Loading...

Loading...
کتب
۳۹۰ احادیث
عبداللہ بن ابی بکر کہتے ہیں کہ انہوں نے عروہ کو کہتے سنا: میں مروان بن حکم کے پاس گیا اور ان چیزوں کا تذکرہ کیا جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، تو مروان نے کہا: اور عضو تناسل چھونے سے بھی ( وضو ہے ) ، اس پر عروہ نے کہا: مجھے یہ معلوم نہیں، تو مروان نے کہا: مجھے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو اپنا عضو تناسل چھوئے وہ وضو کرے“۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن عبد الله بن ابي بكر، انه سمع عروة، يقول دخلت على مروان بن الحكم فذكرنا ما يكون منه الوضوء . فقال مروان ومن مس الذكر . فقال عروة ما علمت ذلك . فقال مروان اخبرتني بسرة بنت صفوان انها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من مس ذكره فليتوضا
طلق بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اتنے میں ایک شخص آیا وہ دیہاتی لگ رہا تھا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! وضو کر لینے کے بعد آدمی کے اپنے عضو تناسل چھونے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو اسی کا ایک لوتھڑا ہے ، یا کہا: ٹکڑا ہے ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا ملازم بن عمرو الحنفي، حدثنا عبد الله بن بدر، عن قيس بن طلق، عن ابيه، قال قدمنا على نبي الله صلى الله عليه وسلم فجاء رجل كانه بدوي فقال يا نبي الله ما ترى في مس الرجل ذكره بعد ما يتوضا فقال " هل هو الا مضغة منه " . او قال - " بضعة منه " . قال ابو داود رواه هشام بن حسان وسفيان الثوري وشعبة وابن عيينة وجرير الرازي عن محمد بن جابر عن قيس بن طلق
مسدد کا بیان ہے کہ ہم سے محمد بن جابر نے بیان کیا ہے، محمد بن جابر نے قیس بن طلق سے، قیس نے اپنے والد طلق سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، اور اس میں «في الصلاة» کا اضافہ ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا محمد بن جابر، عن قيس بن طلق، باسناده ومعناه وقال في الصلاة
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کے متعلق سوال کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے وضو کرو ، اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے وضو نہ کرو ، آپ سے اونٹ کے باڑے ( بیٹھنے کی جگہ ) میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اونٹ کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ شیاطین میں سے ہے ، اور آپ سے بکریوں کے باڑے ( رہنے کی جگہ ) میں نماز پڑھنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں نماز پڑھو کیونکہ وہ برکت والی ہیں ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن عبد الله بن عبد الله الرازي، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن البراء بن عازب، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الوضوء من لحوم الابل فقال " توضيوا منها " . وسيل عن لحوم الغنم فقال " لا تتوضيوا منها " . وسيل عن الصلاة في مبارك الابل فقال " لا تصلوا في مبارك الابل فانها من الشياطين " . وسيل عن الصلاة في مرابض الغنم فقال " صلوا فيها فانها بركة
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا، وہ ایک بکری کی کھال اتار رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم ہٹ جاؤ، میں تمہیں ( عملی طور پر کھال اتار کر ) دکھاتا ہوں ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھال اور گوشت کے درمیان داخل کیا، اور اسے دبایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک چھپ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور ( پھر سے ) وضو نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی چھوا تک نہیں، نیز عمرو نے اپنی روایت میں «أخبرنا هلال بن ميمون الجهني» کے بجائے«عن هلال بن ميمون الرملي» ( بصیغہ عنعنہ ) کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے عبدالواحد بن زیاد اور ابومعاویہ نے ہلال سے، ہلال نے عطاء سے، عطاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور ابوسعید ( صحابی ) کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا محمد بن العلاء، وايوب بن محمد الرقي، وعمرو بن عثمان الحمصي، - المعنى - قالوا حدثنا مروان بن معاوية، اخبرنا هلال بن ميمون الجهني، عن عطاء بن يزيد الليثي، - قال هلال لا اعلمه الا عن ابي سعيد . وقال ايوب وعمرو اراه - عن ابي سعيد ان النبي صلى الله عليه وسلم مر بغلام وهو يسلخ شاة فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " تنح حتى اريك فادخل يده بين الجلد واللحم فدحس بها حتى توارت الى الابط ثم مضى فصلى للناس ولم يتوضا . قال ابو داود زاد عمرو في حديثه - يعني - لم يمس ماء . وقال عن هلال بن ميمون الرملي ورواه عبد الواحد بن زياد وابو معاوية عن هلال عن عطاء عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا لم يذكرا ابا سعيد
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے قریب کی بستیوں میں سے ایک بستی کی طرف سے داخل ہوتے ہوئے بازار سے گزرے، اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے دائیں بائیں جانب ہو کر چل رہے تھے، آپ چھوٹے کان والی بکری کے ایک مردہ بچے کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کان پکڑ کر اٹھایا، پھر فرمایا: تم میں سے کون شخص اس کو لینا چاہے گا؟ ، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا سليمان، - يعني ابن بلال - عن جعفر، عن ابيه، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بالسوق داخلا من بعض العالية والناس كنفتيه فمر بجدى اسك ميت فتناوله فاخذ باذنه ثم قال " ايكم يحب ان هذا له " . وساق الحديث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت کھایا، پھر نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا مالك، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اكل كتف شاة ثم صلى ولم يتوضا
