Loading...

Loading...
کتب
۳۹۰ احادیث
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مجھ سے فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے اسماء رضی اللہ عنہا کو حکم دیا، یا اسماء نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کو فاطمہ بنت ابی حبیش نے حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( استحاضہ کے خون کے بارے میں ) دریافت کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جتنے دن وہ ( حیض کے لیے ) بیٹھتی تھیں بیٹھی رہیں، پھر غسل کر لیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے قتادہ نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے ایام حیض میں نماز چھوڑ دیں، پھر غسل کریں، اور نماز پڑھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قتادہ نے عروہ سے کچھ نہیں سنا ہے، اور ابن عیینہ نے زہری کی حدیث میں ( جسے انہوں نے عمرہ سے اور عمرہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے ) اضافہ کیا ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کی شکایت تھی، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایام حیض میں نماز چھوڑ دینے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن عیینہ کا وہم ہے، کیونکہ زہری سے روایت کرنے والے حفاظ کی روایتوں میں یہ نہیں ہے، اس میں صرف وہی ہے جس کا ذکر سہیل بن ابی صالح نے کیا ہے، حمیدی نے بھی اس حدیث کو ابن عیینہ سے روایت کیا ہے، اس میں ایام حیض میں نماز چھوڑ دینے کا ذکر نہیں ہے۔ مسروق کی بیوی قمیر ( قمیر بنت عمرو ) نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ مستحاضہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی، پھر غسل کرے گی۔ عبدالرحمٰن بن قاسم نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ
حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا جرير، عن سهيل، - يعني ابن ابي صالح - عن الزهري، عن عروة بن الزبير، حدثتني فاطمة بنت ابي حبيش، انها امرت اسماء - او اسماء حدثتني انها، امرتها فاطمة بنت ابي حبيش - ان تسال، رسول الله صلى الله عليه وسلم فامرها ان تقعد الايام التي كانت تقعد ثم تغتسل .1 قال ابو داود ورواه قتادة عن عروة بن الزبير عن زينب بنت ام سلمة ان ام حبيبة بنت جحش استحيضت فامرها النبي صلى الله عليه وسلم ان تدع الصلاة ايام اقرايها ثم تغتسل وتصلي . قال ابو داود لم يسمع قتادة من عروة شييا .2 وزاد ابن عيينة في حديث الزهري عن عمرة عن عايشة ان ام حبيبة كانت تستحاض فسالت النبي صلى الله عليه وسلم فامرها ان تدع الصلاة ايام اقرايها . قال ابو داود وهذا وهم من ابن عيينة ليس هذا في حديث الحفاظ عن الزهري الا ما ذكر سهيل بن ابي صالح وقد روى الحميدي هذا الحديث عن ابن عيينة لم يذكر فيه " تدع الصلاة ايام اقرايها " .1 وروت قمير بنت عمرو زوج مسروق عن عايشة المستحاضة تترك الصلاة ايام اقرايها ثم تغتسل .3 وقال عبد الرحمن بن القاسم عن ابيه ان النبي صلى الله عليه وسلم امرها ان تترك الصلاة قدر اقرايها .2 وروى ابو بشر جعفر بن ابي وحشية عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم ان ام حبيبة بنت جحش استحيضت فذكر مثله وروى شريك عن ابي اليقظان عن عدي بن ثابت عن ابيه عن جده عن النبي صلى الله عليه وسلم " المستحاضة تدع الصلاة ايام اقرايها ثم تغتسل وتصلي " .1 وروى العلاء بن المسيب عن الحكم عن ابي جعفر ان سودة استحيضت فامرها النبي صلى الله عليه وسلم اذا مضت ايامها اغتسلت وصلت .1 وروى سعيد بن جبير عن علي وابن عباس " المستحاضة تجلس ايام قريها " .1 وكذلك رواه عمار مولى بني هاشم وطلق بن حبيب عن ابن عباس 1 وكذلك رواه معقل الخثعمي عن علي رضي الله عنه 4 وكذلك روى الشعبي عن قمير امراة مسروق عن عايشة رضى الله عنها . قال ابو داود وهو قول الحسن وسعيد بن المسيب وعطاء ومكحول وابراهيم وسالم والقاسم ان المستحاضة تدع الصلاة ايام اقرايها . قال ابو داود لم يسمع قتادة من عروة شييا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: میں ایک ایسی عورت ہوں جس کو برابر استحاضہ کا خون آتا ہے، کبھی پاک نہیں رہتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو صرف ایک رگ ہے، حیض نہیں ہے، تم کو حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب وہ ختم ہو جائے تو خون دھو لو، پھر ( غسل کر کے ) نماز پڑھ لو ۔
