احادیث
#1037
سنن ترمذی - Funerals
شعبی کا بیان ہے کہ مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایک قبر الگ تھلگ دیکھی تو اپنے پیچھے صحابہ کی صف بندی کی اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ شعبی سے پوچھا گیا کہ آپ کو یہ خبر کس نے دی۔ تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی الله عنہما نے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس، بریدہ، یزید بن ثابت، ابوہریرہ، عامر بن ربیعہ، ابوقتادہ اور سہل بن حنیف سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ قبر پر نماز پڑھی جائے گی ۱؎ یہ مالک بن انس کا قول ہے، ۵ – عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ جب میت کو دفن کر دیا جائے اور اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی گئی ہو تو اس کی نماز جنازہ قبر پر پڑھی جائے گی، ۶- ابن مبارک قبر پر نماز ( جنازہ ) پڑھنے کے قائل ہیں، ۷- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: قبر پر نماز ایک ماہ تک پڑھی جا سکتی ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اکثر سنا ہے سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن عبادہ کی والدہ کی نماز جنازہ ایک ماہ کے بعد قبر پر پڑھی۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا الشيباني، حدثنا الشعبي، اخبرني من، راى النبي صلى الله عليه وسلم وراى قبرا منتبذا فصف اصحابه خلفه فصلى عليه فقيل له من اخبركه فقال ابن عباس . قال وفي الباب عن انس وبريدة ويزيد بن ثابت وابي هريرة وعامر بن ربيعة وابي قتادة وسهل بن حنيف . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم لا يصلى على القبر . وهو قول مالك بن انس . وقال عبد الله بن المبارك اذا دفن الميت ولم يصل عليه صلي على القبر . وراى ابن المبارك الصلاة على القبر . وقال احمد واسحاق يصلى على القبر الى شهر . وقالا اكثر ما سمعنا عن ابن المسيب ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى على قبر ام سعد بن عبادة بعد شهر
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Funerals
- Hadith Index
- #1037
- Book Index
- 73
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
