Loading...

Loading...
کتب
۳۹۰ احادیث
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کی کنجی طہارت، اس کی تحریم تکبیر کہنا، اور تحلیل سلام پھیرنا ہے ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابن عقيل، عن محمد ابن الحنفية، عن علي، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مفتاح الصلاة الطهور وتحريمها التكبير وتحليلها التسليم
ابوغطیف ہذلی کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، جب ظہر کی اذان ہوئی تو آپ نے وضو کر کے نماز پڑھی، پھر عصر کی اذان ہوئی تو دوبارہ وضو کیا، میں نے ان سے پوچھا ( اب نیا وضو کرنے کا کیا سبب ہے؟ ) انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: جو شخص وضو پر وضو کرے گا اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مسدد کی روایت ہے اور یہ زیادہ مکمل ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا عبد الله بن يزيد المقري، ح وحدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، قالا حدثنا عبد الرحمن بن زياد، - قال ابو داود وانا لحديث ابن يحيى، اتقن - عن غطيف، - وقال محمد عن ابي غطيف الهذلي، - قال كنت عند عبد الله بن عمر فلما نودي بالظهر توضا فصلى فلما نودي بالعصر توضا فقلت له فقال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من توضا على طهر كتب الله له عشر حسنات " . قال ابو داود وهذا حديث مسدد وهو اتم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر جانور اور درندے آتے جاتے ہوں ( اس میں سے پیتے اور اس میں پیشاب کرتے ہوں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو قلہ ہو تو وہ نجاست کو دفع کر دے گا ( یعنی نجاست اس پر غالب نہیں آئے گی ) ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن العلاء کے الفاظ ہیں، عثمان اور حسن بن علی نے محمد بن جعفر کی جگہ محمد بن عباد بن جعفر کا ذکر کیا ہے، اور یہی درست ہے۔
حدثنا محمد بن العلاء، وعثمان بن ابي شيبة، والحسن بن علي، وغيرهم، قالوا حدثنا ابو اسامة، عن الوليد بن كثير، عن محمد بن جعفر بن الزبير، عن عبد الله بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الماء وما ينوبه من الدواب والسباع فقال صلى الله عليه وسلم " اذا كان الماء قلتين لم يحمل الخبث " . قال ابو داود وهذا لفظ ابن العلاء وقال عثمان والحسن بن علي عن محمد بن عباد بن جعفر . قال ابو داود وهو الصواب
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، ح وحدثنا ابو كامل، حدثنا يزيد، - يعني ابن زريع - عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن جعفر، - قال ابو كامل ابن الزبير - عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل عن الماء يكون في الفلاة . فذكر معناه
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، ح وحدثنا ابو كامل، حدثنا يزيد، - يعني ابن زريع - عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن جعفر، - قال ابو كامل ابن الزبير - عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل عن الماء يكون في الفلاة . فذكر معناه
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا عاصم بن المنذر، عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر، قال حدثني ابي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا كان الماء قلتين فانه لا ينجس " . قال ابو داود حماد بن زيد وقفه عن عاصم
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا عاصم بن المنذر، عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر، قال حدثني ابي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا كان الماء قلتين فانه لا ينجس " . قال ابو داود حماد بن زيد وقفه عن عاصم
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: کیا ہم بئر بضاعہ کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں، جب کہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں حیض کے کپڑے، کتوں کے گوشت اور بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے، اس کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے عبداللہ بن رافع کی جگہ عبدالرحمٰن بن رافع کہا ہے۔
حدثنا محمد بن العلاء، والحسن بن علي، ومحمد بن سليمان الانباري، قالوا حدثنا ابو اسامة، عن الوليد بن كثير، عن محمد بن كعب، عن عبيد الله بن عبد الله بن رافع بن خديج، عن ابي سعيد الخدري، انه قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم انتوضا من بير بضاعة وهي بير يطرح فيها الحيض ولحم الكلاب والنتن فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الماء طهور لا ينجسه شىء " . قال ابو داود وقال بعضهم عبد الرحمن بن رافع