حدثنا احمد بن يونس، وعبد الله بن محمد النفيلي، قالا حدثنا زهير، حدثنا هشام بن عروة، عن عروة، عن عايشة، ان فاطمة بنت ابي حبيش، جاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت اني امراة استحاض فلا اطهر افادع الصلاة قال " انما ذلك عرق وليست بالحيضة فاذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة واذا ادبرت فاغسلي عنك الدم ثم صلي
اس طریق سے بھی ہشام نے زہیر کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، پھر جب اس کے بقدر ( دن ) گزر جائیں تو اپنے سے خون دھو ڈالو، اور ( غسل کر کے ) نماز پڑھ لو ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن هشام، باسناد زهير ومعناه وقال " فاذا اقبلت الحيضة فاتركي الصلاة فاذا ذهب قدرها فاغسلي الدم عنك وصلي
بہیہ کہتی ہیں کہ میں نے ایک عورت کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک عورت کے بارے میں جس کا حیض بگڑ گیا تھا اور خون برابر آ رہا تھا ( مسئلہ ) پوچھتے ہوئے سنا ( ام المؤمنین عائشہ کہتی ہیں ) : تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں اسے بتاؤں کہ وہ دیکھ لے کہ جب اس کا حیض صحیح تھا تو اسے ہر مہینے کتنے دن حیض آتا تھا؟ پھر اسی کے بقدر ایام شمار کر کے ان میں یا انہیں کے بقدر ایام میں نماز چھوڑ دے، غسل کرے، کپڑے کا لنگوٹ باندھے پھر نماز پڑھے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عقيل، عن بهية، قالت سمعت امراة، تسال عايشة عن امراة، فسد حيضها واهريقت دما فامرني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان امرها فلتنظر قدر ما كانت تحيض في كل شهر وحيضها مستقيم فلتعتد بقدر ذلك من الايام ثم لتدع الصلاة فيهن او بقدرهن ثم لتغتسل ثم لتستثفر بثوب ثم لتصلي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سالی اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی ام حبیبہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، تو آپ نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے بلکہ یہ رگ ( کا خون ) ہے، لہٰذا غسل کر کے نماز پڑھتی رہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں اوزاعی نے زہری سے، زہری نے عروہ اور عمرہ سے اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یوں اضافہ کیا ہے کہ: ام حبیبہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا، اور وہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جب حیض آ جائے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہو جائے تو غسل کر کے نماز پڑھو۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ اوزاعی کے علاوہ زہری کے کسی اور شاگرد نے یہ بات ذکر نہیں کی ہے، اسے زہری سے عمرو بن حارث، لیث، یونس، ابن ابی ذئب، معمر، ابراہیم بن سعد، سلیمان بن کثیر، ابن اسحاق اور سفیان بن عیینہ نے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے یہ بات ذکر نہیں کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یہ صرف ہشام بن عروہ کی حدیث کے الفاظ ہیں جسے انہوں نے اپنے والد سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ ابن عیینہ نے اس میں یہ بھی اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دینے کا حکم دیا، یہ ابن عیینہ کا وہم ہے ۱؎، البتہ محمد بن عمرو کی حدیث میں جسے انہوں نے زہری سے نقل کیا ہے کچھ ایسی چیز ہے، جو اوزاعی کے اضافہ کے قریب قریب ہے ۲؎۔
