Loading...

Loading...
کتب
۳۹۰ احادیث
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استنجاء کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: استنجاء تین پتھروں سے کرو جن میں گوبر نہ ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابواسامہ اور ابن نمیر نے بھی ہشام بن عروہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا ابو معاوية، عن هشام بن عروة، عن عمرو بن خزيمة، عن عمارة بن خزيمة، عن خزيمة بن ثابت، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الاستطابة فقال " بثلاثة احجار ليس فيها رجيع " . قال ابو داود كذا رواه ابو اسامة وابن نمير عن هشام يعني ابن عروة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، عمر رضی اللہ عنہ پانی کا ایک کوزہ ( کلھڑ ) لے کر آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: عمر! یہ کیا چیز ہے؟ ، عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: آپ کے وضو کا پانی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسا حکم نہیں ہوا کہ جب بھی میں پیشاب کروں تو وضو کروں، اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت ( واجبہ ) بن جائے گی ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، وخلف بن هشام المقري، قالا حدثنا عبد الله بن يحيى التوام، ح وحدثنا عمرو بن عون، قال اخبرنا ابو يعقوب التوام، عن عبد الله بن ابي مليكة، عن امه، عن عايشة، قالت بال رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام عمر خلفه بكوز من ماء فقال " ما هذا يا عمر " . فقال هذا ماء تتوضا به . قال " ما امرت كلما بلت ان اتوضا ولو فعلت لكانت سنة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ کے اندر تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک لڑکا تھا جس کے ساتھ ایک لوٹا تھا، وہ ہم میں سب سے کم عمر تھا، اس نے اسے بیر کے درخت کے پاس رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت سے فارغ ہوئے تو پانی سے استنجاء کر کے ہمارے پاس آئے۔
حدثنا وهب بن بقية، عن خالد، - يعني الواسطي - عن خالد، - يعني الحذاء - عن عطاء بن ابي ميمونة، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل حايطا ومعه غلام معه ميضاة وهو اصغرنا فوضعها عند السدرة فقضى حاجته فخرج علينا وقد استنجى بالماء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فيه رجال يحبون أن يتطهروا» ۱؎ اہل قباء کی شان میں نازل ہوئی ہے، وہ لوگ پانی سے استنجاء کرتے تھے، انہیں کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔
حدثنا محمد بن العلاء، اخبرنا معاوية بن هشام، عن يونس بن الحارث، عن ابراهيم بن ابي ميمونة، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " نزلت هذه الاية في اهل قباء { فيه رجال يحبون ان يتطهروا } قال كانوا يستنجون بالماء فنزلت فيهم هذه الاية
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانے کے لیے جاتے تو میں پیالے یا چھاگل میں پانی لے کر آپ کے پاس آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاکی حاصل کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وکیع کی روایت میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ زمین پر رگڑتے، پھر میں پانی کا دوسرا برتن آپ کے پاس لاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے وضو کرتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسود بن عامر کی حدیث زیادہ کامل ہے۔
حدثنا ابراهيم بن خالد، حدثنا اسود بن عامر، حدثنا شريك، وهذا، لفظه ح وحدثنا محمد بن عبد الله، - يعني المخرمي - حدثنا وكيع، عن شريك، عن ابراهيم بن جرير، عن المغيرة، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا اتى الخلاء اتيته بماء في تور او ركوة فاستنجى . قال ابو داود في حديث وكيع ثم مسح يده على الارض ثم اتيته باناء اخر فتوضا . قال ابو داود وحديث الاسود بن عامر اتم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں مومنوں پر دشوار نہ سمجھتا تو ان کو نماز عشاء کو دیر سے پڑھنے، اور ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، عن سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، يرفعه قال " لولا ان اشق، على المومنين لامرتهم بتاخير العشاء وبالسواك عند كل صلاة
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اگر میں اپنی امت پر دشواری محسوس نہ کرتا تو ہر نماز کے وقت انہیں مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔ ابوسلمہ ( ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن ) کہتے ہیں: میں نے زید بن خالد رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نماز کے لیے مسجد میں بیٹھے رہتے اور مسواک ان کے کان پر ہوتی جیسے کاتب کے کان پر قلم لگا رہتا ہے، جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کر لیتے ( پھر کان کے اوپر رکھ لیتے ) ۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا عيسى بن يونس، حدثنا محمد بن اسحاق، عن محمد بن ابراهيم التيمي، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن زيد بن خالد الجهني، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لولا ان اشق على امتي لامرتهم بالسواك عند كل صلاة " . قال ابو سلمة فرايت زيدا يجلس في المسجد وان السواك من اذنه موضع القلم من اذن الكاتب فكلما قام الى الصلاة استاك
