Loading...

Loading...
کتب
۱۱۵ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بغلی قبر ہمارے لیے ہے اور صندوقی قبر اوروں کے لیے ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں جریر بن عبداللہ، عائشہ، ابن عمر اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، ونصر بن عبد الرحمن الكوفي، ويوسف بن موسى القطان البغدادي، قالوا حدثنا حكام بن سلم، عن علي بن عبد الاعلى، عن ابيه، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اللحد لنا والشق لغيرنا " . وفي الباب عن جرير بن عبد الله وعايشة وابن عمر وجابر . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث غريب من هذا الوجه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب میت قبر میں داخل کر دی جاتی ( اور کبھی راوی حدیث ابوخالد کہتے ) جب میت اپنی قبر میں رکھ دی جاتی تو آپ کبھی: «بسم الله وبالله وعلى ملة رسول الله»، پڑھتے اور کبھی «بسم الله وبالله وعلى سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم» ”اللہ کے نام سے، اللہ کی مدد سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر میں اسے قبر میں رکھتا ہوں“ پڑھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث دوسرے طریق سے بھی ابن عمر سے مروی ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور اسے ابوالصدیق ناجی نے بھی ابن عمر سے روایت کیا ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، ۳- نیز یہ صدیق الناجی کے واسطہ سے ابن عمر سے بھی موقوفاً مروی ہے۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا ابو خالد الاحمر، حدثنا الحجاج، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا ادخل الميت القبر - وقال ابو خالد مرة اذا وضع الميت في لحده قال مرة " بسم الله وبالله وعلى ملة رسول الله " . وقال مرة " بسم الله وبالله وعلى سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم . ورواه ابو الصديق الناجي عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم وقد روي عن ابي الصديق الناجي عن ابن عمر موقوفا ايضا
عثمان بن فرقد کہتے ہیں کہ میں نے جعفر بن محمد سے سنا وہ اپنے باپ سے روایت کر رہے تھے جس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بغلی بنائی، وہ ابوطلحہ ہیں اور جس نے آپ کے نیچے چادر بچھائی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مولی ٰ شقران ہیں، جعفر کہتے ہیں: اور مجھے عبیداللہ بن ابی رافع نے خبر دی وہ کہتے ہیں کہ میں نے شقران کو کہتے سنا: اللہ کی قسم! میں نے قبر میں رسول اللہ کے نیچے چادر ۱؎ بچھائی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- شقران کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
حدثنا زيد بن اخزم الطايي البصري، حدثنا عثمان بن فرقد، قال سمعت جعفر بن محمد، عن ابيه، قال الذي الحد قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم ابو طلحة والذي القى القطيفة تحته شقران مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال جعفر واخبرني عبيد الله بن ابي رافع قال سمعت شقران يقول انا والله طرحت القطيفة تحت رسول الله صلى الله عليه وسلم في القبر . قال وفي الباب عن ابن عباس . قال ابو عيسى حديث شقران حديث حسن غريب . وروى علي بن المديني عن عثمان بن فرقد هذا الحديث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں ایک لال چادر رکھی گئی۔ اور محمد بن بشار نے دوسری جگہ اس سند میں ابوجمرہ کہا ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے ابوحمزہ قصاب سے بھی روایت کی ہے، ان کا نام عمران بن ابی عطا ہے، اور ابوجمرہ ضبعی سے بھی روایت کی گئی ہے، ان کا نام نصر بن عمران ہے۔ یہ دونوں ابن عباس کے شاگرد ہیں، ۳- ابن عباس سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے قبر میں میت کے نیچے کسی چیز کے بچھانے کو مکروہ جانا ہے۔ بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، عن ابي حمزة، عن ابن عباس، قال جعل في قبر النبي صلى الله عليه وسلم قطيفة حمراء . قال وقال محمد بن بشار في موضع اخر حدثنا محمد بن جعفر، ويحيى، عن شعبة، عن ابي جمرة، عن ابن عباس، . وهذا اصح . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روى شعبة، عن ابي حمزة القصاب، واسمه، عمران بن ابي عطاء وروي عن ابي جمرة الضبعي، واسمه، نصر بن عمران وكلاهما من اصحاب ابن عباس . وقد روي عن ابن عباس، انه كره ان يلقى، تحت الميت في القبر شيء . والى هذا ذهب بعض اهل العلم
