Loading...

Loading...
کتب
۳۹۰ احادیث
حمید حمیری کہتے ہیں کہ میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اسی طرح چار سال تک رہنے کا موقع ملا تھا جیسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے تھے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو مرد کے بچے ہوئے پانی سے اور مرد کو عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے سے منع فرمایا۔ مسدد نے اتنا اضافہ کیا ہے: چاہیئے کہ دونوں ایک ساتھ لپ سے پانی لیں ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، عن داود بن عبد الله، ح وحدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن داود بن عبد الله، عن حميد الحميري، قال لقيت رجلا صحب النبي صلى الله عليه وسلم اربع سنين كما صحبه ابو هريرة قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تغتسل المراة بفضل الرجل او يغتسل الرجل بفضل المراة - زاد مسدد - وليغترفا جميعا
حکم بن عمرو یعنی اقرع سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا ابن بشار، حدثنا ابو داود، - يعني الطيالسي - حدثنا شعبة، عن عاصم، عن ابي حاجب، عن الحكم بن عمرو، وهو الاقرع ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان يتوضا الرجل بفضل طهور المراة
قبیلہ بنو عبدالدار کے ایک فرد مغیرہ بن ابی بردہ بیان کرتے ہیں کہ ۔ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ ( عبداللہ مدلجی نامی ) ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اللہ کے رسول! ہم سمندر کا سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں اگر ہم اس سے وضو کر لیں تو پیاسے رہ جائیں گے، کیا ایسی صورت میں ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی بذات خود پاک اور دوسرے کو پاک کرنے والا ہے، اور اس کا مردار حلال ہے
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن صفوان بن سليم، عن سعيد بن سلمة، - من ال ابن الازرق - ان المغيرة بن ابي بردة، - وهو من بني عبد الدار - اخبره انه، سمع ابا هريرة، يقول سال رجل النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله انا نركب البحر ونحمل معنا القليل من الماء فان توضانا به عطشنا افنتوضا بماء البحر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هو الطهور ماوه الحل ميتته
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں والی رات میں مجھ سے پوچھا: تمہاری چھاگل میں کیا ہے؟ ، میں نے کہا: نبیذ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پاک کھجور اور پاک پانی ہے ۔
حدثنا هناد، وسليمان بن داود العتكي، قالا حدثنا شريك، عن ابي فزارة، عن ابي زيد، عن عبد الله بن مسعود، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال له ليلة الجن " ما في اداوتك " . قال نبيذ . قال " تمرة طيبة وماء طهور " . قال ابو داود وقال سليمان بن داود عن ابي زيد او زيد كذا قال شريك ولم يذكر هناد ليلة الجن
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا: «ليلة الجن» ( جنوں والی رات ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ لوگوں میں سے کون تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم میں سے کوئی نہ تھا ۱؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، عن داود، عن عامر، عن علقمة، قال قلت لعبد الله بن مسعود من كان منكم مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة الجن فقال ما كان معه منا احد
عطاء سے روایت ہے کہ وہ دودھ اور نبیذ سے وضو کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے: اس سے تو مجھے تیمم ہی زیادہ پسند ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا بشر بن منصور، عن ابن جريج، عن عطاء، انه كره الوضوء باللبن والنبيذ وقال ان التيمم اعجب الى منه
ابوخلدہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا جسے جنابت لاحق ہوئی ہو اور اس کے پاس پانی نہ ہو، بلکہ نبیذ ہو تو کیا وہ اس سے غسل کر سکتا ہے؟ آپ نے کہا: نہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا ابو خلدة، قال سالت ابا العالية عن رجل، اصابته جنابة وليس عنده ماء وعنده نبيذ ايغتسل به قال لا
عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ حج یا عمرہ کے لیے نکلے، ان کے ساتھ اور لوگ بھی تھے، وہی ان کی امامت کرتے تھے، ایک دن انہوں نے فجر کی نماز کی اقامت کہی پھر لوگوں سے کہا: تم میں سے کوئی امامت کے لیے آگے بڑھے، وہ قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم میں سے کسی کو پاخانہ کی حاجت ہو اور اس وقت نماز کھڑی ہو چکی ہو تو وہ پہلے قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہیب بن خالد، شعیب بن اسحاق اور ابوضمرۃ نے بھی اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے روایت کیا ہے، ہشام نے اپنے والد عروہ سے، اور عروہ نے ایک مبہم شخص سے، اور اس نے اسے عبداللہ بن ارقم سے بیان کیا ہے، لیکن ہشام سے روایت کرنے والوں کی اکثریت نے اسے ویسے ہی روایت کیا ہے جیسے زہیر نے کیا ہے ( یعنی «عن رجل» کا اضافہ نہیں کیا ہے ) ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عبد الله بن الارقم، انه خرج حاجا او معتمرا ومعه الناس وهو يومهم فلما كان ذات يوم اقام الصلاة صلاة الصبح ثم قال ليتقدم احدكم . وذهب الى الخلاء فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا اراد احدكم ان يذهب الخلاء وقامت الصلاة فليبدا بالخلاء " . قال ابو داود روى وهيب بن خالد وشعيب بن اسحاق وابو ضمرة هذا الحديث عن هشام بن عروة عن ابيه عن رجل حدثه عن عبد الله بن ارقم والاكثر الذين رووه عن هشام قالوا كما قال زهير
عبداللہ بن محمد بن ابی بکر کا بیان ہے کہ ہم لوگ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، اتنے میں آپ کا کھانا لایا گیا تو قاسم ( قاسم بن محمد ) کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، یہ دیکھ کر وہ بولیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: کھانا موجود ہو تو نماز نہ پڑھی جائے اور نہ اس حال میں پڑھی جائے جب دونوں ناپسندیدہ چیزیں ( پاخانہ و پیشاب ) اسے زور سے لگے ہوئے ہوں ۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، ومسدد، ومحمد بن عيسى، - المعنى - قالوا حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابي حزرة، حدثنا عبد الله بن محمد، - قال ابن عيسى في حديثه ابن ابي بكر ثم اتفقوا اخو القاسم بن محمد - قال كنا عند عايشة فجيء بطعامها فقام القاسم يصلي فقالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يصلى بحضرة الطعام ولا وهو يدافعه الاخبثان
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں کسی آدمی کے لیے جائز نہیں: ایک یہ کہ جو آدمی کسی قوم کا امام ہو وہ انہیں چھوڑ کر خاص اپنے لیے دعا کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان سے خیانت کی، دوسرا یہ کہ کوئی کسی کے گھر کے اندر اس سے اجازت لینے سے پہلے دیکھے، اگر اس نے ایسا کیا تو گویا وہ اس کے گھر میں گھس گیا، تیسرا یہ کہ کوئی پیشاب و پاخانہ روک کر نماز پڑھے، جب تک کہ وہ ( اس سے فارغ ہو کر ) ہلکا نہ ہو جائے ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا ابن عياش، عن حبيب بن صالح، عن يزيد بن شريح الحضرمي، عن ابي حى الموذن، عن ثوبان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاث لا يحل لاحد ان يفعلهن لا يوم رجل قوما فيخص نفسه بالدعاء دونهم فان فعل فقد خانهم ولا ينظر في قعر بيت قبل ان يستاذن فان فعل فقد دخل ولا يصلي وهو حقن حتى يتخفف
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں کہ وہ پیشاب و پاخانہ روک کر نماز پڑھے جب تک کہ ( وہ فارغ ہو کر ) ہلکا نہ ہو جائے ۔ پھر راوی نے اسی طرح ان الفاظ کے ساتھ آگے حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے: کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں کہ وہ کسی قوم کی امامت ان کی اجازت کے بغیر کرے اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ وہ انہیں چھوڑ کر صرف اپنے لیے دعا کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو ان سے خیانت کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اہل شام کی حدیثوں میں سے ہے، اس میں ان کا کوئی شریک نہیں۔
حدثنا محمود بن خالد السلمي، حدثنا احمد بن علي، حدثنا ثور، عن يزيد بن شريح الحضرمي، عن ابي حى الموذن، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لرجل يومن بالله واليوم الاخر ان يصلي وهو حقن حتى يتخفف " . ثم ساق نحوه على هذا اللفظ قال " ولا يحل لرجل يومن بالله واليوم الاخر ان يوم قوما الا باذنهم ولا يختص نفسه بدعوة دونهم فان فعل فقد خانهم " . قال ابو داود هذا من سنن اهل الشام لم يشركهم فيها احد
کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع سے غسل فرماتے تھے اور ایک مد سے وضو ۱؎۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا همام، عن قتادة، عن صفية بنت شيبة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يغتسل بالصاع ويتوضا بالمد . قال ابو داود رواه ابان عن قتادة قال سمعت صفية
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع سے غسل فرماتے اور ایک مد سے وضو کرتے تھے۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا هشيم، اخبرنا يزيد بن ابي زياد، عن سالم بن ابي الجعد، عن جابر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغتسل بالصاع ويتوضا بالمد
