Loading...

Loading...
کتب
۱۱۵ احادیث
عوف بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میت پر نماز جنازہ پڑھتے سنا تو میں نے اس پر آپ کی نماز سے یہ کلمات یاد کیے: «اللهم اغفر له وارحمه واغسله بالبرد واغسله كما يغسل الثوب» ”اے اللہ! اسے بخش دے، اس پر رحم فرما، اسے برف سے دھو دے، اور اسے ( گناہوں سے ) ایسے دھو دے جیسے کپڑے دھوئے جاتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اس باب کی سب سے صحیح یہی حدیث ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير، عن ابيه، عن عوف بن مالك، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي على ميت ففهمت من صلاته عليه " اللهم اغفر له وارحمه واغسله بالبرد واغسله كما يغسل الثوب " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال محمد بن اسماعيل اصح شيء في هذا الباب هذا الحديث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازے میں سورۃ فاتحہ پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کی سند قوی نہیں ہے، ۲- ابراہیم بن عثمان ہی ابوشیبہ واسطی ہیں اور وہ منکر الحدیث ہیں۔ صحیح چیز جو ابن عباس سے مروی ہے کہ ـ جنازے کی نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنا سنت میں سے ہے، ۳- اس باب میں ام شریک سے بھی روایت ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا زيد بن حباب، حدثنا ابراهيم بن عثمان، عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قرا على الجنازة بفاتحة الكتاب . قال وفي الباب عن ام شريك . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث ليس اسناده بذلك القوي . ابراهيم بن عثمان هو ابو شيبة الواسطي منكر الحديث . والصحيح عن ابن عباس قوله من السنة القراءة على الجنازة بفاتحة الكتاب
طلحہ بن عوف کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے ایک نماز جنازہ پڑھایا تو انہوں نے سورۃ فاتحہ پڑھی۔ میں نے ان سے ( اس کے بارے میں ) پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ سنت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- طلحہ بن عبداللہ بن عوف، عبدالرحمٰن بن عوف کے بھتیجے ہیں۔ ان سے زہری نے روایت کی ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے یہ لوگ تکبیر اولیٰ کے بعد سورۃ فاتحہ پڑھنے کو پسند کرتے ہیں یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی جائے گی ۱؎ اس میں تو صرف اللہ کی ثنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ ( درود ) اور میت کے لیے دعا ہوتی ہے۔ اہل کوفہ میں سے ثوری وغیرہ کا یہی قول ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن سعد بن ابراهيم، عن طلحة بن عوف، ان ابن عباس، صلى على جنازة فقرا بفاتحة الكتاب فقلت له فقال انه من السنة او من تمام السنة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم يختارون ان يقرا بفاتحة الكتاب بعد التكبيرة الاولى . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم لا يقرا في الصلاة على الجنازة انما هو ثناء على الله والصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم والدعاء للميت . وهو قول الثوري وغيره من اهل الكوفة . وطلحة بن عبد الله بن عوف هو ابن اخي عبد الرحمن بن عوف روى عنه الزهري
مرثد بن عبداللہ یزنی کہتے ہیں کہ مالک بن ہبیرہ رضی الله عنہ جب نماز جنازہ پڑھتے اور لوگ کم ہوتے تو ان کی تین صفیں ۱؎ بنا دیتے، پھر کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جس کی نماز جنازہ تین صفوں نے پڑھی تو اس نے ( جنت ) واجب کر لی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مالک بن ہبیرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اسی طرح کئی لوگوں نے محمد بن اسحاق سے روایت کی ہے۔ ابراہیم بن سعد نے بھی یہ حدیث محمد بن اسحاق سے روایت کی ہے۔ اور انہوں نے سند میں مرثد اور مالک بن ہبیرہ کے درمیان ایک شخص کو داخل کر دیا ہے۔ ہمارے نزدیک ان لوگوں کی روایت زیادہ صحیح ہے، ۳- اس باب میں عائشہ، ام حبیبہ، ابوہریرہ اور ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبد الله بن المبارك، ويونس بن بكير، عن محمد بن اسحاق، عن يزيد بن ابي حبيب، عن مرثد بن عبد الله اليزني، قال كان مالك بن هبيرة اذا صلى على جنازة فتقال الناس عليها جزاهم ثلاثة اجزاء ثم قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى عليه ثلاثة صفوف فقد اوجب " . قال وفي الباب عن عايشة وام حبيبة وابي هريرة وميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى حديث مالك بن هبيرة حديث حسن هكذا رواه غير واحد عن محمد بن اسحاق . وروى ابراهيم بن سعد عن محمد بن اسحاق هذا الحديث وادخل بين مرثد ومالك بن هبيرة رجلا . ورواية هولاء اصح عندنا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان مر جائے اور مسلمانوں کی ایک جماعت جس کی تعداد سو کو پہنچتی ہو اس کی نماز جنازہ پڑھے اور اس کے لیے شفاعت کرے تو ان کی شفاعت قبول کی جاتی ہے“ ۱؎۔ علی بن حجر نے اپنی حدیث میں کہا: «مائة فما فوقها» ”سویا اس سے زائد لوگ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے، مرفوع نہیں کیا ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن ايوب، . وحدثنا احمد بن منيع، وعلي بن حجر، قالا حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن عبد الله بن يزيد، رضيع كان لعايشة - عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يموت احد من المسلمين فتصلي عليه امة من المسلمين يبلغون ان يكونوا ماية فيشفعوا له الا شفعوا فيه " . وقال علي بن حجر في حديثه " ماية فما فوقها " . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح وقد اوقفه بعضهم ولم يرفعه
عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تین ساعتیں ایسی ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے سے یا اپنے مردوں کو دفنانے سے منع فرماتے تھے: جس وقت سورج نکل رہا ہو یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے، اور جس وقت ٹھیک دوپہر ہو رہی ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اور جس وقت سورج ڈوبنے کی طرف مائل ہو یہاں تک کہ وہ ڈوب جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ لوگ ان اوقات میں نماز جنازہ پڑھنے کو مکروہ سمجھتے ہیں، ۳- ابن مبارک کہتے ہیں: اس حدیث میں ان اوقات میں مردے دفنانے سے مراد ان کی نماز جنازہ پڑھنا ہے ۱؎ انہوں نے سورج نکلتے وقت ڈوبتے وقت اور دوپہر کے وقت جب تک کہ سورج ڈھل نہ جائے نماز جنازہ پڑھنے کو مکروہ کہا ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، ۴- شافعی کہتے ہیں کہ ان اوقات میں جن میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، ان میں نماز جنازہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن موسى بن على بن رباح، عن ابيه، عن عقبة بن عامر الجهني، قال ثلاث ساعات كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهانا ان نصلي فيهن او نقبر فيهن موتانا حين تطلع الشمس بازغة حتى ترتفع وحين يقوم قايم الظهيرة حتى تميل وحين تضيف الشمس للغروب حتى تغرب . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم يكرهون الصلاة على الجنازة في هذه الساعات . وقال ابن المبارك معنى هذا الحديث ان نقبر فيهن موتانا . يعني الصلاة على الجنازة . وكره الصلاة على الجنازة عند طلوع الشمس وعند غروبها واذا انتصف النهار حتى تزول الشمس . وهو قول احمد واسحاق . قال الشافعي لا باس بالصلاة على الجنازة في الساعات التي تكره فيهن الصلاة
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سواری والے جنازے کے پیچھے رہے، پیدل چلنے والے جہاں چاہے رہے، اور بچوں کی بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسرائیل اور دیگر کئی لوگوں نے اسے سعید بن عبداللہ سے روایت کیا ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ بچے کی نماز جنازہ یہ جان لینے کے بعد کہ اس میں جان ڈال دی گئی تھی پڑھی جائے گی گو ( ولادت کے وقت ) وہ رویا نہ ہو، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں ۱؎۔
حدثنا بشر بن ادم ابن بنت ازهر السمان البصري، حدثنا اسماعيل بن سعيد بن عبيد الله، حدثنا ابي، عن زياد بن جبير بن حية، عن ابيه، عن المغيرة بن شعبة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الراكب خلف الجنازة والماشي حيث شاء منها والطفل يصلى عليه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح رواه اسراييل وغير واحد عن سعيد بن عبيد الله . والعمل عليه عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم قالوا يصلى على الطفل وان لم يستهل بعد ان يعلم انه خلق . وهو قول احمد واسحاق
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچے کی نماز ( جنازہ ) نہیں پڑھی جائے گی۔ نہ وہ کسی کا وارث ہو گا اور نہ کوئی اس کا وارث ہو گا جب تک کہ وہ پیدائش کے وقت روئے نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث میں لوگ اضطراب کے شکار ہوئے ہیں۔ بعض نے اِسے ابو الزبیر سے اور ابو الزبیر نے جابر سے اور جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور اشعث بن سوار اور دیگر کئی لوگوں نے ابو الزبیر سے اور ابو الزبیر نے جابر سے موقوفاً روایت کی ہے، اور محمد بن اسحاق نے عطاء بن ابی رباح سے اور عطاء نے جابر سے موقوفاً روایت کی ہے گویا موقوف روایت مرفوع روایت سے زیادہ صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ بچے کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ جب تک کہ وہ پیدائش کے وقت نہ روئے یہی سفیان ثوری اور شافعی کا قول ہے۔