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے ابوالہیاج اسدی سے کہا: میں تمہیں ایک ایسے کام کے لیے بھیج رہا ہوں جس کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا: ”تم جو بھی ابھری قبر ہو، اسے برابر کئے بغیر اور جو بھی مجسمہ ہو ۱؎، اسے مسمار کئے بغیر نہ چھوڑنا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ قبر کو زمین سے بلند رکھنے کو مکروہ ( تحریمی ) قرار دیتے ہیں، ۴- شافعی کہتے ہیں کہ قبر کے اونچی کئے جانے کو میں مکروہ ( تحریمی ) سوائے اتنی مقدار کے جس سے معلوم ہو سکے کہ یہ قبر ہے تاکہ وہ نہ روندی جائے اور نہ اس پر بیٹھا جائے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ابي وايل، ان عليا، قال لابي الهياج الاسدي ابعثك على ما بعثني به النبي صلى الله عليه وسلم " ان لا�� تدع قبرا مشرفا الا سويته ولا تمثالا الا طمسته " . قال وفي الباب عن جابر . قال ابو عيسى حديث علي حديث حسن . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم يكرهون ان يرفع القبر فوق الارض . قال الشافعي اكره ان يرفع القبر الا بقدر ما يعرف انه قبر لكيلا يوطا ولا يجلس عليه
ابومرثد غنوی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبروں پر نہ بیٹھو ۱؎ اور نہ انہیں سامنے کر کے نماز پڑھو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ، عمرو بن حزم اور بشیر بن خصاصیہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن بسر بن عبيد الله، عن ابي ادريس الخولاني، عن واثلة بن الاسقع، عن ابي مرثد الغنوي، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تجلسوا على القبور ولا تصلوا اليها " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وعمرو بن حزم وبشير ابن الخصاصية . حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن عبد الله بن المبارك، بهذا الاسناد نحوه
اس طریق سے بھی ابومرشد غنوی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ البتہ اس سند میں ابوادریس کا واسطہ نہیں ہے اور یہی صحیح ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ابن مبارک کی روایت غلط ہے، اس میں ابن مبارک سے غلطی ہوئی ہے انہوں نے اس میں ابوادریس خولانی کا واسطہ بڑھا دیا ہے، صحیح یہ ہے کہ بسر بن عبداللہ نے بغیر واسطے کے براہ راست واثلہ سے روایت کی ہے، اسی طرح کئی اور لوگوں نے عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے روایت کی ہے اور اس میں ابوادریس کے واسطے کا ذکر نہیں ہے۔ اور بسر بن عبداللہ نے واثلہ بن اسقع سے سنا ہے۔
حدثنا علي بن حجر، وابو عمار قالا اخبرنا الوليد بن مسلم، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن بسر بن عبيد الله، عن واثلة بن الاسقع، عن ابي مرثد الغنوي، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . وليس فيه عن ابي ادريس وهذا الصحيح . قال ابو عيسى قال محمد وحديث ابن المبارك خطا اخطا فيه ابن المبارك وزاد فيه عن ابي ادريس الخولاني وانما هو بسر بن عبيد الله عن واثلة بن الاسقع هكذا روى غير واحد عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر وليس فيه عن ابي ادريس الخولاني وبسر بن عبيد الله قد سمع من واثلة بن الاسقع
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ قبریں پختہ کی جائیں ۱؎، ان پر لکھا جائے ۲؎ اور ان پر عمارت بنائی جائے ۳؎ اور انہیں روندا جائے ۴؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ اور بھی طرق سے جابر سے مروی ہے، ۳- بعض اہل علم نے قبروں پر مٹی ڈالنے کی اجازت دی ہے، انہیں میں سے حسن بصری بھی ہیں، ۴- شافعی کہتے ہیں: قبروں پر مٹی ڈالنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدثنا عبد الرحمن بن الاسود ابو عمرو البصري، حدثنا محمد بن ربيعة، عن ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر، قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم ان تجصص القبور وان يكتب عليها وان يبنى عليها وان توطا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح قد روي من غير وجه عن جابر . وقد رخص بعض اهل العلم منهم الحسن البصري في تطيين القبور . وقال الشافعي لا باس ان يطين القبر
