Loading...

Loading...
کتب
۳۹۰ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ناک میں پانی ڈال کر اسے دو یا تین بار اچھی طرح سے جھاڑو ۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، حدثنا وكيع، حدثنا ابن ابي ذيب، عن قارظ، عن ابي غطفان، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " استنثروا مرتين بالغتين او ثلاثا
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی منتفق کے وفد کا سردار بن کر یا بنی منتفق کے وفد میں شریک ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ گھر میں نہیں ملے، ہمیں صرف ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ملیں، انہوں نے ہمارے لیے خزیرہ ۱؎ تیار کرنے کا حکم کیا، وہ تیار کیا گیا، ہمارے سامنے تھالی لائی گئی۔ ( قتیبہ نے اپنی روایت میں «قناع» کا لفظ نہیں کہا ہے، «قناع» کھجور کی لکڑی کی اس تھالی و طبق کو کہتے ہیں جس میں کھجور رکھی جاتی ہے ) ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا: تم لوگوں نے کچھ کھایا؟ یا تمہارے کھانے کے لیے کوئی حکم دیا گیا؟ ، ہم نے جواب دیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! ہم لوگ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ یکایک چرواہا اپنی بکریاں باڑے کی طرف لے کر چلا، اس کے ساتھ ایک بکری کا بچہ تھا جو ممیا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس سے ) پوچھا: اے فلاں! کیا پیدا ہوا ( نر یا مادہ ) ؟ ، اس نے جواب دیا: مادہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کے جگہ پر ہمارے لیے ایک بکری ذبح کرو ۔ پھر ( لقیط سے ) فرمایا: یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے اسے تمہارے لیے ذبح کیا ہے، بلکہ ( بات یہ ہے کہ ) ہمارے پاس سو بکریاں ہیں جسے ہم بڑھانا نہیں چاہتے، اس لیے جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر ڈالتے ہیں۔ لقیط کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے جو زبان دراز ہے ( میں کیا کروں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو تم اسے طلاق دے دو ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک مدت تک میرا اس کا ساتھ رہا، اس سے میری اولاد بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسے تم نصیحت کرو، اگر اس میں بھلائی ہے تو تمہاری اطاعت کرے گی، اور تم اپنی عورت کو اس طرح نہ مارو جس طرح اپنی لونڈی کو مارتے ہو ۔ پھر میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو مکمل کیا کرو، انگلیوں میں خلال کرو، اور ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ الا یہ کہ تم صائم ہو ۱؎۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، - في اخرين - قالوا حدثنا يحيى بن سليم، عن اسماعيل بن كثير، عن عاصم بن لقيط بن صبرة، عن ابيه، لقيط بن صبرة قال كنت وافد بني المنتفق - او في وفد بني المنتفق - الى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فلما قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم نصادفه في منزله وصادفنا عايشة ام المومنين قال فامرت لنا بخزيرة فصنعت لنا قال واتينا بقناع - ولم يقل قتيبة القناع والقناع الطبق فيه تمر - ثم جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " هل اصبتم شييا او امر لكم بشىء " . قال قلنا نعم يا رسول الله . قال فبينا نحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم جلوس اذ دفع الراعي غنمه الى المراح ومعه سخلة تيعر فقال " ما ولدت يا فلان " . قال بهمة . قال فاذبح لنا مكانها شاة . ثم قال لا تحسبن - ولم يقل لا تحسبن - انا من اجلك ذبحناها لنا غنم ماية لا نريد ان تزيد فاذا ولد الراعي بهمة ذبحنا مكانها شاة . قال قلت يا رسول الله ان لي امراة وان في لسانها شييا يعني البذاء . قال " فطلقها اذا " . قال قلت يا رسول الله ان لها صحبة ولي منها ولد . قال " فمرها - يقول عظها - فان يك فيها خير فستفعل ولا تضرب ظعينتك كضربك اميتك " . فقلت يا رسول الله اخبرني عن الوضوء . قال " اسبغ الوضوء وخلل بين الاصابع وبالغ في الاستنشاق الا ان تكون صايما
بنی منتفق کے وفد میں شریک لقیط بن صبرہ کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، اس میں یہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے کو جھکتے ہوئے یعنی تیز چال چلتے ہوئے تشریف لائے، اس روایت میں لفظ «خزيرة» کی جگہ «عصيدة» ( ایک قسم کا کھانا ) کا ذکر ہے۔