حدثنا ابو عمار الحسين بن حريث، حدثنا محمد بن يزيد الواسطي، عن اسماعيل بن مسلم المكي، عن ابي الزبير، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الطفل لا يصلى عليه ولا يرث ولا يورث حتى يستهل " . قال ابو عيسى هذا حديث قد اضطرب الناس فيه فرواه بعضهم عن ابي الزبير عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم مرفوعا . وروى اشعث بن سوار وغير واحد عن ابي الزبير عن جابر موقوفا . وروى محمد بن اسحاق عن عطاء بن ابي رباح عن جابر موقوفا . وكان هذا اصح من الحديث المرفوع . وقد ذهب بعض اهل العلم الى هذا قالوا لا يصلى على الطفل حتى يستهل . وهو قول سفيان الثوري والشافعي
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء ۱؎ کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۳- شافعی کا بیان ہے کہ مالک کہتے ہیں: میت پر نماز جنازہ مسجد میں نہیں پڑھی جائے گی، ۴- شافعی کہتے ہیں: میت پر نماز جنازہ مسجد میں پڑھی جا سکتی ہے، اور انہوں نے اسی حدیث سے دلیل پکڑی ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا عبد العزيز بن محمد، عن عبد الواحد بن حمزة، عن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن عايشة، قالت صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم على سهيل ابن بيضاء في المسجد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم . قال الشافعي قال مالك لا يصلى على الميت في المسجد . وقال الشافعي يصلى على الميت في المسجد . واحتج بهذا الحديث
ابوغالب کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک کے ساتھ ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھی تو وہ اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے۔ پھر لوگ قریش کی ایک عورت کا جنازہ لے کر آئے اور کہا: ابوحمزہ! اس کی بھی نماز جنازہ پڑھا دیجئیے، تو وہ چارپائی کے بیچ میں یعنی عورت کی کمر کے سامنے کھڑے ہوئے، تو ان سے علاء بن زیاد نے پوچھا: آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عورت اور مرد کے جنازے میں اسی طرح کھڑے ہوتے دیکھا ہے۔ جیسے آپ کھڑے ہوئے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں ۱؎۔ اور جب جنازہ سے فارغ ہوئے تو کہا: اس طریقہ کو یاد کر لو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور کئی لوگوں نے بھی ہمام سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ وکیع نے بھی یہ حدیث ہمام سے روایت کی ہے، لیکن انہیں وہم ہوا ہے۔ انہوں نے «عن غالب عن أنس» کہا ہے اور صحیح «عن ابی غالب» ہے، عبدالوارث بن سعید اور دیگر کئی لوگوں نے ابوغالب سے روایت کی ہے جیسے ہمام کی روایت ہے، ۳- اس باب میں سمرہ سے بھی روایت ہے، ۴- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں۔ اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ فائدہ ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کی نماز جنازہ ہو تو امام اس کی کمر کے پاس کھڑا ہو گا، اور امام کو مرد کے سر کے بالمقابل کھڑا ہونا چاہیئے کیونکہ انس بن مالک نے عبداللہ بن عمیر کا جنازہ ان کے سر کے پاس ہی کھڑے ہو کر پڑھایا تھا اور علاء بن زیاد کے پوچھنے پر انہوں نے کہا تھا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔
حدثنا عبد الله بن منير، عن سعيد بن عامر، عن همام، عن ابي غالب، قال صليت مع انس بن مالك على جنازة رجل فقام حيال راسه ثم جاءوا بجنازة امراة من قريش فقالوا يا ابا حمزة صل عليها . فقام حيال وسط السرير . فقال له العلاء بن زياد هكذا رايت النبي صلى الله عليه وسلم قام على الجنازة مقامك منها ومن الرجل مقامك منه قال نعم . فلما فرغ قال احفظوا . وفي الباب عن سمرة . قال ابو عيسى حديث انس هذا حديث حسن وقد روى غير واحد عن همام مثل هذا . وروى وكيع هذا الحديث عن همام فوهم فيه فقال عن غالب عن انس . والصحيح عن ابي غالب . وقد روى هذا الحديث عبد الوارث بن سعيد وغير واحد عن ابي غالب مثل رواية همام . واختلفوا في اسم ابي غالب هذا فقال بعضهم يقال اسمه نافع ويقال رافع . وقد ذهب بعض اهل العلم الى هذا وهو قول احمد واسحاق
