Loading...

Loading...
کتب
۶۶ احادیث
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے اور کرانے والے پر لعنت بھیجی ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی اور جابر رضی الله عنہما کی حدیث معلول ہے، ۲- اسی طرح اشعث بن عبدالرحمٰن نے بسند «مجالد عن عامر هو الشعبي عن الحارث عن علي» روایت کی ہے۔ اور عامر الشعبی نے بسند «جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۳- اس حدیث کی سند کچھ زیادہ درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ مجالد بن سعید کو بعض اہل علم نے ضعیف گردانا ہے۔ انہی میں سے احمد بن حنبل ہیں، ۴- نیز عبداللہ بن نمیر نے اس حدیث کو بسند «مجالد عن عامر عن جابر بن عبد الله عن علي» روایت کی ہے، اس میں ابن نمیر کو وہم ہوا ہے۔ پہلی حدیث زیادہ صحیح ہے، ۵- اور اسے مغیرہ، ابن ابی خالد اور کئی اور لوگوں نے بسند «الشعبی عن الحارث عن علی» روایت کی ہے، ۶- اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ، عقبہ بن عامر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا اشعث بن عبد الرحمن بن زبيد الايامي، حدثنا مجالد، عن الشعبي، عن جابر بن عبد الله، وعن الحارث، عن علي، قالا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن المحل والمحلل له . قال وفي الباب عن ابن مسعود وابي هريرة وعقبة بن عامر وابن عباس . قال ابو عيسى حديث علي وجابر حديث معلول . هكذا روى اشعث بن عبد الرحمن عن مجالد عن عامر هو الشعبي عن الحارث عن علي وعامر عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم . وهذا حديث ليس اسناده بالقايم لان مجالد بن سعيد قد ضعفه بعض اهل العلم منهم احمد بن حنبل . وروى عبد الله بن نمير هذا الحديث عن مجالد عن عامر عن جابر بن عبد الله عن علي . وهذا قد وهم فيه ابن نمير والحديث الاول اصح . وقد رواه مغيرة وابن ابي خالد وغير واحد عن الشعبي عن الحارث عن علي
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور کرانے والے ( دونوں ) پر لعنت بھیجی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی اور طرق سے بھی روایت کی گئی ہے، ۳- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ جن میں عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، عبداللہ بن عمر وغیرہم رضی الله عنہم بھی شامل ہیں۔ یہی تابعین میں سے فقہاء کا بھی قول ہے اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، وکیع نے بھی یہی کہا ہے، ۴- نیز وکیع کہتے ہیں: اصحاب رائے کے قول کو پھینک دینا ہی مناسب ہو گا ۱؎، ۵- سفیان ثوری کہتے ہیں: آدمی جب عورت سے نکاح اس نیت سے کرے کہ وہ اسے ( پہلے شوہر کے لیے ) حلال کرے گا پھر اسے اس عورت کو اپنی زوجیت میں رکھ لینا ہی بھلا معلوم ہو تو وہ اسے اپنی زوجیت میں نہیں رکھ سکتا جب تک کہ اس سے نئے نکاح کے ذریعے سے شادی نہ کرے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا سفيان، عن ابي قيس، عن هزيل بن شرحبيل، عن عبد الله بن مسعود، قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المحل والمحلل له . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو قيس الاودي اسمه عبد الرحمن بن ثروان . وقد روي هذا الحديث عن النبي صلى الله عليه وسلم من غير وجه . والعمل على هذا الحديث عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم عمر بن الخطاب وعثمان بن عفان وعبد الله بن عمر وغيرهم وهو قول الفقهاء من التابعين وبه يقول سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق . قال وسمعت الجارود بن معاذ يذكر عن وكيع انه قال بهذا وقال ينبغي ان يرمى بهذا الباب من قول اصحاب الراى . قال جارود قال وكيع وقال سفيان اذا تزوج الرجل المراة ليحللها ثم بدا له ان يمسكها فلا يحل له ان يمسكها حتى يتزوجها بنكاح جديد