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت یہ فرماتے سنا جب کہ آپ سے پوچھا جا رہا تھا کہ بئر بضاعہ ۱؎ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی لایا جاتا ہے، حالانکہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں کتوں کے گوشت، حیض کے کپڑے، اور لوگوں کے پاخانے ڈالے جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے قتیبہ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے: میں نے بئر بضاعہ کے متولی سے اس کی گہرائی کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے جواب دیا: پانی جب زیادہ ہوتا ہے تو زیر ناف تک رہتا ہے، میں نے پوچھا: اور جب کم ہوتا ہے؟ تو انہوں نے جواباً کہا: تو ستر یعنی گھٹنے سے نیچے رہتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے بئر بضاعہ کو اپنی چادر سے ناپا، چادر کو اس پر پھیلا دیا، پھر اسے اپنے ہاتھ سے ناپا، تو اس کا عرض ( ۶ ) ہاتھ نکلا، میں نے باغ والے سے پوچھا، جس نے باغ کا دروازہ کھول کر مجھے اندر داخل کیا: کیا بئر بضاعہ کی بناوٹ و شکل میں پہلے کی نسبت کچھ تبدیلی ہوئی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ پانی کا رنگ بدلا ہوا تھا۔
حدثنا احمد بن ابي شعيب، وعبد العزيز بن يحيى الحرانيان، قالا حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن سليط بن ايوب، عن عبيد الله بن عبد الرحمن بن رافع الانصاري، ثم العدوي عن ابي سعيد الخدري، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يقال له انه يستقى لك من بير بضاعة وهي بير يلقى فيها لحوم الكلاب والمحايض وعذر الناس . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الماء طهور لا ينجسه شىء " . قال ابو داود وسمعت قتيبة بن سعيد قال سالت قيم بير بضاعة عن عمقها قال اكثر ما يكون فيها الماء الى العانة . قلت فاذا نقص قال دون العورة . قال ابو داود وقدرت انا بير بضاعة بردايي مددته عليها ثم ذرعته فاذا عرضها ستة اذرع وسالت الذي فتح لي باب البستان فادخلني اليه هل غير بناوها عما كانت عليه قال لا . ورايت فيها ماء متغير اللون
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے ایک لگن سے ( چلو سے پانی لے لے کر ) غسل جنابت کیا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس برتن میں بچے ہوئے پانی سے وضو یا غسل کرنے کے لیے تشریف لائے تو ام المؤمنین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ناپاک تھی ( اور یہ غسل جنابت کا بچا ہوا پانی ہے ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی ناپاک نہیں ہوتا ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو الاحوص، حدثنا سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال اغتسل بعض ازواج النبي صلى الله عليه وسلم في جفنة فجاء النبي صلى الله عليه وسلم ليتوضا منها - او يغتسل - فقالت له يا رسول الله اني كنت جنبا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الماء لا يجنب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے پھر اس سے غسل کرے ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زايدة، في حديث هشام عن محمد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يبولن احدكم في الماء الدايم ثم يغتسل منه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے اور نہ ہی اس میں جنابت کا غسل کرے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن محمد بن عجلان، قال سمعت ابي يحدث، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يبولن احدكم في الماء الدايم ولا يغتسل فيه من الجنابة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اس برتن کی پاکی یہ ہے کہ اس کو سات بار دھویا جائے، پہلی بار مٹی سے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ایوب اور حبیب بن شہید نے بھی اسی طرح محمد سے روایت کی ہے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زايدة، - في حديث هشام - عن محمد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " طهور اناء احدكم اذا ولغ فيه الكلب ان يغسل سبع مرار اولاهن بتراب " . قال ابو داود وكذلك قال ايوب وحبيب بن الشهيد عن محمد
محمد (ابن سیرین) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں، لیکن ان دونوں ( حماد بن زید اور معتمر ) نے اس حدیث کو مرفوعاً نقل نہیں کیا ہے، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ: جب بلی کسی برتن میں منہ ڈال دے تو ایک بار دھویا جائے گا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا المعتمر يعني ابن سليمان، ح وحدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد بن زيد، جميعا عن ايوب، عن محمد، عن ابي هريرة، بمعناه ولم يرفعاه زاد " واذا ولغ الهر غسل مرة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ، ساتویں بار مٹی سے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوصالح، ابورزین، اعرج، ثابت احنف، ہمام بن منبہ اور ابوسدی عبدالرحمٰن نے بھی اسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے لیکن ان لوگوں نے مٹی کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان، حدثنا قتادة، ان محمد بن سيرين، حدثه عن ابي هريرة، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا ولغ الكلب في الاناء فاغسلوه سبع مرات السابعة بالتراب " . قال ابو داود واما ابو صالح وابو رزين والاعرج وثابت الاحنف وهمام بن منبه وابو السدي عبد الرحمن رووه عن ابي هريرة ولم يذكروا التراب