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت ۱؎ کی نماز جنازہ پڑھائی، تو آپ اس کے بیچ میں یعنی اس کی کمر کے پاس کھڑے ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے بھی اسے حسین المعلم سے روایت کیا ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، والفضل بن موسى، عن حسين المعلم، عن عبد الله بن بريدة، عن سمرة بن جندب، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى على امراة فقام وسطها . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه شعبة عن حسين المعلم
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد کے مقتولین میں سے دو دو آدمیوں کو ایک کپڑے میں ایک ساتھ کفناتے، پھر پوچھتے: ”ان میں قرآن کسے زیادہ یاد تھا؟“ تو جب آپ کو ان میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کر دیا جاتا تو آپ اسے لحد میں مقدم رکھتے اور فرماتے: ”قیامت کے روز میں ان لوگوں پر گواہ رہوں گا“۔ اور آپ نے انہیں ان کے خون ہی میں دفنانے کا حکم دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور نہ ہی انہیں غسل ہی دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے، یہ حدیث زہری سے مروی ہے انہوں نے اسے انس سے اور انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے نیز یہ زہری سے عبداللہ بن ثعلبہ بن ابی صعیر کے واسطے سے بھی مروی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور ان میں سے بعض نے اسے جابر کی روایت سے ذکر کیا، ۲- اس باب میں انس بن مالک سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم کا شہید کی نماز جنازہ کے سلسلے میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ شہید کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ یہی اہل مدینہ کا قول ہے۔ شافعی اور احمد بھی یہی کہتے ہیں، ۴- اور بعض کہتے ہیں کہ شہید کی نماز پڑھی جائے گی۔ ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے دلیل پکڑی ہے کہ آپ نے حمزہ رضی الله عنہ کی نماز پڑھی تھی۔ ثوری اور اہل کوفہ اسی کے قائل ہیں اور یہی اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ۱؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، ان جابر بن عبد الله، اخبره ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يجمع بين الرجلين من قتلى احد في الثوب الواحد ثم يقول " ايهما اكثر اخذا للقران " . فاذا اشير له الى احدهما قدمه في اللحد وقال " انا شهيد على هولاء يوم القيامة " . وامر بدفنهم في دمايهم ولم يصل عليهم ولم يغسلوا . قال وفي الباب عن انس بن مالك . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن صحيح . وقد روي هذا الحديث عن الزهري عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروي عن الزهري عن عبد الله بن ثعلبة بن ابي صعير عن النبي صلى الله عليه وسلم . ومنهم من ذكره عن جابر . وقد اختلف اهل العلم في الصلاة على الشهيد فقال بعضهم لا يصلى على الشهيد . وهو قول اهل المدينة وبه يقول الشافعي واحمد . وقال بعضهم يصلى على الشهيد . واحتجوا بحديث النبي صلى الله عليه وسلم انه صلى على حمزة . وهو قول الثوري واهل الكوفة وبه يقول اسحاق
شعبی کا بیان ہے کہ مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایک قبر الگ تھلگ دیکھی تو اپنے پیچھے صحابہ کی صف بندی کی اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ شعبی سے پوچھا گیا کہ آپ کو یہ خبر کس نے دی۔ تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی الله عنہما نے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس، بریدہ، یزید بن ثابت، ابوہریرہ، عامر بن ربیعہ، ابوقتادہ اور سہل بن حنیف سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ قبر پر نماز پڑھی جائے گی ۱؎ یہ مالک بن انس کا قول ہے، ۵ – عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ جب میت کو دفن کر دیا جائے اور اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی گئی ہو تو اس کی نماز جنازہ قبر پر پڑھی جائے گی، ۶- ابن مبارک قبر پر نماز ( جنازہ ) پڑھنے کے قائل ہیں، ۷- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: قبر پر نماز ایک ماہ تک پڑھی جا سکتی ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اکثر سنا ہے سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن عبادہ کی والدہ کی نماز جنازہ ایک ماہ کے بعد قبر پر پڑھی۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا الشيباني، حدثنا الشعبي، اخبرني من، راى النبي صلى الله عليه وسلم وراى قبرا منتبذا فصف اصحابه خلفه فصلى عليه فقيل له من اخبركه فقال ابن عباس . قال وفي الباب عن انس وبريدة ويزيد بن ثابت وابي هريرة وعامر بن ربيعة وابي قتادة وسهل بن حنيف . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم لا يصلى على القبر . وهو قول مالك بن انس . وقال عبد الله بن المبارك اذا دفن الميت ولم يصل عليه صلي على القبر . وراى ابن المبارك الصلاة على القبر . وقال احمد واسحاق يصلى على القبر الى شهر . وقالا اكثر ما سمعنا عن ابن المسيب ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى على قبر ام سعد بن عبادة بعد شهر
