احادیث
#993
سنن ترمذی - Funerals
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو نہلانے سے غسل اور اسے اٹھانے سے وضو ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے یہ موقوفاً بھی مروی ہے، ۳- اس باب میں علی اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اہل علم کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو میت کو غسل دے۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ جب کوئی کسی میت کو غسل دے تو اس پر غسل ہے، ۵- بعض کہتے ہیں: اس پر وضو ہے۔ مالک بن انس کہتے ہیں: میت کو غسل دینے سے غسل کرنا میرے نزدیک مستحب ہے، میں اسے واجب نہیں سمجھتا ۱؎ اسی طرح شافعی کا بھی قول ہے، ۶- احمد کہتے ہیں: جس نے میت کو غسل دیا تو مجھے امید ہے کہ اس پر غسل واجب نہیں ہو گا۔ رہی وضو کی بات تو یہ سب سے کم ہے جو اس سلسلے میں کہا گیا ہے، ۷-اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: وضو ضروری ہے ۲؎، عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ جس نے میت کو غسل دیا، وہ نہ غسل کرے گا نہ وضو۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد العزيز بن المختار، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من غسله الغسل ومن حمله الوضوء " . يعني الميت . قال وفي الباب عن علي وعايشة . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن وقد روي عن ابي هريرة موقوفا . وقد اختلف اهل العلم في الذي يغسل الميت فقال بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم اذا غسل ميتا فعليه الغسل . وقال بعضهم عليه الوضوء . وقال مالك بن انس استحب الغسل من غسل الميت ولا ارى ذلك واجبا . وهكذا قال الشافعي . وقال احمد من غسل ميتا ارجو ان لا يجب عليه الغسل واما الوضوء فاقل ما قيل فيه . وقال اسحاق لا بد من الوضوء . قال وقد روي عن عبد الله بن المبارك انه قال لا باس ان لا يغتسل ولا يتوضا من غسل الميت
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Funerals
- Hadith Index
- #993
- Book Index
- 29
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih