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا پھر فرمایا: لوگوں کو ان سے کیا سروکار؟ ۱؎، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتوں اور بکریوں کے نگراں کتوں کے پالنے کی اجازت دی، اور فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے، تو اسے سات بار دھوؤ اور آٹھویں بار مٹی سے مانجھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن مغفل نے ایسا ہی کہا ہے۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، حدثنا ابو التياح، عن مطرف، عن ابن مغفل، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بقتل الكلاب ثم قال " ما لهم ولها " . فرخص في كلب الصيد وفي كلب الغنم وقال " اذا ولغ الكلب في الاناء فاغسلوه سبع مرار والثامنة عفروه بالتراب " . قال ابو داود وهكذا قال ابن مغفل
کبشۃ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے -وہ ابن ابی قتادہ کے عقد میں تھیں- وہ کہتی ہیں: ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے، میں نے ان کے لیے وضو کا پانی رکھا، اتنے میں بلی آ کر اس میں سے پینے لگی، تو انہوں نے اس کے لیے پانی کا برتن ٹیڑھا کر دیا یہاں تک کہ اس نے پی لیا، کبشۃ کہتی ہیں: پھر ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھ کو دیکھا کہ میں ان کی طرف ( حیرت سے ) دیکھ رہی ہوں تو آپ نے کہا: میری بھتیجی! کیا تم تعجب کرتی ہو؟ میں نے کہا: ہاں، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ نجس نہیں ہے، کیونکہ یہ تمہارے اردگرد گھومنے والوں اور گھومنے والیوں میں سے ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن حميدة بنت عبيد بن رفاعة، عن كبشة بنت كعب بن مالك، - وكانت تحت ابن ابي قتادة - ان ابا قتادة، دخل فسكبت له وضوءا فجاءت هرة فشربت منه فاصغى لها الاناء حتى شربت قالت كبشة فراني انظر اليه فقال اتعجبين يا ابنة اخي فقلت نعم . فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انها ليست بنجس انها من الطوافين عليكم والطوافات
داود بن صالح بن دینار تمار اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی مالکن نے انہیں ہریسہ ( ایک قسم کا کھانا ) دے کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا تو انہوں نے عائشہ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے کھانا رکھ دینے کا اشارہ کیا ( میں نے کھانا رکھ دیا ) ، اتنے میں ایک بلی آ کر اس میں سے کچھ کھا گئی، جب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نماز سے فارغ ہوئیں تو بلی نے جہاں سے کھایا تھا وہیں سے کھانے لگیں اور بولیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ ناپاک نہیں ہے، کیونکہ یہ تمہارے پاس آنے جانے والوں میں سے ہے ، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلی کے جھوٹے سے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد العزيز، عن داود بن صالح بن دينار التمار، عن امه، ان مولاتها، ارسلتها بهريسة الى عايشة رضى الله عنها فوجدتها تصلي فاشارت الى ان ضعيها فجاءت هرة فاكلت منها فلما انصرفت اكلت من حيث اكلت الهرة فقالت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انها ليست بنجس انما هي من الطوافين عليكم " . وقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا بفضلها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے نہایا کرتے تھے اور ہم دونوں جنبی ہوتے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثني منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كنت اغتسل انا ورسول الله، صلى الله عليه وسلم من اناء واحد ونحن جنبان
ام صبیہ جہنیہ (خولہ بنت قیس) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ وضو کرتے وقت ایک ہی برتن میں باری باری پڑتے۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا وكيع، عن اسامة بن زيد، عن ابن خربوذ، عن ام صبية الجهنية، قالت اختلفت يدي ويد رسول الله صلى الله عليه وسلم في الوضوء من اناء واحد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مرد اور عورتیں ایک ہی برتن سے ایک ساتھ وضو کرتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد، عن ايوب، عن نافع، ح وحدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان الرجال والنساء يتوضيون في زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم - قال مسدد - من الاناء الواحد جميعا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم اور عورتیں مل کر ایک برتن سے وضو کرتے، اور ہم اپنے ہاتھ اس میں ( باری باری ) ڈالتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، حدثني نافع، عن عبد الله بن عمر، قال كنا نتوضا نحن والنساء على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم من اناء واحد ندلي فيه ايدينا