Loading...

Loading...
کتب
۱۱۵ احادیث
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون کا ذکر کیا، تو فرمایا: ”یہ اس عذاب کا بچا ہوا حصہ ہے، جو بنی اسرائیل کے ایک گروہ ۱؎ پر بھیجا گیا تھا جب کسی زمین ( ملک یا شہر ) میں طاعون ہو جہاں پر تم رہ رہے ہو تو وہاں سے نہ نکلو ۲؎ اور جب وہ کسی ایسی سر زمین میں پھیلا ہو جہاں تم نہ رہتے ہو تو وہاں نہ جاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسامہ بن زید کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد، خزیمہ بن ثابت، عبدالرحمٰن بن عوف، جابر اور عائشہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو بن دينار، عن عامر بن سعد، عن اسامة بن زيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم ذكر الطاعون فقال " بقية رجز - او عذاب ارسل على طايفة من بني اسراييل فاذا وقع بارض وانتم بها فلا تخرجوا منها واذا وقع بارض ولستم بها فلا تهبطوا عليها " . قال وفي الباب عن سعد وخزيمة بن ثابت وعبد الرحمن بن عوف وجابر وعايشة . قال ابو عيسى حديث اسامة بن زيد حديث حسن صحيح
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ سے ملنا چاہتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہو اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ بن صامت کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوموسیٰ اشعری، ابوہریرہ، اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن مقدام ابو الاشعث العجلي، حدثنا المعتمر بن سليمان، قال سمعت ابي يحدث، عن قتادة، عن انس، عن عبادة بن الصامت، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من احب لقاء الله احب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه " . وفي الباب عن ابي موسى وابي هريرة وعايشة . قال ابو عيسى حديث عبادة بن الصامت حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ سے ملنا چاہتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے، اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے“۔ تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سبھی کو موت ناپسند ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”یہ مراد نہیں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ مومن کو جب اللہ کی رحمت، اس کی خوشنودی اور اس کے جنت کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملنا چاہتا ہے اور اللہ اس سے ملنا چاہتا ہے، اور کافر کو جب اللہ کے عذاب اور اس کی غصے کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، ح قال وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن بكر، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن سعد بن هشام، عن عايشة، انها ذكرت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من احب لقاء الله احب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه " . قالت فقلت يا رسول الله كلنا نكره الموت . قال " ليس ذلك ولكن المومن اذا بشر برحمة الله ورضوانه وجنته احب لقاء الله واحب الله لقاءه وان الكافر اذا بشر بعذاب الله وسخطه كره لقاء الله وكره الله لقاءه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے خودکشی کر لی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس مسئلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں کہ ہر شخص کی نماز پڑھی جائے گی جو قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہو اور خودکشی کرنے والے کی بھی پڑھی جائے گی۔ ثوری اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۳- اور احمد کہتے ہیں: امام خودکشی کرنے والے کی نماز نہیں پڑھے گا، البتہ ( مسلمانوں کے مسلمان حاکم ) امام کے علاوہ لوگ پڑھیں گے۔
حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا وكيع، حدثنا اسراييل، وشريك، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، ان رجلا، قتل نفسه فلم يصل عليه النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . واختلف اهل العلم في هذا فقال بعضهم يصلى على كل من صلى الى القبلة وعلى قاتل النفس . وهو قول سفيان الثوري واسحاق . وقال احمد لا يصلي الامام على قاتل النفس ويصلي عليه غير الامام
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کی نماز پڑھ لو کیونکہ اس پر قرض ہے“۔ ( میں نہیں پڑھوں گا ) اس پر ابوقتادہ نے عرض کیا: اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”پورا پورا ادا کرو گے؟“ تو انہوں نے کہا: ( ہاں ) پورا پورا ادا کریں گے تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، سلمہ بن الاکوع، اسماء بنت یزید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، اخبرنا شعبة، عن عثمان بن عبد الله بن موهب، قال سمعت عبد الله بن ابي قتادة، يحدث عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم اتي برجل ليصلي عليه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " صلوا على صاحبكم فان عليه دينا " . قال ابو قتادة هو على . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بالوفاء " . قال بالوفاء . فصلى عليه . قال وفي الباب عن جابر وسلمة بن الاكوع واسماء بنت يزيد . قال ابو عيسى حديث ابي قتادة حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی فوت شدہ شخص جس پر قرض ہو لایا جاتا تو آپ پوچھتے: ”کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟“ اگر آپ کو بتایا جاتا کہ اس نے اتنا مال چھوڑا ہے جس سے اس کے قرض کی مکمل ادائیگی ہو جائے گی تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھاتے، ورنہ مسلمانوں سے فرماتے: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ( میں نہیں پڑھ سکتا ) “، پھر جب اللہ نے آپ کے لیے فتوحات کا دروازہ کھولا تو آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا: ”میں مسلمانوں کا ان کی اپنی جانوں سے زیادہ حقدار ہوں۔ تو مسلمانوں میں سے جس کی موت ہو جائے اور وہ قرض چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہے اور جو کوئی مال چھوڑ کر جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے یحییٰ بن بکیر اور دیگر کئی لوگوں نے لیث بن سعد سے عبداللہ بن صالح کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔
