احادیث
#1102
سنن ترمذی - Marriage
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اگر اس نے اس سے دخول کر لیا ہے تو اس کی شرمگاہ حلال کر لینے کے عوض اس کے لیے مہر ہے، اور اگر اولیاء میں جھگڑا ہو جائے تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حاکم ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یحییٰ بن سعید انصاری، یحییٰ بن ایوب، سفیان ثوری، اور کئی حفاظ حدیث نے اسی طرح ابن جریج سے روایت کی ہے، ۳- ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کی ( پچھلی ) حدیث میں اختلاف ہے، اسے اسرائیل، شریک بن عبداللہ، ابو عوانہ، زہیر بن معاویہ اور قیس بن ربیع نے بسند «أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۴- اور اسباط بن محمد اور زید بن حباب نے بسند «يونس بن أبي إسحق عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۵- اور ابوعبیدہ حداد نے بسند «يونس بن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، اس میں انہوں نے ابواسحاق کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، ۶- نیز یہ حدیث یونس بن ابی اسحاق سے بھی روایت کی گئی ہے انہوں نے بسند «أبي إسحق عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۷- اور شعبہ اور سفیان ثوری بسند «أبي إسحق عن أبي بردة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے“، اور سفیان ثوری کے بعض تلامذہ نے بسند «سفيان عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى» روایت کی ہے، لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ ان لوگوں کی روایت، جنہوں نے بطریق: «أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ ”ولی کے بغیر نکاح نہیں“ میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ابواسحاق سبیعی سے ان لوگوں کا سماع مختلف اوقات میں ہے اگرچہ شعبہ اور ثوری ابواسحاق سے روایت کرنے والے تمام لوگوں سے زیادہ پختہ اور مضبوط حافظہ والے ہیں پھر بھی ان لوگوں ( یعنی شعبہ و ثوری کے علاوہ دوسرے رواۃ ) کی روایت اشبہ ( قریب تر ) ہے۔ اس لیے کہ شعبہ اور ثوری دونوں نے یہ حدیث ابواسحاق سے ایک ہی مجلس میں سنی ہے، ( اور ان کے علاوہ رواۃ نے مختلف اوقات میں ) اس کی دلیل شعبہ کا یہ بیان ہے کہ میں نے سفیان ثوری کو ابواسحاق سے پوچھتے سنا کہ کیا آپ نے ابوبردہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں؟“ تو انہوں نے کہا: ہاں ( سنا ہے ) ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ شعبہ اور ثوری کا مکحول سے اس حدیث کا سماع ایک ہی وقت میں ہے۔ اور ابواسحاق سبیعی سے روایت کرنے میں اسرائیل بہت ہی ثقہ راوی ہیں۔ عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں کہ مجھ سے ثوری کی روایتوں میں سے جنہیں وہ ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں، کوئی روایت نہیں چھوٹی، مگر جو چھوٹی ہیں وہ صرف اس لیے چھوٹی ہیں کہ میں نے اس سلسلے میں اسرائیل پر بھروسہ کر لیا تھا، اس لیے کہ وہ ابواسحاق کی حدیثوں کو بطریق اتم بیان کرتے تھے۔ اور اس باب میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث: ”بغیر ولی کے نکاح نہیں“ میرے نزدیک حسن ہے۔ یہ حدیث ابن جریج نے بطریق: «سليمان بن موسى، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم»، نیز اسے حجاج بن ارطاۃ اور جعفر بن ربیعہ نے بھی بطریق: «الزهري، عن عروة، عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔ نیز زہری نے بطریق: «هشام بن عروة، عن أبيه عروة، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی کے مثل روایت کی ہے۔ بعض محدثین نے زہری کی روایت میں ( جسے انہوں نے بطریق: «عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ) کلام کیا ہے، ابن جریج کہتے ہیں: پھر میں زہری سے ملا اور میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے اس کا انکار کیا اس کی وجہ سے ان لوگوں نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ ابن جریج سے اس بات کو اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کے علاوہ کسی اور نے نہیں نقل کیا ہے، یحییٰ بن معین کہتے ہیں: اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کا سماع ابن جریج سے نہیں ہے، انہوں نے اپنی کتابوں کی تصحیح عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابی رواد کی ان کتابوں سے کی ہے جنہیں عبدالمجید نے ابن جریج سے سنی ہیں۔ یحییٰ بن معین نے اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کی روایت کو جسے انہوں نے ابن جریج سے روایت کی ہے ضعیف قرار دیا ہے۔ ۸- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا عمل اس باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث «لا نكاح إلا بولي» ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ”پر ہے جن میں عمر، علی، عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم وغیرہ بھی شامل ہیں، اسی طرح بعض فقہائے تابعین سے مروی ہے کہ ولی کے بغیر نکاح درست نہیں۔ ان میں سعید بن مسیب، حسن بصری، شریح، ابراہیم نخعی اور عمر بن عبدالعزیز وغیرہ ہیں۔ یہی سفیان ثوری، اوزاعی، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابن جريج، عن سليمان بن موسى، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ايما امراة نكحت بغير اذن وليها فنكاحها باطل فنكاحها باطل فنكاحها باطل فان دخل بها فلها المهر بما استحل من فرجها فان اشتجروا فالسلطان ولي من لا ولي له " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روى يحيى بن سعيد الانصاري ويحيى بن ايوب وسفيان الثوري وغير واحد من الحفاظ عن ابن جريج نحو هذا . قال ابو عيسى وحديث ابي موسى حديث فيه اختلاف رواه اسراييل وشريك بن عبد الله وابو عوانة وزهير بن معاوية وقيس بن الربيع عن ابي اسحاق عن ابي بردة عن ابي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروى اسباط بن محمد وزيد بن حباب عن يونس بن ابي اسحاق عن ابي اسحاق عن ابي بردة عن ابي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروى ابو عبيدة الحداد عن يونس بن ابي اسحاق عن ابي بردة عن ابي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه ولم يذكر فيه عن ابي اسحاق . وقد روي عن يونس بن ابي اسحاق عن ابي بردة عن النبي صلى الله عليه وسلم ايضا . وروى شعبة والثوري عن ابي اسحاق عن ابي بردة عن النبي صلى الله عليه وسلم " لا نكاح الا بولي " . وقد ذكر بعض اصحاب سفيان عن سفيان عن ابي اسحاق عن ابي بردة عن ابي موسى . ولا يصح . ورواية هولاء الذين رووا عن ابي اسحاق عن ابي بردة عن ابي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم " لا نكاح الا بولي " . عندي اصح لان سماعهم من ابي اسحاق في اوقات مختلفة وان كان شعبة والثوري احفظ واثبت من جميع هولاء الذين رووا عن ابي اسحاق هذا الحديث فان رواية هولاء عندي اشبه لان شعبة والثوري سمعا هذا الحديث من ابي اسحاق في مجلس واحد . ومما يدل على ذلك ما حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود، قال انبانا شعبة، قال سمعت سفيان الثوري، يسال ابا اسحاق اسمعت ابا بردة يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا نكاح الا بولي " . فقال نعم . فدل هذا الحديث على ان سماع شعبة والثوري هذا الحديث في وقت واحد . واسراييل هو ثقة ثبت في ابي اسحاق . سمعت محمد بن المثنى يقول سمعت عبد الرحمن بن مهدي يقول ما فاتني من حديث الثوري عن ابي اسحاق الذي فاتني الا لما اتكلت به على اسراييل لانه كان ياتي به اتم . - وحديث عايشة في هذا الباب عن النبي صلى الله عليه وسلم " لا نكاح الا بولي " حديث عندي حسن . رواه ابن جريج عن سليمان بن موسى عن الزهري عن عروة عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم . ورواه الحجاج بن ارطاة وجعفر بن ربيعة عن الزهري عن عروة عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروي عن هشام بن عروة عن ابيه عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله . وقد تكلم بعض اصحاب الحديث في حديث الزهري عن عروة عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابن جريج ثم لقيت الزهري فسالته فانكره . فضعفوا هذا الحديث من اجل هذا . وذكر عن يحيى بن معين انه قال لم يذكر هذا الحرف عن ابن جريج الا اسماعيل بن ابراهيم . قال يحيى بن معين وسماع اسماعيل بن ابراهيم عن ابن جريج ليس بذاك انما صحح كتبه على كتب عبد المجيد بن عبد العزيز بن ابي رواد ما سمع من ابن جريج وضعف يحيى رواية اسماعيل بن ابراهيم عن ابن جريج . - والعمل في هذا الباب على حديث النبي صلى الله عليه وسلم " لا نكاح الا بولي " . عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم عمر بن الخطاب وعلي بن ابي طالب وعبد الله بن عباس وابو هريرة وغيرهم . وهكذا روي عن بعض فقهاء التابعين انهم قالوا لا نكاح الا بولي . منهم سعيد بن المسيب والحسن البصري وشريح وابراهيم النخعي وعمر بن عبد العزيز وغيرهم وبهذا يقول سفيان الثوري والاوزاعي وعبد الله بن المبارك ومالك والشافعي واحمد واسحاق
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Marriage
- Hadith Index
- #1102
- Book Index
- 23
Grades
- Zubair Ali ZaiIsnaad Sahih