حدثنا عقبة بن مكرم، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ابن جريج، حدثني اسماعيل بن كثير، عن عاصم بن لقيط بن صبرة، عن ابيه، وافد بني المنتفق، انه اتى عايشة فذكر معناه . قال فلم ينشب ان جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم يتقلع يتكفا . وقال عصيدة . مكان خزيرة
اس طریق سے بھی ابن جریج سے یہی حدیث مروی ہے، جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم وضو کرو تو کلی کرو ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا ابو عاصم، حدثنا ابن جريج، بهذا الحديث قال فيه " اذا توضات فمضمض
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو ایک چلو پانی لے کر اسے اپنی ٹھوڑی کے نیچے لے جاتے تھے، پھر اس سے اپنی داڑھی کا خلال کرتے اور فرماتے: میرے رب عزوجل نے مجھے ایسا ہی حکم دیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ولید بن زور ان سے حجاج بن حجاج اور ابوالملیح الرقی نے روایت کی ہے۔
حدثنا ابو توبة، - يعني الربيع بن نافع - حدثنا ابو المليح، عن الوليد بن زوران، عن انس يعني ابن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا توضا اخذ كفا من ماء فادخله تحت حنكه فخلل به لحيته وقال " هكذا امرني ربي عز وجل " . قال ابو داود ابن زوران روى عنه حجاج بن حجاج وابو المليح الرقي
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ ( چھوٹا لشکر ) بھیجا تو اسے ٹھنڈ لگ گئی، جب وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( وضو کرتے وقت ) عماموں ( پگڑیوں ) اور موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ثور، عن راشد بن سعد، عن ثوبان، قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية فاصابهم البرد فلما قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم امرهم ان يمسحوا على العصايب والتساخين
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا، آپ کے سر مبارک پر قطری ( یعنی قطر بستی کا بنا ہوا ) عمامہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ عمامہ ( پگڑی ) کے نیچے داخل کیا اور عمامہ ( پگڑی ) کھولے بغیر اپنے سر کے اگلے حصہ کا مسح کیا۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، حدثني معاوية بن صالح، عن عبد العزيز بن مسلم، عن ابي معقل، عن انس بن مالك، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا وعليه عمامة قطرية فادخل يده من تحت العمامة فمسح مقدم راسه ولم ينقض العمامة
مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ وضو کرتے تو اپنے پاؤں کی انگلیوں کو چھنگلیا ( ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی ) سے ملتے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابن لهيعة، عن يزيد بن عمرو، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، عن المستورد بن شداد، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا توضا يدلك اصابع رجليه بخنصره
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں فجر سے پہلے مڑے، میں آپ کے ساتھ تھا، میں بھی مڑا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ بٹھایا اور قضائے حاجت کی، پھر آئے تو میں نے چھوٹے برتن ( لوٹے ) سے آپ کے ہاتھ پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پہونچے دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر آستین سے دونوں ہاتھ نکالنا چاہا مگر جبے کی آستین تنگ تھی اس لیے آپ نے ہاتھ اندر کی طرف کھینچ لیا، اور انہیں جبے کے نیچے سے نکالا، پھر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا، اور اپنے سر کا مسح کیا، پھر دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر سوار ہو گئے، پھر ہم چل پڑے، یہاں تک کہ ہم نے لوگوں کو نماز کی حالت میں پایا، ان لوگوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ( امامت کے لیے ) آگے بڑھا رکھا تھا، انہوں نے حسب معمول وقت پر لوگوں کو نماز پڑھائی، جب ہم پہنچے تو عبدالرحمٰن بن عوف فجر کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ صف میں شریک ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف کے پیچھے دوسری رکعت پڑھی، پھر جب عبدالرحمٰن نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، یہ دیکھ کر مسلمان گھبرا گئے، اور لوگ سبحان اللہ کہنے لگے، کیونکہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نماز