احادیث
#1124
سنن ترمذی - Marriage
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ نکاح شغار کو درست نہیں سمجھتے، ۳- شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح کسی سے اس شرط پر کرے کہ وہ بھی اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح اس سے کر دے گا اور ان کے درمیان کوئی مہر مقرر نہ ہو، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: نکاح شغار فسخ کر دیا جائے گا اور وہ حلال نہیں، اگرچہ بعد میں ان کے درمیان مہر مقرر کر لیا جائے۔ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۵- لیکن عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ وہ اپنے نکاح پر قائم رہیں گے البتہ ان کے درمیان مہر مثل مقرر کر دیا جائے گا، اور یہی اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن الشغار . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند عامة اهل العلم لا يرون نكاح الشغار . والشغار ان يزوج الرجل ابنته على ان يزوجه الاخر ابنته او اخته ولا صداق بينهما . وقال بعض اهل العلم نكاح الشغار مفسوخ ولا يحل وان جعل لهما صداقا . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وروي عن عطاء بن ابي رباح انه قال يقران على نكاحهما ويجعل لهما صداق المثل . وهو قول اهل الكوفة
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Marriage
- Hadith Index
- #1124
- Book Index
- 46
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
