احادیث
#1104
سنن ترمذی - Marriage
اس سند سے بھی سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا۔ اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غیر محفوظ ہے، ۲- ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مرفوع کیا ہو سوائے اس کے جو عبدالاعلیٰ سے مروی ہے انہوں نے سعید بن ابی عروبہ سے اور سعید نے قتادہ سے مرفوعاً روایت کی ہے، ۳- اور عبدالاعلیٰ سے سعید بن ابی عروبہ کے واسطے سے یہ موقوفا بھی مروی ہے۔ اور صحیح وہ ہے جو ابن عباس کے قول سے مروی ہے کہ بغیر گواہ کے نکاح نہیں، خود ابن عباس کا قول ہے، ۴- اسی طرح سے اور کئی لوگوں نے بھی سعید بن ابی عروبہ سے اسی طرح کی روایت موقوفاً کی ہے، ۵- اس باب میں عمران بن حصین، انس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۶- صحابہ کرام اور تابعین وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ بغیر گواہ کے نکاح درست نہیں۔ پہلے کے لوگوں میں اس سلسلے میں کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن متاخرین اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے، ۷- اہل علم میں اس سلسلے میں اختلاف ہے جب ایک دوسرے کے بعد گواہی دے یعنی دونوں بیک وقت مجلس نکاح میں حاضر نہ ہوں تو کوفہ کے اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ نکاح اسی وقت درست ہو گا جب عقد نکاح کے وقت دونوں گواہ ایک ساتھ موجود ہوں، ۸- اور بعض اہل مدینہ کا خیال ہے کہ جب ایک کے بعد دوسرے کو گواہ بنایا گیا ہو تو بھی جائز ہے جب وہ اس کا اعلان کر دیں۔ یہ مالک بن انس وغیرہ کا قول ہے۔ اسی طرح کی بات اسحاق بن راہویہ نے بھی کہی ہے جو اہل مدینہ نے کہی ہے، ۹- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ نکاح میں ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت جائز ہے، یہ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا غندر، محمد بن جعفر عن سعيد بن ابي عروبة، نحوه ولم يرفعه . وهذا اصح . قال ابو عيسى هذا حديث غير محفوظ لا نعلم احدا رفعه الا ما روي عن عبد الاعلى عن سعيد عن قتادة مرفوعا . وروي عن عبد الاعلى عن سعيد هذا الحديث موقوفا والصحيح ما روي عن ابن عباس قوله لا نكاح الا ببينة هكذا روى اصحاب قتادة عن قتادة عن جابر بن زيد عن ابن عباس لا نكاح الا ببينة . وهكذا روى غير واحد عن سعيد بن ابي عروبة نحو هذا موقوفا . وفي هذا الباب عن عمران بن حصين وانس وابي هريرة . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم من التابعين وغيرهم قالوا لا نكاح الا بشهود . لم يختلفوا في ذلك من مضى منهم الا قوما من المتاخرين من اهل العلم . وانما اختلف اهل العلم في هذا اذا شهد واحد بعد واحد فقال اكثر اهل العلم من اهل الكوفة وغيرهم لا يجوز النكاح حتى يشهد الشاهدان معا عند عقدة النكاح . وقد راى بعض اهل المدينة اذا اشهد واحد بعد واحد فانه جايز اذا اعلنوا ذلك . وهو قول مالك بن انس وغيره . هكذا قال اسحاق فيما حكى عن اهل المدينة . وقال بعض اهل العلم يجوز شهادة رجل وامراتين في النكاح . وهو قول احمد واسحاق
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Marriage
- Hadith Index
- #1104
- Book Index
- 25
Grades
- Zubair Ali ZaiDaif
