Loading...

Loading...
کتب
۳۹۰ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں جریر نے «كان لا يستتر من بوله» کہا ہے، اور ابومعاویہ نے «يستتر» کی جگہ «يستنزه» وہ پاکی حاصل نہیں کرتا تھا کا لفظ ذکر کیا ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن مجاهد، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه قال " كان لا يستتر من بوله " . وقال ابو معاوية " يستنزه
عبدالرحمٰن بن حسنہ کہتے ہیں: : میں اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے تو ( دیکھا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( باہر ) نکلے اور آپ کے ساتھ ایک ڈھال ہے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آڑ کی پھر پیشاب کیا، ہم نے کہا: آپ کو دیکھو عورتوں کی طرح ( چھپ کر ) پیشاب کر رہے ہیں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جس سے بنی اسرائیل کا ایک شخص دوچار ہوا؟ ان میں سے جب کسی شخص کو ( اس کے جسم کے کسی حصہ میں ) پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو کاٹ ڈالتا جہاں پیشاب لگ جاتا، اس شخص نے انہیں اس سے روکا تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: منصور نے ابووائل سے، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے، ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث میں پیشاب لگ جانے پر اپنی کھال کاٹ ڈالنے کی روایت کی ہے، اور عاصم نے ابووائل سے، انہوں نے ابوموسیٰ سے، اور ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا جسم کاٹ ڈالنے کا ذکر کیا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا الاعمش، عن زيد بن وهب، عن عبد الرحمن ابن حسنة، قال انطلقت انا وعمرو بن العاص، الى النبي صلى الله عليه وسلم فخرج ومعه درقة ثم استتر بها ثم بال فقلنا انظروا اليه يبول كما تبول المراة . فسمع ذلك فقال " الم تعلموا ما لقي صاحب بني اسراييل كانوا اذا اصابهم البول قطعوا ما اصابه البول منهم فنهاهم فعذب في قبره " . قال ابو داود قال منصور عن ابي وايل عن ابي موسى في هذا الحديث قال " جلد احدهم " . وقال عاصم عن ابي وايل عن ابي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " جسد احدهم
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑے خانہ ( گھور ) پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۱؎ پھر پانی منگوایا ( اور وضو کیا ) اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کا بیان ہے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پیچھے ہٹنے چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( قریب ) بلایا ( میں آیا ) یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑیوں کے پاس ( کھڑا ) تھا۔
حدثنا حفص بن عمر، ومسلم بن ابراهيم، قالا حدثنا شعبة، ح وحدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، - وهذا لفظ حفص - عن سليمان، عن ابي وايل، عن حذيفة، قال اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم سباطة قوم فبال قايما ثم دعا بماء فمسح على خفيه . قال ابو داود قال مسدد قال فذهبت اتباعد فدعاني حتى كنت عند عقبه
امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ کے تخت کے نیچے لکڑی کا ایک پیالہ ( رہتا ) تھا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو پیشاب کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا حجاج، عن ابن جريج، عن حكيمة بنت اميمة بنت رقيقة، عن امها، انها قالت كان للنبي صلى الله عليه وسلم قدح من عيدان تحت سريره يبول فيه بالليل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لعنت کے دو کاموں سے بچو ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! لعنت کے وہ دو کام کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ یہ ہیں کہ آدمی لوگوں کے راستے یا ان کے سائے کی جگہ میں پاخانہ کرے ۱؎ ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اتقوا اللاعنين " . قالوا وما اللاعنان يا رسول الله قال " الذي يتخلى في طريق الناس او ظلهم
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لعنت کی تین چیزوں سے بچو: مسافروں کے اترنے کی جگہ میں، عام راستے میں، اور سائے میں پاخانہ پیشاب کرنے سے ۔
حدثنا اسحاق بن سويد الرملي، وعمر بن الخطاب ابو حفص، وحديثه، اتم ان سعيد بن الحكم، حدثهم قال اخبرنا نافع بن يزيد، حدثني حيوة بن شريح، ان ابا سعيد الحميري، حدثه عن معاذ بن جبل، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتقوا الملاعن الثلاث البراز في الموارد وقارعة الطريق والظل