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ام سعد کا انتقال ہو گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے، جب آپ تشریف لائے تو ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ اس واقعہ کو ایک ماہ گزر چکا تھا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، ان ام سعد، ماتت والنبي صلى الله عليه وسلم غايب فلما قدم صلى عليها وقد مضى لذلك شهر
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں سے فرمایا: ”تمہارے بھائی نجاشی ۱؎ کا انتقال ہو گیا ہے۔ تم لوگ اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو“۔ تو ہم کھڑے ہوئے اور صف بندی کی جیسے میت کے لیے کی جاتی ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث ابوقلابہ نے بھی اپنے چچا ابومہلب سے اور انہوں نے عمران بن حصین سے روایت کی ہے، ۳- ابومہلب کا نام عبدالرحمٰن بن عمرو ہے۔ انہیں معاویہ بن عمرو بھی کہا جاتا ہے، ۴- اس باب میں ابوہریرہ، جابر بن عبداللہ، ابوسعید، حذیفہ بن اسید اور جریر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف وحميد بن مسعدة قالا حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا يونس بن عبيد، عن محمد بن سيرين، عن ابي المهلب، عن عمران بن حصين، قال قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اخاكم النجاشي قد مات فقوموا فصلوا عليه " . قال فقمنا فصففنا كما يصف على الميت وصلينا عليه كما يصلى على الميت . وفي الباب عن ابي هريرة وجابر بن عبد الله وابي سعيد وحذيفة بن اسيد وجرير بن عبد الله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . وقد رواه ابو قلابة عن عمه ابي المهلب عن عمران بن حصين . وابو المهلب اسمه عبد الرحمن بن عمرو ويقال معاوية بن عمرو
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی نماز جنازہ پڑھی، اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے۔ اور جو اس کے ساتھ رہے یہاں تک کہ اس کی تدفین مکمل کر لی جائے تو اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے، ان میں سے ایک قیراط یا ان میں سے چھوٹا قیراط احد کے برابر ہو گا“۔ تو میں نے ابن عمر سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس بھیجا اور ان سے اس بارے میں پوچھوایا تو انہوں نے کہا: ابوہریرہ سچ کہتے ہیں۔ تو ابن عمر نے کہا: ہم نے بہت سے قیراط گنوا دیئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ان سے کئی سندوں سے یہ مروی ہے، ۳- اس باب میں براء، عبداللہ بن مغفل، عبداللہ بن مسعود، ابو سعید خدری، ابی بن کعب، ابن عمر اور ثوبان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن عمرو، حدثنا ابو سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى على جنازة فله قيراط ومن تبعها حتى يقضى دفنها فله قيراطان احدهما او اصغرهما مثل احد " . فذكرت ذلك لابن عمر فارسل الى عايشة فسالها عن ذلك فقالت صدق ابو هريرة . فقال ابن عمر لقد فرطنا في قراريط كثيرة . وفي الباب عن البراء وعبد الله بن مغفل وعبد الله بن مسعود وابي سعيد وابى بن كعب وابن عمر وثوبان . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . قد روي عنه من غير وجه
عباد بن منصور کہتے ہیں کہ میں نے ابوالمہزم کو کہتے سنا کہ میں دس سال ابوہریرہ کے ساتھ رہا۔ میں نے انہیں سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو کسی جنازے کے ساتھ گیا اور اسے تین بار کندھا دیا تو، اس نے اپنا حق پورا کر دیا جو اس پر تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اسے بعض نے اسی سند سے روایت کیا ہے لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ۳- ابوالمہزم کا نام یزید بن سفیان ہے۔ شعبہ نے انہیں ضعیف کہا ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا عباد بن منصور، قال سمعت ابا المهزم، قال صحبت ابا هريرة عشر سنين فسمعته يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من تبع جنازة وحملها ثلاث مرات فقد قضى ما عليه من حقها " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . ورواه بعضهم بهذا الاسناد ولم يرفعه . وابو المهزم اسمه يزيد بن سفيان وضعفه شعبة