حدثنا ابن ابي عقيل، ومحمد بن سلمة المصريان، قالا حدثنا ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، وعمرة، عن عايشة، ان ام حبيبة بنت جحش، ختنة رسول الله صلى الله عليه وسلم وتحت عبد الرحمن بن عوف استحيضت سبع سنين فاستفتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان هذه ليست بالحيضة ولكن هذا عرق فاغتسلي وصلي " . قال ابو داود زاد الاوزاعي في هذا الحديث عن الزهري عن عروة وعمرة عن عايشة قالت استحيضت ام حبيبة بنت جحش - وهي تحت عبد الرحمن بن عوف - سبع سنين فامرها النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة واذا ادبرت فاغتسلي وصلي " . قال ابو داود ولم يذكر هذا الكلام احد من اصحاب الزهري غير الاوزاعي ورواه عن الزهري عمرو بن الحارث والليث ويونس وابن ابي ذيب ومعمر وابراهيم بن سعد وسليمان بن كثير وابن اسحاق وسفيان بن عيينة ولم يذكروا هذا الكلام . قال ابو داود وانما هذا لفظ حديث هشام بن عروة عن ابيه عن عايشة . قال ابو داود وزاد ابن عيينة فيه ايضا امرها ان تدع الصلاة ايام اقرايها . وهو وهم من ابن عيينة وحديث محمد بن عمرو عن الزهري فيه شىء يقرب من الذي زاد الاوزاعي في حديثه
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہیں استحاضہ کا خون آتا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے جو پہچان لیا جاتا ہے، جب یہ خون آئے تو نماز سے رک جاؤ، اور جب اس کے علاوہ خون ہو تو وضو کرو اور نماز پڑھو، کیونکہ یہ رگ ( کا خون ) ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن مثنی کا بیان ہے کہ ابن ابی عدی نے اسے ہم سے اپنی کتاب سے اسی طرح بیان کی ہے پھر اس کے بعد انہوں نے ہم سے اسے زبانی بھی بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے محمد بن عمرو نے بیان کیا ہے، انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آتا تھا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انس بن سیرین نے مستحاضہ کے سلسلے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ جب وہ گاڑھا کالا خون دیکھے تو نماز نہ پڑھے اور جب پاکی دیکھے ( یعنی کالا خون کا آنا بند ہو جائے ) خواہ تھوڑی ہی دیر سہی، تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔ اور مکحول نے کہا ہے کہ عورتوں سے حیض کا خون پوشیدہ نہیں ہوتا، اس کا خون کالا اور گاڑھا ہوتا ہے، جب یہ ختم ہو جائے اور زرد اور پتلا ہو جائے، تو وہ ( عورت ) مستحاضہ ہے، اب اسے غسل کر کے نماز پڑھنی چاہیئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مستحاضہ کے بارے میں حماد بن زید نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے قعقاع بن حکیم سے، قعقاع نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے کہ جب حیض آئے تو نماز ترک کر دے، اور جب حیض آنا بند ہو جائے تو غسل کر کے نماز پڑھے۔ سمیّ وغیرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے کہ وہ ایام حیض میں بیٹھی رہے ( یعنی نماز سے رکی رہے ) ۔ ایسے ہی اسے حماد بن سلمہ نے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور یونس نے حسن سے روایت کی ہے کہ حائضہ عورت کا خون جب زیادہ دن تک جاری رہے تو وہ اپنے حیض کے بعد ایک یا دو دن نماز سے رکی رہے، پھر وہ مستحاضہ ہو گی۔ تیمی، قتادہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب اس کے حیض کے دنوں سے پانچ دن زیادہ گزر جائیں، تو اب وہ نماز پڑھے۔ تیمی کا بیان ہے کہ میں اس میں سے کم کرتے کرتے دو دن تک آ گیا: جب دو دن زیادہ ہوں تو وہ حیض کے ہی ہیں۔ ابن سیرین سے جب اس کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا: عورتیں اسے زیادہ جانتی ہیں۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن ابي عدي، عن محمد، - يعني ابن عمرو - قال حدثني ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن فاطمة بنت ابي حبيش، انها كانت تستحاض فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم " اذا كان دم الحيضة فانه دم اسود يعرف فاذا كان ذلك فامسكي عن الصلاة فاذا كان الاخر فتوضيي وصلي فانما هو عرق " .1 قال ابو داود قال ابن المثنى حدثنا به ابن ابي عدي من كتابه هكذا ثم حدثنا به بعد حفظا قال حدثنا محمد بن عمرو عن الزهري عن عروة عن عايشة ان فاطمة كانت تستحاض . فذكر معناه . قال ابو داود وقد روى انس بن سيرين عن ابن عباس في المستحاضة قال اذا رات الدم البحراني فلا تصلي واذا رات الطهر ولو ساعة فلتغتسل وتصلي .2 وقال مكحول ان النساء لا تخفى عليهن الحيضة ان دمها اسود غليظ فاذا ذهب ذلك وصارت صفرة رقيقة فانها مستحاضة فلتغتسل ولتصلي .3 قال ابو داود وروى حماد بن زيد عن يحيى بن سعيد عن القعقاع بن حكيم عن سعيد بن المسيب في المستحاضة اذا اقبلت الحيضة تركت الصلاة واذا ادبرت اغتسلت وصلت .2 وروى سمى وغيره عن سعيد بن المسيب تجلس ايام اقرايها .2 وكذلك رواه حماد بن سلمة عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب . قال ابو داود وروى يونس عن الحسن الحايض اذا مد بها الدم تمسك بعد حيضتها يوما او يومين فهي مستحاضة . وقال التيمي عن قتادة اذا زاد على ايام حيضها خمسة ايام فلتصلي . قال التيمي فجعلت انقص حتى بلغت يومين فقال اذا كان يومين فهو من حيضها . وسيل ابن سيرين عنه فقال النساء اعلم بذلك
حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے استحاضہ کا خون کثرت سے آتا تھا، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ سے مسئلہ پوچھنے، اور آپ کو اس کی خبر دینے آئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بہن زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے گھر پایا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بہت زیادہ خون آتا ہے، اس سلسلے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ اس نے مجھے نماز اور روزے سے روک دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں ( شرمگاہ پر ) روئی رکھنے کا مشورہ دیتا ہوں، کیونکہ اس سے خون بند ہو جائے گا ، حمنہ نے کہا: وہ اس سے بھی زیادہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لنگوٹ باندھ کر اس کے نیچے کپڑا رکھ لو ، انہوں نے کہا: وہ اس سے بھی زیادہ ہے، بہت تیزی سے نکلتا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں، ان دونوں میں سے جس کو بھی تم اختیار کر لو وہ تمہارے لیے کافی ہے، اور اگر تمہارے اندر دونوں پر عمل کرنے کی طاقت ہو تو تم اسے زیادہ جانتی ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ تو شیطان کی لات ہے، لہٰذا تم ( ہر ماہ ) اپنے آپ کو چھ یا سات دن تک حائضہ سمجھو، پھر غسل کرو، اور جب تم اپنے آپ کو پاک و صاف سمجھ لو تو تیئس یا چوبیس روز نماز ادا کرو اور روزے رکھو، یہ تمہارے لیے کافی ہے، اور جس طرح عورتیں حیض و طہر کے اوقات میں کرتی ہیں اسی طرح ہر ماہ تم بھی کر لیا کرو، اور اگر تم ظہر کی نماز مؤخر کرنے اور عصر کی نماز جلدی پڑھنے پر قادر ہو تو غسل کر کے ظہر اور عصر کو جمع کر لو اور مغرب کو مؤخر کرو، اور عشاء میں جلدی کرو اور غسل کر کے دونوں نماز کو ایک ساتھ ادا کرو، اور ایک نماز فجر کے لیے غسل کر لیا کرو، تو اسی طرح کرو، اور روزہ رکھو، اگر تم اس پر قادر ہو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں باتوں میں سے یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عمرو بن ثابت نے ابن عقیل سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ حمنہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے، انہوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نہیں بلکہ حمنہ رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو بن ثابت رافضی برا آدمی ہے، لیکن حدیث میں صدوق ہے- اور ثابت بن مقدام ثقہ آدمی ہیں- ۱؎، اس کا ذکر انہوں نے یحییٰ بن معین کے واسطے سے کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا: ابن عقیل کی حدیث کے بارے میں میرے دل میں بے اطمینانی ہے ۲؎۔
حدثنا زهير بن حرب، وغيره، قالا حدثنا عبد الملك بن عمرو، حدثنا زهير بن محمد، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن ابراهيم بن محمد بن طلحة، عن عمه، عمران بن طلحة عن امه، حمنة بنت جحش قالت كنت استحاض حيضة كثيرة شديدة فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم استفتيه واخبره فوجدته في بيت اختي زينب بنت جحش فقلت يا رسول الله اني امراة استحاض حيضة كثيرة شديدة فما ترى فيها قد منعتني الصلاة والصوم فقال " انعت لك الكرسف فانه يذهب الدم " . قالت هو اكثر من ذلك . قال " فاتخذي ثوبا " . فقالت هو اكثر من ذلك انما اثج ثجا . