Loading...

Loading...
کتب
۳۹۰ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جس کا وضو نہیں، اور اس شخص کا وضو نہیں جس نے وضو کے شروع میں «بسم الله» نہیں کہا ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا محمد بن موسى، عن يعقوب بن سلمة، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا صلاة لمن لا وضوء له ولا وضوء لمن لم يذكر اسم الله تعالى عليه
عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں کہ ربیعہ نے ذکر کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث: «لا وضوء لمن لم يذكر اسم تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو وضو اور غسل کرے لیکن نماز کے وضو اور جنابت کے غسل کی نیت نہ کرے۔الله عليه» کی
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، حدثنا ابن وهب، عن الدراوردي، قال وذكر ربيعة ان تفسير، حديث النبي صلى الله عليه وسلم " لا وضوء لمن لم يذكر اسم الله عليه " . انه الذي يتوضا ويغتسل ولا ينوي وضوءا للصلاة ولا غسلا للجنابة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات کو سو کر اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے تین بار دھو نہ لے، کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ رات میں اس کا ہاتھ کہاں کہاں رہا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي رزين، وابي، صالح عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا قام احدكم من الليل فلا يغمس يده في الاناء حتى يغسلها ثلاث مرات فانه لا يدري اين باتت يده
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات کو سو کر اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے تین بار دھو نہ لے، کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ رات میں اس کا ہاتھ کہاں کہاں رہا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم - يعني بهذا الحديث - قال مرتين او ثلاثا ولم يذكر ابا رزين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے تین بار دھو نہ لے اس لیے کہ اسے نہیں معلوم کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں رہا؟ یا کدھر پھرتا رہا ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، ومحمد بن سلمة المرادي، قالا حدثنا ابن وهب، عن معاوية بن صالح، عن ابي مريم، قال سمعت ابا هريرة، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا استيقظ احدكم من نومه فلا يدخل يده في الاناء حتى يغسلها ثلاث مرات فان احدكم لا يدري اين باتت يده او اين كانت تطوف يده
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام حمران بن ابان کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا تو پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالا ان کو دھویا، پھر کلی کی، اور ناک جھاڑی، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، اور اپنا دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا، اور پھر اسی طرح بایاں ہاتھ، پھر سر پر مسح کیا، پھر اپنا داہنا پاؤں تین بار دھویا، پھر بایاں پاؤں اسی طرح، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے میرے اسی وضو کی طرح وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے پھر دو رکعت نماز پڑھے اس میں دنیا کا خیال و وسوسہ اسے نہ آئے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے پچھلے گناہ کو معاف فرما دے گا ۔
حدثنا الحسن بن علي الحلواني، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن حمران بن ابان، مولى عثمان بن عفان قال رايت عثمان بن عفان توضا فافرغ على يديه ثلاثا فغسلهما ثم تمضمض واستنثر ثم غسل وجهه ثلاثا وغسل يده اليمنى الى المرفق ثلاثا ثم اليسرى مثل ذلك ثم مسح راسه ثم غسل قدمه اليمنى ثلاثا ثم اليسرى مثل ذلك ثم قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا مثل وضويي هذا ثم قال " من توضا مثل وضويي هذا ثم صلى ركعتين لا يحدث فيهما نفسه غفر الله له ما تقدم من ذنبه