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو یہاں تک کہ وہ تمہیں چھوڑ کر آگے نکل جائے یا رکھ دیا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عامر بن ربیعہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، جابر، سہیل بن حنیف، قیس بن سعد اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، عن عامر بن ربيعة، عن النبي صلى الله عليه وسلم . حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، عن عامر بن ربيعة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا رايتم الجنازة فقوموا لها حتى تخلفكم او توضع " . قال وفي الباب عن ابي سعيد وجابر وسهل بن حنيف وقيس بن سعد وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث عامر بن ربيعة حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو اس کے لیے کھڑے ہو جایا کرو۔ اور جو اس کے ساتھ جائے وہ ہرگز نہ بیٹھے جب تک کہ جنازہ رکھ نہ دیا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری کی حدیث اس باب میں حسن صحیح ہے، ۲- یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ جو کسی جنازے کے ساتھ جائے، وہ ہرگز نہ بیٹھے جب تک کہ جنازہ لوگوں کی گردنوں سے اتار کر رکھ نہ دیا جائے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم سے مروی ہے کہ وہ جنازے کے آگے جاتے تھے اور جنازہ پہنچنے سے پہلے بیٹھ جاتے تھے۔ اور یہی شافعی کا قول ہے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، والحسن بن علي الخلال الحلواني، قالا حدثنا وهب بن جرير، حدثنا هشام الدستوايي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا رايتم الجنازة فقوموا لها فمن تبعها فلا يقعدن حتى توضع " . قال ابو عيسى حديث ابي سعيد في هذا الباب حديث حسن صحيح . وهو قول احمد واسحاق قالا من تبع جنازة فلا يقعدن حتى توضع عن اعناق الرجال . وقد روي عن بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم انهم كانوا يتقدمون الجنازة فيقعدون قبل ان تنتهي اليهم الجنازة . وهو قول الشافعي
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے جنازے کے لیے جب تک کہ وہ رکھ نہ دیا جائے کھڑے رہنے کا ذکر کیا گیا تو علی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہتے تھے پھر آپ بیٹھنے لگے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس میں چار تابعین کی روایت ہے جو ایک دوسرے سے روایت کر رہے ہیں، ۳- شافعی کہتے ہیں: اس باب میں یہ سب سے زیادہ صحیح روایت ہے۔ یہ حدیث پہلی حدیث ”جب تم جنازہ دیکھو، تو کھڑے ہو جاؤ“ کی ناسخ ہے، ۴- اس باب میں حسن بن علی اور ابن عباس سے بھی احادیث آئی ہیں، ۵- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۶- احمد کہتے ہیں کہ چاہے تو کھڑا ہو جائے اور چاہے تو کھڑا نہ ہو۔ انہوں نے اس بات سے دلیل پکڑی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مروی ہے کہ آپ کھڑے ہو جایا کرتے تھے پھر بیٹھے رہنے لگے۔ اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۷- علی رضی الله عنہ کے قول ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے لیے کھڑے ہو جایا کرتے تھے پھر آپ بیٹھے رہنے لگے کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنازہ دیکھتے تو کھڑے ہو جاتے پھر بعد میں آپ اس سے رک گئے۔ جب کوئی جنازہ دیکھتے تو کھڑے نہیں ہوتے ) ۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث بن سعد، عن يحيى بن سعيد، عن واقد، وهو ابن عمرو بن سعد بن معاذ عن نافع بن جبير، عن مسعود بن الحكم، عن علي بن ابي طالب، انه ذكر القيام في الجنايز حتى توضع فقال علي قام رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قعد . وفي الباب عن الحسن بن علي وابن عباس . قال ابو عيسى حديث علي حديث حسن صحيح . وفيه رواية اربعة من التابعين بعضهم عن بعض . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم . قال الشافعي وهذا اصح شيء في هذا الباب . وهذا الحديث ناسخ للحديث الاول " اذا رايتم الجنازة فقوموا " . وقال احمد ان شاء قام وان شاء لم يقم . واحتج بان النبي صلى الله عليه وسلم قد روي عنه انه قام ثم قعد . وهكذا قال اسحاق بن ابراهيم . قال ابو عيسى معنى قول علي قام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الجنازة ثم قعد . يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا راى الجنازة قام ثم ترك ذلك بعد فكان لا يقوم اذا راى الجنازة