Loading...

Loading...
کتب
۱۱۵ احادیث
اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے اسی طرح مروی ہے، اور راوی نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ اور اس نے اس میں اس کا بھی ذکر نہیں کیا ہے کہ ” «نعی» موت کے اعلان کا نام ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ عنبسہ کی حدیث سے جسے انہوں نے ابوحمزہ سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے، ۳- ابوحمزہ ہی میمون اعور ہیں، یہ اہل حدیث کے نزدیک قوی نہیں ہیں، ۴- بعض اہل علم نے «نعی» کو مکروہ قرار دیا ہے، ان کے نزدیک «نعی» یہ ہے کہ لوگوں میں اعلان کیا جائے کہ فلاں مر گیا ہے تاکہ اس کے جنازے میں شرکت کریں، ۵- بعض اہل علم کہتے ہیں: اس میں کوئی حرج نہیں کہ اس کے رشتے داروں اور اس کے بھائیوں کو اس کے مرنے کی خبر دی جائے، ۶- ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کو اس کے اپنے کسی قرابت دار کے مرنے کی خبر دی جائے۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، حدثنا عبد الله بن الوليد العدني، عن سفيان الثوري، عن ابي حمزة، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، نحوه ولم يرفعه ولم يذكر فيه والنعى اذان بالميت . قال ابو عيسى وهذا اصح من حديث عنبسة عن ابي حمزة . وابو حمزة هو ميمون الاعور وليس هو بالقوي عند اهل الحديث . قال ابو عيسى حديث عبد الله حديث حسن غريب . وقد كره بعض اهل العلم النعى والنعى عندهم ان ينادى في الناس ان فلانا مات ليشهدوا جنازته . وقال بعض اهل العلم لا باس ان يعلم اهل قرابته واخوانه . وروي عن ابراهيم انه قال لا باس بان يعلم الرجل قرابته
حذیفہ بن الیمان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جب میں مر جاؤں تو تم میرے مرنے کا اعلان مت کرنا۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ بات «نعی» ہو گی۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «نعی» سے منع فرماتے سنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا عبد القدوس بن بكر بن خنيس، حدثنا حبيب بن سليم العبسي، عن بلال بن يحيى العبسي، عن حذيفة بن اليمان، قال اذا مت فلا توذنوا بي احدا اني اخاف ان يكون نعيا فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عن النعى . هذا حديث حسن
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر وہی ہے جو پہلے صدمے کے وقت ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن سعد بن سنان، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الصبر في الصدمة الاولى " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن ثابت البناني، عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الصبر عند الصدمة الاولى " . قال هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی الله عنہ کا بوسہ لیا – وہ انتقال کر چکے تھے – آپ رو رہے تھے۔ یا ( راوی نے ) کہا: آپ کی دونوں آنکھیں اشک بار تھیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، جابر اور عائشہ سے بھی احادیث آئی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیا ۲؎ اور آپ انتقال فرما چکے تھے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن عاصم بن عبيد الله، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قبل عثمان بن مظعون وهو ميت وهو يبكي . او قال عيناه تذرفان . وفي الباب عن ابن عباس وجابر وعايشة قالوا ان ابا بكر قبل النبي صلى الله عليه وسلم وهو ميت . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی ۱؎ کا انتقال ہو گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے طاق بار غسل دو، تین بار یا پانچ بار یا اس سے زیادہ بار، اگر ضروری سمجھو اور پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، آخر میں کافور ملا لینا“، یا فرمایا: ”تھوڑا سا کافور ملا لینا اور جب تم غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا“، چنانچہ جب ہم ( نہلا کر ) فارغ ہو گئے، تو ہم نے آپ کو اطلاع دی، آپ نے اپنا تہبند ہماری طرف ڈال دیا اور فرمایا: ”اسے اس کے بدن سے لپیٹ دو“۔ ہشیم کہتے ہیں کہ اور دوسرے لوگوں ۲؎ کی روایتوں میں، مجھے نہیں معلوم شاید ہشام بھی انہیں میں سے ہوں، یہ ہے کہ انہوں نے کہا: اور ہم نے ان کے بالوں کو تین چوٹیوں میں گوندھ دیا۔ ہشیم کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ ان کی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ پھر ہم نے ان چوٹیوں کو ان کے پیچھے ڈال دیا ۳؎ ہشیم کہتے ہیں: پھر خالد نے ہم سے لوگوں کے سامنے بیان کیا وہ حفصہ اور محمد سے روایت کر رہے تھے اور یہ دونوں ام عطیہ رضی الله عنہا سے کہ وہ کہتی ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے ان کے داہنے سے اور وضو کے اعضاء سے شروع کرنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام عطیہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام سلیم رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ میت کا غسل غسل جنابت کی طرح ہے، ۵- مالک بن انس کہتے ہیں: ہمارے نزدیک میت کے غسل کی کوئی متعین حد نہیں اور نہ ہی کوئی متعین کیفیت ہے، بس اسے پاک کر دیا جائے گا، ۶- شافعی کہتے ہیں کہ مالک کا قول کہ اسے غسل دیا جائے اور پاک کیا جائے مجمل ہے، جب میت بیری یا کسی اور چیز کے پانی سے پاک کر دیا جائے تو بس اتنا کافی ہے، البتہ میرے نزدیک مستحب یہ ہے کہ اسے تین یا اس سے زیادہ بار غسل دیا جائے۔ تین بار سے کم غسل نہ دیا جائے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”اسے تین بار یا پانچ بار غسل دو“، اور اگر لوگ اسے تین سے کم مرتبہ میں ہی پاک صاف کر دیں تو یہ بھی کافی ہے، ہم یہ نہیں سمجھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تین یا پانچ بار کا حکم دینا محض پاک کرنے کے لیے ہے، آپ نے کوئی حد مقرر نہیں کی ہے، ایسے ہی دوسرے فقہاء نے بھی کہا ہے۔ وہ حدیث کے مفہوم کو خوب جاننے والے ہیں، ۷- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: ہر مرتبہ غسل پانی اور بیری کی پتی سے ہو گا، البتہ آخری بار اس میں کافور ملا لیں گے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا خالد، ومنصور، وهشام، فاما خالد وهشام فقالا عن محمد وحفصة وقال منصور عن محمد عن ام عطية قالت توفيت احدى بنات النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اغسلنها وترا ثلاثا او خمسا او اكثر من ذلك ان رايتن واغسلنها بماء وسدر واجعلن في الاخرة كافورا او شييا من كافور فاذا فرغتن فاذنني " . فلما فرغنا اذناه فالقى الينا حقوه فقال " اشعرنها به " . قال هشيم وفي حديث غير هولاء ولا ادري ولعل هشاما منهم قالت وضفرنا شعرها ثلاثة قرون . قال هشيم اظنه قال فالقيناه خلفها . قال هشيم فحدثنا خالد من بين القوم عن حفصة ومحمد عن ام عطية قالت وقال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " وابدان بميامنها ومواضع الوضوء " . وفي الباب عن ام سليم . قال ابو عيسى حديث ام عطية حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم . وقد روي عن ابراهيم النخعي انه قال غسل الميت كالغسل من الجنابة . وقال مالك بن انس ليس لغسل الميت عندنا حد موقت وليس لذلك صفة معلومة ولكن يطهر . وقال الشافعي انما قال مالك قولا مجملا يغسل وينقى واذا انقي الميت بماء قراح او ماء غيره اجزا ذلك من غسله ولكن احب الى ان يغسل ثلاثا فصاعدا لا ينقص عن ثلاث لما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اغسلنها ثلاثا او خمسا " . وان انقوا في اقل من ثلاث مرات اجزا ولا يرى ان قول النبي صلى الله عليه وسلم انما هو على معنى الانقاء ثلاثا او خمسا ولم يوقت . وكذلك قال الفقهاء وهم اعلم بمعاني الحديث . وقال احمد واسحاق وتكون الغسلات بماء وسدر ويكون في الاخرة شيء من كافور
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہترین خوشبو مشک ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، وشبابة، قالا حدثنا شعبة، عن خليد بن جعفر، سمع ابا نضرة، يحدث عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اطيب الطيب المسك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشک کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ تمہاری خوشبوؤں میں سب سے بہتر خوشبو ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسے مستمر بن ریان نے بھی بطریق: «أبي نضرة عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ مستمر بن ریان ثقہ ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- اور بعض اہل علم نے میت کے لیے مشک کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا ابي، عن شعبة، عن خليد بن جعفر، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل عن المسك فقال " هو اطيب طيبكم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم وهو قول احمد واسحاق وقد كره بعض اهل العلم المسك للميت . قال وقد رواه المستمر بن الريان ايضا عن ابي نضرة عن ابي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال علي قال يحيى بن سعيد المستمر بن الريان ثقة . قال يحيى خليد بن جعفر ثقة
