Loading...

Loading...
کتب
۱۱۵ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کو کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، یا اس سے بھی کم کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند اور اس کے بدلے اس کا ایک گناہ معاف کر دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد بن ابی وقاص، ابوعبیدہ بن جراح، ابوہریرہ، ابوامامہ، ابو سعید خدری، انس، عبداللہ بن عمرو بن العاص، اسد بن کرز، جابر بن عبداللہ، عبدالرحمٰن بن ازہر اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يصيب المومن شوكة فما فوقها الا رفعه الله بها درجة وحط عنه بها خطيية " . قال وفي الباب عن سعد بن ابي وقاص وابي عبيدة بن الجراح وابي هريرة وابي امامة وابي سعيد وانس وعبد الله بن عمرو واسد بن كرز وجابر بن عبد الله وعبد الرحمن بن ازهر وابي موسى . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کو جو بھی تکان، غم، اور بیماری حتیٰ کہ فکر لاحق ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «عطاء بن يسار عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۳- وکیع کہتے ہیں: اس حدیث کے علاوہ کسی حدیث میں «همّ» ”فکر“ کے بارے میں نہیں سنا گیا کہ وہ بھی گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا ابي، عن اسامة بن زيد، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من شيء يصيب المومن من نصب ولا حزن ولا وصب حتى الهم يهمه الا يكفر الله به عنه سيياته " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن في هذا الباب . قال وسمعت الجارود يقول سمعت وكيعا يقول لم يسمع في الهم انه يكون كفارة الا في هذا الحديث . قال وقد روى بعضهم هذا الحديث عن عطاء بن يسار عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم
ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ برابر جنت میں پھل چنتا رہتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ثوبان کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوغفار اور عاصم احول نے یہ حدیث بطریق: «عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن أبي أسماء عن ثوبان عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ جس نے یہ حدیث بطریق: «عن أبي الأشعث عن أبي أسماء» روایت کی ہے وہ زیادہ صحیح ہے، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابوقلابہ کی حدیثیں ابواسماء ہی سے مروی ہیں سوائے اس حدیث کے یہ میرے نزدیک بطریق: «عن أبي الأشعث عن أبي أسماء» مروی ہے، ۵- اس باب میں علی، ابوموسیٰ، براء، ابوہریرہ، انس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن ابي اسماء الرحبي، عن ثوبان، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان المسلم اذا عاد اخاه المسلم لم يزل في خرفة الجنة " . وفي الباب عن علي وابي موسى والبراء وابي هريرة وانس وجابر . قال ابو عيسى حديث ثوبان حديث حسن . وروى ابو غفار وعاصم الاحول هذا الحديث عن ابي قلابة عن ابي الاشعث عن ابي اسماء عن ثوبان عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . وسمعت محمدا يقول من روى هذا الحديث عن ابي الاشعث عن ابي اسماء فهو اصح . قال محمد واحاديث ابي قلابة انما هي عن ابي اسماء الا هذا الحديث فهو عندي عن ابي الاشعث عن ابي اسماء
اس سند سے بھی ثوبان رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: عرض کیا گیا: جنت کا خرفہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس کے پھل توڑنا“۔ ایک دوسری سند سے ایوب سے اور ایوب نے ابوقلابہ سے، اور ابوقلابہ نے ابواسماء سے، اور ابواسماء نے ثوبان سے اور ثوبان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خالد الحذاء کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، اور اس میں احمد بن عبدہ نے ابواشعث کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: بعض نے یہ حدیث حماد بن زید سے روایت کی ہے لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
حدثنا محمد بن وزير الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، عن عاصم الاحول، عن ابي قلابة، عن ابي الاشعث، عن ابي اسماء، عن ثوبان، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . وزاد فيه قيل ما خرفة الجنة قال " جناها " . حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن ابي اسماء، عن ثوبان، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث خالد . ولم يذكر فيه عن ابي الاشعث . قال ابو عيسى ورواه بعضهم عن حماد بن زيد ولم يرفعه