شروع کر دی تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ان سے فرمایا: تم لوگوں نے ٹھیک کیا ، یا فرمایا: تم لوگوں نے اچھا کیا ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، حدثني عباد بن زياد، ان عروة بن المغيرة بن شعبة، اخبره انه، سمع اباه المغيرة، يقول عدل رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا معه في غزوة تبوك قبل الفجر فعدلت معه فاناخ النبي صلى الله عليه وسلم فتبرز ثم جاء فسكبت على يده من الاداوة فغسل كفيه ثم غسل وجهه ثم حسر عن ذراعيه فضاق كما جبته فادخل يديه فاخرجهما من تحت الجبة فغسلهما الى المرفق ومسح براسه ثم توضا على خفيه ثم ركب فاقبلنا نسير حتى نجد الناس في الصلاة قد قدموا عبد الرحمن بن عوف فصلى بهم حين كان وقت الصلاة ووجدنا عبد الرحمن وقد ركع بهم ركعة من صلاة الفجر فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فصف مع المسلمين فصلى وراء عبد الرحمن بن عوف الركعة الثانية ثم سلم عبد الرحمن فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم في صلاته . ففزع المسلمون فاكثروا التسبيح لانهم سبقوا النبي صلى الله عليه وسلم بالصلاة فلما سلم رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لهم " قد اصبتم " . او " قد احسنتم
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اپنی پیشانی پر مسح کیا، مغیرہ نے عمامہ ( پگڑی ) کے اوپر مسح کا بھی ذکر کیا۔ ایک دوسری روایت میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں موزوں پر اور اپنی پیشانی اور اپنے عمامہ ( پگڑی ) پر مسح کرتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى يعني ابن سعيد، ح حدثنا مسدد، حدثنا المعتمر، عن التيمي، حدثنا بكر، عن الحسن، عن ابن المغيرة بن شعبة، عن المغيرة بن شعبة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا ومسح ناصيته . وذكر فوق العمامة - قال عن المعتمر - سمعت ابي يحدث عن بكر بن عبد الله عن الحسن عن ابن المغيرة بن شعبة عن المغيرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يمسح على الخفين وعلى ناصيته وعلى عمامته . قال بكر وقد سمعته من ابن المغيرة
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند سواروں میں تھے اور میرے ساتھ ایک چھاگل ( چھوٹا برتن ) تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے پھر واپس آئے تو میں چھاگل لے کر آپ کے پاس پہنچا، میں نے آپ ( کے ہاتھ ) پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہونچے اور چہرہ مبارک دھویا، پھر دونوں ہاتھ آستین سے نکالنا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ملک روم کے بنے ہوئے جبوں میں سے ایک جبہ زیب تن کئے ہوئے تھے، جس کی آستین تنگ و چست تھی، اس کی وجہ سے ہاتھ نہ نکل سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اندر ہی سے نکال لیا، پھر میں آپ کے پاؤں سے موزے نکالنے کے لیے جھکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: موزوں کو رہنے دو، میں نے یہ پاکی کی حالت میں پہنے ہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کیا۔ شعبی کہتے ہیں: یقیناً میرے سامنے عروہ بن مغیرہ نے اپنے والد سے اسے روایت کیا ہے اور یقیناً ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، حدثني ابي، عن الشعبي، قال سمعت عروة بن المغيرة بن شعبة، يذكر عن ابيه، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في ركبه ومعي اداوة فخرج لحاجته ثم اقبل فتلقيته بالاداوة فافرغت عليه فغسل كفيه ووجهه ثم اراد ان يخرج ذراعيه وعليه جبة من صوف من جباب الروم ضيقة الكمين فضاقت فادرعهما ادراعا ثم اهويت الى الخفين لانزعهما فقال لي " دع الخفين فاني ادخلت القدمين الخفين وهما طاهرتان " . فمسح عليهما . قال ابي قال الشعبي شهد لي عروة على ابيه وشهد ابوه على رسول الله صلى الله عليه وسلم
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( سفر میں لوگوں کی جماعت سے ) پیچھے رہ گئے، پھر انہوں نے اسی واقعہ کا ذکر کیا۔ مغیرہ کہتے ہیں: جب ہم لوگوں کے پاس آئے تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ انہیں صبح کی نماز پڑھا رہے تھے، جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، تو پیچھے ہٹنا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز جاری رکھنے کا اشارہ کیا۔ مغیرہ کہتے ہیں: تو میں نے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف کے پیچھے ایک رکعت پڑھی، اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر وہ رکعت ادا کی جو رہ گئی تھی، اس سے زیادہ کچھ نہیں پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابو سعید خدری، ابن زبیر، اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں: جو شخص امام کے ساتھ نماز کی طاق رکعت پائے، تو اس پر سہو کے دو سجدے ہیں ۱؎۔
