احادیث
#1004
سنن ترمذی - Funerals
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو اپنے گھر والوں کے اس پر رونے سے عذاب دیا جاتا ہے“، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: اللہ ( ابن عمر ) پر رحم کرے، انہوں نے جھوٹ نہیں کہا، انہیں وہم ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ بات اس یہودی کے لیے فرمائی تھی جو مر گیا تھا: ”میت کو عذاب ہو رہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس، قرظہ بن کعب، ابوہریرہ، ابن مسعود اور اسامہ بن زید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- بعض اہل علم اسی جانب گئے ہیں اور ان لوگوں نے آیت: «ولا تزر وازرة وزر أخرى» ”کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“، کا مطلب بھی یہی بیان کیا ہے اور یہی شافعی کا بھی قول ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عباد بن عباد المهلبي، عن محمد بن عمرو، عن يحيى بن عبد الرحمن، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الميت يعذب ببكاء اهله عليه " . فقالت عايشة يرحمه الله لم يكذب ولكنه وهم انما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لرجل مات يهوديا " ان الميت ليعذب وان اهله ليبكون عليه " . قال وفي الباب عن ابن عباس وقرظة بن كعب وابي هريرة وابن مسعود واسامة بن زيد . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن عايشة . وقد ذهب اهل العلم الى هذا وتاولوا هذه الاية (الا تزر وازرة وزر اخرى ) وهو قول الشافعي
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Funerals
- Hadith Index
- #1004
- Book Index
- 40
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