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی فتح کے وقت عورتوں سے متعہ ۱؎ کرنے سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سبرہ جہنی اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، البتہ ابن عباس سے کسی قدر متعہ کی اجازت بھی روایت کی گئی ہے، پھر انہوں نے اس سے رجوع کر لیا جب انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس کی خبر دی گئی۔ اکثر اہل علم کا معاملہ متعہ کی حرمت کا ہے، یہی ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عبد الله، والحسن، ابنى محمد بن علي عن ابيهما، عن علي بن ابي طالب، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن متعة النساء وعن لحوم الحمر الاهلية زمن خيبر . قال وفي الباب عن سبرة الجهني وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث علي حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وانما روي عن ابن عباس شيء من الرخصة في المتعة ثم رجع عن قوله حيث اخبر عن النبي صلى الله عليه وسلم وامر اكثر اهل العلم على تحريم المتعة وهو قول الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ متعہ ابتدائے اسلام میں تھا۔ آدمی جب کسی ایسے شہر میں جاتا جہاں اس کی جان پہچان نہ ہوتی تو وہ اپنے قیام کی مدت تک کے لیے کسی عورت سے شادی کر لیتا۔ وہ اس کے سامان کی حفاظت کرتی۔ اس کی چیزیں درست کر کے رکھتی۔ یہاں تک کہ جب آیت کریمہ «إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم» ”لوگ اپنی شرمگاہوں کو صرف دو ہی جگہ کھول سکتے ہیں، ایک اپنی بیویوں پر، دوسرے اپنی ماتحت لونڈیوں پر“، نازل ہوئی تو ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: ان دو کے علاوہ باقی تمام شرمگاہیں حرام ہو گئیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا سفيان بن عقبة، اخو قبيصة بن عقبة حدثنا سفيان الثوري، عن موسى بن عبيدة، عن محمد بن كعب، عن ابن عباس، قال انما كانت المتعة في اول الاسلام كان الرجل يقدم البلدة ليس له بها معرفة فيتزوج المراة بقدر ما يرى انه يقيم فتحفظ له متاعه وتصلح له شييه حتى اذا نزلت الاية : ( الا على ازواجهم او ما ملكت ايمانهم ) قال ابن عباس فكل فرج سوى هذين فهو حرام
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں نہ «جلب» ہے، نہ «جنب» ۱؎ اور نہ ہی «شغار»، اور جو کسی کی کوئی چیز اچک لے، وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس، ابوریحانہ، ابن عمر، جابر، معاویہ، ابوہریرہ، اور وائل بن حجر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا حميد، وهو الطويل قال حدث الحسن، عن عمران بن حصين، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا جلب ولا جنب ولا شغار في الاسلام ومن انتهب نهبة فليس منا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال وفي الباب عن انس وابي ريحانة وابن عمر وجابر ومعاوية وابي هريرة ووايل بن حجر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ نکاح شغار کو درست نہیں سمجھتے، ۳- شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح کسی سے اس شرط پر کرے کہ وہ بھی اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح اس سے کر دے گا اور ان کے درمیان کوئی مہر مقرر نہ ہو، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: نکاح شغار فسخ کر دیا جائے گا اور وہ حلال نہیں، اگرچہ بعد میں ان کے درمیان مہر مقرر کر لیا جائے۔ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۵- لیکن عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ وہ اپنے نکاح پر قائم رہیں گے البتہ ان کے درمیان مہر مثل مقرر کر دیا جائے گا، اور یہی اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن الشغار . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند عامة اهل العلم لا يرون نكاح الشغار . والشغار ان يزوج الرجل ابنته على ان يزوجه الاخر ابنته او اخته ولا صداق بينهما . وقال بعض اهل العلم نكاح الشغار مفسوخ ولا يحل وان جعل لهما صداقا . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وروي عن عطاء بن ابي رباح انه قال يقران على نكاحهما ويجعل لهما صداق المثل . وهو قول اهل الكوفة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کسی عورت سے شادی کی جائے اور اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ ( پہلے سے ) نکاح میں ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوحریز کا نام عبداللہ بن حسین ہے –