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے کی چند قبروں کے پاس سے گزرے، تو ان کی طرف رخ کر کے آپ نے فرمایا: «السلام عليكم يا أهل القبور يغفر الله لنا ولكم أنتم سلفنا ونحن بالأثر» ”سلامتی ہو تم پر اے قبر والو! اللہ ہمیں اور تمہیں بخشے تم ہمارے پیش روہو اور ہم بھی تمہارے پیچھے آنے والے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں بریدہ رضی الله عنہ اور عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا محمد بن الصلت، عن ابي كدينة، عن قابوس بن ابي ظبيان، عن ابيه، عن ابن عباس، قال مر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقبور المدينة فاقبل عليهم بوجهه فقال " السلام عليكم يا اهل القبور يغفر الله لنا ولكم انتم سلفنا ونحن بالاثر " . قال وفي الباب عن بريدة وعايشة . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن غريب . وابو كدينة اسمه يحيى بن المهلب وابو ظبيان اسمه حصين بن جندب
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا۔ اب محمد کو اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی اجازت دے دی گئی ہے۔ تو تم بھی ان کی زیارت کرو، یہ چیز آخرت کو یاد دلاتی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بریدہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، ابن مسعود، انس، ابوہریرہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ قبروں کی زیارت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمود بن غيلان، والحسن بن علي الخلال، قالوا حدثنا ابو عاصم النبيل، حدثنا سفيان، عن علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد كنت نهيتكم عن زيارة القبور فقد اذن لمحمد في زيارة قبر امه فزوروها فانها تذكر الاخرة " . قال وفي الباب عن ابي سعيد وابن مسعود وانس وابي هريرة وام سلمة . قال ابو عيسى حديث بريدة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم لا يرون بزيارة القبور باسا . وهو قول ابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق
عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر حبشہ میں وفات پا گئے تو انہیں مکہ لا کر دفن کیا گیا، جب ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا ( مکہ ) آئیں تو عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی الله عنہ کی قبر پر آ کر انہوں نے یہ اشعار پڑھے۔ «وكنا كندماني جذيمة حقبة من الدهر حتى قيل لن يتصدعا فلما تفرقنا كأني ومالكا لطول اجتماع لم نبت ليلة معا» ”ہم دونوں ایک عرصے تک ایک ساتھ ایسے رہے تھے جیسے بادشاہ جزیمہ کے دو ہم نشین، یہاں تک کہ یہ کہا جانے لگا کہ یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے۔ پھر جب ہم جدا ہوئے تو مدت دراز تک ایک ساتھ رہنے کے باوجود ایسا لگنے لگا گویا میں اور مالک ایک رات بھی کبھی ایک ساتھ نہ رہے ہوں“۔ پھر کہا: اللہ کی قسم! اگر میں تمہارے پاس موجود ہوتی تو تجھے وہیں دفن کیا جاتا جہاں تیرا انتقال ہوا اور اگر میں حاضر رہی ہوتی تو تیری زیارت کو نہ آتی۔
حدثنا الحسين بن حريث، حدثنا عيسى بن يونس، عن ابن جريج، عن عبد الله بن ابي مليكة، قال توفي عبد الرحمن بن ابي بكر بحبشي . قال فحمل الى مكة فدفن فيها فلما قدمت عايشة اتت قبر عبد الرحمن بن ابي بكر فقالت وكنا كندمانى جذيمة حقبة من الدهر حتى قيل لن يتصدعا فلما تفرقنا كاني ومالكا لطول اجتماع لم نبت ليلة معا ثم قالت والله لو حضرتك ما دفنت الا حيث مت ولو شهدتك ما زرتك
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور حسان بن ثابت سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبروں کی زیارت کی اجازت دینے سے پہلے کی بات ہے۔ جب آپ نے اس کی اجازت دے دی تو اب اس اجازت میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں، ۴- بعض کہتے ہیں کہ عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت ان کی قلت صبر اور کثرت جزع فزع کی وجہ سے مکروہ ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن عمر بن ابي سلمة، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن زوارات القبور . قال وفي الباب عن ابن عباس وحسان بن ثابت . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد راى بعض اهل العلم ان هذا كان قبل ان يرخص النبي صلى الله عليه وسلم في زيارة القبور فلما رخص دخل في رخصته الرجال والنساء . وقال بعضهم انما كره زيارة القبور للنساء لقلة صبرهن وكثرة جزعهن
