Loading...

Loading...
کتب
۳۹۰ احادیث
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت ( یعنی پیشاب اور پاخانہ ) کے لیے جاتے تو دور تشریف لے جاتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب القعنبي، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - عن محمد، - يعني ابن عمرو - عن ابي سلمة، عن المغيرة بن شعبة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا ذهب المذهب ابعد
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کا ارادہ کرتے تو ( اتنی دور ) جاتے کہ کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہ پاتا تھا۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا عيسى بن يونس، اخبرنا اسماعيل بن عبد الملك، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اراد البراز انطلق حتى لا يراه احد
ابوالتیاح کہتے ہیں کہ مجھے ایک شیخ نے بتایا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا جب بصرہ میں ( بحثیت گورنر ) تشریف لائے تو لوگ انہیں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے سنی ہوئی احادیث بیان کرتے تھے ۔ ( تو اس ضمن میں ) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے نام ایک خط لکھا : جس میں ان سے کچھ مسائل دریافت کیے چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب میں لکھا : میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کرنے کا ارادہ کیا ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیوار کی جڑ میں نرم مٹی کے پاس آئے اور پیشاب کیا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سے جب کوئی پیشاب کرنا چاہے تو اس کے لیے ( مناسب نرم ) جگہ تلاش کر لیا کرے ۔ “
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا ابو التياح، حدثني شيخ، قال لما قدم عبد الله بن عباس البصرة فكان يحدث عن ابي موسى، فكتب عبد الله الى ابي موسى يساله عن اشياء، فكتب اليه ابو موسى اني كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم فاراد ان يبول فاتى دمثا في اصل جدار فبال ثم قال صلى الله عليه وسلم " اذا اراد احدكم ان يبول فليرتد لبوله موضعا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ جاتے ( حماد کی روایت میں ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہتے، اور عبدالوارث کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم «أعوذ بالله من الخبث والخبائث» میں ناپاک جن مردوں اور ناپاک جن عورتوں ( کے شر ) سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہتے۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا حماد بن زيد، وعبد الوارث، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا دخل الخلاء - قال عن حماد قال " اللهم اني اعوذ بك " . وقال عن عبد الوارث - قال " اعوذ بالله من الخبث والخبايث " . قال ابو داود رواه شعبة عن عبد العزيز اللهم اني اعوذ بك وقال مرة اعوذ بالله و قال وهيب فليتعوذ بالله
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں «اللهم إني أعوذ بك» ہے، یعنی اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ شعبہ کا بیان ہے کہ عبدالعزیز نے ایک بار «أعوذ بالله» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کی بھی روایت کی ہے، اور وہیب نے عبدالعزیز بن صہیب سے جو روایت کی ہے اس میں «فليتعوذ بالله» چاہیئے کہ اللہ سے پناہ مانگے کے الفاظ ہیں۔
حدثنا الحسن بن عمرو، - يعني السدوسي - حدثنا وكيع، عن شعبة، عن عبد العزيز، - هو ابن صهيب - عن انس، بهذا الحديث قال " اللهم اني اعوذ بك " . وقال شعبة وقال مرة " اعوذ بالله
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کی یہ جگہیں جن اور شیطان کے موجود رہنے کی جگہیں ہیں، جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں جائے تو یہ دعا پڑھے «أعوذ بالله من الخبث والخبائث» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جن مردوں اور ناپاک جن عورتوں سے ۔
حدثنا عمرو بن مرزوق، اخبرنا شعبة، عن قتادة، عن النضر بن انس، عن زيد بن ارقم، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان هذه الحشوش محتضرة فاذا اتى احدكم الخلاء فليقل اعوذ بالله من الخبث والخبايث