حمران کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، پھر اس حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی، مگر کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا تذکرہ نہیں کیا، حمران نے کہا: عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کا تین بار مسح کیا پھر دونوں پاؤں تین بار دھوئے، اس کے بعد آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس سے کم وضو کرے گا ( یعنی ایک ایک یا دو دو بار اعضاء دھوئے گا ) تو بھی کافی ہے ، یہاں پر نماز کے معاملہ کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا الضحاك بن مخلد، حدثنا عبد الرحمن بن وردان، حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، حدثني حمران، قال رايت عثمان بن عفان توضا . فذكر نحوه ولم يذكر المضمضة والاستنشاق وقال فيه ومسح راسه ثلاثا ثم غسل رجليه ثلاثا ثم قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا هكذا وقال " من توضا دون هذا كفاه " . ولم يذكر امر الصلاة
عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: میں نے عثمان بن
حدثنا محمد بن داود الاسكندراني، حدثنا زياد بن يونس، حدثني سعيد بن زياد الموذن، عن عثمان بن عبد الرحمن التيمي، قال سيل ابن ابي مليكة عن الوضوء، فقال رايت عثمان بن عفان سيل عن الوضوء، فدعا بماء فاتي بميضاة فاصغى على يده اليمنى ثم ادخلها في الماء فتمضمض ثلاثا واستنثر ثلاثا وغسل وجهه ثلاثا ثم غسل يده اليمنى ثلاثا وغسل يده اليسرى ثلاثا ثم ادخل يده فاخذ ماء فمسح براسه واذنيه فغسل بطونهما وظهورهما مرة واحدة ثم غسل رجليه ثم قال اين السايلون عن الوضوء هكذا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا . قال ابو داود احاديث عثمان - رضى الله عنه - الصحاح كلها تدل على مسح الراس انه مرة فانهم ذكروا الوضوء ثلاثا وقالوا فيها ومسح راسه . ولم يذكروا عددا كما ذكروا في غيره
ابوعلقمہ کہتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور وضو کیا، پہلے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا پھر دونوں ہاتھوں کو پہونچوں تک دھویا، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا، اور اسی طرح وضو کے اندر بقیہ تمام اعضاء ء کو تین بار دھونے کا ذکر کیا، پھر کہا: اور آپ ( عثمان رضی اللہ عنہ ) نے اپنے سر کا مسح کیا پھر اپنے دونوں پیر دھوئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے جیسے تم لوگوں نے مجھے وضو کرتے دیکھا، پھر زہری کی حدیث ( نمبر ۱۰۶ ) کی طرح اپنی حدیث بیان کی اور ان کی حدیث سے کامل بیان کی۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا عيسى، اخبرنا عبيد الله، - يعني ابن ابي زياد - عن عبد الله بن عبيد بن عمير، عن ابي علقمة، ان عثمان، دعا بماء فتوضا فافرغ بيده اليمنى على اليسرى ثم غسلهما الى الكوعين - قال - ثم مضمض واستنشق ثلاثا وذكر الوضوء ثلاثا - قال - ومسح براسه ثم غسل رجليه وقال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا مثل ما رايتموني توضات . ثم ساق نحو حديث الزهري واتم
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو میں اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے اور تین بار سر کا مسح کیا پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وکیع ( وکیع بن جراح ) نے اسے اسرائیل سے روایت کیا ہے اس میں صرف «توضأ ثلاثا» ہے۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا اسراييل، عن عامر بن شقيق بن جمرة، عن شقيق بن سلمة، قال رايت عثمان بن عفان غسل ذراعيه ثلاثا ثلاثا ومسح راسه ثلاثا ثم قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم فعل هذا . قال ابو داود رواه وكيع عن اسراييل قال توضا ثلاثا فقط
عبد خیر کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے آپ نماز پڑھ چکے تھے، پانی منگوایا، ہم لوگوں نے ( آپس میں ) کہا آپ پانی منگوا کر کیا کریں گے، آپ تو نماز پڑھ چکے ہیں؟ شاید ( پانی منگوا کر ) آپ ہمیں وضو کا طریقہ ہی سکھانا چاہتے ہوں گے، خیر ایک برتن جس میں پانی تھا اور ایک طشت لایا گیا، آپ نے برتن سے اپنے داہنے ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھوں کو ( کلائی تک ) تین بار دھویا پھر کلی کی اور تین بار ناک جھاڑی، آپ کلی کرتے پھر اسی چلو سے آدھا پانی ناک میں ڈال کر اسے جھاڑتے، پھر آپ نے اپنا چہرہ تین بار دھویا پھر دایاں اور بایاں ہاتھ تین تین بار دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور ( پانی نکال کر ) اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، اس کے بعد اپنا دایاں پیر پھر بایاں پیر تین تین بار دھویا پھر فرمایا: جو شخص اس بات سے خوش ہو کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ معلوم ہو جائے تو ( جان لے کہ ) وہ یہی ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن خالد بن علقمة، عن عبد خير، قال اتانا علي - رضى الله عنه - وقد صلى فدعا بطهور فقلنا ما يصنع بالطهور وقد صلى ما يريد الا ان يعلمنا فاتي باناء فيه ماء وطست فافرغ من الاناء على يمينه فغسل يديه ثلاثا ثم تمضمض واستنثر ثلاثا فمضمض ونثر من الكف الذي ياخذ فيه ثم غسل وجهه ثلاثا ثم غسل يده اليمنى ثلاثا وغسل يده الشمال ثلاثا ثم جعل يده في الاناء فمسح براسه مرة واحدة ثم غسل رجله اليمنى ثلاثا ورجله الشمال ثلاثا ثم قال من سره ان يعلم وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم فهو هذا
عبد خیر کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز پڑھی پھر رحبہ ( کوفہ میں ایک جگہ کا نام ہے ) آئے اور پانی منگوایا تو لڑکا ایک برتن جس میں پانی تھا اور ایک طشت لے کر آپ کے پاس آیا، آپ نے پانی کا برتن اپنے داہنے ہاتھ میں لیا پھر اپنے بائیں ہاتھ پر انڈیلا اور دونوں ہتھیلیوں کو تین بار دھویا پھر اپنا داہنا ہاتھ برتن کے اندر ڈال کر پانی لیا اور تین بار کلی کی اور تین بار ناک میں پانی ڈالا۔ پھر راوی نے ابو عوانہ جیسی حدیث بیان کی، اس میں ذکر کیا کہ پھر علی رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا ایک بار مسح کیا پھر راوی نے پوری حدیث اسی جیسی بیان کی۔
حدثنا الحسن بن علي الحلواني، حدثنا الحسين بن علي الجعفي، عن زايدة، حدثنا خالد بن علقمة الهمداني، عن عبد خير، قال صلى علي رضى الله عنه الغداة ثم دخل الرحبة فدعا بماء فاتاه الغلام باناء فيه ماء وطست - قال - فاخذ الاناء بيده اليمنى فافرغ على يده اليسرى وغسل كفيه ثلاثا ثم ادخل يده اليمنى في الاناء فتمضمض ثلاثا واستنشق ثلاثا . ثم ساق قريبا من حديث ابي عوانة قال ثم مسح راسه مقدمه وموخره مرة . ثم ساق الحديث نحوه
عبد خیر کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ( ان کے پاس ) ایک کرسی لائی گئی، وہ اس پر بیٹھے پھر پانی کا ایک کوزہ ( برتن ) لایا گیا تو ( اس سے ) آپ نے تین بار اپنا ہاتھ دھویا پھر ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثني محمد بن جعفر، حدثني شعبة، قال سمعت مالك بن عرفطة، سمعت عبد خير، قال رايت عليا - رضى الله عنه - اتي بكرسي فقعد عليه ثم اتي بكوز من ماء فغسل يديه ثلاثا ثم تمضمض مع الاستنشاق بماء واحد . وذكر الحديث