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر میں رات کو داخل ہوئے تو آپ کے لیے ایک چراغ روشن کیا گیا۔ آپ نے میت کو قبلے کی طرف سے لیا۔ اور فرمایا: اللہ تم پر رحم کرے! تم بہت نرم دل رونے والے، اور بہت زیادہ قرآن کی تلاوت کرنے والے تھے۔ اور آپ نے اس پر چار تکبیریں کہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں جابر اور یزید بن ثابت سے بھی احادیث آئی ہیں اور یزید بن ثابت، زید بن ثابت کے بھائی ہیں، اور ان سے بڑے ہیں، ۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میت کو قبر میں قبلے کی طرف سے اتارا جائے گا ۱؎، ۴- بعض کہتے ہیں: پائتانے کی طرف سے رکھ کر کھینچ لیں گے ۲؎، ۵- اور اکثر اہل علم نے رات کو دفن کرنے کی اجازت دی ہے ۳؎۔
حدثنا ابو كريب، ومحمد بن عمرو السواق، قالا حدثنا يحيى بن اليمان، عن المنهال بن خليفة، عن الحجاج بن ارطاة، عن عطاء، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل قبرا ليلا فاسرج له سراج فاخذه من قبل القبلة وقال " رحمك الله ان كنت لاواها تلاء للقران " . وكبر عليه اربعا . قال وفي الباب عن جابر ويزيد بن ثابت وهو اخو زيد بن ثابت اكبر منه . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن . وقد ذهب بعض اهل العلم الى هذا وقالوا يدخل الميت القبر من قبل القبلة . وقال بعضهم يسل سلا . ورخص اكثر اهل العلم في الدفن بالليل
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، لوگوں نے اس کی تعریف کی ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( جنت ) واجب ہو گئی“ پھر فرمایا: ”تم لوگ زمین پر اللہ کے گواہ ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، کعب بن عجرہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا حميد، عن انس، قال مر على رسول الله صلى الله عليه وسلم بجنازة فاثنوا عليها خيرا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وجبت " . ثم قال " انتم شهداء الله في الارض " . قال وفي الباب عن عمر وكعب بن عجرة وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح
ابوالاسود الدیلی کہتے ہیں کہ میں مدینے آیا، تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے پاس آ کر بیٹھا اتنے میں کچھ لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی تعریف کی عمر رضی الله عنہ نے کہا: واجب ہو گئی، میں نے عمر رضی الله عنہ سے پوچھا: کیا چیز واجب ہو گئی؟ تو انہوں نے کہا: میں وہی بات کہہ رہا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”جس کسی بھی مسلمان کے ( نیک ہونے کی ) تین آدمی گواہی دیں، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی“۔ ہم نے عرض کیا: اگر دو آدمی گواہی دیں؟ آپ نے فرمایا: ”دو آدمی بھی“ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کی گواہی کے بارے میں نہیں پوچھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، وهارون بن عبد الله البزاز، قالا حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا داود بن ابي الفرات، حدثنا عبد الله بن بريدة، عن ابي الاسود الديلي، قال قدمت المدينة فجلست الى عمر بن الخطاب فمروا بجنازة فاثنوا عليها خيرا فقال عمر وجبت . فقلت لعمر وما وجبت قال اقول كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما من مسلم يشهد له ثلاثة الا وجبت له الجنة " . قال قلنا واثنان قال " واثنان " . قال ولم نسال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الواحد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو الاسود الديلي اسمه ظالم بن عمرو بن سفيان
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی مگر قسم پوری کرنے کے لیے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، معاذ، کعب بن مالک، عتبہ بن عبد، ام سلیم، جابر، انس، ابوذر، ابن مسعود، ابوثعلبہ اشجعی، ابن عباس، عقبہ بن عامر، ابو سعید خدری اور قرہ بن ایاس مزنی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابوثعلبہ اشجعی کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف ایک ہی حدیث ہے، اور وہ یہی حدیث ہے، اور یہ خشنی نہیں ہیں ( ابوثعلبہ خشنی دوسرے ہیں ) ۔
حدثنا قتيبة، عن مالك بن انس، ح وحدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك بن انس، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يموت لاحد من المسلمين ثلاثة من الولد فتمسه النار الا تحلة القسم " . قال وفي الباب عن عمر ومعاذ وكعب بن مالك وعتبة بن عبد وام سليم وجابر وانس وابي ذر وابن مسعود وابي ثعلبة الاشجعي وابن عباس وعقبة بن عامر وابي سعيد وقرة بن اياس المزني . قال وابو ثعلبة الاشجعي له عن النبي صلى الله عليه وسلم حديث واحد هو هذا الحديث وليس هو الخشني . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تین بچوں کو ( لڑکے ہوں یا لڑکیاں ) بطور ذخیرہ آخرت کے آگے بھیج دیا ہو، اور وہ سن بلوغت کو نہ پہنچے ہوں تو وہ اس کے لیے جہنم سے بچانے کا ایک مضبوط قلعہ ہوں گے“۔ اس پر ابوذر رضی الله عنہ نے عرض کیا: میں نے دو بچے بھیجے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”دو بھی کافی ہیں“۔ تو ابی بن کعب سید القراء ۱؎ رضی الله عنہ نے عرض کیا: میں نے ایک ہی بھیجا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”ایک بھی کافی ہے۔ البتہ یہ قلعہ اس وقت ہوں گے جب وہ پہلے صدمے کے وقت یعنی مرنے کے ساتھ ہی صبر کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ابوعبیدہ عبیدہ نے اپنے والد عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا اسحاق بن يوسف، حدثنا العوام بن حوشب، عن ابي محمد، مولى عمر بن الخطاب عن ابي عبيدة بن عبد الله بن مسعود، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قدم ثلاثة لم يبلغوا الحلم كانوا له حصنا حصينا من النار " . قال ابو ذر قدمت اثنين . قال " واثنين " . فقال ابى بن كعب سيد القراء قدمت واحدا قال " وواحدا ولكن انما ذاك عند الصدمة الاولى " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وابو عبيدة لم يسمع من ابيه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میری امت میں سے جس کے دو پیش رو ہوں، اللہ اسے ان کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا“ اس پر عائشہ رضی الله عنہا نے عرض کیا: آپ کی امت میں سے جس کے ایک ہی پیش رو ہو تو؟ آپ نے فرمایا: ”جس کے ایک ہی پیش رو ہو اسے بھی، اے توفیق یافتہ خاتون!“ ( پھر ) انہوں نے پوچھا: آپ کی امت میں جس کا کوئی پیش رو ہی نہ ہو اس کا کیا ہو گا؟ تو آپ نے فرمایا: ”میں اپنی امت کا پیش رو ہوں کسی کی جدائی سے انہیں ایسی تکلیف نہیں ہو گی جیسی میری جدائی سے انہیں ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے عبدربہ بن بارق ہی کی روایت سے جانتے ہیں اور ان سے کئی ائمہ نے روایت کی ہے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، وابو الخطاب، زياد بن يحيى البصري قالا حدثنا عبد ربه بن بارق الحنفي، قال سمعت جدي ابا امي، سماك بن الوليد الحنفي يحدث انه سمع ابن عباس، يحدث انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من كان له فرطان من امتي ادخله الله بهما الجنة " . فقالت له عايشة فمن كان له فرط من امتك قال " ومن كان له فرط يا موفقة " . قالت فمن لم يكن له فرط من امتك قال " فانا فرط امتي لن يصابوا بمثلي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث عبد ربه بن بارق وقد روى عنه غير واحد من الايمة . حدثنا احمد بن سعيد المرابطي، حدثنا حبان بن هلال، انبانا عبد ربه بن بارق، فذكر نحوه . وسماك بن الوليد هو ابو زميل الحنفي
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہید پانچ لوگ ہیں: جو طاعون میں مرا ہو، جو پیٹ کے مرض سے مرا ہو، جو ڈوب کر مرا ہو، جو دیوار وغیرہ گر جانے سے مرا ہو، اور جو اللہ کی راہ میں شہید ہوا ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس، صفوان بن امیہ، جابر بن عتیک، خالد بن عرفطہٰ، سلیمان بن صرد، ابوموسیٰ اشعری اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، ح وحدثنا قتيبة، عن مالك، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الشهداء خمس المطعون والمبطون والغرق وصاحب الهدم والشهيد في سبيل الله " . قال وفي الباب عن انس وصفوان بن امية وجابر بن عتيك وخالد بن عرفطة وسليمان بن صرد وابي موسى وعايشة . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح
ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں کہ سلیمان بن صرد نے خالد بن عرفطہٰ سے ( یا خالد نے سلیمان سے ) پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا؟ جسے اس کا پیٹ مار دے ۱؎ اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا تو ان میں سے ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا: ہاں ( سنا ہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس کے علاوہ یہ اور بھی طریق سے مروی ہے۔
حدثنا عبيد بن اسباط بن محمد القرشي الكوفي، حدثنا ابي، حدثنا ابو سنان الشيباني، عن ابي اسحاق السبيعي، قال قال سليمان بن صرد لخالد بن عرفطة او خالد لسليمان اما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من قتله بطنه لم يعذب في قبره " . فقال احدهما لصاحبه نعم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب في هذا الباب وقد روي من غير هذا الوجه