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ہرگز ایسا نہ کرے کہ اپنے غسل خانے ( حمام ) میں پیشاب کرے پھر اسی میں نہائے ۔ احمد کی روایت میں ہے: پھر اسی میں وضو کرے، کیونکہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، والحسن بن علي، قالا حدثنا عبد الرزاق، قال احمد حدثنا معمر، اخبرني اشعث، وقال الحسن، عن اشعث بن عبد الله، عن الحسن، عن عبد الله بن مغفل، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يبولن احدكم في مستحمه ثم يغتسل فيه " . قال احمد " ثم يتوضا فيه فان عامة الوسواس منه
حمید بن عبدالرحمٰن حمیری کہتے ہیں کہ میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اسی طرح رہا جیسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے، اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے کہ ہم میں سے کوئی ہر روز کنگھی کرے یا غسل خانہ میں پیشاب کرے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، عن داود بن عبد الله، عن حميد الحميري، - وهو ابن عبد الرحمن - قال لقيت رجلا صحب النبي صلى الله عليه وسلم كما صحبه ابو هريرة قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يمتشط احدنا كل يوم او يبول في مغتسله
عبدللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوراخ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ہشام دستوائی کا بیان ہے کہ لوگوں نے قتادہ سے پوچھا: کس وجہ سے سوراخ میں پیشاب کرنا ناپسندیدہ ہے؟ انہوں نے کہا: کہا جاتا تھا کہ وہ جنوں کی جائے سکونت ( گھر ) ہے۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن قتادة، عن عبد الله بن سرجس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان يبال في الجحر . قال قالوا لقتادة ما يكره من البول في الجحر قال كان يقال انها مساكن الجن
ابوبردہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء ( پاخانہ ) سے نکلتے تو فرماتے تھے: «غفرانك» اے اللہ! میں تیری بخشش چاہتا ہوں ۔
حدثنا عمرو بن محمد الناقد، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا اسراييل، عن يوسف بن ابي بردة، عن ابيه، حدثتني عايشة، رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا خرج من الغايط قال " غفرانك
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنے عضو تناسل کو داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے، اور جب کوئی بیت الخلاء جائے تو داہنے ہاتھ سے استنجاء نہ کرے، اور جب پانی پیئے تو ایک سانس میں نہ پیئے ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، وموسى بن اسماعيل، قالا حدثنا ابان، حدثنا يحيى، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا بال احدكم فلا يمس ذكره بيمينه واذا اتى الخلاء فلا يتمسح بيمينه واذا شرب فلا يشرب نفسا واحدا
حارثہ بن وہب خزاعی کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں ہاتھ کو کھانے، پینے اور کپڑا پہننے کے لیے استعمال کرتے تھے، اور اپنے بائیں ہاتھ کو ان کے علاوہ دوسرے کاموں کے لیے۔
حدثنا محمد بن ادم بن سليمان المصيصي، حدثنا ابن ابي زايدة، قال حدثني ابو ايوب، - يعني الافريقي - عن عاصم، عن المسيب بن رافع، ومعبد، عن حارثة بن وهب الخزاعي، قال حدثتني حفصة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يجعل يمينه لطعامه وشرابه وثيابه ويجعل شماله لما سوى ذلك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا داہنا ہاتھ وضو اور کھانے کے لیے، اور بایاں ہاتھ پاخانہ اور ان چیزوں کے لیے ہوتا تھا جن میں گندگی ہوتی ہے۔
حدثنا ابو توبة الربيع بن نافع، حدثني عيسى بن يونس، عن ابن ابي عروبة، عن ابي معشر، عن ابراهيم، عن عايشة، قالت كانت يد رسول الله صلى الله عليه وسلم اليمنى لطهوره وطعامه وكانت يده اليسرى لخلايه وما كان من اذى
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا محمد بن حاتم بن بزيع، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، عن سعيد، عن ابي معشر، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سرمہ لگائے تو طاق لگائے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو اس میں کوئی مضائقہ اور حرج نہیں، جو شخص ( استنجاء کے لیے ) پتھر یا ڈھیلا لے تو طاق لے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو شخص کھانا کھائے تو خلال کرنے سے جو کچھ نکلے اسے پھینک دے، اور جسے زبان سے نکالے اسے نگل جائے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، جو شخص قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے جائے تو پردہ کرے، اگر پردہ کے لیے کوئی چیز نہ پائے تو بالو یا ریت کا ایک ڈھیر لگا کر اس کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ جائے کیونکہ شیطان آدمی کی شرمگاہ سے کھیلتا ہے ۱؎، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی مضائقہ نہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوعاصم نے ثور سے روایت کی ہے، اس میں ( حصین حبرانی کی جگہ ) حصین حمیری ہے، اور عبدالملک بن صباح نے بھی اسے ثور سے روایت کیا ہے، اس میں ( ابوسعید کی جگہ ) ابوسعید الخیر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوسعید الخیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا عيسى بن يونس، عن ثور، عن الحصين الحبراني، عن ابي سعيد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اكتحل فليوتر من فعل فقد احسن ومن لا فلا حرج ومن استجمر فليوتر من فعل فقد احسن ومن لا فلا حرج ومن اكل فما تخلل فليلفظ وما لاك بلسانه فليبتلع من فعل فقد احسن ومن لا فلا حرج ومن اتى الغايط فليستتر فان لم يجد الا ان يجمع كثيبا من رمل فليستدبره فان الشيطان يلعب بمقاعد بني ادم من فعل فقد احسن ومن لا فلا حرج " . قال ابو داود رواه ابو عاصم عن ثور قال حصين الحميري ورواه عبد الملك بن الصباح عن ثور فقال ابو سعيد الخير . قال ابو داود ابو سعيد الخير هو من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم
شیبان قتبانی کہتے ہیں کہ مسلمہ بن مخلد نے ( جو امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے بلاد مصر کے گورنر تھے ) رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ( مصر کے ) نشیبی علاقے کا عامل مقرر کیا، شیبان کہتے ہیں: تو ہم ان کے ساتھ کوم شریک ۱؎ سے علقماء ۱؎ کے لیے یا علقما ء سے کوم شریک کے لیے روانہ ہوئے، علقماء سے ان کی مراد علقام ہی ہے، رویفع بن ثابت نے ( راستے میں مجھ سے ) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کا اونٹ اس شرط پر لیتا کہ اس سے جو فائدہ حاصل ہو گا اس کا نصف ( آدھا ) تجھے دوں گا اور نصف ( آدھا ) میں لوں گا، تو ہم میں سے ایک کے حصہ میں پیکان اور پر ہوتا تو دوسرے کے حصہ میں تیر کی لکڑی۔ پھر رویفع نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: رویفع! شاید کہ میرے بعد تمہاری زندگی لمبی ہو تو تم لوگوں کو خبر کر دینا کہ جس شخص نے اپنی داڑھی میں گرہ لگائی ۲؎ یا جانور کے گلے میں تانت کا حلقہ ڈالا یا جانور کے گوبر، لید یا ہڈی سے استنجاء کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہیں ۔
حدثنا يزيد بن خالد بن عبد الله بن موهب الهمداني، حدثنا المفضل، - يعني ابن فضالة المصري - عن عياش بن عباس القتباني، ان شييم بن بيتان، اخبره عن شيبان القتباني، قال ان مسلمة بن مخلد استعمل رويفع بن ثابت، على اسفل الارض . قال شيبان فسرنا معه من كوم شريك الى علقماء او من علقماء الى كوم شريك - يريد علقام - فقال رويفع ان كان احدنا في زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم لياخذ نضو اخيه على ان له النصف مما يغنم ولنا النصف وان كان احدنا ليطير له النصل والريش وللاخر القدح . ثم قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا رويفع لعل الحياة ستطول بك بعدي فاخبر الناس انه من عقد لحيته او تقلد وترا او استنجى برجيع دابة او عظم فان محمدا صلى الله عليه وسلم منه بريء
ابوسالم جیشانی نے اس حدیث کو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اس وقت سنا جب وہ ان کے ساتھ ( مصر میں ) باب الیون کے قلعہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: الیون کا قلعہ فسطاط ( مصر ) میں ایک پہاڑ پر واقع ہے۔
حدثنا يزيد بن خالد، حدثنا مفضل، عن عياش، ان شييم بن بيتان، اخبره بهذا الحديث، ايضا عن ابي سالم الجيشاني، عن عبد الله بن عمرو، يذكر ذلك وهو معه مرابط بحصن باب اليون . قال ابو داود حصن اليون على جبل بالفسطاط . قال ابو داود وهو شيبان بن امية يكنى ابا حذيفة
ابو الزبیر کا بیان ہے کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہڈی یا مینگنی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا زكريا بن اسحاق، حدثنا ابو الزبير، انه سمع جابر بن عبد الله، يقول نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نتمسح بعظم او بعر
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنوں کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: آپ اپنی امت کو ہڈی، لید ( گوبر، مینگنی ) ، اور کوئلے سے استنجاء کرنے سے منع فرما دیجئیے کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے روزی بنائی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا ۱؎۔
حدثنا حيوة بن شريح الحمصي، حدثنا ابن عياش، عن يحيى بن ابي عمرو السيباني، عن عبد الله بن الديلمي، عن عبد الله بن مسعود، قال قدم وفد الجن على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا يا محمد انه امتك ان يستنجوا بعظم او روثة او حممة فان الله تعالى جعل لنا فيها رزقا . قال فنهى النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے جائے تو تین پتھر اپنے ساتھ لے جائے، انہی سے استنجاء کرے، یہ اس کے لیے کافی ہیں ۔
حدثنا سعيد بن منصور، وقتيبة بن سعيد، قالا حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن ابي حازم، عن مسلم بن قرط، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا ذهب احدكم الى الغايط فليذهب معه بثلاثة احجار يستطيب بهن فانها تجزي عنه