Loading...

Loading...
کتب
۳۹۰ احادیث
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا ابو المغيرة، حدثنا حريز، حدثني عبد الرحمن بن ميسرة الحضرمي، سمعت المقدام بن معديكرب الكندي، قال اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بوضوء فتوضا فغسل كفيه ثلاثا ثم تمضمض واستنشق ثلاثا وغسل وجهه ثلاثا ثم غسل ذراعيه ثلاثا ثلاثا ثم مسح براسه واذنيه ظاهرهما وباطنهما
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا ابو المغيرة، حدثنا حريز، حدثني عبد الرحمن بن ميسرة الحضرمي، سمعت المقدام بن معديكرب الكندي، قال اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بوضوء فتوضا فغسل كفيه ثلاثا ثم تمضمض واستنشق ثلاثا وغسل وجهه ثلاثا ثم غسل ذراعيه ثلاثا ثلاثا ثم مسح براسه واذنيه ظاهرهما وباطنهما
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کے مسح پر پہنچے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے سر کے اگلے حصہ پر رکھا، پھر انہیں پھیرتے ہوئے گدی تک پہنچے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے مسح شروع کیا تھا۔ تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الطہارة ۵۲ ( ۴۴۲ ) ، ( تحفة الأشراف: ۱۱۵۷۲ ) ( صحیح)
حدثنا محمود بن خالد، ويعقوب بن كعب الانطاكي، - لفظه - قالا حدثنا الوليد بن مسلم، عن حريز بن عثمان، عن عبد الرحمن بن ميسرة، عن المقدام بن معديكرب، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا فلما بلغ مسح راسه وضع كفيه على مقدم راسه فامرهما حتى بلغ القفا ثم ردهما الى المكان الذي بدا منه . قال محمود قال اخبرني حريز
اس طریق سے بھی ولید (ولید بن مسلم) سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں کان کی پشت اور ان کے اندرونی حصے کا مسح کیا، اور ہشام نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو اپنے دونوں کان کے سوراخ میں داخل کیا۔
حدثنا محمود بن خالد، وهشام بن خالد، - المعنى - قالا حدثنا الوليد، بهذا الاسناد قال ومسح باذنيه ظاهرهما وباطنهما . زاد هشام وادخل اصابعه في صماخ اذنيه
حدثنا مومل بن الفضل الحراني، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا عبد الله بن العلاء، حدثنا ابو الازهر المغيرة بن فروة، ويزيد بن ابي مالك، ان معاوية، توضا للناس كما راى رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا فلما بلغ راسه غرف غرفة من ماء فتلقاها بشماله حتى وضعها على وسط راسه حتى قطر الماء او كاد يقطر ثم مسح من مقدمه الى موخره ومن موخره الى مقدمه
حدثنا مومل بن الفضل الحراني، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا عبد الله بن العلاء، حدثنا ابو الازهر المغيرة بن فروة، ويزيد بن ابي مالك، ان معاوية، توضا للناس كما راى رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا فلما بلغ راسه غرف غرفة من ماء فتلقاها بشماله حتى وضعها على وسط راسه حتى قطر الماء او كاد يقطر ثم مسح من مقدمه الى موخره ومن موخره الى مقدمه
محمود بن خالد کہتے ہیں کہ ہم سے ولید نے اسی سند سے بیان کیا ہے، اس میں ہے کہ انہوں معاویہ رضی اللہ عنہ نے تین تین بار وضو کیا اور اپنے پاؤں دھوئے اس میں عدد کا ذکر نہیں ہے۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا الوليد، بهذا الاسناد قال فتوضا ثلاثا ثلاثا وغسل رجليه بغير عدد
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ( اکثر ) تشریف لایا کرتے تھے تو ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے وضو کا پانی لاؤ ، پھر ربیع نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا ذکر کیا اور کہا کہ ( پہلے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہونچے تین بار دھوئے، اور چہرے کو تین بار دھویا، کلی کی، ایک بار ناک میں پانی ڈالا اور دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، دو بار سر کا مسح کیا، پہلے سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا، پھر اگلے حصہ سے، پھر اپنے دونوں کانوں کی پشت اور ان کے اندرونی حصہ کا مسح کیا اور دونوں پیر تین تین بار دھوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کی حدیث کے یہی معنی ہیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا عبد الله بن محمد بن عقيل، عن الربيع بنت معوذ ابن عفراء، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ياتينا فحدثتنا انه قال " اسكبي لي وضوءا " . فذكرت وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت فيه فغسل كفيه ثلاثا ووضا وجهه ثلاثا ومضمض واستنشق مرة ووضا يديه ثلاثا ثلاثا ومسح براسه مرتين يبدا بموخر راسه ثم بمقدمه وباذنيه كلتيهما ظهورهما وبطونهما ووضا رجليه ثلاثا ثلاثا . قال ابو داود وهذا معنى حديث مسدد
ابن عقیل سے بھی یہی حدیث اسی سند سے مروی ہے، اس میں (سفیان نے) بشر کی حدیث کے بعض مفاہیم کو بدل دیا ہے اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی اور تین مرتبہ ناک جھاڑی۔