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان سے ( بطور استہزاء ) یہ کہا گیا کہ تمہارے نبی نے تو تمہیں سب چیزیں سکھا دی ہیں حتیٰ کہ پاخانہ کرنا بھی، تو انہوں نے ( فخریہ انداز میں ) کہا: ہاں، بیشک ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو پاخانہ اور پیشاب کے وقت قبلہ رخ ہونے، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے، استنجاء میں تین سے کم پتھر استعمال کرنے اور گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن سلمان، قال قيل له لقد علمكم نبيكم كل شىء حتى الخراءة . قال اجل لقد نهانا صلى الله عليه وسلم ان نستقبل القبلة بغايط او بول وان لا نستنجي باليمين وان لا يستنجي احدنا باقل من ثلاثة احجار او يستنجي برجيع او عظم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( لوگو! ) میں تمہارے لیے والد کے درجے میں ہوں، تم کو ( ہر چیز ) سکھاتا ہوں، تو جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے جائے تو قبلہ کی طرف منہ اور پیٹھ کر کے نہ بیٹھے، اور نہ ( ہی ) داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( استنجاء کے لیے ) تین پتھر لینے کا حکم فرماتے، اور گوبر اور ہڈی کے استعمال سے روکتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا ابن المبارك، عن محمد بن عجلان، عن القعقاع بن حكيم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما انا لكم بمنزلة الوالد اعلمكم فاذا اتى احدكم الغايط فلا يستقبل القبلة ولا يستدبرها ولا يستطب بيمينه " . وكان يامر بثلاثة احجار وينهى عن الروث والرمة
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم قضائے حاجت کے لیے آؤ تو پاخانہ اور پیشاب کرتے وقت قبلہ رو ہو کر نہ بیٹھو، بلکہ پورب یا پچھم کی طرف رخ کر لیا کرو ۱؎، ( ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) پھر ہم ملک شام آئے تو وہاں ہمیں بیت الخلاء قبلہ رخ بنے ہوئے ملے، تو ہم پاخانہ و پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف سے رخ پھیر لیتے تھے، اور اللہ سے مغفرت طلب کرتے تھے۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي ايوب، رواية قال " اذا اتيتم الغايط فلا تستقبلوا القبلة بغايط ولا بول ولكن شرقوا او غربوا " . فقدمنا الشام فوجدنا مراحيض قد بنيت قبل القبلة فكنا ننحرف عنها ونستغفر الله
معقل بن ابی معقل اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب اور پاخانہ کے وقت دونوں قبلوں ( بیت اللہ اور بیت المقدس ) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوزید بنی ثعلبہ کے غلام ہیں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا عمرو بن يحيى، عن ابي زيد، عن معقل بن ابي معقل الاسدي، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نستقبل القبلتين ببول او غايط . قال ابو داود وابو زيد هو مولى بني ثعلبة
مروان اصفر کہتے ہیں میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے قبلہ کی طرف اپنی سواری بٹھائی پھر بیٹھ کر اسی کی طرف رخ کر کے پیشاب کرنے لگے، میں نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی کنیت ہے ) کیا اس سے منع نہیں کیا گیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: کیوں نہیں، اس سے صرف میدان میں روکا گیا ہے لیکن جب تمہارے اور قبلہ کے بیچ میں کوئی ایسی چیز ہو جو تمہارے لیے آڑ ہو تو کوئی حرج نہیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا صفوان بن عيسى، عن الحسن بن ذكوان، عن مروان الاصفر، قال رايت ابن عمر اناخ راحلته مستقبل القبلة ثم جلس يبول اليها فقلت يا ابا عبد الرحمن اليس قد نهي عن هذا قال بلى انما نهي عن ذلك في الفضاء فاذا كان بينك وبين القبلة شىء يسترك فلا باس
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ( ایک روز ) میں ( کسی ضرورت سے ) گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے دو اینٹوں پر اس طرح بیٹھے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ بیت المقدس کی طرف تھا ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن عمه، واسع بن حبان، عن عبد الله بن عمر، قال لقد ارتقيت على ظهر البيت فرايت رسول الله صلى الله عليه وسلم على لبنتين مستقبل بيت المقدس لحاجته
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے سے منع فرمایا، ( لیکن ) میں نے وفات سے ایک سال پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( قضائے حاجت کی حالت میں ) قبلہ رو دیکھا ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي قال، سمعت محمد بن اسحاق، يحدث عن ابان بن صالح، عن مجاهد، عن جابر بن عبد الله، قال نهى نبي الله صلى الله عليه وسلم ان نستقبل القبلة ببول فرايته قبل ان يقبض بعام يستقبلها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کا ارادہ فرماتے تو اپنا کپڑا ( شرمگاہ سے اس وقت تک ) نہ اٹھاتے جب تک کہ زمین سے قریب نہ ہو جاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالسلام بن حرب نے اعمش سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، مگر یہ ضعیف ہے ۱؎۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن رجل، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اراد حاجة لا يرفع ثوبه حتى يدنو من الارض . قال ابو داود رواه عبد السلام بن حرب عن الاعمش عن انس بن مالك وهو ضعيف . قال ابو عيسى الرملي حدثنا احمد بن الوليد حدثنا عمرو بن عون اخبرنا عبد السلام به
