Loading...

Loading...
کتب
۶۶ احادیث
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اگر میں چاہوں تو کہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن انہوں نے صرف اتنا کہا: ”سنت ۱؎ یہ ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں سات رات ٹھہرے، اور جب غیر کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین رات ٹھہرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے محمد بن اسحاق نے مرفوع کیا ہے، انہوں نے بسند «ایوب عن ابی قلابہ عن انس» روایت کی ہے اور بعض نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ۳- اس باب میں ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، ۴- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی اور کنواری سے شادی کرے، تو اس کے پاس سات رات ٹھہرے، پھر اس کے بعد ان کے درمیان باری تقسیم کرے، اور پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے جب کسی غیر کنواری ( بیوہ یا مطلقہ ) سے شادی کرے تو اس کے پاس تین رات ٹھہرے۔ مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۵- تابعین میں سے بعض اہل علم نے کہا کہ جب کوئی اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کنواری سے شادی کرے تو وہ اس کے پاس تین رات ٹھہرے اور جب غیر کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں دو رات ٹھہرے۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف حدثنا بشر بن المفضل، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن انس بن مالك، قال لو شيت ان اقول، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ولكنه قال السنة اذا تزوج الرجل البكر على امراته اقام عندها سبعا واذا تزوج الثيب على امراته اقام عندها ثلاثا . قال وفي الباب عن ام سلمة . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح . وقد رفعه محمد بن اسحاق عن ايوب عن ابي قلابة عن انس ولم يرفعه بعضهم . قال والعمل على هذا عند بعض اهل العلم قالوا اذا تزوج الرجل امراة بكرا على امراته اقام عندها سبعا ثم قسم بينهما بعد بالعدل واذا تزوج الثيب على امراته اقام عندها ثلاثا . وهو قول مالك والشافعي واحمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم من التابعين اذا تزوج البكر على امراته اقام عندها ثلاثا واذا تزوج الثيب اقام عندها ليلتين . والقول الاول اصح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان باری تقسیم کرتے ہوئے فرماتے: ”اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے جس پر میں قدرت رکھتا ہوں، لیکن جس کی قدرت تو رکھتا ہے، میں نہیں رکھتا، اس کے بارے میں مجھے ملامت نہ کرنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث کو اسی طرح کئی لوگوں نے بسند «حماد بن سلمة عن أيوب عن أبي قلابة عن عبد الله بن يزيد عن عائشة» روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باری تقسیم کرتے تھے جب کہ اسے حماد بن زید اور دوسرے کئی ثقات نے بسند «أيوب عن أبي قلابة» روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باری تقسیم کرتے تھے اور یہ حماد بن سلمہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور ”جس کی قدرت تو رکھتا ہے میں نہیں رکھتا“ سے مراد محبت و مؤدّۃ ہے، اسی طرح بعض اہل علم نے اس کی تفسیر کی ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا بشر بن السري، حدثنا حماد بن سلمة، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن عبد الله بن يزيد، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقسم بين نسايه فيعدل ويقول " اللهم هذه قسمتي فيما املك فلا تلمني فيما تملك ولا املك " . قال ابو عيسى حديث عايشة هكذا رواه غير واحد عن حماد بن سلمة عن ايوب عن ابي قلابة عن عبد الله بن يزيد عن عايشة ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقسم . ورواه حماد بن زيد وغير واحد عن ايوب عن ابي قلابة مرسلا ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقسم . وهذا اصح من حديث حماد بن سلمة . ومعنى قوله " لا تلمني فيما تملك ولا املك " . انما يعني به الحب والمودة كذا فسره بعض اهل العلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی شخص کے پاس دو بیویاں ہوں اور ان کے درمیان انصاف سے کام نہ لے تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے مسنداً ۱؎ روایت کیا ہے، ۲- اور اسے ہشام دستوائی نے بھی قتادہ سے روایت کیا ہے لیکن اس روایت میں ہے کہ ایسا کہا جاتا تھا … ۳- ہم اس حدیث کو صرف ہمام ہی کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں اور ہمام ثقہ حافظ ہیں ۲؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا همام، عن قتادة، عن النضر بن انس، عن بشير بن نهيك، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا كان عند الرجل امراتان فلم يعدل بينهما جاء يوم القيامة وشقه ساقط " . قال ابو عيسى وانما اسند هذا الحديث همام بن يحيى عن قتادة . ورواه هشام الدستوايي عن قتادة قال كان يقال . ولا نعرف هذا الحديث مرفوعا الا من حديث همام وهمام ثقة حافظ