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سامرك بامرين ايهما فعلت اجزا عنك من الاخر وان قويت عليهما فانت اعلم " . فقال لها " انما هذه ركضة من ركضات الشيطان فتحيضي ستة ايام او سبعة ايام في علم الله ثم اغتسلي حتى اذا رايت انك قد طهرت واستنقات فصلي ثلاثا وعشرين ليلة او اربعا وعشرين ليلة وايامها وصومي فان ذلك يجزيك وكذلك فافعلي في كل شهر كما تحيض النساء وكما يطهرن ميقات حيضهن وطهرهن وان قويت على ان توخري الظهر وتعجلي العصر فتغتسلين وتجمعين بين الصلاتين الظهر والعصر وتوخرين المغرب وتعجلين العشاء ثم تغتسلين وتجمعين بين الصلاتين فافعلي وتغتسلين مع الفجر فافعلي وصومي ان قدرت على ذلك " . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وهذا اعجب الامرين الى " .1 قال ابو داود ورواه عمرو بن ثابت عن ابن عقيل قال فقالت حمنة فقلت هذا اعجب الامرين الى .2 لم يجعله من قول النبي صلى الله عليه وسلم جعله كلام حمنة . قال ابو داود وعمرو بن ثابت رافضي رجل سوء ولكنه كان صدوقا في الحديث وثابت بن المقدام رجل ثقة وذكره عن يحيى بن معين . قال ابو داود سمعت احمد يقول حديث ابن عقيل في نفسي منه شىء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سالی اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو سات سال تک استحاضہ کی شکایت رہی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مسئلہ دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے، بلکہ یہ رگ ( کا خون ) ہے، لہٰذا غسل کرو اور نماز پڑھو ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو وہ اپنی بہن زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ایک بڑے لگن میں غسل کرتی تھیں، یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی پر غالب آ جاتی تھی۔
حدثنا ابن ابي عقيل، ومحمد بن سلمة المرادي، قالا حدثنا ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، وعمرة بنت عبد الرحمن، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان ام حبيبة بنت جحش ختنة رسول الله صلى الله عليه وسلم وتحت عبد الرحمن بن عوف استحيضت سبع سنين فاستفتت رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان هذه ليست بالحيضة ولكن هذا عرق فاغتسلي وصلي " . قالت عايشة فكانت تغتسل في مركن في حجرة اختها زينب بنت جحش حتى تعلو حمرة الدم الماء
اس سند سے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عنبسة، حدثنا يونس، عن ابن شهاب، اخبرتني عمرة بنت عبد الرحمن، عن ام حبيبة، بهذا الحديث قالت عايشة رضي الله عنها . فكانت تغتسل لكل صلاة
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے وہ ( ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ) ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے قاسم بن مبرور نے یونس سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عمرہ سے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے، اور انہوں نے ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، اور اسی طرح اسے معمر نے زہری سے، انہوں نے عمرہ سے، اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ سے روایت کی ہے، اور کبھی کبھی معمر نے عمرہ سے، انہوں نے ام حبیبہ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، اور اسی طرح اسے ابراہیم بن سعد اور ابن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے عمرہ سے، انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے، اور ابن عیینہ نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ انہوں ( زہری ) نے یہ نہیں کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( ام حبیبہ کو ) غسل کرنے کا حکم دیا، نیز اسی طرح اسے اوزاعی نے بھی روایت کی ہے اس میں ہے کہ عائشہ نے کہا: وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔
حدثنا يزيد بن خالد بن عبد الله بن موهب الهمداني، حدثني الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، بهذا الحديث قال فيه فكانت تغتسل لكل صلاة . قال ابو داود رواه القاسم بن مبرور عن يونس عن ابن شهاب عن عمرة عن عايشة عن ام حبيبة بنت جحش وكذلك رواه معمر عن الزهري عن عمرة عن عايشة وربما قال معمر عن عمرة عن ام حبيبة بمعناه وكذلك رواه ابراهيم بن سعد وابن عيينة عن الزهري عن عمرة عن عايشة وقال ابن عيينة في حديثه ولم يقل ان النبي صلى الله عليه وسلم امرها ان تغتسل . وكذلك رواه الاوزاعي ايضا قال فيه قالت عايشة فكانت تغتسل لكل صلاة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ( حمنہ ) کو سات سال تک استحاضہ کی شکایت رہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔
حدثنا محمد بن اسحاق المسيبي، حدثني ابي، عن ابن ابي ذيب، عن ابن شهاب، عن عروة، وعمرة بنت عبد الرحمن، عن عايشة، ان ام حبيبة، استحيضت سبع سنين فامرها رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تغتسل فكانت تغتسل لكل صلاة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں استحاضہ کی شکایت ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم دیا، اور پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوالولید طیالسی نے روایت کیا ہے لیکن اسے میں نے ان سے نہیں سنا ہے، انہوں نے سلیمان بن کثیر سے، سلیمان نے زہری سے، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں: ام المؤمنین زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ہر نماز کے لیے غسل کر لیا کرو ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے عبدالصمد نے سلیمان بن کثیر سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہر نماز کے لیے وضو کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عبدالصمد کا وہم ہے اور اس سلسلے میں ابوالولید کا قول ہی صحیح ہے۔
حدثنا هناد بن السري، عن عبدة، عن ابن اسحاق، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان ام حبيبة بنت جحش، استحيضت في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فامرها بالغسل لكل صلاة وساق الحديث . قال ابو داود ورواه ابو الوليد الطيالسي ولم اسمعه منه عن سليمان بن كثير عن الزهري عن عروة عن عايشة قالت استحيضت زينب بنت جحش فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم " اغتسلي لكل صلاة " . وساق الحديث . قال ابو داود ورواه عبد الصمد عن سليمان بن كثير قال " توضيي لكل صلاة " . قال ابو داود وهذا وهم من عبد الصمد والقول فيه قول ابي الوليد
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی کہ ایک عورت کو استحاضہ کی شکایت تھی اور وہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے اور نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ ( یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن ) نے مجھے خبر دی کہ ام بکر نے انہیں خبر دی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق جو طہر کے بعد ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں ڈال دے، فرمایا: یہ تو بس ایک رگ ہے ، یا فرمایا: یہ تو بس رگیں ہیں ، راوی کو شک ہے کہ «إنما هي عرق» کہا یا «إنما هو عروق» کہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عقیل کی حدیث میں دونوں امر ایک ساتھ ہیں، اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ہو سکے تو تم ہر نماز کے لیے غسل کرو، ورنہ دو دو نماز کو جمع کر لو ، جیسا کہ قاسم نے اپنی حدیث میں کہا ہے، نیز یہ قول سعید بن جبیر سے بھی مروی ہے، وہ علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن عمرو بن ابي الحجاج ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، عن الحسين، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، قال اخبرتني زينب بنت ابي سلمة، ان امراة، كانت تهراق الدم - وكانت تحت عبد الرحمن بن عوف - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امرها ان تغتسل عند كل صلاة وتصلي واخبرني ان ام بكر اخبرته ان عايشة قالت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في المراة ترى ما يريبها بعد الطهر " انما هي - او قال انما هو - عرق او قال عروق " . قال ابو داود وفي حديث ابن عقيل الامران جميعا وقال " ان قويت فاغتسلي لكل صلاة والا فاجمعي " . كما قال القاسم في حديثه وقد روي هذا القول عن سعيد بن جبير عن علي وابن عباس رضى الله عنهما
