ابايي يوم بدر الى ان قالت احداهن وفينا نبي يعلم ما في غد . فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " اسكتي عن هذه وقولي الذي كنت تقولين قبلها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شادی کرنے پر جب کسی کو مبارک باد دیتے تو فرماتے: «بارك الله لك وبارك عليك وجمع بينكما في الخير» ”اللہ تجھے برکت عطا کرے، اور تجھ پر برکت نازل فرمائے اور تم دونوں کو خیر پر جمع کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا رفا الانسان اذا تزوج قال " بارك الله لك وبارك عليك وجمع بينكما في خير " . قال وفي الباب عن عقيل بن ابي طالب . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے یعنی اس سے صحبت کرنے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھے: «بسم الله اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! تو ہمیں شیطان سے محفوظ رکھ اور اسے بھی شیطان سے محفوظ رکھ جو تو ہمیں عطا کرے یعنی ہماری اولاد کو“، تو اگر اللہ نے ان کے درمیان اولاد دینے کا فیصلہ کیا ہو گا تو شیطان اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن منصور، عن سالم بن ابي الجعد، عن كريب، عن ابن عباس، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لو ان احدكم اذا اتى اهله قال بسم الله اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا فان قضى الله بينهما ولدا لم يضره الشيطان " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال میں مجھ سے شادی کی اور شوال ہی میں میرے ساتھ آپ نے شب زفاف منائی، عائشہ رضی الله عنہا اپنے خاندان کی عورتوں کی رخصتی شوال میں کی جانے کو مستحب سمجھتی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے ہم صرف ثوری کی روایت سے جانتے ہیں، اور ثوری اسماعیل بن امیہ سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا سفيان، عن اسماعيل بن امية، عن عبد الله بن عروة، عن عروة، عن عايشة، قالت تزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم في شوال وبنى بي في شوال . وكانت عايشة تستحب ان يبنى بنسايها في شوال . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح لا نعرفه الا من حديث الثوري عن اسماعيل بن امية
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف کے جسم پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: میں نے ایک عورت سے کھجور کی ایک گٹھلی سونے کے عوض شادی کر لی ہے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تمہیں برکت عطا کرے، ولیمہ ۱؎ کرو خواہ ایک ہی بکری کا ہو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، جابر اور زہیر بن عثمان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- احمد بن حنبل کہتے ہیں: گٹھلی بھر سونے کا وزن تین درہم اور تہائی درہم وزن کے برابر ہوتا ہے، ۴- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: پانچ درہم اور تہائی درہم کے وزن کے برابر ہوتا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى على عبد الرحمن بن عوف اثر صفرة فقال " ما هذا " . فقال اني تزوجت امراة على وزن نواة من ذهب . فقال " بارك الله لك اولم ولو بشاة " . قال وفي الباب عن ابن مسعود وعايشة وجابر وزهير بن عثمان . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح . وقال احمد بن حنبل وزن نواة من ذهب وزن ثلاثة دراهم وثلث . وقال اسحاق هو وزن خمسة دراهم وثلث
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی کا ولیمہ ستو اور کھجور سے کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن وايل بن داود، عن ابنه، عن الزهري، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم اولم على صفية بنت حيى بسويق وتمر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
اس سند سے بھی سفیان سے اسی طرح مروی ہے، اور کئی لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «ابن عيينة، عن الزهري، عن أنس» روایت کی ہے لیکن ان لوگوں نے اس میں وائل بن داود اور ان کے بیٹے کے واسطوں کا ذکر نہیں کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: سفیان بن عیینہ اس حدیث میں تدلیس کرتے تھے۔ کبھی انہوں نے اس میں «وائل بن داود عن ابنہ» کا ذکر نہیں کیا ہے اور کبھی اس کا ذکر کیا ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا الحميدي، عن سفيان، نحو هذا . وقد روى غير، واحد، هذا الحديث عن ابن عيينة، عن الزهري، عن انس، ولم يذكروا فيه عن وايل، عن ابنه، . قال ابو عيسى وكان سفيان بن عيينة يدلس في هذا الحديث فربما لم يذكر فيه عن وايل عن ابنه وربما ذكره
ابن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے روز کا کھانا حق ہے، دوسرے روز کا کھانا سنت ہے۔ اور تیسرے روز کا کھانا تو محض دکھاوا اور نمائش ہے اور جو ریاکاری کرے گا اللہ اسے اس کی ریاکاری کی سزا دے گا ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی حدیث کو ہم صرف زیاد بن عبداللہ کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں۔ اور زیاد بن عبداللہ بہت زیادہ غریب اور منکر احادیث بیان کرتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو سنا کہ وہ محمد بن عقبہ سے نقل کر رہے تھے کہ وکیع کہتے ہیں: زیاد بن عبداللہ اس بات سے بہت بلند ہیں کہ وہ حدیث میں جھوٹ بولیں۔
حدثنا محمد بن موسى البصري، حدثنا زياد بن عبد الله، حدثنا عطاء بن السايب، عن ابي عبد الرحمن، عن ابن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " طعام اول يوم حق وطعام يوم الثاني سنة وطعام يوم الثالث سمعة ومن سمع سمع الله به " . قال ابو عيسى حديث ابن مسعود لا نعرفه مرفوعا الا من حديث زياد بن عبد الله . وزياد بن عبد الله كثير الغرايب والمناكير . قال وسمعت محمد بن اسماعيل يذكر عن محمد بن عقبة قال قال وكيع زياد بن عبد الله مع شرفه لا يكذب في الحديث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہیں دعوت دی جائے تو تم دعوت میں آؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابوہریرہ، براء، انس اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف حدثنا بشر بن المفضل، عن اسماعيل بن امية، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايتوا الدعوة اذا دعيتم " . قال وفي الباب عن علي وابي هريرة والبراء وانس وابي ايوب . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوشعیب نامی ایک شخص نے اپنے ایک گوشت فروش لڑکے کے پاس آ کر کہا: تم میرے لیے کھانا بنا جو پانچ آدمیوں کے لیے کافی ہو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بھوک کا اثر دیکھا ہے، تو اس نے کھانا تیار کیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے کے لیے آدمی بھیجا۔ تو اس نے آپ کو اور آپ کے ساتھ جو لوگ بیٹھے تھے سب کو کھانے کے لیے بلایا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( چلنے کے لیے ) اٹھے، تو آپ کے پیچھے ایک اور شخص بھی چلا آیا، جو آپ کے ساتھ اس وقت نہیں تھا جب آپ کو دعوت دی گئی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر پہنچے تو آپ نے صاحب خانہ سے فرمایا: ”ہمارے ساتھ ایک اور شخص ہے جو ہمارے ساتھ اس وقت نہیں تھا، جب تم نے دعوت دی تھی، اگر تم اجازت دو تو وہ بھی اندر آ جائے؟“، اس نے کہا: ہم نے اسے بھی اجازت دے دی، وہ بھی اندر آ جائے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر سے بھی روایت ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق، عن ابي مسعود، قال جاء رجل يقال له ابو شعيب الى غلام له لحام فقال اصنع لي طعاما يكفي خمسة فاني رايت في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم الجوع . قال فصنع طعاما ثم ارسل الى النبي صلى الله عليه وسلم فدعاه وجلساءه الذين معه فلما قام النبي صلى الله عليه وسلم اتبعهم رجل لم يكن معهم حين دعوا فلما انتهى رسول الله صلى الله عليه وسلم الى الباب قال لصاحب المنزل " انه اتبعنا رجل لم يكن معنا حين دعوتنا فان اذنت له دخل " . قال فقد اذنا له فليدخل . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال وفي الباب عن ابن عمر