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا دو آدمی قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے وقت شرمگاہ کھولے ہوئے آپس میں باتیں نہ کریں کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عکرمہ بن عمار کے علاوہ کسی اور نے مسنداً ( مرفوعاً ) روایت نہیں کیا ہے۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، حدثنا ابن مهدي، حدثنا عكرمة بن عمار، عن يحيى بن ابي كثير، عن هلال بن عياض، قال حدثني ابو سعيد، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يخرج الرجلان يضربان الغايط كاشفين عن عورتهما يتحدثان فان الله عز وجل يمقت على ذلك " . قال ابو داود هذا لم يسنده الا عكرمة بن عمار
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک دن ) پیشاب کر رہے تھے ( کہ اسی حالت میں ) ایک شخص آپ کے پاس سے گزرا اور اس نے آپ کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عمر وغیرہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کیا، پھر اس آدمی کے سلام کا جواب دیا۔
حدثنا عثمان، وابو بكر ابنا ابي شيبة قالا حدثنا عمر بن سعد، عن سفيان، عن الضحاك بن عثمان، عن نافع، عن ابن عمر، قال مر رجل على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يبول فسلم عليه فلم يرد عليه . قال ابو داود وروي عن ابن عمر وغيره ان النبي صلى الله عليه وسلم تيمم ثم رد على الرجل السلام
مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے تو انہوں نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ وضو کیا پھر ( سلام کا جواب دیا اور ) مجھ سے معذرت کی اور فرمایا مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں اللہ کا ذکر بغیر پاکی کے کروں ۔ راوی کو شک ہے «على طهر» کہا، یا «على طهارة» کہا۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن حضين بن المنذر ابي ساسان، عن المهاجر بن قنفذ، انه اتى النبي صلى الله عليه وسلم وهو يبول فسلم عليه فلم يرد عليه حتى توضا ثم اعتذر اليه فقال " اني كرهت ان اذكر الله عز وجل الا على طهر " . او قال " على طهارة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کا ذکر ہر وقت کیا کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابن ابي زايدة، عن ابيه، عن خالد بن سلمة، - يعني الفافاء - عن البهي، عن عروة، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر الله عز وجل على كل احيانه
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ میں داخل ہوتے تو اپنی انگوٹھی نکال کر رکھ دیتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے، معروف وہ روایت ہے جسے ابن جریج نے زیاد بن سعد سے، زیاد نے زہری سے اور زہری نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ( اسے پہنا ) پھر اسے نکال کر پھینک دیا۔ اس حدیث میں ہمام راوی سے وہم ہوا ہے، اسے صرف ہمام ہی نے روایت کیا ہے۔
حدثنا نصر بن علي، عن ابي علي الحنفي، عن همام، عن ابن جريج، عن الزهري، عن انس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا دخل الخلاء وضع خاتمه . قال ابو داود هذا حديث منكر وانما يعرف عن ابن جريج عن زياد بن سعد عن الزهري عن انس ان النبي صلى الله عليه وسلم اتخذ خاتما من ورق ثم القاه . والوهم فيه من همام ولم يروه الا همام
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو قبروں پر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( قبر میں مدفون ) ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں، ان میں سے یہ شخص تو پیشاب سے پاکی حاصل نہیں کرتا تھا، اور رہا یہ تو یہ چغل خوری میں لگا رہتا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ایک تازہ ٹہنی منگوائی، اور اسے بیچ سے پھاڑ کر دونوں قبروں پر ایک ایک شاخ گاڑ دی پھر فرمایا جب تک یہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں شاید ان کا عذاب کم رہے ۔ ھناد نے «يستنزه» کی جگہ «يستتر» ( پردہ نہیں کرتا تھا ) ذکر کیا ہے۔
حدثنا زهير بن حرب، وهناد بن السري، قالا حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، قال سمعت مجاهدا، يحدث عن طاوس، عن ابن عباس، قال مر رسول الله صلى الله عليه وسلم على قبرين فقال " انهما يعذبان وما يعذبان في كبير اما هذا فكان لا يستنزه من البول واما هذا فكان يمشي بالنميمة " . ثم دعا بعسيب رطب فشقه باثنين ثم غرس على هذا واحدا وعلى هذا واحدا وقال " لعله يخفف عنهما ما لم ييبسا " . قال هناد " يستتر " . مكان " يستنزه