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت کو استحاضہ ہوا تو اسے حکم دیا گیا کہ عصر جلدی پڑھے اور ظہر میں دیر کرے، اور دونوں کے لیے ایک غسل کرے، اور مغرب کو مؤخر کرے، اور عشاء میں جلدی کرے اور دونوں کے لیے ایک غسل کرے، اور فجر کے لیے ایک غسل کرے۔ شعبہ کہتے ہیں: تو میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے پوچھا: کیا یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے؟ اس پر انہوں نے کہا: میں جو کچھ تم سے بیان کرتا ہوں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے مروی ہوتا ہے ۱؎۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت استحيضت امراة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فامرت ان تعجل العصر وتوخر الظهر وتغتسل لهما غسلا . وان توخر المغرب وتعجل العشاء وتغتسل لهما غسلا وتغتسل لصلاة الصبح غسلا . فقلت لعبد الرحمن اعن النبي صلى الله عليه وسلم فقال لا احدثك عن النبي صلى الله عليه وسلم بشىء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کو استحاضہ ہوا، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا حکم دیا، جب ان پر یہ شاق گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک غسل سے ظہر اور عصر پڑھنے، اور ایک غسل سے مغرب و عشاء پڑھنے اور ایک غسل سے فجر پڑھنے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے ابن عیینہ نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ ایک عورت کو استحاضہ ہوا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے اسے حکم دیا، پھر اس راوی نے اوپر والی روایت کے ہم معنی روایت کی۔
حدثنا عبد العزيز بن يحيى، حدثني محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، ان سهلة بنت سهيل، استحيضت فاتت النبي صلى الله عليه وسلم فامرها ان تغتسل عند كل صلاة فلما جهدها ذلك امرها ان تجمع بين الظهر والعصر بغسل والمغرب والعشاء بغسل وتغتسل للصبح . قال ابو داود ورواه ابن عيينة عن عبد الرحمن بن القاسم عن ابيه ان امراة استحيضت فسالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فامرها بمعناه
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فاطمہ بنت ابی حبیش کو اتنے اتنے دنوں سے ( خون ) استحاضہ آ رہا ہے تو وہ نماز نہیں پڑھ سکی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ تو شیطان کی طرف سے ہے، وہ ایک لگن میں بیٹھ جائیں، جب پانی پر زردی دیکھیں تو ظہر و عصر کے لیے ایک غسل، مغرب و عشاء کے لیے ایک غسل، اور فجر کے لیے ایک غسل کریں، اور اس کے درمیان میں وضو کرتی رہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ جب ان پر غسل کرنا دشوار ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک غسل سے دو نمازیں جمع کرنے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے ابراہیم نے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور یہی قول ابراہیم نخعی اور عبداللہ بن شداد کا بھی ہے۔
حدثنا وهب بن بقية، اخبرنا خالد، عن سهيل، - يعني ابن ابي صالح - عن الزهري، عن عروة بن الزبير، عن اسماء بنت عميس، قالت قلت يا رسول الله ان فاطمة بنت ابي حبيش استحيضت منذ كذا وكذا فلم تصل . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سبحان الله ان هذا من الشيطان لتجلس في مركن فاذا رات صفرة فوق الماء فلتغتسل للظهر والعصر غسلا واحدا وتغتسل للمغرب والعشاء غسلا واحدا وتغتسل للفجر غسلا واحدا وتتوضا فيما بين ذلك " . قال ابو داود رواه مجاهد عن ابن عباس لما اشتد عليها الغسل امرها ان تجمع بين الصلاتين . قال ابو داود ورواه ابراهيم عن ابن عباس وهو قول ابراهيم النخعي وعبد الله بن شداد
عدی بن ثابت کے دادا ۱؎ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحاضہ کے بارے میں فرمایا: وہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑے رہے، پھر غسل کرے اور نماز پڑھے، اور ہر نماز کے وقت وضو کرے ۲؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان نے یہ اضافہ کیا ہے کہ اور روزے رکھے، اور نماز پڑھے ۔