ابوفاختہ سعید بن علاقہ کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: ہمارے ساتھ حسن کے پاس چلو ہم ان کی عیادت کریں گے تو ہم نے ان کے پاس ابوموسیٰ کو پایا۔ تو علی رضی الله عنہ نے پوچھا: ابوموسیٰ کیا آپ عیادت کے لیے آئے ہیں؟ یا زیارت «شماتت» کے لیے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ عیادت کے لیے آیا ہوں۔ اس پر علی رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو مسلمان بھی کسی مسلمان کی صبح کے وقت عیادت کرتا ہے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ اور جو شام کو عیادت کرتا ہے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- علی رضی الله عنہ سے یہ حدیث کئی اور بھی طرق سے بھی مروی ہے، ان میں سے بعض نے موقوفاً اور بعض نے مرفوعاً روایت کی ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا الحسين بن محمد، حدثنا اسراييل، عن ثوير، هو ابن ابي فاختة عن ابيه، قال اخذ علي بيدي قال انطلق بنا الى الحسن نعوده . فوجدنا عنده ابا موسى فقال علي عليه السلام اعايدا جيت يا ابا موسى ام زايرا فقال لا بل عايدا . فقال علي سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من مسلم يعود مسلما غدوة الا صلى عليه سبعون الف ملك حتى يمسي وان عاده عشية الا صلى عليه سبعون الف ملك حتى يصبح وكان له خريف في الجنة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وقد روي عن علي هذا الحديث من غير وجه منهم من وقفه ولم يرفعه . وابو فاختة اسمه سعيد بن علاقة
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن حارثة بن مضرب، قال دخلت على خباب وقد اكتوى في بطنه فقال ما اعلم احدا من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم لقي من البلاء ما لقيت لقد كنت وما اجد درهما على عهد النبي صلى الله عليه وسلم وفي ناحية من بيتي اربعون الفا ولولا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهانا - او نهى - ان نتمنى الموت لتمنيت . قال وفي الباب عن انس وابي هريرة وجابر . قال ابو عيسى حديث خباب حديث حسن صحيح . وقد روي عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " لا يتمنين احدكم الموت لضر نزل به وليقل اللهم احيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني اذا كانت الوفاة خيرا لي
حدثنا بذلك علي بن حجر اخبرنا اسماعيل بن ابراهيم اخبرنا عبد العزيز بن صهيب عن انس بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم بذلك . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر جبرائیل نے پوچھا: اے محمد! کیا آپ بیمار ہیں؟ فرمایا: ہاں، جبرائیل نے کہا: «باسم الله أرقيك من كل شيء يؤذيك من شر كل نفس وعين حاسد باسم الله أرقيك والله يشفيك» ”میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو ایذاء پہنچا رہی ہے، ہر نفس کے شر سے اور ہر حاسد کی آنکھ سے، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں، اللہ آپ کو شفاء عطا فرمائے گا“۔
حدثنا بشر بن هلال البصري الصواف، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن عبد العزيز بن صهيب، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، ان جبريل، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا محمد اشتكيت قال " نعم " . قال باسم الله ارقيك من كل شيء يوذيك من شر كل نفس وعين حاسد باسم الله ارقيك والله يشفيك
عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ میں اور ثابت بنانی دونوں انس بن مالک رضی الله عنہ کے پاس گئے۔ ثابت نے کہا: ابوحمزہ! میں بیمار ہو گیا ہوں، انس نے کہا: کیا میں تم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منتر کے ذریعہ دم نہ کر دوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! انس نے کہا: «اللهم رب الناس مذهب الباس اشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت شفاء لا يغادر سقما» ”اے اللہ! لوگوں کے رب! مصیبت کو دور کرنے والے! شفاء عطا فرما، تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شافی نہیں۔ ایسی شفاء دے کہ کوئی بیماری باقی نہ رہ جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے ابوزرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا کہ عبدالعزیز بن صہیب کی روایت بسند «ابی نضرة عن ابی سعید الخدری» زیادہ صحیح ہے یا عبدالعزیز کی انس سے روایت ہے؟ تو انہوں نے کہا: دونوں صحیح ہیں، ۳- عبدالصمد بن عبدالوارث نے بسند «عبدالوارث عن أبيه عن عبد العزيز بن صهيب عن أبي نضرة عن أبي سعيد» روایت کی ہے اور عبدالعزیز بن صھیب نے انس سے بھی روایت کی ہے، ۴- اس باب میں انس اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن عبد العزيز بن صهيب، قال دخلت انا وثابت البناني، على انس بن مالك فقال ثابت يا ابا حمزة اشتكيت . فقال انس افلا ارقيك برقية رسول الله صلى الله عليه وسلم قال بلى . قال " اللهم رب الناس مذهب الباس اشف انت الشافي لا شافي الا انت شفاء لا يغادر سقما " . قال وفي الباب عن انس وعايشة . قال ابو عيسى حديث ابي سعيد حديث حسن صحيح . وسالت ابا زرعة عن هذا الحديث فقلت له رواية عبد العزيز عن ابي نضرة عن ابي سعيد اصح او حديث عبد العزيز عن انس قال كلاهما صحيح . وروى عبد الصمد بن عبد الوارث عن ابيه عن عبد العزيز بن صهيب عن ابي نضرة عن ابي سعيد وعن عبد العزيز بن صهيب عن انس
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مسلمان، جس کی دو راتیں بھی اس حال میں گزریں کہ اس کے پاس وصیت کرنے کی کوئی چیز ہو، اس پر لازم ہے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن ابی اوفی رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا عبد الله بن نمير، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما حق امري مسلم يبيت ليلتين وله شيء يوصي فيه الا ووصيته مكتوبة عنده " . قال وفي الباب عن ابن ابي اوفى . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح
سعد بن مالک (سعد بن ابی وقاص) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری عیادت فرمائی، میں بیمار تھا۔ تو آپ نے پوچھا: کیا تم نے وصیت کر دی ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں ( کر دی ہے ) ، آپ نے فرمایا: ”کتنے کی؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کی راہ میں اپنے سارے مال کی۔ آپ نے پوچھا: ”اپنی اولاد کے لیے تم نے کیا چھوڑا؟“ میں نے عرض کیا: وہ مال سے بے نیاز ہیں، آپ نے فرمایا: ”دسویں حصے کی وصیت کرو“۔ تو میں برابر اسے زیادہ کراتا رہا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ”تہائی مال کی وصیت کرو، اور تہائی بھی زیادہ ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ تہائی مال کی وصیت بھی زیادہ ہے مستحب یہی سمجھتے ہیں کہ تہائی سے بھی کم کی وصیت کی جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سعد رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سعد رضی الله عنہ سے یہ حدیث دوسرے اور طرق سے بھی مروی ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔ اور ان سے «والثلث كثير» کی جگہ «والثلث كبير» ”تہائی بڑی مقدار ہے“ بھی مروی ہے، ۴- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ اس بات کو صحیح قرار نہیں دیتے کہ آدمی تہائی سے زیادہ کی وصیت کرے اور مستحب سمجھتے ہیں کہ تہائی سے کم کی وصیت کرے، ۵- سفیان ثوری کہتے ہیں: لوگ چوتھائی حصہ کے مقابل میں پانچویں حصہ کو اور تہائی کے مقابلے میں چوتھائی حصہ کو مستحب سمجھتے تھے، اور کہتے تھے کہ جس نے تہائی کی وصیت کر دی اس نے کچھ نہیں چھوڑا۔ اور اس کے لیے تہائی سے زیادہ جائز نہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن عطاء بن السايب، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن سعد بن مالك، قال عادني رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا مريض فقال " اوصيت " . قلت نعم . قال " بكم " . قلت بمالي كله في سبيل الله . قال " فما تركت لولدك " . قلت هم اغنياء بخير . قال " اوص بالعشر " . فما زلت اناقصه حتى قال " اوص بالثلث والثلث كثير " . قال ابو عبد الرحمن ونحن نستحب ان ينقص من الثلث لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم " والثلث كثير " . قال وفي الباب عن ابن عباس . قال ابو عيسى حديث سعد حديث حسن صحيح وقد روي عنه من غير وجه وقد روي عنه " والثلث كبير " . والعمل على هذا عند اهل العلم لا يرون ان يوصي الرجل باكثر من الثلث ويستحبون ان ينقص من الثلث . قال سفيان الثوري كانوا يستحبون في الوصية الخمس دون الربع والربع دون الثلث ومن اوصى بالثلث فلم يترك شييا ولا يجوز له الا الثلث
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے مرنے والے لوگوں کو جو بالکل مرنے کے قریب ہوں «لا إله إلا الله» کی تلقین ۱؎ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری کی حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ام سلمہ، عائشہ، جابر، سعدی مریہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- سعدی مریہ طلحہ بن عبیداللہ کی بیوی ہیں۔
حدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف البصري حدثنا بشر بن المفضل، عن عمارة بن غزية، عن يحيى بن عمارة، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لقنوا موتاكم لا اله الا الله " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وام سلمة وعايشة وجابر وسعدى المرية وهي امراة طلحة بن عبيد الله . قال ابو عيسى حديث ابي سعيد حديث حسن غريب صحيح
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”جب تم مریض کے پاس یا کسی مرے ہوئے آدمی کے پاس آؤ تو اچھی بات کہو ۱؎، اس لیے کہ جو تم کہتے ہو اس پر ملائکہ آمین کہتے ہیں“، جب ابوسلمہ کا انتقال ہوا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوسلمہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: تو تم یہ دعا پڑھو: «اللهم اغفر لي وله وأعقبني منه عقبى حسنة» ”اے اللہ! مجھے اور انہیں معاف فرما دے، اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما“ وہ کہتی ہیں کہ: جب میں نے یہ دعا پڑھی تو اللہ نے مجھے ایسی ہستی عطا کر دی جو ان سے بہتر تھی یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام سلمہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ مستحب سمجھا جاتا تھا کہ مریض کو اس کی موت کے وقت «لا إله إلا الله» کی تلقین کی جائے، ۳- بعض اہل علم کہتے ہیں: جب وہ ( میت ) اسے ایک بار کہہ دے اور اس کے بعد پھر نہ بولے تو مناسب نہیں کہ اس کے سامنے باربار یہ کلمہ دہرایا جائے، ۴- ابن مبارک کے بارے میں مروی ہے کہ جب ان کی موت کا وقت آیا، تو ایک شخص انہیں «لا إله إلا الله» کی تلقین کرنے لگا اور باربار کرنے لگا، عبداللہ بن مبارک نے اس سے کہا: جب تم نے ایک بار کہہ دیا تو میں اب اسی پر قائم ہوں جب تک کوئی اور گفتگو نہ کروں، عبداللہ کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ ان کی مراد اس سے وہی تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ ”جس کا آخری قول «لا إله إلا الله» ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا“۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق، عن ام سلمة، قالت قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا حضرتم المريض او الميت فقولوا خيرا فان الملايكة يومنون على ما تقولون " . قالت فلما مات ابو سلمة اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله ان ابا سلمة مات . قال " فقولي اللهم اغفر لي وله واعقبني منه عقبى حسنة " . قالت فقلت فاعقبني الله منه من هو خير منه رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى شقيق هو ابن سلمة ابو وايل الاسدي . قال ابو عيسى حديث ام سلمة حديث حسن صحيح . وقد كان يستحب ان يلقن المريض عند الموت قول لا اله الا الله . وقال بعض اهل العلم اذا قال ذلك مرة فما لم يتكلم بعد ذلك فلا ينبغي ان يلقن ولا يكثر عليه في هذا . وروي عن ابن المبارك انه لما حضرته الوفاة جعل رجل يلقنه لا اله الا الله واكثر عليه فقال له عبد الله اذا قلت مرة فانا على ذلك ما لم اتكلم بكلام . وانما معنى قول عبد الله انما اراد ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم " من كان اخر قوله لا اله الا الله دخل الجنة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سکرات کے عالم میں تھے، آپ کے پاس ایک پیالہ تھا، جس میں پانی تھا، آپ پیالے میں اپنا ہاتھ ڈالتے پھر اپنے چہرے پر ملتے اور فرماتے: «اللهم أعني على غمرات الموت أو سكرات الموت» ”اے اللہ! سکرات الموت میں میری مدد فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن الهاد، عن موسى بن سرجس، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، انها قالت رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بالموت وعنده قدح فيه ماء وهو يدخل يده في القدح ثم يمسح وجهه بالماء ثم يقول " اللهم اعني على غمرات الموت " . او " سكرات الموت " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کی جو شدت میں نے دیکھی، اس کے بعد میں کسی کی جان آسانی سے نکلنے پر رشک نہیں کرتی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے ابوزرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا کہ عبدالرحمٰن بن علاء کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا: وہ علاء بن اللجلاج ہیں، میں اسے اسی طریق سے جانتا ہوں۔