عباد بن تمیم کی دادی ام عمارہ (ام عمارہ بنت کعب) رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا ارادہ کیا تو آپ کے پاس پانی کا ایک برتن لایا گیا جس میں دو تہائی مد کے بقدر پانی تھا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن حبيب الانصاري، قال سمعت عباد بن تميم، عن جدته، وهي ام عمارة ان النبي صلى الله عليه وسلم توضا فاتي باناء فيه ماء قدر ثلثى المد
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے برتن سے وضو کرتے تھے جس میں دو رطل پانی آتا تھا، اور ایک صاع پانی سے غسل کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ بن آدم نے اسے شریک سے روایت کیا ہے مگر اس روایت میں ( عبداللہ بن جبر کے بجائے ) ابن جبر بن عتیک ہے، نیز سفیان نے بھی اسے عبداللہ بن عیسیٰ سے روایت کیا ہے اس میں «حدثني جبر بن عبد الله.» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے شعبہ نے بھی روایت کیا ہے، اس میں «حدثني عبد الله بن عبد الله بن جبر سمعت أنسا» ہے، مگر فرق یہ ہے کہ انہوں نے «يتوضأ بإناء يسع رطلين» کے بجائے: «يتوضأ بمكوك» کہا ہے اور «رطلين» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ہے کہ ایک صاع پانچ رطل کا ہوتا ہے، یہی ابن ابی ذئب کا صاع تھا اور یہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی صاع تھا۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا شريك، عن عبد الله بن عيسى، عن عبد الله بن جبر، عن انس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يتوضا باناء يسع رطلين ويغتسل بالصاع . قال ابو داود رواه يحيى بن ادم عن شريك قال عن ابن جبر بن عتيك . قال ورواه سفيان عن عبد الله بن عيسى حدثني جبر بن عبد الله . قال ابو داود ورواه شعبة قال حدثني عبد الله بن عبد الله بن جبر سمعت انسا الا انه قال يتوضا بمكوك . ولم يذكر رطلين . قال ابو داود وسمعت احمد بن حنبل يقول الصاع خمسة ارطال وهو صاع ابن ابي ذيب وهو صاع النبي صلى الله عليه وسلم
ابونعامہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو کہتے سنا: اے اللہ! میں جب جنت میں داخل ہوں تو مجھے جنت کے دائیں طرف کا سفید محل عطا فرما، آپ نے کہا: میرے بیٹے! تم اللہ سے جنت طلب کرو اور جہنم سے پناہ مانگو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اس امت میں عنقریب ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو طہارت اور دعا میں حد سے تجاوز کریں گے ۱؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، حدثنا سعيد الجريري، عن ابي نعامة، ان عبد الله بن مغفل، سمع ابنه، يقول اللهم اني اسالك القصر الابيض عن يمين الجنة، اذا دخلتها . فقال اى بنى سل الله الجنة وتعوذ به من النار فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انه سيكون في هذه الامة قوم يعتدون في الطهور والدعاء
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم کو اس حال میں دیکھا کہ وضو کرنے میں ان کی ایڑیاں ( پانی نہ پہنچنے کی وجہ سے ) خشک تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایڑیوں کو بھگونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے جہنم کی آگ سے تباہی ہے وضو پوری طرح سے کرو ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثنا منصور، عن هلال بن يساف، عن ابي يحيى، عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى قوما واعقابهم تلوح فقال " ويل للاعقاب من النار اسبغوا الوضوء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں پیتل کے ایک ہی برتن میں غسل کرتے تھے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں پیتل کے ایک ہی برتن میں غسل کرتے تھے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرني صاحب، لي عن هشام بن عروة، ان عايشة، قالت كنت اغتسل انا ورسول الله، صلى الله عليه وسلم في تور من شبه
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔
حدثنا محمد بن العلاء، ان اسحاق بن منصور، حدثهم عن حماد بن سلمة، عن رجل، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، - رضى الله عنها - عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے ایک پیتل کے پیالے میں آپ کے لیے پانی نکالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابو الوليد، وسهل بن حماد، قالا حدثنا عبد العزيز بن عبد الله بن ابي سلمة، عن عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن عبد الله بن زيد، قال جاءنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخرجنا له ماء في تور من صفر فتوضا