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لڑکی زینب کو ابوالعاص بن ربیع رضی الله عنہ کے پاس نئے مہر اور نئے نکاح کے ذریعے لوٹا دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند میں کچھ کلام ہے اور دوسری حدیث میں بھی کلام ہے، ۲- اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ عورت جب شوہر سے پہلے اسلام قبول کر لے، پھر اس کا شوہر عدت کے دوران اسلام لے آئے تو اس کا شوہر ہی اس کا زیادہ حقدار ہے جب وہ عدت میں ہو۔ یہی مالک بن انس، اوزاعی، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، وهناد، قالا حدثنا ابو معاوية، عن الحجاج، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رد ابنته زينب على ابي العاصي بن الربيع بمهر جديد ونكاح جديد . قال ابو عيسى هذا حديث في اسناده مقال . والعمل على هذا الحديث عند اهل العلم ان المراة اذا اسلمت قبل زوجها ثم اسلم زوجها وهي في العدة ان زوجها احق بها ما كانت في العدة . وهو قول مالك بن انس والاوزاعي والشافعي واحمد واسحاق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب کو ابوالعاص بن ربیع رضی الله عنہ کے پاس چھ سال بعد ۱؎ پہلے نکاح ہی پر واپس بھیج دیا اور پھر سے نکاح نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کی سند میں کوئی اشکال نہیں ہے، لیکن ہم اس حدیث میں نقد کی وجہ نہیں جانتے ہیں۔ شاید یہ چیز داود بن حصین کی جانب سے ان کے حفظ کی طرف سے آئی ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا يونس بن بكير، عن محمد بن اسحاق، قال حدثني داود بن الحصين، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال رد النبي صلى الله عليه وسلم ابنته زينب على ابي العاصي بن الربيع بعد ست سنين بالنكاح الاول ولم يحدث نكاحا . قال ابو عيسى هذا حديث ليس باسناده باس ولكن لا نعرف وجه هذا الحديث ولعله قد جاء هذا من قبل داود بن حصين من قبل حفظه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمان ہو کر آیا پھر اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آ گئی تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس نے میرے ساتھ اسلام قبول کیا تھا۔ تو آپ اسے مجھے واپس دے دیجئیے۔ تو آپ نے اسے اسی کو واپس دے دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- حجاج نے یہ حدیث بطریق «عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب کو ابوالعاص کے ہاں نئے مہر اور نئے نکاح کے ذریعے لوٹایا، ۳- یزید بن ہارون کہتے ہیں کہ ابن عباس کی حدیث سند کے اعتبار سے سب سے اچھی ہے لیکن عمل «عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده» کی حدیث پر ہے۔
حدثنا يوسف بن عيسى، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا اسراييل، عن سماك بن حرب، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رجلا، جاء مسلما على عهد النبي صلى الله عليه وسلم ثم جاءت امراته مسلمة فقال يا رسول الله انها كانت اسلمت معي فردها على . فردها عليه . هذا حديث صحيح . سمعت عبد بن حميد، يقول سمعت يزيد بن هارون، يذكر عن محمد بن اسحاق، هذا الحديث وحديث الحجاج عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم رد ابنته زينب على ابي العاصي بمهر جديد ونكاح جديد . قال يزيد بن هارون حديث ابن عباس اجود اسنادا . والعمل على حديث عمرو بن شعيب
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ایک عورت سے شادی کی لیکن اس نے نہ اس کا مہر مقرر کیا اور نہ اس سے صحبت کی یہاں تک کہ وہ مر گیا، تو ابن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: اس عورت کے لیے اپنے خاندان کی عورتوں کے جیسا مہر ہو گا۔ نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔ اسے عدت بھی گزارنی ہو گی اور میراث میں بھی اس کا حق ہو گا۔ تو معقل بن سنان اشجعی نے کھڑے ہو کر کہا: بروع بنت واشق جو ہمارے قبیلے کی عورت تھی، کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فیصلہ فرمایا تھا جیسا آپ نے کیا ہے۔ تو اس سے ابن مسعود رضی الله عنہ خوش ہوئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جراح سے بھی روایت ہے۔ ۳- یزید بن ہارون اور عبدالرزاق نے بسند «سفيان عن منصور» سے اسی طرح روایت کی ہے، ۴- ابن مسعود رضی الله عنہ سے یہ اور بھی طرق سے مروی ہے، ۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۲؎ یہی ثوری، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۶- اور صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم صحابہ کہتے ہیں: جن میں علی بن ابی طالب، زید بن ثابت، ابن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم بھی شامل ہیں کہتے ہیں کہ جب آدمی کسی عورت سے شادی کرے، اور اس نے اس سے ابھی دخول نہ کیا ہو اور نہ ہی اس کا مہر مقرر کیا ہو اور وہ مر جائے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس عورت کو میراث میں حق ملے گا، لیکن کوئی مہر نہیں ہو گا ۳؎ اور اسے عدت گزارنی ہو گی۔ یہی شافعی کا بھی قول ہے۔ وہ کہتے ہیں: اگر بروع بنت واشق کی حدیث صحیح ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہونے کی وجہ سے حجت ہو گی۔ اور شافعی سے مروی ہے کہ انہوں نے بعد میں مصر میں اس قول سے رجوع کر لیا اور بروع بنت واشق کی حدیث کے مطابق فتویٰ دیا۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن ابن مسعود، انه سيل عن رجل، تزوج امراة ولم يفرض لها صداقا ولم يدخل بها حتى مات . فقال ابن مسعود لها مثل صداق نسايها لا وكس ولا شطط وعليها العدة ولها الميراث . فقام معقل بن سنان الاشجعي فقال قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في بروع بنت واشق امراة منا مثل الذي قضيت . ففرح بها ابن مسعود . قال وفي الباب عن الجراح . حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا يزيد بن هارون، وعبد الرزاق، كلاهما عن سفيان، عن منصور، نحوه . قال ابو عيسى حديث ابن مسعود حديث حسن صحيح وقد روي عنه، من غير وجه . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وبه يقول الثوري واحمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم علي بن ابي طالب وزيد بن ثابت وابن عباس وابن عمر اذا تزوج الرجل المراة ولم يدخل بها ولم يفرض لها صداقا حتى مات قالوا لها الميراث ولا صداق لها وعليها العدة . وهو قول الشافعي قال لو ثبت حديث بروع بنت واشق لكانت الحجة فيما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروي عن الشافعي انه رجع بمصر بعد عن هذا القول وقال بحديث بروع بنت واشق