حدثنا الحسن بن الصباح البغدادي، حدثنا مبشر بن اسماعيل الحلبي، عن عبد الرحمن بن العلاء، عن ابيه، عن ابن عمر، عن عايشة، قالت ما اغبط احدا بهون موت بعد الذي رايت من شدة موت رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال سالت ابا زرعة عن هذا الحديث وقلت له من عبد الرحمن بن العلاء فقال هو ابن العلاء بن اللجلاج . وانما عرفه من هذا الوجه
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”مومن کی جان تھوڑا تھوڑا کر کے نکلتی ہے جیسے جسم سے پسینہ نکلتا ہے اور مجھے گدھے جیسی موت پسند نہیں“۔ عرض کیا گیا: گدھے کی موت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اچانک موت“۔
حدثنا احمد بن الحسن، قال حدثنا مسلم بن ابراهيم، قال حدثنا حسام بن المصك، قال حدثنا ابو معشر، عن ابراهيم، عن علقمة، قال سمعت عبد الله، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان نفس المومن تخرج رشحا ولا احب موتا كموت الحمار " . قيل وما موت الحمار قال " موت الفجاة
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بھی دونوں لکھنے والے ( فرشتے ) دن و رات کسی کے عمل کو لکھ کر اللہ کے پاس لے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ دفتر کے شروع اور اخیر میں خیر ( نیک کام ) لکھا ہوا پاتا ہے تو فرماتا ہے: ”میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے بندے کے سارے گناہ معاف کر دینے جو اس دفتر کے دونوں کناروں شروع اور اخیر کے درمیان میں ہیں““۔
حدثنا زياد بن ايوب، حدثنا مبشر بن اسماعيل الحلبي، عن تمام بن نجيح، عن الحسن، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من حافظين رفعا الى الله ما حفظا من ليل او نهار فيجد الله في اول الصحيفة وفي اخر الصحيفة خيرا الا قال الله تعالى اشهدكم اني قد غفرت لعبدي ما بين طرفى الصحيفة
بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن پیشانی کے پسینہ کے ساتھ مرتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن بریدہ سے قتادہ کے سماع کا علم نہیں ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن المثنى بن سعيد، عن قتادة، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المومن يموت بعرق الجبين " . قال وفي الباب عن ابن مسعود . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد قال بعض اهل العلم لا نعرف لقتادة سماعا من عبد الله بن بريدة
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کے پاس آئے اور وہ سکرات کے عالم میں تھا۔ آپ نے فرمایا: ”تم اپنے کو کیسا پا رہے ہو؟“ اس نے عرض کیا: اللہ کی قسم، اللہ کے رسول! مجھے اللہ سے امید ہے اور اپنے گناہوں سے ڈر بھی رہا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں چیزیں اس جیسے وقت میں جس بندے کے دل میں جمع ہو جاتی ہیں تو اللہ اسے وہ چیز عطا کر دیتا ہے جس کی وہ اس سے امید رکھتا ہے اور اسے اس چیز سے محفوظ رکھتا ہے جس سے وہ ڈر رہا ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن اور غریب ہے، ۲- اور بعض لوگوں نے یہ حدیث ثابت سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے۔
حدثنا عبد الله بن ابي زياد الكوفي، وهارون بن عبد الله البزاز البغدادي، قالا حدثنا سيار، هو ابن حاتم حدثنا جعفر بن سليمان، عن ثابت، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل على شاب وهو في الموت فقال " كيف تجدك " . قال والله يا رسول الله اني ارجو الله واني اخاف ذنوبي . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يجتمعان في قلب عبد في مثل هذا الموطن الا اعطاه الله ما يرجو وامنه مما يخاف " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وقد روى بعضهم هذا الحديث عن ثابت عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «نعی» ( موت کی خبر دینے ) ۱؎ سے بچو، کیونکہ «نعی» جاہلیت کا عمل ہے“۔ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: «نعی» کا مطلب میت کی موت کا اعلان ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں حذیفہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن حميد الرازي، حدثنا حكام بن سلم، وهارون بن المغيرة، عن عنبسة، عن ابي حمزة، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اياكم والنعى فان النعى من عمل الجاهلية " . قال عبد الله والنعى اذان بالميت . وفي الباب عن حذيفة