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا عبد الاعلى بن عبد الاعلى، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن ابي حريز، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان تزوج المراة على عمتها او على خالتها . وابو حريز اسمه عبد الله بن حسين . حدثنا نصر بن علي، حدثنا عبد الاعلى، عن هشام بن حسان، عن ابن سيرين، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثله . قال وفي الباب عن علي وابن عمر وعبد الله بن عمرو وابي سعيد وابي امامة وجابر وعايشة وابي موسى وسمرة بن جندب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ عورت سے نکاح کیا جائے جب کہ اس کی پھوپھی ( پہلے سے ) نکاح میں ہو یا پھوپھی سے نکاح کیا جائے جبکہ اس کی بھتیجی ( پہلے سے ) نکاح میں ہو یا بھانجی سے نکاح کیا جائے جب کہ اس کی خالہ ( پہلے سے ) نکاح میں ہو یا خالہ سے نکاح کیا جائے جب کہ اس کی بھانجی پہلے سے نکاح میں ہو۔ اور نہ نکاح کیا جائے کسی چھوٹی سے جب کہ اس کی بڑی نکاح میں ہو اور نہ بڑی سے نکاح کیا جائے جب کہ چھوٹی نکاح میں ہو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ہمیں ان کے درمیان اس بات میں کسی اختلاف کا علم نہیں کہ آدمی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بیک وقت کسی عورت کو اس کی پھوپھی کے ساتھ یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں رکھے۔ اگر اس نے کسی عورت سے نکاح کر لیا جب کہ اس کی پھوپھی یا خالہ بھی اس کے نکاح میں ہو یا پھوپھی سے نکاح کر لیا جب کہ اس کی بھتیجی نکاح میں ہو تو ان میں سے جو نکاح بعد میں ہوا ہے، وہ فسخ ہو گا، یہی تمام اہل علم کا قول ہے، ۳- شعبی نے ابوہریرہ کو پایا ہے اور ان سے ( براہ راست ) روایت بھی کی ہے۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: صحیح ہے، ۴- شعبی نے ابوہریرہ سے ایک شخص کے واسطے سے بھی روایت کی ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا داود بن ابي هند، حدثنا عامر، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان تنكح المراة على عمتها او العمة على ابنة اخيها او المراة على خالتها او الخالة على بنت اختها لا تنكح الصغرى على الكبرى ولا الكبرى على الصغرى . قال ابو عيسى حديث ابن عباس وابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند عامة اهل العلم لا نعلم بينهم اختلافا انه لا يحل للرجل ان يجمع بين المراة وعمتها او خالتها فان نكح امراة على عمتها او خالتها او العمة على بنت اخيها فنكاح الاخرى منهما مفسوخ . وبه يقول عامة اهل العلم . قال ابو عيسى ادرك الشعبي ابا هريرة وروى عنه . وسالت محمدا عن هذا فقال صحيح . قال ابو عيسى وروى الشعبي عن رجل عن ابي هريرة
عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ پوری کیے جانے کی مستحق وہ شرطیں ہیں جن کے ذریعے تم نے شرمگاہیں حلال کی ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ انہیں میں عمر بن خطاب بھی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جب کسی شخص نے کسی عورت سے شادی کی اور یہ شرط لگائی کہ وہ اسے اس کے شہر سے باہر نہیں لے جائے گا تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اسے باہر لے جائے، یہی بعض اہل علم کا قول ہے۔ اور شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، ۳- البتہ علی بن ابی طالب سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کی شرط یعنی اللہ کا حکم عورت کی شرط پر مقدم ہے، گویا ان کی نظر میں شوہر کے لیے اسے اس کے شہر سے باہر لے جانا درست ہے اگرچہ اس نے اپنے شوہر سے اسے باہر نہ لے جانے کی شرط لگا رکھی ہو، اور بعض اہل علم اس جانب گئے ہیں اور یہی سفیان ثوری اور بعض اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا وكيع، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن يزيد بن ابي حبيب، عن مرثد بن عبد الله اليزني ابي الخير، عن عقبة بن عامر الجهني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان احق الشروط ان يوفى بها ما استحللتم به الفروج " . حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبد الحميد بن جعفر، نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم عمر بن الخطاب قال اذا تزوج رجل امراة وشرط لها ان لا يخرجها من مصرها فليس له ان يخرجها . وهو قول بعض اهل العلم وبه يقول الشافعي واحمد واسحاق . وروي عن علي بن ابي طالب انه قال شرط الله قبل شرطها . كانه راى للزوج ان يخرجها وان كانت اشترطت على زوجها ان لا يخرجها . وذهب بعض اهل العلم الى هذا وهو قول سفيان الثوري وبعض اهل الكوفة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ۱؎ ثقفی نے اسلام قبول کیا، جاہلیت میں ان کی دس بیویاں تھیں، وہ سب بھی ان کے ساتھ اسلام لے آئیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان میں سے کسی چار کو منتخب کر لیں ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسی طرح اسے معمر نے بسند «الزهري عن سالم بن عبدالله عن ابن عمر» روایت کیا ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ یہ حدیث غیر محفوظ ہے۔ اور صحیح وہ ہے جو شعیب بن ابی حمزہ وغیرہ نے بسند «الزهري عن محمد بن سويد الثقفي» روایت کی ہے کہ غیلان بن سلمہ نے اسلام قبول کیا تو ان کے پاس دس بیویاں تھیں۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ صحیح زہری کی حدیث ہے جسے انہوں نے سالم بن عبداللہ سے اور سالم نے اپنے والد عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ ثقیف کے ایک شخص نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی تو عمر نے اس سے کہا: تم اپنی بیویوں سے رجوع کر لو ورنہ میں تمہاری قبر کو پتھر ماروں گا جیسے ابورغال ۳؎ کی قبر کو پتھر مارے گئے تھے۔ ۴- ہمارے اصحاب جن میں شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی شامل ہیں کے نزدیک غیلان بن سلمہ کی حدیث پر عمل ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، عن سعيد بن ابي عروبة، عن معمر، عن الزهري، عن سالم بن عبد الله، عن ابن عمر، ان غيلان بن سلمة الثقفي، اسلم وله عشر نسوة في الجاهلية فاسلمن معه فامره النبي صلى الله عليه وسلم ان يتخير اربعا منهن . قال ابو عيسى هكذا رواه معمر عن الزهري عن سالم عن ابيه . قال وسمعت محمد بن اسماعيل يقول هذا حديث غير محفوظ والصحيح ما روى شعيب بن ابي حمزة وغيره عن الزهري قال حدثت عن محمد بن سويد الثقفي ان غيلان بن سلمة اسلم وعنده عشر نسوة . قال محمد وانما حديث الزهري عن سالم عن ابيه ان رجلا من ثقيف طلق نساءه فقال له عمر لتراجعن نساءك او لارجمن قبرك كما رجم قبر ابي رغال . قال ابو عيسى والعمل على حديث غيلان بن سلمة عند اصحابنا منهم الشافعي واحمد واسحاق
فیروز دیلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان دونوں میں سے جسے چاہو منتخب کر لو“۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن ابي وهب الجيشاني، انه سمع ابن فيروز الديلمي، يحدث عن ابيه، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله اني اسلمت وتحتي اختان . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اختر ايتهما شيت
فیروز دیلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کیا ہے اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”ان دونوں میں سے جسے چاہو، منتخب کر لو“۔ ( اور دوسرے کو طلاق دے دو ) امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي قال، سمعت يحيى بن ايوب، يحدث عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي وهب الجيشاني، عن الضحاك بن فيروز الديلمي، عن ابيه، قال قلت يا رسول الله اني اسلمت وتحتي اختان . قال " اختر ايتهما شيت " . هذا حديث حسن . وابو وهب الجيشاني اسمه الديلم بن هوشع