حدثنا محمد بن جعفر بن زياد، قال انبانا ح، واخبرنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا شريك، عن ابي اليقظان، عن عدي بن ثابت، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم في المستحاضة " تدع الصلاة ايام اقرايها ثم تغتسل وتصلي والوضوء عند كل صلاة " . قال ابو داود زاد عثمان " وتصوم وتصلي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں۔ پھر راوی نے ان کا واقعہ بیان کیا، اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم غسل کرو اور ہر نماز کے لیے وضو کرو اور نماز پڑھو ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن حبيب بن ابي ثابت، عن عروة، عن عايشة، قالت جاءت فاطمة بنت ابي حبيش الى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر خبرها وقال " ثم اغتسلي ثم توضيي لكل صلاة وصلي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا مستحاضہ کے بارے میں کہتی ہیں کہ وہ غسل کرے گی، یعنی ایک مرتبہ ( غسل کرے گی ) پھر اپنے حیض آنے تک وضو کرتی رہے گی۔
حدثنا احمد بن سنان القطان الواسطي، حدثنا يزيد، عن ايوب بن ابي مسكين، عن الحجاج، عن ام كلثوم، عن عايشة، في المستحاضة تغتسل - تعني مرة واحدة - ثم توضا الى ايام اقرايها
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں عدی بن ثابت اور اعمش کی حدیث جو انہوں نے حبیب سے روایت کیا ہے، اور ایوب ابوالعلاء کی حدیث یہ سب کی سب ضعیف ہیں، صحیح نہیں ہیں، اور اعمش کی حدیث جسے انہوں نے حبیب سے روایت کیا ہے، اس کے ضعف پر یہی حدیث دلیل ہے، جسے حفص بن غیاث نے اعمش سے موقوفاً روایت کیا ہے، اور حفص بن غیاث نے حبیب کی حدیث کے مرفوعاً ہونے کا انکار کیا ہے، نیز اسے اسباط نے بھی اعمش سے، اور اعمش نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوفاً روایت کیا ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس کے ابتدائی حصہ کو ابن داود نے اعمش سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور اس میں ہر نماز کے وقت وضو کے ہونے کا انکار کیا ہے۔ حبیب کی حدیث کے ضعف کی دلیل یہ بھی ہے کہ زہری کی روایت بواسطہ عروہ، عائشہ رضی اللہ عنہا سے مستحاضہ کے متعلق مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ ابوالیقظان نے عدی بن ثابت سے، عدی نے اپنے والد ثابت سے، ثابت نے علی رضی اللہ عنہ سے، اور بنو ہاشم کے غلام عمار نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے، اور عبدالملک بن میسرہ، بیان، مغیرہ، فراس اور مجالد نے شعبی سے اور شعبی نے قمیر کی حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ: تم ہر نماز کے لیے وضو کرو ۔ اور داود اور عاصم کی روایت میں جسے انہوں نے شعبی سے، شعبی نے قمیر سے، اور قمیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ وہ روزانہ ایک بار غسل کرے۔ ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ: مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے وضو کرے ۔ یہ ساری حدیثیں ضعیف ہیں سوائے تین حدیثوں کے: ایک قمیر کی حدیث ( جو عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ) ، دوسری عمار مولی بنی ہاشم کی حدیث ( جو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ) ، اور تیسری ہشام بن عروہ کی حدیث جو ان کے والد سے مروی ہے، ابن عباس سے مشہور ہر نماز کے لیے غسل ہے ۲؎۔
حدثنا احمد بن سنان القطان الواسطي، حدثنا يزيد، عن ايوب ابي العلاء، عن ابن شبرمة، عن امراة، مسروق عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله . قال ابو داود وحديث عدي بن ثابت والاعمش عن حبيب وايوب ابي العلاء كلها ضعيفة لا تصح ودل على ضعف حديث الاعمش عن حبيب هذا الحديث اوقفه حفص بن غياث عن الاعمش وانكر حفص بن غياث ان يكون حديث حبيب مرفوعا واوقفه ايضا اسباط عن الاعمش موقوف عن عايشة . قال ابو داود ورواه ابن داود عن الاعمش مرفوعا اوله وانكر ان يكون فيه الوضوء عند كل صلاة ودل على ضعف حديث حبيب هذا ان رواية الزهري عن عروة عن عايشة قالت فكانت تغتسل لكل صلاة . في حديث المستحاضة وروى ابو اليقظان عن عدي بن ثابت عن ابيه عن علي - رضي الله عنه - وعمار مولى بني هاشم عن ابن عباس وروى عبد الملك بن ميسرة وبيان والمغيرة وفراس ومجالد عن الشعبي عن حديث قمير عن عايشة " توضيي لكل صلاة " . ورواية داود وعاصم عن الشعبي عن قمير عن عايشة " تغتسل كل يوم مرة " . وروى هشام بن عروة عن ابيه المستحاضة تتوضا لكل صلاة . وهذه الاحاديث كلها ضعيفة الا حديث قمير وحديث عمار مولى بني هاشم وحديث هشام بن عروة عن ابيه والمعروف عن ابن عباس الغسل