احادیث
#973
سنن ترمذی - Funerals
عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ میں اور ثابت بنانی دونوں انس بن مالک رضی الله عنہ کے پاس گئے۔ ثابت نے کہا: ابوحمزہ! میں بیمار ہو گیا ہوں، انس نے کہا: کیا میں تم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منتر کے ذریعہ دم نہ کر دوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! انس نے کہا: «اللهم رب الناس مذهب الباس اشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت شفاء لا يغادر سقما» ”اے اللہ! لوگوں کے رب! مصیبت کو دور کرنے والے! شفاء عطا فرما، تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شافی نہیں۔ ایسی شفاء دے کہ کوئی بیماری باقی نہ رہ جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے ابوزرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا کہ عبدالعزیز بن صہیب کی روایت بسند «ابی نضرة عن ابی سعید الخدری» زیادہ صحیح ہے یا عبدالعزیز کی انس سے روایت ہے؟ تو انہوں نے کہا: دونوں صحیح ہیں، ۳- عبدالصمد بن عبدالوارث نے بسند «عبدالوارث عن أبيه عن عبد العزيز بن صهيب عن أبي نضرة عن أبي سعيد» روایت کی ہے اور عبدالعزیز بن صھیب نے انس سے بھی روایت کی ہے، ۴- اس باب میں انس اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن عبد العزيز بن صهيب، قال دخلت انا وثابت البناني، على انس بن مالك فقال ثابت يا ابا حمزة اشتكيت . فقال انس افلا ارقيك برقية رسول الله صلى الله عليه وسلم قال بلى . قال " اللهم رب الناس مذهب الباس اشف انت الشافي لا شافي الا انت شفاء لا يغادر سقما " . قال وفي الباب عن انس وعايشة . قال ابو عيسى حديث ابي سعيد حديث حسن صحيح . وسالت ابا زرعة عن هذا الحديث فقلت له رواية عبد العزيز عن ابي نضرة عن ابي سعيد اصح او حديث عبد العزيز عن انس قال كلاهما صحيح . وروى عبد الصمد بن عبد الوارث عن ابيه عن عبد العزيز بن صهيب عن ابي نضرة عن ابي سعيد وعن عبد العزيز بن صهيب عن انس
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Funerals
- Hadith Index
- #973
- Book Index
- 9
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih Bukhari
