احادیث
#1011
سنن ترمذی - Funerals
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازے کے پیچھے چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”ایسی چال چلے جو دلکی چال سے دھیمی ہو۔ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے جلدی قبر میں پہنچا دو گے اور اگر برا ہے تو جہنمیوں ہی کو دور ہٹایا جاتا ہے۔ جنازہ کے پیچھے چلنا چاہیئے، اس سے آگے نہیں ہونا چاہیئے، جو جنازہ کے آگے چلے وہ اس کے ساتھ جانے والوں میں سے نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث عبداللہ بن مسعود سے صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو ابو حامد کی اس حدیث کو ضعیف بتاتے سنا ہے، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کا بیان ہے کہ حمیدی کہتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ یحییٰ بن معین سے پوچھا گیا: ابوماجد کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ایک اڑتی چڑیا ہے جس سے ہم نے روایت کی ہے، یعنی مجہول راوی ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وهب بن جرير، عن شعبة، عن يحيى، امام بني تيم الله عن ابي ماجد، عن عبد الله بن مسعود، قال سالنا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المشى خلف الجنازة فقال " ما دون الخبب فان كان خيرا عجلتموه وان كان شرا فلا يبعد الا اهل النار الجنازة متبوعة ولا تتبع وليس منها من تقدمها " . قال ابو عيسى هذا حديث لا يعرف من حديث عبد الله بن مسعود الا من هذا الوجه . قال سمعت محمد بن اسماعيل يضعف حديث ابي ماجد هذا . وقال محمد قال الحميدي قال ابن عيينة قيل ليحيى من ابو ماجد هذا قال طاير طار فحدثنا . وقد ذهب بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم الى هذا راوا ان المشى خلفها افضل . وبه يقول سفيان الثوري واسحاق . قال ان ابا ماجد رجل مجهول لا يعرف انما يروى عنه حديثان عن ابن مسعود . ويحيى امام بني تيم الله ثقة يكنى ابا الحارث ويقال له يحيى الجابر ويقال له يحيى المجبر ايضا وهو كوفي روى له شعبة وسفيان الثوري وابو الاحوص وسفيان بن عيينة
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Funerals
- Hadith Index
- #1011
- Book Index
- 47
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirDaif
- Al-AlbaniDaif
- Bashar Awad MaaroufDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
