Loading...

Loading...
کتب
۱۱۵ احادیث
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف کا ہاتھ پکڑا اور انہیں اپنے بیٹے ابراہیم کے پاس لے گئے تو دیکھا کہ ابراہیم کا آخری وقت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم کو اٹھا کر اپنی گود میں رکھ لیا اور رو دیا۔ عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: کیا آپ رو رہے ہیں؟ کیا آپ نے رونے منع نہیں کیا تھا؟ تو آپ نے فرمایا: ”نہیں، میں تو دو احمق فاجر آوازوں سے روکتا تھا: ایک تو مصیبت کے وقت آواز نکالنے، چہرہ زخمی کرنے سے اور گریبان پھاڑنے سے، دوسرے شیطان کے نغمے سے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا علي بن خشرم، اخبرنا عيسى بن يونس، عن ابن ابي ليلى، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله، قال اخذ النبي صلى الله عليه وسلم بيد عبد الرحمن بن عوف فانطلق به الى ابنه ابراهيم فوجده يجود بنفسه فاخذه النبي صلى الله عليه وسلم فوضعه في حجره فبكى فقال له عبد الرحمن اتبكي اولم تكن نهيت عن البكاء قال " لا ولكن نهيت عن صوتين احمقين فاجرين صوت عند مصيبة خمش وجوه وشق جيوب ورنة شيطان " . وفي الحديث كلام اكثر من هذا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
عمرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کو کہتے سنا اور ان سے ذکر کیا گیا تھا کہ ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میت پر لوگوں کے رونے کی وجہ سے اسے عذاب دیا جاتا ہے ( عائشہ رضی الله عنہا نے کہا ) اللہ ابوعبدالرحمٰن کی مغفرت فرمائے۔ سنو، انہوں نے جھوٹ نہیں کہا۔ بلکہ ان سے بھول ہوئی ہے یا وہ چوک گئے ہیں۔ بات صرف اتنی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک یہودی عورت کے پاس سے ہوا جس پر لوگ رو رہے تھے۔ تو آپ نے فرمایا: ”یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے“۔
حدثنا قتيبة، عن مالك، قال وحدثنا اسحاق بن موسى، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن ابيه، عن عمرة، انها اخبرته انها، سمعت عايشة، وذكر، لها ان ابن عمر، يقول ان الميت ليعذب ببكاء الحى عليه . فقالت عايشة غفر الله لابي عبد الرحمن اما انه لم يكذب ولكنه نسي او اخطا انما مر رسول الله صلى الله عليه وسلم على يهودية يبكى عليها فقال " انهم ليبكون عليها وانها لتعذب في قبرها " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر سب کو جنازے کے آگے آگے چلتے دیکھا ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، واحمد بن منيع، واسحاق بن منصور، ومحمود بن غيلان، قالوا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم وابا بكر وعمر يمشون امام الجنازة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما سب کو جنازے کے آگے آگے چلتے دیکھا ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عمرو بن عاصم، عن همام، عن منصور، وبكر الكوفي، وزياد، وسفيان، كلهم يذكر انه سمعه من الزهري عن سالم بن عبد الله عن ابيه قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم وابا بكر وعمر يمشون امام الجنازة
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما جنازے کے آگے آگے چلتے تھے۔ زہری یہ بھی کہتے ہیں کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ ان کے والد عبداللہ بن عمر جنازے کے آگے چلتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کی حدیث اسی طرح ہے، اسے ابن جریج، زیاد بن سعد اور دیگر کئی لوگوں نے زہری سے ابن عیینہ کی حدیث ہی کی طرح روایت کیا ہے، اور زہری نے سالم بن عبداللہ سے اور سالم نے اپنے والد ابن عمر سے روایت کی ہے۔ معمر، یونس بن یزید اور حفاظ میں سے اور بھی کئی لوگوں نے زہری سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے آگے چلتے تھے۔ زہری کہتے ہیں کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی ہے کہ ان کے والد جنازے کے آگے چلتے تھے۔ تمام محدثین کی رائے ہے کہ مرسل حدیث ہی اس باب میں زیادہ صحیح ہے، ۲- ابن مبارک کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں زہری کی حدیث مرسل ہے، اور ابن عیینہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۳- ابن مبارک کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ابن جریج نے یہ حدیث ابن عیینہ سے لی ہے، ۴- ہمام بن یحییٰ نے یہ حدیث زیاد بن سعد، منصور، بکر اور سفیان سے اور ان لوگوں نے زہری سے، زہری نے سالم بن عبداللہ سے اور سالم نے اپنے والد ابن عمر سے روایت کی ہے۔ اور سفیان سے مراد سفیان بن عیینہ ہیں جن سے ہمام نے روایت کی ہے، ۵- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، انس کی حدیث اس باب میں غیر محفوظ ہے ۱؎، ۶- جنازے کے آگے چلنے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ جنازے کے آگے چلنا افضل ہے۔ شافعی اور احمد اسی کے قائل ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم وابو بكر وعمر يمشون امام الجنازة . قال الزهري واخبرني سالم ان اباه كان يمشي امام الجنازة . قال وفي الباب عن انس . قال ابو عيسى حديث ابن عمر هكذا رواه ابن جريج وزياد بن سعد وغير واحد عن الزهري عن سالم عن ابيه نحو حديث ابن عيينة . وروى معمر ويونس بن يزيد ومالك وغير واحد من الحفاظ عن الزهري ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يمشي امام الجنازة . قال الزهري واخبرني سالم ان اباه كان يمشي امام الجنازة . واهل الحديث كلهم يرون ان الحديث المرسل في ذلك اصح . قال ابو عيسى سمعت يحيى بن موسى يقول قال عبد الرزاق قال ابن المبارك حديث الزهري في هذا مرسل اصح من حديث ابن عيينة . قال ابن المبارك وارى ابن جريج اخذه عن ابن عيينة . قال ابو عيسى وروى همام بن يحيى هذا الحديث عن زياد وهو ابن سعد ومنصور وبكر وسفيان عن الزهري عن سالم عن ابيه . وانما هو سفيان بن عيينة روى عنه همام . واختلف اهل العلم في المشى امام الجنازة فراى بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان المشى امامها افضل . وهو قول الشافعي واحمد . قال وحديث انس في هذا الباب غير محفوظ
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم جنازے کے آگے چلتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: یہ حدیث غلط ہے اس میں محمد بن بکر نے غلطی کی ہے۔ یہ حدیث یونس سے روایت کی جاتی ہے، اور یونس زہری سے ( مرسلاً ) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر جنازے کے آگے چلتے تھے۔ زہری کہتے ہیں: مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی ہے کہ ان کے والد جنازے کے آگے آگے چلتے تھے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: یہ زیادہ صحیح ہے۔ ( دیکھئیے سابقہ حدیث)
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا محمد بن بكر، حدثنا يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم وابا بكر وعمر وعثمان كانوا يمشون امام الجنازة . قال ابو عيسى سالت محمدا عن هذا الحديث فقال هذا حديث خطا اخطا فيه محمد بن بكر وانما يروى هذا الحديث عن يونس عن الزهري ان النبي صلى الله عليه وسلم وابا بكر وعمر كانوا يمشون امام الجنازة . قال الزهري واخبرني سالم ان اباه كان يمشي امام الجنازة . قال محمد وهذا اصح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازے کے پیچھے چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”ایسی چال چلے جو دلکی چال سے دھیمی ہو۔ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے جلدی قبر میں پہنچا دو گے اور اگر برا ہے تو جہنمیوں ہی کو دور ہٹایا جاتا ہے۔ جنازہ کے پیچھے چلنا چاہیئے، اس سے آگے نہیں ہونا چاہیئے، جو جنازہ کے آگے چلے وہ اس کے ساتھ جانے والوں میں سے نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث عبداللہ بن مسعود سے صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو ابو حامد کی اس حدیث کو ضعیف بتاتے سنا ہے، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کا بیان ہے کہ حمیدی کہتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ یحییٰ بن معین سے پوچھا گیا: ابوماجد کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ایک اڑتی چڑیا ہے جس سے ہم نے روایت کی ہے، یعنی مجہول راوی ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وهب بن جرير، عن شعبة، عن يحيى، امام بني تيم الله عن ابي ماجد، عن عبد الله بن مسعود، قال سالنا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المشى خلف الجنازة فقال " ما دون الخبب فان كان خيرا عجلتموه وان كان شرا فلا يبعد الا اهل النار الجنازة متبوعة ولا تتبع وليس منها من تقدمها " . قال ابو عيسى هذا حديث لا يعرف من حديث عبد الله بن مسعود الا من هذا الوجه . قال سمعت محمد بن اسماعيل يضعف حديث ابي ماجد هذا . وقال محمد قال الحميدي قال ابن عيينة قيل ليحيى من ابو ماجد هذا قال طاير طار فحدثنا . وقد ذهب بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم الى هذا راوا ان المشى خلفها افضل . وبه يقول سفيان الثوري واسحاق . قال ان ابا ماجد رجل مجهول لا يعرف انما يروى عنه حديثان عن ابن مسعود . ويحيى امام بني تيم الله ثقة يكنى ابا الحارث ويقال له يحيى الجابر ويقال له يحيى المجبر ايضا وهو كوفي روى له شعبة وسفيان الثوري وابو الاحوص وسفيان بن عيينة