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو نہلانے سے غسل اور اسے اٹھانے سے وضو ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے یہ موقوفاً بھی مروی ہے، ۳- اس باب میں علی اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اہل علم کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو میت کو غسل دے۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ جب کوئی کسی میت کو غسل دے تو اس پر غسل ہے، ۵- بعض کہتے ہیں: اس پر وضو ہے۔ مالک بن انس کہتے ہیں: میت کو غسل دینے سے غسل کرنا میرے نزدیک مستحب ہے، میں اسے واجب نہیں سمجھتا ۱؎ اسی طرح شافعی کا بھی قول ہے، ۶- احمد کہتے ہیں: جس نے میت کو غسل دیا تو مجھے امید ہے کہ اس پر غسل واجب نہیں ہو گا۔ رہی وضو کی بات تو یہ سب سے کم ہے جو اس سلسلے میں کہا گیا ہے، ۷-اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: وضو ضروری ہے ۲؎، عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ جس نے میت کو غسل دیا، وہ نہ غسل کرے گا نہ وضو۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد العزيز بن المختار، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من غسله الغسل ومن حمله الوضوء " . يعني الميت . قال وفي الباب عن علي وعايشة . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن وقد روي عن ابي هريرة موقوفا . وقد اختلف اهل العلم في الذي يغسل الميت فقال بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم اذا غسل ميتا فعليه الغسل . وقال بعضهم عليه الوضوء . وقال مالك بن انس استحب الغسل من غسل الميت ولا ارى ذلك واجبا . وهكذا قال الشافعي . وقال احمد من غسل ميتا ارجو ان لا يجب عليه الغسل واما الوضوء فاقل ما قيل فيه . وقال اسحاق لا بد من الوضوء . قال وقد روي عن عبد الله بن المبارك انه قال لا باس ان لا يغتسل ولا يتوضا من غسل الميت
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سفید کپڑے پہنو، کیونکہ یہ تمہارے بہترین کپڑوں میں سے ہیں اور اسی میں اپنے مردوں کو بھی کفناؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سمرہ، ابن عمر اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اہل علم اسی کو مستحب قرار دیتے ہیں۔ ابن مبارک کہتے ہیں: میرے نزدیک مستحب یہ ہے کہ آدمی انہی کپڑوں میں کفنایا جائے جن میں وہ نماز پڑھتا تھا، ۴- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: کفنانے کے لیے میرے نزدیک سب سے پسندیدہ کپڑا سفید رنگ کا کپڑا ہے۔ اور اچھا کفن دینا مستحب ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا بشر بن المفضل، عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البسوا من ثيابكم البياض فانها من خير ثيابكم وكفنوا فيها موتاكم " . وفي الباب عن سمرة وابن عمر وعايشة . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . وهو الذي يستحبه اهل العلم . وقال ابن المبارك احب الى ان يكفن في ثيابه التي كان يصلي فيها . وقال احمد واسحاق احب الثياب الينا ان يكفن فيها البياض ويستحب حسن الكفن
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں کوئی اپنے بھائی کا ( کفن کے سلسلے میں ) ولی ( ذمہ دار ) ہو تو اسے اچھا کفن دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- ابن مبارک کہتے ہیں کہ سلام بن ابی مطیع آپ کے قول «وليحسن أحدكم كفن أخيه» ”اپنے بھائی کو اچھا کفن دو“ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس سے مراد کپڑے کی صفائی اور سفیدی ہے، اس سے قیمتی کپڑا مراد نہیں ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عمر بن يونس، حدثنا عكرمة بن عمار، عن هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن ابي قتادة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا ولي احدكم اخاه فليحسن كفنه " . وفيه عن جابر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وقال ابن المبارك قال سلام بن ابي مطيع في قوله " وليحسن احدكم كفن اخيه " قال هو الصفاق ليس بالمرتفع