رویفع بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنی ( منی ) کسی غیر کے بچے کو نہ پلائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ اور بھی کئی طرق سے رویفع بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت کی گئی ہے، ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ یہ لوگ کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں سمجھتے کہ وہ جب کوئی حاملہ لونڈی خریدے تو وہ اس سے صحبت کرے جب تک کہ اسے وضع حمل نہ ہو جائے، ۴- اس باب میں ابو الدرداء، ابن عباس، عرباض بن ساریہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عمر بن حفص الشيباني البصري، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثنا يحيى بن ايوب، عن ربيعة بن سليم، عن بسر بن عبيد الله، عن رويفع بن ثابت، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من كان يومن بالله واليوم الاخر فلا يسق ماءه ولد غيره " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وقد روي من غير وجه عن رويفع بن ثابت . والعمل على هذا عند اهل العلم لا يرون للرجل اذا اشترى جارية وهي حامل ان يطاها حتى تضع . وفي الباب عن ابي الدرداء وابن عباس والعرباض بن سارية وابي سعيد
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے جنگ اوطاس کے دن کچھ عورتیں قید کیں۔ اور ان کی قوم میں ان عورتوں کے شوہر موجود تھے، لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو یہ آیت نازل ہوئی «والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم» ”تم پر شوہر والی عورتیں بھی حرام ہیں الا یہ کہ وہ تمہاری ملکیت میں آ گئی ہوں“ ( النساء: ۲۴ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اسی طرح سے اسے ثوری نے بطریق: «عثمان البتي عن أبي الخليل عن أبي سعيد» روایت کیا ہے –
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، حدثنا عثمان البتي، عن ابي الخليل، عن ابي سعيد الخدري، قال اصبنا سبايا يوم اوطاس ولهن ازواج في قومهن فذكروا ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فنزلت : (والمحصنات من النساء الا ما ملكت ايمانكم ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وهكذا رواه الثوري عن عثمان البتي عن ابي الخليل عن ابي سعيد . وابو الخليل اسمه صالح بن ابي مريم . وروى همام، هذا الحديث عن قتادة، عن صالح ابي الخليل، عن ابي علقمة الهاشمي، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم . حدثنا بذلك عبد بن حميد، حدثنا حبان بن هلال، حدثنا همام،
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت ۱؎، زانیہ کی کمائی ۲؎ اور کاہن کی مٹھائی ۳؎ سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں رافع بن خدیج، ابوجحیفہ، ابوہریرہ، اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن ابي بكر بن عبد الرحمن، عن ابي مسعود الانصاري، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ثمن الكلب ومهر البغي وحلوان الكاهن . قال وفي الباب عن رافع بن خديج وابي جحيفة وابي هريرة وابن عباس . قال ابو عيسى حديث ابي مسعود حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ کوئی اپنے بھائی کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سمرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- مالک بن انس کہتے ہیں: آدمی کے اپنے بھائی کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجنے کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے کسی عورت کو پیغام دیا ہو اور وہ عورت اس سے راضی ہو گئی ہو، تو کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجے، ۴- شافعی کہتے ہیں کہ اس حدیث کہ آدمی اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے کا مطلب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جب آدمی نے کسی عورت کو پیغام بھیجا ہو اور وہ عورت اس سے راضی ہو گئی ہو اور اس کی طرف مائل ہو گئی ہو تو ایسی صورت میں کسی کے لیے درست نہیں کہ وہ اس کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجے، لیکن اس کی رضا مندی اور اس کا میلان معلوم ہونے سے پہلے اگر وہ اسے پیغام دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کی دلیل فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کی یہ حدیث ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ذکر کیا کہ ابوجہم بن حذیفہ اور معاویہ بن ابی سفیان نے انہیں نکاح کا پیغام دیا ہے تو آپ نے فرمایا: ”ابوجہم کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنا ڈنڈا عورتوں سے نہیں اٹھاتے ( یعنی عورتوں کو بہت مارتے ہیں ) رہے معاویہ تو وہ غریب آدمی ہیں ان کے پاس مال نہیں ہے، لہٰذا تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو“۔ ہمارے نزدیک اس حدیث کا مفہوم ( اور اللہ بہتر جانتا ہے ) یہ ہے کہ فاطمہ نے ان میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی اپنی رضا مندی کا اظہار نہیں کیا تھا اور اگر وہ اس کا اظہار کر دیتیں تو اسے چھوڑ کر آپ انہیں اسامہ رضی الله عنہ سے نکاح کا مشورہ نہ دیتے۔
حدثنا احمد بن منيع، وقتيبة، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قتيبة يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم وقال احمد - قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يبيع الرجل على بيع اخيه ولا يخطب على خطبة اخيه " . قال وفي الباب عن سمرة وابن عمر . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . قال مالك بن انس انما معنى كراهية ان يخطب الرجل على خطبة اخيه اذا خطب الرجل المراة فرضيت به فليس لاحد ان يخطب على خطبته . وقال الشافعي معنى هذا الحديث " لا يخطب الرجل على خطبة اخيه " . هذا عندنا اذا خطب الرجل المراة فرضيت به وركنت اليه فليس لاحد ان يخطب على خطبته فاما قبل ان يعلم رضاها او ركونها اليه فلا باس ان يخطبها والحجة في ذلك حديث فاطمة بنت قيس حيث جاءت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت له ان ابا جهم بن حذيفة ومعاوية بن ابي سفيان خطباها فقال " اما ابو جهم فرجل لا يرفع عصاه عن النساء واما معاوية فصعلوك لا مال له ولكن انكحي اسامة " . فمعنى هذا الحديث عندنا والله اعلم ان فاطمة لم تخبره برضاها بواحد منهما ولو اخبرته لم يشر عليها بغير الذي ذكرت
ابوبکر بن ابی جہم کہتے ہیں کہ میں اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن دونوں فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کے پاس آئے انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاق دے دی اور نہ ان کے لیے رہائش کا انتظام کیا اور نہ کھانے پینے کا۔ اور انہوں نے میرے لیے دس بوری غلہ، پانچ بوری جو کے اور پانچ گیہوں کے اپنے چچا زاد بھائی کے پاس رکھ دیں، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: ”انہوں نے ٹھیک کیا، اور مجھے آپ نے حکم دیا کہ میں ام شریک کے گھر میں عدت گزاروں“، پھر مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام شریک کے گھر مہاجرین آتے جاتے رہتے ہیں۔ تم ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارو“۔ وہاں یہ بھی سہولت رہے گی کہ تم ( سر وغیرہ سے ) کپڑے اتارو گی تو تمہیں وہ نہیں دیکھ پائیں گے، پھر جب تمہاری عدت پوری ہو جائے اور کوئی تمہارے پاس پیغام نکاح لے کر آئے تو مجھے بتانا، چنانچہ جب میری عدت پوری ہو گئی تو ابوجہم اور معاویہ نے مجھے پیغام بھیجا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”معاویہ تو ایسے آدمی ہیں کہ ان کے پاس مال نہیں، اور ابوجہم عورتوں کے لیے سخت واقع ہوئے ہیں“۔ پھر مجھے اسامہ بن زید رضی الله عنہ نے پیغام بھیجا اور مجھ سے شادی کر لی۔ اللہ تعالیٰ نے اسامہ میں مجھے برکت عطا فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اسے سفیان ثوری نے بھی ابوبکر بن ابی جہم سے اسی حدیث کی طرح روایت کیا ہے، اور اس میں انہوں نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسامہ سے نکاح کر لو“۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، قال انبانا شعبة، قال اخبرني ابو بكر بن ابي الجهم، قال دخلت انا وابو سلمة بن عبد الرحمن على فاطمة بنت قيس فحدثتنا ان زوجها طلقها ثلاثا ولم يجعل لها سكنى ولا نفقة . قالت ووضع لي عشرة اقفزة عند ابن عم له خمسة شعيرا وخمسة برا . قالت فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له . قالت فقال " صدق " . قالت فامرني ان اعتد في بيت ام شريك ثم قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان بيت ام شريك بيت يغشاه المهاجرون ولكن اعتدي في بيت ابن ام مكتوم فعسى ان تلقي ثيابك فلا يراك فاذا انقضت عدتك فجاء احد يخطبك فاذنيني " . فلما انقضت عدتي خطبني ابو جهم ومعاوية . قالت فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال " اما معاوية فرجل لا مال له واما ابو جهم فرجل شديد على النساء " . قالت فخطبني اسامة بن زيد فتزوجني فبارك الله لي في اسامة . هذا حديث صحيح . وقد رواه سفيان الثوري عن ابي بكر بن ابي الجهم، نحو هذا الحديث وزاد فيه فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم " انكحي اسامة " . حدثنا محمود بن غيلان حدثنا وكيع عن سفيان عن ابي بكر بن ابي الجهم بهذا
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ عزل ۱؎ کرتے تھے، تو یہودیوں نے کہا: قبر میں زندہ دفن کرنے کی یہ ایک چھوٹی صورت ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہودیوں نے جھوٹ کہا۔ اللہ جب اسے پیدا کرنا چاہے گا تو اسے کوئی روک نہیں سکے گا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عمر، براء اور ابوہریرہ، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان، عن جابر، قال قلنا يا رسول الله انا كنا نعزل فزعمت اليهود انها الموءودة الصغرى . فقال " كذبت اليهود ان الله اذا اراد ان يخلقه لم يمنعه " . قال وفي الباب عن عمر والبراء وابي هريرة وابي سعيد
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم عزل کرتے تھے اور قرآن اتر رہا تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اور بھی کئی طرق سے ان سے مروی ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے عزل کی اجازت دی ہے۔ مالک بن انس کا قول ہے کہ آزاد عورت سے عزل کی اجازت لی جائے گی اور لونڈی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔
حدثنا قتيبة، وابن ابي عمر، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله، قال كنا نعزل والقران ينزل . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن صحيح وقد روي عنه من غير وجه . وقد رخص قوم من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم في العزل . وقال مالك بن انس تستامر الحرة في العزل ولا تستامر الامة
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عزل کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایسا کیوں کرتا ہے؟“۔ ابن ابی عمر نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے: ”اور آپ نے یہ نہیں کہا کہ تم میں سے کوئی ایسا نہ کرے“، اور ان دونوں نے اپنی حدیث میں یہ بھی کہا ہے کہ ”جس جان کو بھی اللہ کو پیدا کرنا ہے وہ اسے پیدا کر کے ہی رہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ اس کے علاوہ اور بھی طرق سے ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے مروی ہے، ۳- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے عزل کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، وقتيبة، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن قزعة، هو ابن يحيى عن ابي سعيد، قال ذكر العزل عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " لم يفعل ذلك احدكم " . زاد ابن ابي عمر في حديثه ولم يقل لا يفعل ذاك احدكم . قالا في حديثهما " فانها ليست نفس مخلوقة الا الله خالقها " . قال وفي الباب عن جابر . قال ابو عيسى حديث ابي سعيد حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن ابي سعيد . وقد كره العزل قوم من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم