احادیث
#1134
سنن ترمذی - Marriage
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ کوئی اپنے بھائی کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سمرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- مالک بن انس کہتے ہیں: آدمی کے اپنے بھائی کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجنے کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے کسی عورت کو پیغام دیا ہو اور وہ عورت اس سے راضی ہو گئی ہو، تو کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجے، ۴- شافعی کہتے ہیں کہ اس حدیث کہ آدمی اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے کا مطلب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جب آدمی نے کسی عورت کو پیغام بھیجا ہو اور وہ عورت اس سے راضی ہو گئی ہو اور اس کی طرف مائل ہو گئی ہو تو ایسی صورت میں کسی کے لیے درست نہیں کہ وہ اس کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجے، لیکن اس کی رضا مندی اور اس کا میلان معلوم ہونے سے پہلے اگر وہ اسے پیغام دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کی دلیل فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کی یہ حدیث ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ذکر کیا کہ ابوجہم بن حذیفہ اور معاویہ بن ابی سفیان نے انہیں نکاح کا پیغام دیا ہے تو آپ نے فرمایا: ”ابوجہم کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنا ڈنڈا عورتوں سے نہیں اٹھاتے ( یعنی عورتوں کو بہت مارتے ہیں ) رہے معاویہ تو وہ غریب آدمی ہیں ان کے پاس مال نہیں ہے، لہٰذا تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو“۔ ہمارے نزدیک اس حدیث کا مفہوم ( اور اللہ بہتر جانتا ہے ) یہ ہے کہ فاطمہ نے ان میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی اپنی رضا مندی کا اظہار نہیں کیا تھا اور اگر وہ اس کا اظہار کر دیتیں تو اسے چھوڑ کر آپ انہیں اسامہ رضی الله عنہ سے نکاح کا مشورہ نہ دیتے۔
حدثنا احمد بن منيع، وقتيبة، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قتيبة يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم وقال احمد - قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يبيع الرجل على بيع اخيه ولا يخطب على خطبة اخيه " . قال وفي الباب عن سمرة وابن عمر . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . قال مالك بن انس انما معنى كراهية ان يخطب الرجل على خطبة اخيه اذا خطب الرجل المراة فرضيت به فليس لاحد ان يخطب على خطبته . وقال الشافعي معنى هذا الحديث " لا يخطب الرجل على خطبة اخيه " . هذا عندنا اذا خطب الرجل المراة فرضيت به وركنت اليه فليس لاحد ان يخطب على خطبته فاما قبل ان يعلم رضاها او ركونها اليه فلا باس ان يخطبها والحجة في ذلك حديث فاطمة بنت قيس حيث جاءت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت له ان ابا جهم بن حذيفة ومعاوية بن ابي سفيان خطباها فقال " اما ابو جهم فرجل لا يرفع عصاه عن النساء واما معاوية فصعلوك لا مال له ولكن انكحي اسامة " . فمعنى هذا الحديث عندنا والله اعلم ان فاطمة لم تخبره برضاها بواحد منهما ولو اخبرته لم يشر عليها بغير الذي ذكرت
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Marriage
- Hadith Index
- #1134
- Book Index
- 56
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
