احادیث
#142
سنن ابی داؤد - Purification
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی منتفق کے وفد کا سردار بن کر یا بنی منتفق کے وفد میں شریک ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ گھر میں نہیں ملے، ہمیں صرف ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ملیں، انہوں نے ہمارے لیے خزیرہ ۱؎ تیار کرنے کا حکم کیا، وہ تیار کیا گیا، ہمارے سامنے تھالی لائی گئی۔ ( قتیبہ نے اپنی روایت میں «قناع» کا لفظ نہیں کہا ہے، «قناع» کھجور کی لکڑی کی اس تھالی و طبق کو کہتے ہیں جس میں کھجور رکھی جاتی ہے ) ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا: تم لوگوں نے کچھ کھایا؟ یا تمہارے کھانے کے لیے کوئی حکم دیا گیا؟ ، ہم نے جواب دیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! ہم لوگ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ یکایک چرواہا اپنی بکریاں باڑے کی طرف لے کر چلا، اس کے ساتھ ایک بکری کا بچہ تھا جو ممیا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس سے ) پوچھا: اے فلاں! کیا پیدا ہوا ( نر یا مادہ ) ؟ ، اس نے جواب دیا: مادہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کے جگہ پر ہمارے لیے ایک بکری ذبح کرو ۔ پھر ( لقیط سے ) فرمایا: یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے اسے تمہارے لیے ذبح کیا ہے، بلکہ ( بات یہ ہے کہ ) ہمارے پاس سو بکریاں ہیں جسے ہم بڑھانا نہیں چاہتے، اس لیے جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر ڈالتے ہیں۔ لقیط کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے جو زبان دراز ہے ( میں کیا کروں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو تم اسے طلاق دے دو ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک مدت تک میرا اس کا ساتھ رہا، اس سے میری اولاد بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسے تم نصیحت کرو، اگر اس میں بھلائی ہے تو تمہاری اطاعت کرے گی، اور تم اپنی عورت کو اس طرح نہ مارو جس طرح اپنی لونڈی کو مارتے ہو ۔ پھر میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو مکمل کیا کرو، انگلیوں میں خلال کرو، اور ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ الا یہ کہ تم صائم ہو ۱؎۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، - في اخرين - قالوا حدثنا يحيى بن سليم، عن اسماعيل بن كثير، عن عاصم بن لقيط بن صبرة، عن ابيه، لقيط بن صبرة قال كنت وافد بني المنتفق - او في وفد بني المنتفق - الى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فلما قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم نصادفه في منزله وصادفنا عايشة ام المومنين قال فامرت لنا بخزيرة فصنعت لنا قال واتينا بقناع - ولم يقل قتيبة القناع والقناع الطبق فيه تمر - ثم جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " هل اصبتم شييا او امر لكم بشىء " . قال قلنا نعم يا رسول الله . قال فبينا نحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم جلوس اذ دفع الراعي غنمه الى المراح ومعه سخلة تيعر فقال " ما ولدت يا فلان " . قال بهمة . قال فاذبح لنا مكانها شاة . ثم قال لا تحسبن - ولم يقل لا تحسبن - انا من اجلك ذبحناها لنا غنم ماية لا نريد ان تزيد فاذا ولد الراعي بهمة ذبحنا مكانها شاة . قال قلت يا رسول الله ان لي امراة وان في لسانها شييا يعني البذاء . قال " فطلقها اذا " . قال قلت يا رسول الله ان لها صحبة ولي منها ولد . قال " فمرها - يقول عظها - فان يك فيها خير فستفعل ولا تضرب ظعينتك كضربك اميتك " . فقلت يا رسول الله اخبرني عن الوضوء . قال " اسبغ الوضوء وخلل بين الاصابع وبالغ في الاستنشاق الا ان تكون صايما
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- Purification
- Hadith Index
- #142
- Book Index
- 142
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidSahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
