احادیث
#1108
سنن ترمذی - Marriage
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ «ثیبہ» ( شوہر دیدہ ) عورت اپنے آپ پر اپنے ولی سے زیادہ استحقاق رکھتی ہے ۱؎ اور کنواری سے بھی اجازت طلب کی جائے گی اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ اور ثوری نے اسے مالک بن انس سے روایت کیا ہے، ۳- بعض لوگوں نے بغیر ولی کے نکاح کے جواز پر اسی حدیث سے دلیل لی ہے۔ حالانکہ اس حدیث میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اس کی دلیل بنے۔ اس لیے کہ ابن عباس سے کئی اور طرق سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح درست نہیں“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابن عباس نے بھی یہی فتویٰ دیا کہ ولی کے بغیر نکاح درست نہیں، ۴- اور «الأيم أحق بنفسها من وليها» کا مطلب اکثر اہل علم کے نزدیک یہ ہے کہ ولی ثیبہ کا نکاح اس کی رضا مندی اور اس سے مشورہ کے بغیر نہ کرے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو خنساء بنت خدام کی حدیث کی رو سے نکاح فسح ہو جائے گا۔ ان کے والد نے ان کی شادی کر دی، اور وہ شوہر دیدہ عورت تھیں، انہیں یہ شادی ناپسند ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کو فسخ کر دیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا مالك بن انس، عن عبد الله بن الفضل، عن نافع بن جبير بن مطعم، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الايم احق بنفسها من وليها والبكر تستاذن في نفسها واذنها صماتها " . هذا حديث حسن صحيح . وقد روى شعبة وسفيان الثوري هذا الحديث عن مالك بن انس . وقد احتج بعض الناس في اجازة النكاح بغير ولي بهذا الحديث وليس في هذا الحديث ما احتجوا به لانه قد روي من غير وجه عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم " لا نكاح الا بولي " وهكذا افتى به ابن عباس بعد النبي صلى الله عليه وسلم فقال لا نكاح الا بولي . وانما معنى قول النبي صلى الله عليه وسلم " الايم احق بنفسها من وليها " . عند اكثر اهل العلم ان الولي لا يزوجها الا برضاها وامرها فان زوجها فالنكاح مفسوخ على حديث خنساء بنت خذام حيث زوجها ابوها وهي ثيب فكرهت ذلك فرد النبي صلى الله عليه وسلم نكاحه
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Marriage
- Hadith Index
- #1108
- Book Index
- 29
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih Muslim