محمد بن یحییٰ بن حبان نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر سے کہا: آپ بتائیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا سبب ( خواہ وہ باوضو ہوں یا بے وضو ) کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا: مجھ سے اسماء بنت زید بن خطاب نے بیان کیا کہ عبداللہ بن حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا گیا، خواہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو سے ہوں یا بے وضو، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ حکم دشوار ہوا، تو آپ کو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دیا گیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا خیال تھا کہ ان کے پاس ( ہر نماز کے لیے وضو کرنے کی ) قوت ہے، اس لیے وہ کسی بھی نماز کے لیے اسے چھوڑتے نہیں تھے۔
حدثنا محمد بن عوف الطايي، حدثنا احمد بن خالد، حدثنا محمد بن اسحاق، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن عبد الله بن عبد الله بن عمر، قال قلت ارايت توضو ابن عمر لكل صلاة طاهرا وغير طاهر عم ذاك فقال حدثتنيه اسماء بنت زيد بن الخطاب ان عبد الله بن حنظلة بن ابي عامر حدثها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بالوضوء لكل صلاة طاهرا وغير طاهر فلما شق ذلك عليه امر بالسواك لكل صلاة فكان ابن عمر يرى ان به قوة فكان لا يدع الوضوء لكل صلاة . قال ابو داود ابراهيم بن سعد رواه عن محمد بن اسحاق قال عبيد الله بن عبد الله
ابوموسیٰ اشعری (عبداللہ بن قیس) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ( مسدد کی روایت میں ہے کہ ) ہم سواری طلب کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان پر مسواک پھیر رہے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور سلیمان کی روایت میں ہے: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے، اور مسواک کو اپنی زبان کے کنارے پر رکھ کر فرماتے تھے اخ اخ جیسے آپ قے کر رہے ہوں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد نے کہا: حدیث لمبی تھی مگر میں نے اس کو مختصر کر دیا ہے۔
حدثنا مسدد، وسليمان بن داود العتكي، قالا حدثنا حماد بن زيد، عن غيلان بن جرير، عن ابي بردة، عن ابيه، قال مسدد قال اتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم نستحمله فرايته يستاك على لسانه - قال ابو داود وقال سليمان قال دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يستاك وقد وضع السواك على طرف لسانه - وهو يقول " اه اه " . يعني يتهوع . قال ابو داود قال مسدد فكان حديثا طويلا اختصرته
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی تھے، ان میں ایک دوسرے سے عمر میں بڑا تھا، اسی وقت اللہ نے مسواک کی فضیلت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل فرمائی اور حکم ہوا کہ آپ اپنی مسواک ان دونوں میں سے بڑے کو دے دیجئیے۔ تخریج دارالدعوہ: تفرد به أبو داود، ( تحفة الأشراف: ۱۷۱۳۲ ) ( صحیح)
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا عنبسة بن عبد الواحد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يستن وعنده رجلان احدهما اكبر من الاخر فاوحي اليه في فضل السواك " ان كبر " . اعط السواك اكبرهما . قال احمد - هو ابن حزم - قال لنا ابو سعيد هو ابن الاعرابي هذا مما تفرد به اهل المدينة
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو کس چیز سے ابتداء فرماتے؟ فرمایا: مسواک سے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا عيسى بن يونس، عن مسعر، عن المقدام بن شريح، عن ابيه، قال قلت لعايشة باى شىء كان يبدا رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا دخل بيته قالت بالسواك
ام المؤمنین کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر کے مجھے دھونے کے لیے دیتے تو میں خود اس سے مسواک شروع کر دیتی پھر اسے دھو کر آپ کو دے دیتی۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، حدثنا عنبسة بن سعيد الكوفي الحاسب، حدثني كثير، عن عايشة، انها قالت كان نبي الله صلى الله عليه وسلم يستاك فيعطيني السواك لاغسله فابدا به فاستاك ثم اغسله وادفعه اليه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس چیزیں دین فطرت ہیں ۱؎: ۱- مونچھیں کاٹنا، ۲- داڑھی بڑھانا، ۳- مسواک کرنا، ۴- ناک میں پانی ڈالنا، ۵- ناخن کاٹنا، ۶- انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، ۷- بغل کے بال اکھیڑنا، ۸- ناف کے نیچے کے بال مونڈنا ۲؎، ۹ – پانی سے استنجاء کرنا ۔ زکریا کہتے ہیں: مصعب نے کہا: میں دسویں چیز بھول گیا، شاید کلی کرنا ہو۔
حدثنا يحيى بن معين، حدثنا وكيع، عن زكريا بن ابي زايدة، عن مصعب بن شيبة، عن طلق بن حبيب، عن ابن الزبير، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عشر من الفطرة قص الشارب واعفاء اللحية والسواك والاستنشاق بالماء وقص الاظفار وغسل البراجم ونتف الابط وحلق العانة وانتقاص الماء " . يعني الاستنجاء بالماء . قال زكريا قال مصعب ونسيت العاشرة الا ان تكون المضمضة
