Loading...

Loading...
کتب
۳۹۰ احادیث
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موزوں پر مسح کرتے تھے۔ اور محمد بن صباح کے علاوہ دوسرے لوگوں سے «على ظهر الخفين.» ( موزوں کی پشت پر ) مروی ہے۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا عبد الرحمن بن ابي الزناد، قال ذكره ابي عن عروة بن الزبير، عن المغيرة بن شعبة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يمسح على الخفين . وقال غير محمد على ظهر الخفين
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اگر دین ( کا معاملہ ) رائے اور قیاس پر ہوتا، تو موزے کے نچلے حصے پر مسح کرنا اوپری حصے پر مسح کرنے سے بہتر ہوتا، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا حفص، - يعني ابن غياث - عن الاعمش، عن ابي اسحاق، عن عبد خير، عن علي، - رضى الله عنه - قال لو كان الدين بالراى لكان اسفل الخف اولى بالمسح من اعلاه وقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح على ظاهر خفيه
اعمش سے یہی حدیث اس سند سے مروی ہے، اس میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں دونوں پیروں کے تلوؤں کو دھونا ہی زیادہ مناسب سمجھتا رہا، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا يزيد بن عبد العزيز، عن الاعمش، باسناده بهذا الحديث قال ما كنت ارى باطن القدمين الا احق بالغسل حتى رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح على ظهر خفيه
اس سند سے بھی اعمش سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر دین ( کا معاملہ ) قیاس پر ہوتا تو دونوں قدموں کے نچلے حصے کا مسح ان کے اوپری حصے کے مسح سے زیادہ بہتر ہوتا، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کیا ہے۔ اور اسے وکیع نے بھی اعمش سے اسی سند سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں دونوں پیروں کے نچلے حصے کا مسح ان کے اوپری حصے کے مسح سے بہتر جانتا تھا، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا۔ وکیع کا بیان ہے کہ لفظ «قدمين» سے مراد «خفين» ہے، وکیع ہی کی طرح اسے عیسیٰ بن یونس نے بھی اعمش سے روایت کیا ہے، نیز اسے ابوالسوداء نے ابن عبد خیر سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے علی کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پاؤں کے اوپری حصہ پر مسح کیا ۱؎ اور کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے نہ دیکھا ہوتا، پھر ابوالسوداء نے پوری روایت آخر تک بیان کی۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا حفص بن غياث، عن الاعمش، بهذا الحديث قال لو كان الدين بالراى لكان باطن القدمين احق بالمسح من ظاهرهما وقد مسح النبي صلى الله عليه وسلم على ظهر خفيه ورواه وكيع عن الاعمش باسناده قال كنت ارى ان باطن القدمين احق بالمسح من ظاهرهما حتى رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح على ظاهرهما . قال وكيع يعني الخفين . ورواه عيسى بن يونس عن الاعمش كما رواه وكيع ورواه ابو السوداء عن ابن عبد خير عن ابيه قال رايت عليا توضا فغسل ظاهر قدميه وقال لولا اني رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعله . وساق الحديث
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ تبوک میں وضو کرایا، تو آپ نے دونوں موزوں کے اوپر اور ان کے نیچے مسح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ثور نے یہ حدیث رجاء بن حیوۃ سے نہیں سنی ہے۔
حدثنا موسى بن مروان، ومحمود بن خالد الدمشقي، - المعنى - قالا حدثنا الوليد، - قال محمود - اخبرنا ثور بن يزيد، عن رجاء بن حيوة، عن كاتب المغيرة بن شعبة، عن المغيرة بن شعبة، قال وضات النبي صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك فمسح اعلى الخفين واسفلهما . قال ابو داود وبلغني انه لم يسمع ثور هذا الحديث من رجاء
سفیان بن حکم ثقفی یا حکم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کرتے تو وضو کرتے، اور ( وضو کے بعد ) شرمگاہ پر ( تھوڑا ) پانی چھڑک لیتے۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، - هو الثوري - عن منصور، عن مجاهد، عن سفيان بن الحكم الثقفي، او الحكم بن سفيان قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا بال يتوضا وينتضح . قال ابو داود وافق سفيان جماعة على هذا الاسناد وقال بعضهم الحكم او ابن الحكم
ثقیف کے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، ان کے والد کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا، پھر اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکا۔
حدثنا اسحاق بن اسماعيل، حدثنا سفيان، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن رجل، من ثقيف عن ابيه، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم بال ثم نضح فرجه
حکم یا ابن حکم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا، اور اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکا۱؎۔
حدثنا نصر بن المهاجر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زايدة، عن منصور، عن مجاهد، عن الحكم، او ابن الحكم عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بال ثم توضا ونضح فرجه