حدثنا ابو الفضل، مكتوم بن العباس الترمذي حدثنا عبد الله بن صالح، قال حدثني الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يوتى بالرجل المتوفى عليه الدين فيقول " هل ترك لدينه من قضاء " . فان حدث انه ترك وفاء صلى عليه والا قال للمسلمين " صلوا على صاحبكم " . فلما فتح الله عليه الفتوح قام فقال " انا اولى بالمومنين من انفسهم فمن توفي من المسلمين فترك دينا على قضاوه ومن ترك مالا فهو لورثته " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه يحيى بن بكير وغير واحد عن الليث بن سعد نحو حديث عبد الله بن صالح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میت کو یا تم میں سے کسی کو دفنا دیا جاتا ہے تو اس کے پاس کالے رنگ کی نیلی آنکھ والے دو فرشتے آتے ہیں، ان میں سے ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے۔ اور وہ دونوں پوچھتے ہیں: تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا۔ وہ ( میت ) کہتا ہے: وہی جو وہ خود کہتے تھے کہ وہ اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں تو وہ دونوں کہتے ہیں: ہمیں معلوم تھا کہ تو یہی کہے گا پھر اس کی قبر طول و عرض میں ستر ستر گز کشادہ کر دی جاتی ہے، پھر اس میں روشنی کر دی جاتی ہے۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے: سو جا، وہ کہتا ہے: مجھے میرے گھر والوں کے پاس واپس پہنچا دو کہ میں انہیں یہ بتا سکوں، تو وہ دونوں کہتے ہیں: تو سو جا اس دلہن کی طرح جسے صرف وہی جگاتا ہے جو اس کے گھر والوں میں اسے سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے، یہاں تک کہ اللہ اسے اس کی اس خواب گاہ سے اٹھائے، اور اگر وہ منافق ہے، تو کہتا ہے: میں لوگوں کو جو کہتے سنتا تھا، وہی میں بھی کہتا تھا اور مجھے کچھ نہیں معلوم۔ تو وہ دونوں اس سے کہتے ہیں: ہمیں معلوم تھا کہ تو یہی کہے گا پھر زمین سے کہا جاتا ہے: تو اسے دبوچ لے تو وہ اسے دبوچ لیتی ہے اور پھر اس کی پسلیاں ادھر کی ادھر ہو جاتی ہیں۔ وہ ہمیشہ اسی عذاب میں مبتلا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ اسے اس کی اس خواب گاہ سے اٹھائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں علی، زید بن ثابت، ابن عباس، براء بن عازب، ابوایوب، انس، جابر، ام المؤمنین عائشہ اور ابوسفیان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ان سبھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عذاب قبر کے متعلق روایت کی ہے۔
حدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف حدثنا بشر بن المفضل، عن عبد الرحمن بن اسحاق، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا قبر الميت - او قال احدكم اتاه ملكان اسودان ازرقان يقال لاحدهما المنكر والاخر النكير فيقولان ما كنت تقول في هذا الرجل فيقول ما كان يقول هو عبد الله ورسوله اشهد ان لا اله الا الله وان محمدا عبده ورسوله . فيقولان قد كنا نعلم انك تقول هذا . ثم يفسح له في قبره سبعون ذراعا في سبعين ثم ينور له فيه ثم يقال له نم . فيقول ارجع الى اهلي فاخبرهم فيقولان نم كنومة العروس الذي لا يوقظه الا احب اهله اليه . حتى يبعثه الله من مضجعه ذلك . وان كان منافقا قال سمعت الناس يقولون فقلت مثله لا ادري . فيقولان قد كنا نعلم انك تقول ذلك . فيقال للارض التيمي عليه . فتلتيم عليه . فتختلف فيها اضلاعه فلا يزال فيها معذبا حتى يبعثه الله من مضجعه ذلك " . وفي الباب عن علي وزيد بن ثابت وابن عباس والبراء بن عازب وابي ايوب وانس وجابر وعايشة وابي سعيد كلهم رووا عن النبي صلى الله عليه وسلم في عذاب القبر . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن غريب
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی مرتا ہے تو اس پر صبح و شام اس کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ جنتیوں میں سے ہے تو جنت میں اپنا ٹھکانا دیکھتا ہے اور اگر وہ جہنمیوں میں سے ہے تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانا دیکھتا ہے، پھر اس سے کہا جاتا ہے: یہ تیرا ٹھکانا ہے، یہاں تک کہ اللہ تجھے قیامت کے دن اٹھائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ۱؎۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا مات الميت عرض عليه مقعده بالغداة والعشي فان كان من اهل الجنة فمن اهل الجنة وان كان من اهل النار فمن اهل النار ثم يقال هذا مقعدك حتى يبعثك الله يوم القيامة " . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مصیبت زدہ کی ( تعزیت ) ماتم پرسی کی، اسے بھی اس کے برابر اجر ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف علی بن عاصم کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں، بعض لوگوں نے محمد بن سوقہ سے اسی جیسی حدیث اسی سند سے موقوفاً روایت کی ہے۔ اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ۳- کہا جاتا ہے کہ علی بن عاصم پر جو زیادہ طعن ہوا، اور لوگوں نے ان پر نکیر کی ہے وہ اسی حدیث کے سبب ہے۔
حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا علي بن عاصم، قال حدثنا والله، محمد بن سوقة عن ابراهيم، عن الاسود، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من عزى مصابا فله مثل اجره " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه مرفوعا الا من حديث علي بن عاصم . وروى بعضهم عن محمد بن سوقة بهذا الاسناد مثله موقوفا ولم يرفعه . ويقال اكثر ما ابتلي به علي بن عاصم بهذا الحديث نقموا عليه
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات کو مرتا ہے، اللہ اسے قبر کے فتنے سے محفوظ رکھتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے، ربیعہ بن سیف ابوعبدالرحمٰن حبلی سے روایت کرتے ہیں اور وہ عبداللہ بن عمرو سے۔ اور ہم نہیں جانتے کہ ربیعہ بن سیف کی عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے سماع ہے یا نہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، وابو عامر العقدي قالا حدثنا هشام بن سعد، عن سعيد بن ابي هلال، عن ربيعة بن سيف، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من مسلم يموت يوم الجمعة او ليلة الجمعة الا وقاه الله فتنة القبر " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب وليس اسناده بمتصل . ربيعة بن سيف انما يروي عن ابي عبد الرحمن الحبلي عن عبد الله بن عمرو ولا نعرف لربيعة بن سيف سماعا من عبد الله بن عمرو
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”علی! تین چیزوں میں دیر نہ کرو: نماز کو جب اس کا وقت ہو جائے، جنازہ کو جب آ جائے، اور بیوہ ( کے نکاح ) کو جب تم اس کا کفو ( مناسب ہمسر ) پا لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- میں اس کی سند متصل نہیں جانتا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الله بن وهب، عن سعيد بن عبد الله الجهني، عن محمد بن عمر بن علي بن ابي طالب، عن ابيه، عن علي بن ابي طالب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له " يا علي ثلاث لا توخرها الصلاة اذا انت والجنازة اذا حضرت والايم اذا وجدت لها كفوا " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب وما ارى اسناده بمتصل
ابوبرزہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی ایسی عورت کی تعزیت ( ماتم پرسی ) کی جس کا لڑکا مر گیا ہو، تو اسے جنت میں اس کے بدلہ ایک عمدہ کپڑا پہنایا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس کی سند قوی نہیں ہے۔
حدثنا محمد بن حاتم المودب، حدثنا يونس بن محمد، قال حدثتنا ام الاسود، عن منية بنت عبيد بن ابي برزة، عن جدها ابي برزة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من عزى ثكلى كسي بردا في الجنة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب وليس اسناده بالقوي
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازے میں اللہ اکبر کہا تو پہلی تکبیر پر آپ نے رفع یدین کیا اور دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر رکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ۳- اہل علم کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے، صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا خیال ہے کہ آدمی جنازے میں ہر تکبیر کے وقت دونوں ہاتھ اٹھائے گا، یہ ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ۱؎، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: صرف پہلی بار اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے گا۔ یہی ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے ۲؎، ۵- ابن مبارک کہتے ہیں کہ نماز جنازہ میں داہنے ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ کو نہیں پکڑے گا، ۶- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: وہ اپنے داہنے ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ کو پکڑے گا جیسے وہ دوسری نماز میں کرتا ہے، ۷- امام ترمذی کہتے ہیں: ہاتھ باندھنا مجھے زیادہ پسند ہے۔
حدثنا القاسم بن دينار الكوفي، حدثنا اسماعيل بن ابان الوراق، عن يحيى بن يعلى الاسلمي، عن ابي فروة، يزيد بن سنان عن زيد، وهو ابن ابي انيسة عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كبر على جنازة فرفع يديه في اول تكبيرة ووضع اليمنى على اليسرى . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . واختلف اهل العلم في هذا فراى اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان يرفع الرجل يديه في كل تكبيرة على الجنازة . وهو قول ابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم لا يرفع يديه الا في اول مرة . وهو قول الثوري واهل الكوفة . وذكر عن ابن المبارك انه قال في الصلاة على الجنازة لا يقبض يمينه على شماله . وراى بعض اهل العلم ان يقبض بيمينه على شماله كما يفعل في الصلاة . قال ابو عيسى يقبض احب الى
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی جان اس کے قرض کی وجہ سے اٹکی رہتی ہے جب تک کہ اس کی ادائیگی نہ ہو جائے“۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو اسامة، عن زكريا بن ابي زايدة، عن سعد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نفس المومن معلقة بدينه حتى يقضى عنه
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی جان اس کے قرض کی وجہ سے اٹکی رہتی ۱؎ ہے جب تک کہ اس کی ادائیگی نہ ہو جائے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن عمر بن ابي سلمة، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " نفس المومن معلقة بدينه حتى يقضى عنه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وهو اصح من الاول