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فطرت میں سے ہے ، پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث ذکر کی، داڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں کیا، اس میں ختنہ کا اضافہ کیا ہے، نیز اس میں استنجاء کے بعد لنگی پر پانی چھڑکنے کا ذکر ہے، اور پانی سے استنجاء کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح کی روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے، جس میں پانچ چیزیں ہیں ان میں سب کا تعلق سر سے ہے، اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سر میں مانگ نکالنے کا ذکر کیا ہے، اور داڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد کی حدیث کی طرح طلق بن حبیب، مجاہد اور بکر بن عبداللہ المزنی سے ان سب کا اپنا قول مروی ہے، اس میں ان لوگوں نے بھی داڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور محمد بن عبداللہ بن مریم کی روایت جسے انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اس میں داڑھی چھوڑنے کا ذکر ہے۔ ابراہیم نخعی سے بھی اسی جیسی روایت مروی ہے اس میں انہوں نے داڑھی چھوڑنے اور ختنہ کرنے کا ذکر کیا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، وداود بن شبيب، قالا حدثنا حماد، عن علي بن زيد، عن سلمة بن محمد بن عمار بن ياسر، قال موسى عن ابيه، - وقال داود عن عمار بن ياسر، - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان من الفطرة المضمضة والاستنشاق " . فذكر نحوه ولم يذكر اعفاء اللحية وزاد " والختان " . قال " والانتضاح " . ولم يذكر " انتقاص الماء " . يعني الاستنجاء . قال ابو داود وروي نحوه عن ابن عباس وقال خمس كلها في الراس وذكر فيها الفرق ولم يذكر اعفاء اللحية . قال ابو داود وروي نحو حديث حماد عن طلق بن حبيب ومجاهد وعن بكر بن عبد الله المزني قولهم ولم يذكروا اعفاء اللحية . وفي حديث محمد بن عبد الله بن ابي مريم عن ابي سلمة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم فيه واعفاء اللحية وعن ابراهيم النخعي نحوه وذكر اعفاء اللحية والختان
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو اپنا منہ مسواک سے صاف کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، عن منصور، وحصين، عن ابي وايل، عن حذيفة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا قام من الليل يشوص فاه بالسواك
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی اور مسواک رکھ دی جاتی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھتے تو قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کرتے پھر مسواک کرتے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا بهز بن حكيم، عن زرارة بن اوفى، عن سعد بن هشام، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يوضع له وضوءه وسواكه فاذا قام من الليل تخلى ثم استاك
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی رات کو یا دن کو سو کر اٹھتے تو وضو کرنے سے پہلے مسواک کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی رات کو یا دن کو سو کر اٹھتے تو وضو کرنے سے پہلے مسواک کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا همام، عن علي بن زيد، عن ام محمد، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يرقد من ليل ولا نهار فيستيقظ الا تسوك قبل ان يتوضا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزاری، جب آپ نیند سے بیدار ہوئے تو اپنے وضو کے پانی کے پاس آئے، اپنی مسواک لے کر مسواک کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب» ۱؎ کی تلاوت کی یہاں تک کہ سورۃ ختم کے قریب ہو گئی، یا ختم ہو گئی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر اپنے مصلی پر آئے اور دو رکعت نماز پڑھی، پھر واپس اپنے بستر پر جب تک اللہ نے چاہا جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا ( یعنی مسواک کر کے وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھی ) پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے، اور اسی طرح کیا، پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے اس کے بعد نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرتے، دو رکعت نماز پڑھتے تھے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن فضیل نے حصین سے روایت کی ہے، اس میں اس طرح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کی اور وضو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض» پڑھ رہے تھے، یہاں تک کہ پوری سورۃ ختم کر دی۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا هشيم، اخبرنا حصين، عن حبيب بن ابي ثابت، عن محمد بن علي بن عبد الله بن عباس، عن ابيه، عن جده عبد الله بن عباس، قال بت ليلة عند النبي صلى الله عليه وسلم فلما استيقظ من منامه اتى طهوره فاخذ سواكه فاستاك ثم تلا هذه الايات { ان في خلق السموات والارض واختلاف الليل والنهار لايات لاولي الالباب } حتى قارب ان يختم السورة او ختمها ثم توضا فاتى مصلاه فصلى ركعتين ثم رجع الى فراشه فنام ما شاء الله ثم استيقظ ففعل مثل ذلك ثم رجع الى فراشه فنام ثم استيقظ ففعل مثل ذلك ثم رجع الى فراشه فنام ثم استيقظ ففعل مثل ذلك كل ذلك يستاك ويصلي ركعتين ثم اوتر . قال ابو داود رواه ابن فضيل عن حصين قال فتسوك وتوضا وهو يقول { ان في خلق السموات والارض } حتى ختم السورة
ابوالملیح اپنے والد اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چوری کے مال سے کوئی صدقہ قبول نہیں کرتا، اور نہ ہی بغیر وضو کے کوئی نماز ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن ابي المليح، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يقبل الله عز وجل صدقة من غلول ولا صلاة بغير طهور
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی شخص بے وضو ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی نماز کو اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ وضو نہ کر لے
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يقبل الله صلاة احدكم اذا احدث حتى يتوضا