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنا کام خود کرتے تھے، باری باری اپنے اونٹوں کو چراتے تھے، ایک دن اونٹ چرانے کی میری باری آئی، میں انہیں شام کے وقت لے کر چلا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پای تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پوری توجہ اور حضور قلب ( دل جمعی ) کے ساتھ ادا کرے تو اس نے ( اپنے اوپر جنت ) واجب کر لی ، میں نے کہا: واہ واہ یہ کیا ہی اچھی ( بشارت ) ہے، اس پر میرے سامنے موجود شخص نے عرض کیا: عقبہ! جو بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے فرمائی، وہ اس سے بھی زیادہ عمدہ تھی، میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، عرض کیا: ابوحفص! وہ کیا تھی؟ آپ نے کہا: تمہارے آنے سے پہلے ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے، پھر وضو سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھے: «أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله» میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے، وہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو ۔ معاویہ کہتے ہیں: مجھ سے ربیعہ بن یزید نے بیان کیا ہے، انہوں نے ابوادریس سے اور ابوادریس نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔
حدثنا احمد بن سعيد الهمداني، حدثنا ابن وهب، سمعت معاوية، - يعني ابن صالح - يحدث عن ابي عثمان، عن جبير بن نفير، عن عقبة بن عامر، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم خدام انفسنا نتناوب الرعاية رعاية ابلنا فكانت على رعاية الابل فروحتها بالعشي فادركت رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب الناس فسمعته يقول " ما منكم من احد يتوضا فيحسن الوضوء ثم يقوم فيركع ركعتين يقبل عليهما بقلبه ووجهه الا قد اوجب " . فقلت بخ بخ ما اجود هذه . فقال رجل من بين يدى التي قبلها يا عقبة اجود منها . فنظرت فاذا هو عمر بن الخطاب فقلت ما هي يا ابا حفص قال انه قال انفا قبل ان تجيء " ما منكم من احد يتوضا فيحسن الوضوء ثم يقول حين يفرغ من وضويه اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له وان محمدا عبده ورسوله الا فتحت له ابواب الجنة الثمانية يدخل من ايها شاء " . قال معاوية وحدثني ربيعة بن يزيد عن ابي ادريس عن عقبة بن عامر
اس سند سے بھی عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ابوعقیل یا ان سے اوپر یا نیچے کے راوی نے اونٹوں کے چرانے کا ذکر نہیں کیا ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: «فأحسن الوضوء» کے بعد یہ جملہ کہا ہے: پھر اس نے ( یعنی وضو کرنے والے نے ) اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور یہ دعا پڑھی ۱؎۔ پھر ابوعقیل راوی نے معاویہ بن صالح کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
حدثنا الحسين بن عيسى، حدثنا عبد الله بن يزيد المقري، عن حيوة، - وهو ابن شريح - عن ابي عقيل، عن ابن عمه، عن عقبة بن عامر الجهني، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه ولم يذكر امر الرعاية قال عند قوله " فاحسن الوضوء " . ثم رفع بصره الى السماء . فقال وساق الحديث بمعنى حديث معاوية
عمرو بن عامر بجلی (محمد بن عیسیٰ کہتے ہیں: عمرو بن عامر بجلی ابواسد بن عمرو ہیں ) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وضو کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور ہم لوگ ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھا کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا شريك، عن عمرو بن عامر البجلي، - قال محمد هو ابو اسد بن عمرو - قال سالت انس بن مالك عن الوضوء، فقال كان النبي صلى الله عليه وسلم يتوضا لكل صلاة وكنا نصلي الصلوات بوضوء واحد
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک ہی وضو سے پانچ نمازیں ادا کیں، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں نے آج آپ کو وہ کام کرتے دیکھا ہے جو آپ کبھی نہیں کرتے تھے ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے ۔
حدثنا مسدد، اخبرنا يحيى، عن سفيان، حدثني علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفتح خمس صلوات بوضوء واحد ومسح على خفيه فقال له عمر اني رايتك صنعت اليوم شييا لم تكن تصنعه . قال " عمدا صنعته
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کر کے آیا، اس نے اپنے پاؤں میں ناخن کے برابر جگہ ( خشک ) چھوڑ دی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جریر بن حازم سے مروی یہ حدیث معروف نہیں ہے، اسے صرف ابن وہب نے روایت کیا ہے، اس جیسی حدیث معقل بن عبیداللہ جزری سے بھی مروی ہے، معقل ابوزبیر سے، ابوزبیر جابر سے، جابر عمر سے، اور عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو ۔
حدثنا هارون بن معروف، حدثنا ابن وهب، عن جرير بن حازم، انه سمع قتادة بن دعامة، حدثنا انس بن مالك، ان رجلا، جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم وقد توضا وترك على قدميه مثل موضع الظفر فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " ارجع فاحسن وضوءك " . قال ابو داود وهذا الحديث ليس بمعروف عن جرير بن حازم ولم يروه الا ابن وهب وحده وقد روي عن معقل بن عبيد الله الجزري عن ابي الزبير عن جابر عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه قال " ارجع فاحسن وضوءك