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے، آپ نے کچھ لوگوں کو سوار دیکھا تو فرمایا: ”کیا تمہیں شرم نہیں آتی؟ اللہ کے فرشتے پیدل چل رہے ہیں اور تم جانوروں کی پیٹھوں پر بیٹھے ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ثوبان کی حدیث، ان سے موقوفاً بھی مروی ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ان کی موقوف روایت زیادہ صحیح ہے، ۲- اس باب میں مغیرہ بن شعبہ اور جابر بن سمرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا عيسى بن يونس، عن ابي بكر بن ابي مريم، عن راشد بن سعد، عن ثوبان، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في جنازة فراى ناسا ركبانا فقال " الا تستحيون ان ملايكة الله على اقدامهم وانتم على ظهور الدواب " . قال وفي الباب عن المغيرة بن شعبة وجابر بن سمرة . قال ابو عيسى حديث ثوبان قد روي عنه موقوفا قال محمد الموقوف منه اصح
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابودحداح کے جنازے میں تھے، آپ لوٹتے وقت ایک گھوڑے پر سوار تھے جو تیز چل رہا تھا، ہم اس کے اردگرد تھے اور وہ آپ کو لے کر اچھلتے ہوئے چل رہا تھا۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، حدثنا شعبة، عن سماك بن حرب، قال سمعت جابر بن سمرة، يقول كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في جنازة ابي الدحداح وهو على فرس له يسعى ونحن حوله وهو يتوقص به
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابودحداح کے جنازہ کے پیچھے پیدل گئے اور گھوڑے پر سوار ہو کر لوٹے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد الله بن الصباح الهاشمي، حدثنا ابو قتيبة، عن الجراح، عن سماك، عن جابر بن سمرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم اتبع جنازة ابي الدحداح ماشيا ورجع على فرس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنازہ تیزی سے لے کر چلو ۱؎، اگر وہ نیک ہو گا تو اسے خیر کی طرف جلدی پہنچا دو گے، اور اگر وہ برا ہو گا تو اسے اپنی گردن سے اتار کر ( جلد ) رکھ دو گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبکرہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، سمع سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " اسرعوا بالجنازة فان يكن خيرا تقدموها اليه وان يكن شرا تضعوه عن رقابكم " . وفي الباب عن ابي بكرة . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے دن حمزہ ( کی لاش ) کے پاس آئے۔ آپ اس کے پاس رکے، آپ نے دیکھا کہ لاش کا مثلہ ۱؎ کر دیا گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اگر صفیہ ( حمزہ کی بہن ) اپنے دل میں برا نہ مانتیں تو میں انہیں یوں ہی ( دفن کیے بغیر ) چھوڑ دیتا یہاں تک کہ درند و پرند انہیں کھا جاتے۔ پھر وہ قیامت کے دن ان کے پیٹوں سے اٹھائے جاتے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «نمر» ( ایک پرانی چادر ) منگوائی اور حمزہ کو اس میں کفنایا۔ جب آپ چادر ان کے سر کی طرف کھینچتے تو ان کے دونوں پیر کھل جاتے اور جب ان کے دونوں پیروں کی طرف کھینچتے تو سر کھل جاتا۔ مقتولین کی تعداد بڑھ گئی اور کپڑے کم پڑ گئے تھے، چنانچہ ایک ایک دو دو اور تین تین آدمیوں کو ایک کپڑے میں کفنایا جاتا، پھر وہ سب ایک قبر میں دفن کر دیئے جاتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں پوچھتے کہ ان میں کس کو قرآن زیادہ یاد تھا تو آپ اسے آگے قبلہ کی طرف کر دیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مقتولین کو دفن کیا اور ان پر نماز نہیں پڑھی ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے انس کی روایت سے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ۲- اس حدیث کی روایت میں اسامہ بن زید کی مخالفت کی گئی ہے۔ لیث بن سعد بسند «عن ابن شهاب عن عبدالرحمٰن بن كعب بن مالك عن جابر بن عبد الله بن زيد» ۳؎ روایت کی ہے اور معمر نے بسند «عن الزهري عن عبد الله بن ثعلبة عن جابر» روایت کی ہے۔ ہمارے علم میں سوائے اسامہ بن زید کے کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس نے زہری کے واسطے سے انس سے روایت کی ہو، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: لیث کی حدیث بسند «عن ابن شهاب عن عبدالرحمٰن بن كعب بن مالك عن جابر» زیادہ صحیح ہے، ۴- نمرہ: پرانی چادر کو کہتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو صفوان، عن اسامة بن زيد، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، قال اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم على حمزة يوم احد فوقف عليه فراه قد مثل به فقال " لولا ان تجد صفية في نفسها لتركته حتى تاكله العافية حتى يحشر يوم القيامة من بطونها " . قال ثم دعا بنمرة فكفنه فيها فكانت اذا مدت على راسه بدت رجلاه واذا مدت على رجليه بدا راسه . قال فكثر القتلى وقلت الثياب . قال فكفن الرجل والرجلان والثلاثة في الثوب الواحد ثم يدفنون في قبر واحد فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يسال عنهم " ايهم اكثر قرانا " . فيقدمه الى القبلة . قال فدفنهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يصل عليهم . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن غريب لا نعرفه من حديث انس الا من هذا الوجه . النمرة الكساء الخلق . وقد خولف اسامة بن زيد في رواية هذا الحديث فروى الليث بن سعد عن ابن شهاب عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن جابر بن عبد الله . وروى معمر عن الزهري عن عبد الله بن ثعلبة عن جابر . ولا نعلم احدا ذكره عن الزهري عن انس الا اسامة بن زيد . وسالت محمدا عن هذا الحديث فقال حديث الليث عن ابن شهاب عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن جابر اصح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت کرتے، جنازے میں شریک ہوتے، گدھے کی سواری کرتے اور غلام کی دعوت قبول فرماتے تھے۔ بنو قریظہ ۱؎ والے دن آپ ایک ایسے گدھے پر سوار تھے، جس کی لگام کھجور کی چھال کی رسی کی تھی، اس پر زین بھی چھال ہی کی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم اس حدیث کو صرف مسلم کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ انس سے روایت کرتے ہیں۔ اور مسلم اعور ضعیف گردانے جاتے ہیں۔ یہی مسلم بن کیسان ملائی ہیں، جس پر کلام کیا گیا ہے، ان سے شعبہ اور سفیان نے روایت کی ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا علي بن مسهر، عن مسلم الاعور، عن انس بن مالك، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعود المريض ويشهد الجنازة ويركب الحمار ويجيب دعوة العبد وكان يوم بني قريظة على حمار مخطوم بحبل من ليف عليه اكاف ليف . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه الا من حديث مسلم عن انس . ومسلم الاعور يضعف وهو مسلم بن كيسان الملايي تكلم فيه وقد روى عنه شعبة وسفيان
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی تدفین کے سلسلے میں لوگوں میں اختلاف ہوا ۱؎ ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ سے ایک ایسی بات سنی ہے جو میں بھولا نہیں ہوں، آپ نے فرمایا: ”جتنے بھی نبی ہوئے ہیں اللہ نے ان کی روح وہیں قبض کی ہے جہاں وہ دفن کیا جانا پسند کرتے تھے ( اس لیے ) تم لوگ انہیں ان کے بستر ہی کے مقام پر دفن کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، عبدالرحمٰن بن ابی بکر ملیکی اپنے حفظ کے تعلق سے ضعیف گردانے جاتے ہیں، ۲- یہ حدیث اس کے علاوہ طریق سے بھی مروی ہے۔ ابن عباس نے ابوبکر صدیق سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، عن عبد الرحمن بن ابي بكر، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة، قالت لما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم اختلفوا في دفنه فقال ابو بكر سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم شييا ما نسيته قال " ما قبض الله نبيا الا في الموضع الذي يحب ان يدفن فيه " . ادفنوه في موضع فراشه . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وعبد الرحمن بن ابي بكر المليكي يضعف من قبل حفظه . وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه فرواه ابن عباس عن ابي بكر الصديق عن النبي صلى الله عليه وسلم ايضا