حدثنا اسحاق بن اسماعيل، حدثنا سفيان، عن ابن عقيل، بهذا الحديث يغير بعض معاني بشر قال فيه وتمضمض واستنثر ثلاثا
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس وضو کیا، تو پورے سر کا مسح کیا، اوپر سے سر کا مسح شروع کرتے تھے اور ہر کونے میں نیچے تک بالوں کی روش پر ان کی اصل ہیئت کو حرکت دیے بغیر لے جاتے تھے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، ويزيد بن خالد الهمداني، قالا حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن الربيع بنت معوذ ابن عفراء، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا عندها فمسح الراس كله من قرن الشعر كل ناحية لمنصب الشعر لا يحرك الشعر عن هييته
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ نے اپنے سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا اور اپنی دونوں کنپٹیوں اور دونوں کانوں کا ایک بار مسح کیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا بكر، - يعني ابن مضر - عن ابن عجلان، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، ان ربيع بنت معوذ ابن عفراء، اخبرته قالت، رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا - قالت - فمسح راسه ومسح ما اقبل منه وما ادبر وصدغيه واذنيه مرة واحدة
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الله بن داود، عن سفيان بن سعيد، عن ابن عقيل، عن الربيع، ان النبي صلى الله عليه وسلم مسح براسه من فضل ماء كان في يده
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الله بن داود، عن سفيان بن سعيد، عن ابن عقيل، عن الربيع، ان النبي صلى الله عليه وسلم مسح براسه من فضل ماء كان في يده
حدثنا ابراهيم بن سعيد، حدثنا وكيع، حدثنا الحسن بن صالح، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن الربيع بنت معوذ ابن عفراء، ان النبي صلى الله عليه وسلم توضا فادخل اصبعيه في جحرى اذنيه
حدثنا ابراهيم بن سعيد، حدثنا وكيع، حدثنا الحسن بن صالح، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن الربيع بنت معوذ ابن عفراء، ان النبي صلى الله عليه وسلم توضا فادخل اصبعيه في جحرى اذنيه
طلحہ کے دادا کعب بن عمرو یامی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر کا ایک بار مسح کرتے دیکھا یہاں تک کہ یہ «قذال» ( گردن کے سرے ) تک پہنچا۔ مسدد کی روایت میں یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے حصہ سے پچھلے حصہ تک اپنے سر کا مسح کیا یہاں تک کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے نیچے سے نکالا۔ مسدد کہتے ہیں: تو میں نے اسے یحییٰ ( یحییٰ بن سعید القطان ) سے بیان کیا تو آپ نے اسے منکر کہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد ( احمد بن حنبل ) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ ( سفیان ) ابن عیینہ ( بھی ) اس حدیث کو منکر گردانتے تھے اور کہتے تھے کہ «طلحة عن أبيه عن جده» کیا چیز ہے؟
حدثنا محمد بن عيسى، ومسدد، قالا حدثنا عبد الوارث، عن ليث، عن طلحة بن مصرف، عن ابيه، عن جده، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح راسه مرة واحدة حتى بلغ القذال - وهو اول القفا - وقال مسدد ومسح راسه من مقدمه الى موخره حتى اخرج يديه من تحت اذنيه . قال مسدد فحدثت به يحيى فانكره . قال ابو داود وسمعت احمد يقول ابن عيينة زعموا كان ينكره ويقول ايش هذا طلحة عن ابيه عن جده
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اور ( اعضاء وضو کو ) تین تین بار دھونے کا ذکر کیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر اور دونوں کانوں کا ایک بار مسح کیا۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا عباد بن منصور، عن عكرمة بن خالد، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، راى رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا . فذكر الحديث كله ثلاثا ثلاثا قال ومسح براسه واذنيه مسحة واحدة
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو ( کی کیفیت ) کا ذکر کیا اور فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناک کے قریب دونوں آنکھوں کے کناروں کا مسح فرماتے تھے، ابوامامہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں کان سر میں داخل ہیں ۔ سلیمان بن حرب کہتے ہیں: ابوامامہ بھی یہ کہا کرتے تھے ( کہ دونوں کان سر میں داخل ہیں ) ۔ قتیبہ کہتے ہیں کہ حماد نے کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ قول یعنی دونوں کانوں کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے، یا ابوامامہ کا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، ح وحدثنا مسدد، وقتيبة، عن حماد بن زيد، عن سنان بن ربيعة، عن شهر بن حوشب، عن ابي امامة، وذكر، وضوء النبي، صلى الله عليه وسلم قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح الماقين . قال وقال " الاذنان من الراس " . قال سليمان بن حرب يقولها ابو امامة . قال قتيبة قال حماد لا ادري هو من قول النبي صلى الله عليه وسلم او من ابي امامة . يعني قصة الاذنين . قال قتيبة عن سنان ابي ربيعة . قال ابو داود وهو ابن ربيعة كنيته ابو ربيعة
