احادیث
#1000
سنن ترمذی - Funerals
علی بن ربیعہ اسدی کہتے ہیں کہ انصار کا قرظہ بن کعب نامی ایک شخص مر گیا، اس پر نوحہ ۱؎ کیا گیا تو مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ آئے اور منبر پر چڑھے۔ اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر کہا: کیا بات ہے؟ اسلام میں نوحہ ہو رہا ہے۔ سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جس پر نوحہ کیا گیا اس پر نوحہ کیے جانے کا عذاب ہو گا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مغیرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، علی، ابوموسیٰ، قیس بن عاصم، ابوہریرہ، جنادہ بن مالک، انس، ام عطیہ، سمرہ اور ابو مالک اشعری رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا قران بن تمام الاسدي، ومروان بن معاوية، ويزيد بن هارون، عن سعيد بن عبيد الطايي، عن علي بن ربيعة الاسدي، قال مات رجل من الانصار يقال له قرظة بن كعب فنيح عليه فجاء المغيرة بن شعبة فصعد المنبر فحمد الله واثنى عليه وقال ما بال النوح في الاسلام اما اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من نيح عليه عذب بما نيح عليه " . وفي الباب عن عمر وعلي وابي موسى وقيس بن عاصم وابي هريرة وجنادة بن مالك وانس وام عطية وسمرة وابي مالك الاشعري . قال ابو عيسى حديث المغيرة حديث غريب حسن صحيح
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Funerals
- Hadith Index
- #1000
- Book Index
- 36
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