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے مردوں کی اچھائیوں کو ذکر کیا کرو اور ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ عمران بن انس مکی منکر الحدیث ہیں، ۲- بعض نے عطا سے اور عطا نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کی ہے، ۳- عمران بن ابی انس مصری عمران بن انس مکی سے پہلے کے ہیں اور ان سے زیادہ ثقہ ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا معاوية بن هشام، عن عمران بن انس المكي، عن عطاء، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذكروا محاسن موتاكم وكفوا عن مساويهم " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . سمعت محمدا يقول عمران بن انس المكي منكر الحديث وروى بعضهم عن عطاء عن عايشة . قال وعمران بن ابي انس مصري اقدم واثبت من عمران بن انس المكي
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی جنازے کے ساتھ جاتے تو جب تک جنازہ لحد ( بغلی قبر ) میں رکھ نہ دیا جاتا، نہیں بیٹھتے۔ ایک یہودی عالم نے آپ کے پاس آ کر کہا: محمد! ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھنے لگ گئے اور فرمایا: ”تم ان کی مخالفت کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بشر بن رافع حدیث میں زیادہ قوی نہیں ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا صفوان بن عيسى، عن بشر بن رافع، عن عبد الله بن سليمان بن جنادة بن ابي امية، عن ابيه، عن جده، عن عبادة بن الصامت، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اتبع الجنازة لم يقعد حتى توضع في اللحد فعرض له حبر فقال هكذا نصنع يا محمد . قال فجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " خالفوهم " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وبشر بن رافع ليس بالقوي في الحديث
ابوسنان کہتے ہیں کہ میں نے اپنے بیٹے سنان کو دفن کیا اور ابوطلحہ خولانی قبر کی منڈیر پر بیٹھے تھے، جب میں نے ( قبر سے ) نکلنے کا ارادہ کیا تو وہ میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: ابوسنان! کیا میں تمہیں بشارت نہ دوں؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں ضرور دیجئیے، تو انہوں نے کہا: مجھ سے ضحاک بن عبدالرحمٰن بن عرزب نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندے کا بچہ ۱؎ فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے پوچھتا ہے: تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح قبض کر لی؟ تو وہ کہتے ہیں: ہاں، پھر فرماتا ہے: تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا؟ وہ کہتے ہیں: ہاں۔ تو اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے: میرے بندے نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں: اس نے تیری حمد بیان کی اور «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام بیت الحمد رکھو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن حماد بن سلمة، عن ابي سنان، قال دفنت ابني سنانا وابو طلحة الخولاني جالس على شفير القبر فلما اردت الخروج اخذ بيدي فقال الا ابشرك يا ابا سنان . قلت بلى . فقال حدثني الضحاك بن عبد الرحمن بن عرزب عن ابي موسى الاشعري ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا مات ولد العبد قال الله لملايكته قبضتم ولد عبدي . فيقولون نعم . فيقول قبضتم ثمرة فواده . فيقولون نعم . فيقول ماذا قال عبدي فيقولون حمدك واسترجع . فيقول الله ابنوا لعبدي بيتا في الجنة وسموه بيت الحمد " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی تو آپ نے چار تکبیریں کہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، ابن ابی اوفی، جابر، یزید بن ثابت اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۳- یزید بن ثابت: زید بن ثابت کے بھائی ہیں۔ یہ ان سے بڑے ہیں۔ یہ بدر میں شریک تھے اور زید بدر میں شریک نہیں تھے، ۴- صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ان لوگوں کی رائے ہے کہ نماز جنازہ میں چار تکبیریں ہیں۔ سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، حدثنا معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى على النجاشي فكبر اربعا . قال وفي الباب عن ابن عباس وابن ابي اوفى وجابر ويزيد بن ثابت وانس . قال ابو عيسى ويزيد بن ثابت هو اخو زيد بن ثابت وهو اكبر منه شهد بدرا وزيد لم يشهد بدرا . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم يرون التكبير على الجنازة اربع تكبيرات . وهو قول سفيان الثوري ومالك بن انس وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ زید بن ارقم ہمارے جنازوں پر چار تکبیریں کہتے تھے۔ انہوں نے ایک جنازے پر پانچ تکبیریں کہیں ہم نے ان سے اس کی وجہ پوچھی، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا بھی کہتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زید بن ارقم کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنازے میں پانچ تکبیریں ہیں، ۳- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جب امام جنازے میں پانچ تکبیریں کہے تو امام کی پیروی کی جائے ( یعنی مقتدی بھی پانچ کہیں ) ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن جعفر، اخبرنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، قال كان زيد بن ارقم يكبر على جنايزنا اربعا وانه كبر على جنازة خمسا فسالناه عن ذلك فقال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكبرها . قال ابو عيسى حديث زيد بن ارقم حديث حسن صحيح . وقد ذهب بعض اهل العلم الى هذا من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم راوا التكبير على الجنازة خمسا . وقال احمد واسحاق اذا كبر الامام على الجنازة خمسا فانه يتبع الامام
ابوابراہیم اشہلی کے والد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا» ”اے اللہ! بخش دے ہمارے زندوں کو، ہمارے مردوں کو، ہمارے حاضر کو اور ہمارے غائب کو، ہمارے چھوٹے کو اور ہمارے بڑے کو، ہمارے مردوں کو اور ہماری عورتوں کو“۔ یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں: ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ البتہ اس میں اتنا زیادہ ہے: «اللهم من أحييته منا فأحيه على الإسلام ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان» ”اے اللہ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھ، اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دے اسے ایمان پر موت دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوابراہیم کے والد کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہشام دستوائی اور علی بن مبارک نے یہ حدیث بطریق: «يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة بن عبدالرحمٰن عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے، اور عکرمہ بن عمار نے بطریق: «يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔ عکرمہ بن عمار کی حدیث غیر محفوظ ہے۔ عکرمہ کو بسا اوقات یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث میں وہم ہو جاتا ہے۔ نیز یہ «يحيى بن أبي كثير» سے «عن عبد الله بن أبي قتادة عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» کے طریق سے بھی مروی ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ اس سلسلے میں یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث جسے انہوں نے بطریق: «أبي إبراهيم الأشهلي عن أبيه» روایت کی ہے سب سے زیادہ صحیح روایت ہے۔ میں نے ان سے ابوابراہیم کا نام پوچھا تو وہ اسے نہیں جان سکے، ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن، عائشہ، ابوقتادہ، عوف بن مالک اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا هقل بن زياد، حدثنا الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، حدثني ابو ابراهيم الاشهلي، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا صلى على الجنازة قال " اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغايبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وانثانا " . قال يحيى وحدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثل ذلك وزاد فيه " اللهم من احييته منا فاحيه على الاسلام ومن توفيته منا فتوفه على الايمان " . قال وفي الباب عن عبد الرحمن بن عوف وعايشة وابي قتادة وعوف بن مالك وجابر . قال ابو عيسى حديث والد ابي ابراهيم حديث حسن صحيح . وروى هشام الدستوايي وعلي بن المبارك هذا الحديث عن يحيى بن ابي كثير عن ابي سلمة بن عبد الرحمن عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . وروى عكرمة بن عمار عن يحيى بن ابي كثير عن ابي سلمة عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم . وحديث عكرمة بن عمار غير محفوظ وعكرمة ربما يهم في حديث يحيى . وروي عن يحيى بن ابي كثير عن عبد الله بن ابي قتادة عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى وسمعت محمدا يقول اصح الروايات في هذا حديث يحيى بن ابي كثير عن ابي ابراهيم الاشهلي عن ابيه . وسالته عن اسم ابي ابراهيم فلم يعرفه