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وضو کس طرح کیا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن میں پانی منگوایا اور اپنے دونوں پہونچوں کو تین بار دھویا، پھر چہرہ تین بار دھویا، پھر دونوں ہاتھ تین بار دھلے، پھر سر کا مسح کیا، اور شہادت کی دونوں انگلیوں کو اپنے دونوں کانوں میں داخل کیا، اور اپنے دونوں انگوٹھوں سے اپنے دونوں کانوں کے اوپری حصہ کا مسح کیا اور شہادت کی دونوں انگلیوں سے اپنے دونوں کانوں کے اندرونی حصہ کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھلے، پھر فرمایا: وضو ( کا طریقہ ) اسی طرح ہے جس شخص نے اس پر زیادتی یا کمی کی اس نے برا کیا، اور ظلم کیا ، یا فرمایا: ظلم کیا اور برا کیا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن موسى بن ابي عايشة، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله كيف الطهور فدعا بماء في اناء فغسل كفيه ثلاثا ثم غسل وجهه ثلاثا ثم غسل ذراعيه ثلاثا ثم مسح براسه فادخل اصبعيه السباحتين في اذنيه ومسح بابهاميه على ظاهر اذنيه وبالسباحتين باطن اذنيه ثم غسل رجليه ثلاثا ثلاثا ثم قال " هكذا الوضوء فمن زاد على هذا او نقص فقد اساء وظلم " . او " ظلم واساء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں اعضاء دو دو بار دھلے۔ تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الطھارة ۳۳ ( ۴۳ ) ، ( تحفة الأشراف: ۱۳۹۴۰ ) ، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ۲/۲۸۸، ۳۶۴ ) ( حسن صحیح)
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا زيد، - يعني ابن الحباب - حدثنا عبد الرحمن بن ثوبان، حدثنا عبد الله بن الفضل الهاشمي، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم توضا مرتين مرتين
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہم سے کہا: کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تمہیں دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے؟ پھر انہوں نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی تھا اور داہنے ہاتھ سے ایک چلو پانی لے کر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر ایک اور چلو پانی لے کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ دھویا، پھر ایک چلو اور پانی لیا اس سے اپنا داہنا ہاتھ دھویا، پھر ایک چلو اور لے کر بایاں ہاتھ دھویا، پھر تھوڑا سا پانی لے کر اپنا ہاتھ جھاڑا، اور اس سے اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا، پھر ایک مٹھی پانی لے کر داہنے پاؤں پر ڈالا جس میں جوتا پہنے ہوئے تھے، پھر اس پر اپنے دونوں ہاتھوں کو اس طرح سے پھیرا کہ ایک ہاتھ پاؤں کے اوپر اور ایک ہاتھ نعل ( جوتا ) کے نیچے تھا، پھر بائیں پاؤں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا هشام بن سعد، حدثنا زيد، عن عطاء بن يسار، قال قال لنا ابن عباس اتحبون ان اريكم، كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا فدعا باناء فيه ماء فاغترف غرفة بيده اليمنى فتمضمض واستنشق ثم اخذ اخرى فجمع بها يديه ثم غسل وجهه ثم اخذ اخرى فغسل بها يده اليمنى ثم اخذ اخرى فغسل بها يده اليسرى ثم قبض قبضة من الماء ثم نفض يده ثم مسح بها راسه واذنيه ثم قبض قبضة اخرى من الماء فرش على رجله اليمنى وفيها النعل ثم مسحها بيديه يد فوق القدم ويد تحت النعل ثم صنع باليسرى مثل ذلك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کیا میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں نہ بتاؤں؟ پھر انہوں نے وضو کیا، اور اعضاء کو ایک ایک بار دھلا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثني زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابن عباس، قال الا اخبركم بوضوء، رسول الله صلى الله عليه وسلم فتوضا مرة مرة
طلحہ کے دادا کعب بن عمرو یامی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، اس وقت آپ وضو کر رہے تھے، پانی چہرے اور داڑھی سے آپ کے سینے پر بہہ رہا تھا، میں نے دیکھا کہ آپ کلی، اور ناک میں پانی الگ الگ ڈال رہے تھے ۱؎۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا معتمر، قال سمعت ليثا، يذكر عن طلحة، عن ابيه، عن جده، قال دخلت - يعني - على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يتوضا والماء يسيل من وجهه ولحيته على صدره فرايته يفصل بين المضمضة والاستنشاق
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اپنی ناک میں پانی ڈالے، پھر جھاڑے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا توضا احدكم فليجعل في انفه ماء ثم لينثر