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا جب ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھا گیا تھا، پھر زر بن حبیش نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا: انہوں نے اپنے سر کا مسح کیا حتیٰ کہ پانی سر سے ٹپکنے کو تھا، پھر اپنے دونوں پیر تین تین بار دھوئے، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اسی طرح تھا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو نعيم، حدثنا ربيعة الكناني، عن المنهال بن عمرو، عن زر بن حبيش، انه سمع عليا، رضى الله عنه وسيل عن وضوء، رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر الحديث وقال ومسح على راسه حتى لما يقطر وغسل رجليه ثلاثا ثلاثا ثم قال هكذا كان وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا تو اپنا چہرہ تین بار دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے، اور اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، پھر آپ نے کہا: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ہے۔
حدثنا زياد بن ايوب الطوسي، حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا فطر، عن ابي فروة، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، قال رايت عليا - رضى الله عنه - توضا فغسل وجهه ثلاثا وغسل ذراعيه ثلاثا ومسح براسه واحدة ثم قال هكذا توضا رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابوحیہ (ابن قیس) کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، پھر ابوحیہ نے آپ کے پورے ( اعضاء ) وضو کے تین تین بار دھونے کا ذکر کیا، وہ کہتے ہیں: پھر آپ نے اپنے سر کا مسح کیا، اور اپنے دونوں پیر ٹخنوں تک دھوئے، پھر کہا: میری خواہش ہوئی کہ میں تم لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دکھلاؤں ( کہ آپ کس طرح وضو کرتے تھے ) ۔
حدثنا مسدد، وابو توبة قالا حدثنا ابو الاحوص، ح وحدثنا عمرو بن عون، اخبرنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن ابي حية، قال رايت عليا - رضى الله عنه - توضا فذكر وضوءه كله ثلاثا ثلاثا - قال - ثم مسح راسه ثم غسل رجليه الى الكعبين ثم قال انما احببت ان اريكم طهور رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ استنجاء کر کے میرے پاس آئے، اور وضو کے لیے پانی مانگا، ہم ایک پیالہ لے کر ان کے پاس آئے جس میں پانی تھا یہاں تک کہ ہم نے انہیں ان کے سامنے رکھا تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے ابن عباس! کیا میں تمہیں دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے؟ میں نے کہا: ہاں، ضرور دکھائیے، تو آپ نے برتن جھکا کر ہاتھ پر پانی ڈالا پھر اسے دھویا پھر اپنا داہنا ہاتھ ( برتن میں ) داخل کیا ( اور پانی لے کر ) اسے دوسرے پر ڈالا پھر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر کلی کی اور ناک جھاڑی، پھر اپنے دونوں ہاتھ ( ملا کر ) ایک ساتھ برتن میں ڈالے اور لپ بھر پانی لیا اور اسے اپنے منہ پر مارا پھر دونوں انگوٹھوں کو کانوں کے اندر یعنی سامنے کے رخ پر پھیرا، پھر دوسری اور تیسری بار ( بھی ) ایسا ہی کیا، پھر اپنی داہنی ہتھیلی میں ایک چلو پانی لے کر اپنی پیشانی پر ڈالا اور اسے چھوڑ دیا، وہ آپ کے چہرے پر بہہ رہا تھا، پھر دونوں ہاتھ تین تین بار کہنیوں تک دھوئے، اس کے بعد سر اور دونوں کانوں کے اوپری حصہ کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھ پانی میں ڈال کر ایک لپ بھر پانی لیا اور اسے ( دائیں ) پیر پر ڈالا، اس وقت وہ پیر میں جوتا پہنے ہوئے تھے اور اس سے پیر دھویا پھر دوسرے پیر پر بھی اسی طرح پانی ڈال کر اسے دھویا ۱؎۔ عبیداللہ خولانی کہتے ہیں کہ میں نے ( عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ) پوچھا: علی رضی اللہ عنہ نے دونوں پیر میں جوتا پہنے پہنے ایسا کیا؟ آپ نے کہا: ہاں، جوتا پہنے پہنے کیا، میں نے کہا: جوتا پہنے پہنے؟ آپ نے کہا: ہاں، جوتا پہنے پہنے، پھر میں نے کہا: جوتا پہنے پہنے؟ آپ نے کہا: ہاں چپل پہنے پہنے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن جریج کی حدیث جسے انہوں نے شیبہ سے روایت کیا ہے علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مشابہ ہے اس لیے کہ اس میں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے «مسح برأسه مرة واحدة» کہا ہے اور ابن وہب نے اس میں ابن جریج سے «ومسح برأسه ثلاثا» روایت کیا ہے۔
