احادیث
#990
سنن ترمذی - Funerals
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی ۱؎ کا انتقال ہو گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے طاق بار غسل دو، تین بار یا پانچ بار یا اس سے زیادہ بار، اگر ضروری سمجھو اور پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، آخر میں کافور ملا لینا“، یا فرمایا: ”تھوڑا سا کافور ملا لینا اور جب تم غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا“، چنانچہ جب ہم ( نہلا کر ) فارغ ہو گئے، تو ہم نے آپ کو اطلاع دی، آپ نے اپنا تہبند ہماری طرف ڈال دیا اور فرمایا: ”اسے اس کے بدن سے لپیٹ دو“۔ ہشیم کہتے ہیں کہ اور دوسرے لوگوں ۲؎ کی روایتوں میں، مجھے نہیں معلوم شاید ہشام بھی انہیں میں سے ہوں، یہ ہے کہ انہوں نے کہا: اور ہم نے ان کے بالوں کو تین چوٹیوں میں گوندھ دیا۔ ہشیم کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ ان کی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ پھر ہم نے ان چوٹیوں کو ان کے پیچھے ڈال دیا ۳؎ ہشیم کہتے ہیں: پھر خالد نے ہم سے لوگوں کے سامنے بیان کیا وہ حفصہ اور محمد سے روایت کر رہے تھے اور یہ دونوں ام عطیہ رضی الله عنہا سے کہ وہ کہتی ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے ان کے داہنے سے اور وضو کے اعضاء سے شروع کرنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام عطیہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام سلیم رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ میت کا غسل غسل جنابت کی طرح ہے، ۵- مالک بن انس کہتے ہیں: ہمارے نزدیک میت کے غسل کی کوئی متعین حد نہیں اور نہ ہی کوئی متعین کیفیت ہے، بس اسے پاک کر دیا جائے گا، ۶- شافعی کہتے ہیں کہ مالک کا قول کہ اسے غسل دیا جائے اور پاک کیا جائے مجمل ہے، جب میت بیری یا کسی اور چیز کے پانی سے پاک کر دیا جائے تو بس اتنا کافی ہے، البتہ میرے نزدیک مستحب یہ ہے کہ اسے تین یا اس سے زیادہ بار غسل دیا جائے۔ تین بار سے کم غسل نہ دیا جائے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”اسے تین بار یا پانچ بار غسل دو“، اور اگر لوگ اسے تین سے کم مرتبہ میں ہی پاک صاف کر دیں تو یہ بھی کافی ہے، ہم یہ نہیں سمجھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تین یا پانچ بار کا حکم دینا محض پاک کرنے کے لیے ہے، آپ نے کوئی حد مقرر نہیں کی ہے، ایسے ہی دوسرے فقہاء نے بھی کہا ہے۔ وہ حدیث کے مفہوم کو خوب جاننے والے ہیں، ۷- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: ہر مرتبہ غسل پانی اور بیری کی پتی سے ہو گا، البتہ آخری بار اس میں کافور ملا لیں گے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا خالد، ومنصور، وهشام، فاما خالد وهشام فقالا عن محمد وحفصة وقال منصور عن محمد عن ام عطية قالت توفيت احدى بنات النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اغسلنها وترا ثلاثا او خمسا او اكثر من ذلك ان رايتن واغسلنها بماء وسدر واجعلن في الاخرة كافورا او شييا من كافور فاذا فرغتن فاذنني " . فلما فرغنا اذناه فالقى الينا حقوه فقال " اشعرنها به " . قال هشيم وفي حديث غير هولاء ولا ادري ولعل هشاما منهم قالت وضفرنا شعرها ثلاثة قرون . قال هشيم اظنه قال فالقيناه خلفها . قال هشيم فحدثنا خالد من بين القوم عن حفصة ومحمد عن ام عطية قالت وقال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " وابدان بميامنها ومواضع الوضوء " . وفي الباب عن ام سليم . قال ابو عيسى حديث ام عطية حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم . وقد روي عن ابراهيم النخعي انه قال غسل الميت كالغسل من الجنابة . وقال مالك بن انس ليس لغسل الميت عندنا حد موقت وليس لذلك صفة معلومة ولكن يطهر . وقال الشافعي انما قال مالك قولا مجملا يغسل وينقى واذا انقي الميت بماء قراح او ماء غيره اجزا ذلك من غسله ولكن احب الى ان يغسل ثلاثا فصاعدا لا ينقص عن ثلاث لما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اغسلنها ثلاثا او خمسا " . وان انقوا في اقل من ثلاث مرات اجزا ولا يرى ان قول النبي صلى الله عليه وسلم انما هو على معنى الانقاء ثلاثا او خمسا ولم يوقت . وكذلك قال الفقهاء وهم اعلم بمعاني الحديث . وقال احمد واسحاق وتكون الغسلات بماء وسدر ويكون في الاخرة شيء من كافور
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Funerals
- Hadith Index
- #990
- Book Index
- 26
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Sahih