حدثنا هدبة بن خالد، حدثنا همام، عن قتادة، عن الحسن، وعن زرارة بن اوفى، ان المغيرة بن شعبة، قال تخلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر هذه القصة . قال فاتينا الناس وعبد الرحمن بن عوف يصلي بهم الصبح فلما راى النبي صلى الله عليه وسلم اراد ان يتاخر فاوما اليه ان يمضي - قال - فصليت انا والنبي صلى الله عليه وسلم خلفه ركعة فلما سلم قام النبي صلى الله عليه وسلم فصلى الركعة التي سبق بها ولم يزد عليها شييا . قال ابو داود ابو سعيد الخدري وابن الزبير وابن عمر يقولون من ادرك الفرد من الصلاة عليه سجدتا السهو
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ وہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس اس وقت موجود تھے جب وہ بلال رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھ رہے تھے، بلال نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے تشریف لے جاتے، پھر میں آپ کے پاس پانی لاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے اور اپنے عمامہ ( پگڑی ) اور دونوں موق ( جسے موزوں کے اوپر پہنا جاتا ہے ) پر مسح کرتے۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن ابي بكر، - يعني ابن حفص بن عمر بن سعد - سمع ابا عبد الله، عن ابي عبد الرحمن السلمي، انه شهد عبد الرحمن بن عوف يسال بلالا عن وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال كان يخرج يقضي حاجته فاتيه بالماء فيتوضا ويمسح على عمامته وموقيه . قال ابو داود هو ابو عبد الله مولى بني تيم بن مرة
ابوزرعہ بن عمرو بن جریر کہتے ہیں کہ جریر رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا پھر وضو کیا تو دونوں موزوں پر مسح کیا اور کہا کہ مجھے مسح کرنے سے کیا چیز روک سکتی ہے جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( موزوں پر ) مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے، اس پر لوگوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل سورۃ المائدہ کے نزول سے پہلے کا ہو گا؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد ہی اسلام قبول کیا ہے۔
حدثنا علي بن الحسين الدرهمي، حدثنا ابن داود، عن بكير بن عامر، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، ان جريرا، بال ثم توضا فمسح على الخفين وقال ما يمنعني ان امسح وقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح قالوا انما كان ذلك قبل نزول المايدة . قال ما اسلمت الا بعد نزول المايدة
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نجاشی ( اصحمہ بن بحر ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو سادہ سیاہ موزے ہدیے میں بھیجے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنا، پھر وضو کیا اور ان پر مسح کیا۔
حدثنا مسدد، واحمد بن ابي شعيب الحراني، قالا حدثنا وكيع، حدثنا دلهم بن صالح، عن حجير بن عبد الله، عن ابن بريدة، عن ابيه، ان النجاشي، اهدى الى رسول الله صلى الله عليه وسلم خفين اسودين ساذجين فلبسهما ثم توضا ومسح عليهما . قال مسدد عن دلهم بن صالح . قال ابو داود هذا مما تفرد به اهل البصرة
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تم بھول گئے ہو، میرے رب نے مجھے اسی کا حکم دیا ہے ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابن حى، - هو الحسن بن صالح - عن بكير بن عامر البجلي، عن عبد الرحمن بن ابي نعم، عن المغيرة بن شعبة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مسح على الخفين . فقلت يا رسول الله انسيت قال " بل انت نسيت بهذا امرني ربي عز وجل
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن الحكم، وحماد، عن ابراهيم، عن ابي عبد الله الجدلي، عن خزيمة بن ثابت، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المسح على الخفين للمسافر ثلاثة ايام وللمقيم يوم وليلة " . قال ابو داود رواه منصور بن المعتمر عن ابراهيم التيمي باسناده قال فيه ولو استزدناه لزادنا
ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، یحییٰ بن ایوب کا بیان ہے کہ ابی بن عمارہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں ( بیت المقدس اور بیت اللہ ) کی طرف نماز پڑھی ہے – آپ نے کہا کہ اللہ کے رسول! کیا میں موزوں پر مسح کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، ابی نے کہا: ایک دن تک؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دن تک ، ابی نے کہا: اور دو دن تک؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو دن تک ، ابی نے کہا: اور تین دن تک؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اور اسے تم جتنا چاہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن ابی مریم مصری نے اسے یحییٰ بن ایوب سے یحییٰ نے عبدالرحمٰن بن رزین سے، عبدالرحمٰن نے محمد بن یزید بن ابی زیاد سے، محمد نے عبادہ بن نسی سے، عبادہ نے ابی بن عمارہ سے روایت کیا ہے مگر اس میں ہے: یہاں تک کہ ( پوچھتے پوچھتے ) سات تک پہنچ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے گئے: ہاں، جتنا تم چاہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس کی سند میں اختلاف ہے، یہ قوی نہیں ہے، اسے ابن ابی مریم اور یحییٰ بن اسحاق سیلحینی نے یحییٰ بن ایوب سے روایت کیا ہے مگر اس کی سند میں بھی اختلاف ہے۔
حدثنا يحيى بن معين، حدثنا عمرو بن الربيع بن طارق، اخبرنا يحيى بن ايوب، عن عبد الرحمن بن رزين، عن محمد بن يزيد، عن ايوب بن قطن، عن ابى بن عمارة، - قال يحيى بن ايوب وكان قد صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم للقبلتين - انه قال يا رسول الله امسح على الخفين قال " نعم " . قال يوما قال " يوما " . قال ويومين قال " ويومين " . قال وثلاثة قال " نعم وما شيت " . قال ابو داود رواه ابن ابي مريم المصري عن يحيى بن ايوب عن عبد الرحمن بن رزين عن محمد بن يزيد بن ابي زياد عن عبادة بن نسى عن ابى بن عمارة قال فيه حتى بلغ سبعا . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم وما بدا لك " قال ابو داود وقد اختلف في اسناده وليس هو بالقوي ورواه ابن ابي مريم ويحيى بن اسحاق السيلحيني عن يحيى بن ايوب وقد اختلف في اسناده
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور دونوں جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن مہدی نہیں بیان کرتے تھے کیونکہ مغیرہ رضی اللہ عنہ سے معروف و مشہور روایت یہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے جرابوں پر مسح کیا، مگر اس کی سند نہ متصل ہے اور نہ قوی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: علی بن ابی طالب، ابن مسعود، براء بن عازب، انس بن مالک، ابوامامہ، سہل بن سعد اور عمرو بن حریث رضی اللہ عنہم نے جرابوں پر مسح کیا ہے، اور یہ عمر بن خطاب اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، عن وكيع، عن سفيان الثوري، عن ابي قيس الاودي، - هو عبد الرحمن بن ثروان - عن هزيل بن شرحبيل، عن المغيرة بن شعبة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا ومسح على الجوربين والنعلين . قال ابو داود كان عبد الرحمن بن مهدي لا يحدث بهذا الحديث لان المعروف عن المغيرة ان النبي صلى الله عليه وسلم مسح على الخفين . قال ابو داود وروي هذا ايضا عن ابي موسى الاشعري عن النبي صلى الله عليه وسلم انه مسح على الجوربين . وليس بالمتصل ولا بالقوي . قال ابو داود ومسح على الجوربين علي بن ابي طالب وابن مسعود والبراء بن عازب وانس بن مالك وابو امامة وسهل بن سعد وعمرو بن حريث وروي ذلك عن عمر بن الخطاب وابن عباس
اوس بن ابی اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے جوتوں اور دونوں پاؤں پر مسح کیا۔ عباد کی روایت میں ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک قوم کے «كظامة» یعنی وضو کی جگہ پر تشریف لائے۔ مسدد کی روایت میں «ميضأة» اور «كظامة» کا ذکر نہیں ہے، پھر آگے مسدد اور عباد دونوں کی روایتیں متفق ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے دونوں جوتوں اور دونوں پاؤں پر مسح کیا۔
حدثنا مسدد، وعباد بن موسى، قالا حدثنا هشيم، عن يعلى بن عطاء، عن ابيه، - قال عباد - قال اخبرني اوس بن ابي اوس الثقفي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا ومسح على نعليه وقدميه . وقال عباد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اتى كظامة قوم - يعني الميضاة ولم يذكر مسدد الميضاة والكظامة ثم اتفقا - فتوضا ومسح على نعليه وقدميه