حدثنا عبد العزيز بن يحيى الحراني، حدثنا محمد، - يعني ابن سلمة - عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن طلحة بن يزيد بن ركانة، عن عبيد الله الخولاني، عن ابن عباس، قال دخل على علي - يعني ابن ابي طالب - وقد اهراق الماء فدعا بوضوء فاتيناه بتور فيه ماء حتى وضعناه بين يديه فقال يا ابن عباس الا اريك كيف كان يتوضا رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت بلى . قال فاصغى الاناء على يده فغسلها ثم ادخل يده اليمنى فافرغ بها على الاخرى ثم غسل كفيه ثم تمضمض واستنثر ثم ادخل يديه في الاناء جميعا فاخذ بهما حفنة من ماء فضرب بها على وجهه ثم القم ابهاميه ما اقبل من اذنيه ثم الثانية ثم الثالثة مثل ذلك ثم اخذ بكفه اليمنى قبضة من ماء فصبها على ناصيته فتركها تستن على وجهه ثم غسل ذراعيه الى المرفقين ثلاثا ثلاثا ثم مسح راسه وظهور اذنيه ثم ادخل يديه جميعا فاخذ حفنة من ماء فضرب بها على رجله وفيها النعل ففتلها بها ثم الاخرى مثل ذلك . قال قلت وفي النعلين قال وفي النعلين . قال قلت وفي النعلين قال وفي النعلين . قال قلت وفي النعلين قال وفي النعلين . قال ابو داود وحديث ابن جريج عن شيبة يشبه حديث علي لانه قال فيه حجاج بن محمد عن ابن جريج ومسح براسه مرة واحدة . وقال ابن وهب فيه عن ابن جريج ومسح براسه ثلاثا
یحییٰ مازنی کہتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن زید بن عاصم ( جو عمرو بن یحییٰ مازنی کے نانا ہیں ) سے کہا: کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو فرماتے تھے؟ تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، پس آپ نے وضو کے لیے پانی منگایا، اور اپنے دونوں ہاتھوں پر ڈالا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک جھاڑی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر دونوں ہاتھ کہنیوں تک دو دو بار دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا، ان دونوں کو آگے لے آئے اور پیچھے لے گئے اس طرح کہ اس کی ابتداء اپنے سر کے اگلے حصے سے کی، پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے پھر انہیں اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن عمرو بن يحيى المازني، عن ابيه، انه قال لعبد الله بن زيد بن عاصم - وهو جد عمرو بن يحيى المازني هل تستطيع ان تريني، كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا فقال عبد الله بن زيد نعم . فدعا بوضوء فافرغ على يديه فغسل يديه ثم تمضمض واستنثر ثلاثا ثم غسل وجهه ثلاثا ثم غسل يديه مرتين مرتين الى المرفقين ثم مسح راسه بيديه فاقبل بهما وادبر بدا بمقدم راسه ثم ذهب بهما الى قفاه ثم ردهما حتى رجع الى المكان الذي بدا منه ثم غسل رجليه
اس سند سے بھی عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ انہوں نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا تین بار ایسا ہی کیا، پھر انہوں نے اسی طرح ذکر کیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا خالد، عن عمرو بن يحيى المازني، عن ابيه، عن عبد الله بن زيد بن عاصم، بهذا الحديث قال فمضمض واستنشق من كف واحدة يفعل ذلك ثلاثا . ثم ذكر نحوه
عبداللہ بن زید بن عاصم ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( وضو کرتے ہوئے ) دیکھا، پھر آپ کے وضو کا ذکر کیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح اپنے ہاتھ کے بچے ہوئے پانی کے علاوہ نئے پانی سے کیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے یہاں تک کہ انہیں صاف کیا۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، حدثنا ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، ان حبان بن واسع، حدثه ان اباه حدثه انه، سمع عبد الله بن زيد بن عاصم المازني، يذكر انه راى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر وضوءه وقال ومسح راسه بماء غير فضل يديه وغسل رجليه حتى انقاهما