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید ۱؎ یمنی کپڑوں میں کفنایا گیا ۲؎ نہ ان میں قمیص ۳؎ تھی اور نہ عمامہ۔ لوگوں نے عائشہ رضی الله عنہا سے کہا: لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کپڑوں اور ایک دھاری دار چادر میں کفنایا گیا تھا؟ تو ام المؤمنین عائشہ نے کہا: چادر لائی گئی تھی لیکن لوگوں نے اسے واپس کر دیا تھا، آپ کو اس میں نہیں کفنایا گیا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حفص بن غياث، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كفن النبي صلى الله عليه وسلم في ثلاثة اثواب بيض يمانية ليس فيها قميص ولا عمامة . قال فذكروا لعايشة قولهم في ثوبين وبرد حبرة . فقالت قد اتي بالبرد ولكنهم ردوه ولم يكفنوه فيه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمزہ بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کو ایک ہی کپڑے میں ایک چادر میں کفنایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کفن کے بارے میں مختلف احادیث آئی ہیں۔ اور ان سبھی حدیثوں میں عائشہ والی حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے، ۳- اس باب میں علی ۱؎، ابن عباس، عبداللہ بن مغفل اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا عمل عائشہ ہی کی حدیث پر ہے، ۵- سفیان ثوری کہتے ہیں: آدمی کو تین کپڑوں میں کفنایا جائے۔ چاہے ایک قمیص اور دو لفافوں میں، اور چاہے تین لفافوں میں۔ اگر دو کپڑے نہ ملیں تو ایک بھی کافی ہے، اور دو کپڑے بھی کافی ہو جاتے ہیں، اور جسے تین میسر ہوں تو اس کے لیے مستحب یہی تین کپڑے ہیں۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ وہ کہتے ہیں: عورت کو پانچ کپڑوں میں کفنایا جائے ۲؎۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا بشر بن السري، عن زايدة، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كفن حمزة بن عبد المطلب في نمرة في ثوب واحد . قال وفي الباب عن علي وابن عباس وعبد الله بن مغفل وابن عمر . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . وقد روي في كفن النبي صلى الله عليه وسلم روايات مختلفة وحديث عايشة اصح الاحاديث التي رويت في كفن النبي صلى الله عليه وسلم . والعمل على حديث عايشة عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم . قال سفيان الثوري يكفن الرجل في ثلاث اثواب ان شيت في قميص ولفافتين وان شيت في ثلاث لفايف ويجزي ثوب واحد ان لم يجدوا ثوبين والثوبان يجزيان والثلاثة لمن وجدها احب اليهم . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . قالوا تكفن المراة في خمسة اثواب
عبداللہ بن جعفر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب جعفر طیار کے مرنے کی خبر آئی ۱؎ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا پکاؤ، اس لیے کہ آج ان کے پاس ایسی چیز آئی ہے جس میں وہ مشغول ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم میت کے گھر والوں کے مصیبت میں پھنسے ہونے کی وجہ سے ان کے یہاں کچھ بھیجنے کو مستحب قرار دیتے ہیں۔ یہی شافعی کا بھی قول ہے، ۳- جعفر بن خالد کے والد خالد سارہ کے بیٹے ہیں اور ثقہ ہیں۔ ان سے ابن جریج نے روایت کی ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، وعلي بن حجر، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن جعفر بن خالد، عن ابيه، عن عبد الله بن جعفر، قال لما جاء نعى جعفر قال النبي صلى الله عليه وسلم " اصنعوا لاهل جعفر طعاما فانه قد جاءهم ما يشغلهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد كان بعض اهل العلم يستحب ان يوجه الى اهل الميت شيء لشغلهم بالمصيبة . وهو قول الشافعي . قال ابو عيسى وجعفر بن خالد هو ابن سارة وهو ثقة روى عنه ابن جريج
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو گریبان پھاڑے، چہرہ پیٹے اور جاہلیت کی ہانک پکارے ۱؎ ہم میں سے نہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، قال حدثني زبيد الايامي، عن ابراهيم، عن مسروق، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس منا من شق الجيوب وضرب الخدود ودعا بدعوة الجاهلية " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
علی بن ربیعہ اسدی کہتے ہیں کہ انصار کا قرظہ بن کعب نامی ایک شخص مر گیا، اس پر نوحہ ۱؎ کیا گیا تو مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ آئے اور منبر پر چڑھے۔ اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر کہا: کیا بات ہے؟ اسلام میں نوحہ ہو رہا ہے۔ سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جس پر نوحہ کیا گیا اس پر نوحہ کیے جانے کا عذاب ہو گا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مغیرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، علی، ابوموسیٰ، قیس بن عاصم، ابوہریرہ، جنادہ بن مالک، انس، ام عطیہ، سمرہ اور ابو مالک اشعری رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا قران بن تمام الاسدي، ومروان بن معاوية، ويزيد بن هارون، عن سعيد بن عبيد الطايي، عن علي بن ربيعة الاسدي، قال مات رجل من الانصار يقال له قرظة بن كعب فنيح عليه فجاء المغيرة بن شعبة فصعد المنبر فحمد الله واثنى عليه وقال ما بال النوح في الاسلام اما اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من نيح عليه عذب بما نيح عليه " . وفي الباب عن عمر وعلي وابي موسى وقيس بن عاصم وابي هريرة وجنادة بن مالك وانس وام عطية وسمرة وابي مالك الاشعري . قال ابو عيسى حديث المغيرة حديث غريب حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں چار باتیں جاہلیت کی ہیں، لوگ انہیں کبھی نہیں چھوڑیں گے: نوحہ کرنا، حسب و نسب میں طعنہ زنی، اور بیماری کا ایک سے دوسرے کو لگ جانے کا عقیدہ رکھنا مثلاً یوں کہنا کہ ایک اونٹ کو کھجلی ہوئی اور اس نے سو اونٹ میں کھجلی پھیلا دی تو آخر پہلے اونٹ کو کھجلی کیسے لگی؟ اور نچھتروں کا عقیدہ رکھنا۔ مثلاً فلاں اور فلاں نچھتر ( ستارے ) کے سبب ہم پر بارش ہوئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، انبانا شعبة، والمسعودي، عن علقمة بن مرثد، عن ابي الربيع، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اربع في امتي من امر الجاهلية لن يدعهن الناس النياحة والطعن في الاحساب والعدوى اجرب بعير فاجرب ماية بعير من اجرب البعير الاول والانواء مطرنا بنوء كذا وكذا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کی ایک جماعت نے میت پر رونے کو مکروہ ( تحریمی ) قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میت کو اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ اور وہ اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، ۴- اور ابن مبارک کہتے ہیں: مجھے امید ہے کہ اگر وہ ( میت ) اپنی زندگی میں لوگوں کو اس سے روکتا رہا ہو تو اس پر اس میں سے کچھ نہیں ہو گا۔
حدثنا عبد الله بن ابي زياد، حدثنا يعقوب بن ابراهيم بن سعد، حدثنا ابي، عن صالح بن كيسان، عن الزهري، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، قال قال عمر بن الخطاب قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الميت يعذب ببكاء اهله عليه " . وفي الباب عن ابن عمر وعمران بن حصين . قال ابو عيسى حديث عمر حديث حسن صحيح . وقد كره قوم من اهل العلم البكاء على الميت قالوا الميت يعذب ببكاء اهله عليه . وذهبوا الى هذا الحديث . وقال ابن المبارك ارجو ان كان ينهاهم في حياته ان لا يكون عليه من ذلك شيء
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی بھی مر جائے پھر اس پر رونے والا کھڑا ہو کر کہے: ہائے میرے پہاڑ، ہائے میرے سردار یا اس جیسے الفاظ کہے تو اسے دو فرشتوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے، وہ اسے گھونسے مارتے ہیں ( اور کہتے جاتے ہیں ) کیا تو ایسا ہی تھا؟“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا محمد بن عمار، حدثني اسيد بن ابي اسيد، ان موسى بن ابي موسى الاشعري، اخبره عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما من ميت يموت فيقوم باكيه فيقول واجبلاه واسيداه او نحو ذلك الا وكل به ملكان يلهزانه اهكذا كنت " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو اپنے گھر والوں کے اس پر رونے سے عذاب دیا جاتا ہے“، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: اللہ ( ابن عمر ) پر رحم کرے، انہوں نے جھوٹ نہیں کہا، انہیں وہم ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ بات اس یہودی کے لیے فرمائی تھی جو مر گیا تھا: ”میت کو عذاب ہو رہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس، قرظہ بن کعب، ابوہریرہ، ابن مسعود اور اسامہ بن زید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- بعض اہل علم اسی جانب گئے ہیں اور ان لوگوں نے آیت: «ولا تزر وازرة وزر أخرى» ”کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“، کا مطلب بھی یہی بیان کیا ہے اور یہی شافعی کا بھی قول ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عباد بن عباد المهلبي، عن محمد بن عمرو، عن يحيى بن عبد الرحمن، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الميت يعذب ببكاء اهله عليه " . فقالت عايشة يرحمه الله لم يكذب ولكنه وهم انما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لرجل مات يهوديا " ان الميت ليعذب وان اهله ليبكون عليه " . قال وفي الباب عن ابن عباس وقرظة بن كعب وابي هريرة وابن مسعود واسامة بن زيد . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن عايشة . وقد ذهب اهل العلم الى هذا وتاولوا هذه الاية (الا تزر وازرة وزر اخرى ) وهو قول الشافعي