اس سند سے حسن (حسن بصری) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قتادہ ( قتادہ ابن دعامۃ ) کی حدیث کے ہم معنی ( مرسلاً ) روایت کی ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا يونس، وحميد، عن الحسن، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعنى قتادة
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا، اس کے پاؤں کے اوپری حصہ میں ایک درہم کے برابر حصہ خشک رہ گیا تھا، وہاں پانی نہیں پہنچا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وضو، اور نماز دونوں کے لوٹانے کا حکم دیا ۱؎۔
حدثنا حيوة بن شريح، حدثنا بقية، عن بحير، - هو ابن سعد - عن خالد، عن بعض، اصحاب النبي ان النبي صلى الله عليه وسلم راى رجلا يصلي وفي ظهر قدمه لمعة قدر الدرهم لم يصبها الماء فامره النبي صلى الله عليه وسلم ان يعيد الوضوء والصلاة
عباد بن تمیم کے چچا (عبداللہ بن زید بن عاصم الانصاری رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شکایت کی گئی کہ آدمی کو کبھی نماز میں شبہ ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اسے خیال ہونے لگتا ہے ( کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ) ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک کہ وہ آواز نہ سن لے، یا بو نہ سونگھ لے، نماز نہ توڑے ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، ومحمد بن احمد بن ابي خلف، قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، وعباد بن تميم، عن عمه، قال شكي الى النبي صلى الله عليه وسلم الرجل يجد الشىء في الصلاة حتى يخيل اليه فقال " لا ينفتل حتى يسمع صوتا او يجد ريحا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو پھر وہ اپنی سرین میں کچھ حرکت محسوس کرے، اور اسے شبہ ہو جائے کہ وضو ٹوٹا یا نہیں، تو جب تک کہ وہ آواز نہ سن لے، یا بو نہ سونگھ لے، نماز نہ توڑے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا كان احدكم في الصلاة فوجد حركة في دبره احدث او لم يحدث فاشكل عليه فلا ينصرف حتى يسمع صوتا او يجد ريحا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بوسہ لیا اور وضو نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے فریابی وغیرہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، ابراہیم تیمی کا ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابراہیم تیمی ابھی چالیس برس کے نہیں ہوئے تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا تھا، ان کی کنیت ابواسماء تھی۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى، وعبد الرحمن، قالا حدثنا سفيان، عن ابي روق، عن ابراهيم التيمي، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قبلها ولم يتوضا . قال ابو داود كذا رواه الفريابي وغيره . قال ابو داود وهو مرسل ابراهيم التيمي لم يسمع من عايشة . قال ابو داود مات ابراهيم التيمي ولم يبلغ اربعين سنة وكان يكنى ابا اسماء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کا بوسہ لیا، پھر نماز کے لیے نکلے اور ( پھر سے ) وضو نہیں کیا۔ عروہ کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: وہ بیوی آپ کے علاوہ اور کون ہو سکتی ہیں؟ یہ سن کر وہ ہنسنے لگیں۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن حبيب، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قبل امراة من نسايه ثم خرج الى الصلاة ولم يتوضا . قال عروة فقلت لها من هي الا انت فضحكت . قال ابو داود هكذا رواه زايدة وعبد الحميد الحماني عن سليمان الاعمش
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید قطان نے ایک شخص سے کہا: میرے حوالہ سے بیان کرو کہ یہ دونوں حدیثیں یعنی ایک تو یہی اعمش کی حدیث جو حبیب سے مروی ہے، دوسری وہ جو اسی سند سے مستحاضہ کے متعلق مروی ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے گی «لا شىء» کے مشابہ ہے ( یعنی یہ دونوں حدیثیں سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ثوری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم سے حبیب نے صرف عروہ مزنی کے طریق سے بیان کیا، یعنی ان لوگوں سے حبیب نے عروہ بن زبیر کے واسطہ سے کچھ نہیں بیان کیا ہے ( یعنی: عروہ بن زبیر سے حبیب کی روایت ثابت نہیں ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لیکن حمزہ زیات نے حبیب سے، حبیب نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک صحیح حدیث روایت کی ہے ( یعنی: عروہ بن زبیر سے حبیب کی روایت صحیح ہے ) ۔
حدثنا ابراهيم بن مخلد الطالقاني، حدثنا عبد الرحمن، - يعني ابن مغراء - حدثنا الاعمش، اخبرنا اصحاب، لنا عن عروة المزني، عن عايشة، بهذا الحديث . قال ابو داود قال يحيى بن سعيد القطان لرجل احك عني ان هذين - يعني حديث الاعمش هذا عن حبيب وحديثه بهذا الاسناد في المستحاضة انها تتوضا لكل صلاة - قال يحيى احك عني انهما شبه لا شىء . قال ابو داود وروي عن الثوري قال ما حدثنا حبيب الا عن عروة المزني يعني لم يحدثهم عن عروة بن الزبير بشىء . قال ابو داود وقد روى حمزة الزيات عن حبيب عن عروة بن الزبير عن عايشة حديثا صحيحا