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، ومحمد بن سليمان الانباري، - المعنى - قالا حدثنا وكيع، عن مسعر، عن ابي صخرة، جامع بن شداد عن المغيرة بن عبد الله، عن المغيرة بن شعبة، قال ضفت النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فامر بجنب فشوي واخذ الشفرة فجعل يحز لي بها منه - قال - فجاء بلال فاذنه بالصلاة - قال - فالقى الشفرة وقال " ما له تربت يداه " . وقام يصلي . زاد الانباري وكان شاربي وفى فقصه لي على سواك . او قال اقصه لك على سواك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا شانہ کھایا پھر اپنا ہاتھ اس ٹاٹ سے پوچھا جو آپ کے نیچے بچھا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو الاحوص، حدثنا سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال اكل رسول الله صلى الله عليه وسلم كتفا ثم مسح يده بمسح كان تحته ثم قام فصلى
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت نوچ کر کھایا پھر نماز پڑھی اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کیا۔
حدثنا حفص بن عمر النمري، حدثنا همام، عن قتادة، عن يحيى بن يعمر، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم انتهش من كتف ثم صلى ولم يتوضا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو روٹی اور گوشت پیش کیا، تو آپ نے کھایا، پھر وضو کے لیے پانی منگایا، اور اس سے وضو کیا، پھر ظہر کی نماز ادا کی، پھر اپنا بچا ہوا کھانا منگایا اور کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کیا۔
حدثنا ابراهيم بن الحسن الخثعمي، حدثنا حجاج، قال ابن جريج اخبرني محمد بن المنكدر، قال سمعت جابر بن عبد الله، يقول قربت للنبي صلى الله عليه وسلم خبزا ولحما فاكل ثم دعا بوضوء فتوضا به ثم صلى الظهر ثم دعا بفضل طعامه فاكل ثم قام الى الصلاة ولم يتوضا
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری فعل یہی تھا کہ آپ آگ کی پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ پہلی حدیث کا اختصار ہے۔
حدثنا موسى بن سهل ابو عمران الرملي، حدثنا علي بن عياش، حدثنا شعيب بن ابي حمزة، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، قال كان اخر الامرين من رسول الله صلى الله عليه وسلم ترك الوضوء مما غيرت النار . قال ابو داود هذا اختصار من الحديث الاول
عبید بن ثمامہ مرادی کا بیان ہے کہ صحابی رسول عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ مصر میں ہمارے پاس آئے، تو میں نے ان کو مصر کی مسجد میں حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: ایک آدمی کے گھر میں مجھ سمیت سات یا چھ اشخاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ موجود تھے کہ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ گزرے اور آپ کو نماز کے لیے آواز دی، ہم نکلے اور راستے میں ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جس کی ہانڈی آگ پر چڑھی ہوئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے پوچھا: کیا تمہاری ہانڈی پک گئی؟ ، اس نے جواب دیا: ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہانڈی سے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اس کو چباتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے تکبیر ( تحریمہ ) کہی اور میں آپ کو دیکھ رہا تھا ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، حدثنا عبد الملك بن ابي كريمة، - قال ابن السرح ابن ابي كريمة من خيار المسلمين - قال حدثني عبيد بن ثمامة المرادي، قال قدم علينا مصر عبد الله بن الحارث بن جزء من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فسمعته يحدث في مسجد مصر قال لقد رايتني سابع سبعة او سادس ستة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في دار رجل فمر بلال فناداه بالصلاة فخرجنا فمررنا برجل وبرمته على النار فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " اطابت برمتك " . قال نعم بابي انت وامي . فتناول منها بضعة فلم يزل يعلكها حتى احرم بالصلاة وانا انظر اليه
حابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو ہے ۱؎۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو ہے ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، حدثني ابو بكر بن حفص، عن الاغر، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الوضوء مما انضجت النار
ابوسفیان بن سعید بن مغیرہ کا بیان ہے کہ وہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے انہیں ایک پیالہ ستو پلایا، پھر ( ابوسفیان ) نے پانی منگا کر کلی کی، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے بھانجے! تم وضو کیوں نہیں کرتے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جنہیں آگ نے بدل ڈالا ہو ، یا فرمایا: جنہیں آگ نے چھوا ہو، ان چیزوں سے وضو کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہری کی حدیث میں لفظ: «يا ابن أخي» اے میرے بھتیجے ہے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا ابان، عن يحيى، - يعني ابن ابي كثير - عن ابي سلمة، ان ابا سفيان بن سعيد بن المغيرة، حدثه انه، دخل على ام حبيبة فسقته قدحا من سويق فدعا بماء فتمضمض فقالت يا ابن اختي الا توضا ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " توضيوا مما غيرت النار " . او قال مما مست النار . قال ابو داود في حديث الزهري يا ابن اخي
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا، پھر پانی منگا کر کلی کی اور فرمایا: اس میں چکنائی ہوتی ہے ۱؎۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن عقيل، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم شرب لبنا فدعا بماء فتمضمض ثم قال " ان له دسما
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا پھر نہ کلی کی اور نہ ( دوبارہ ) وضو کیا اور نماز پڑھی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، عن زيد بن الحباب، عن مطيع بن راشد، عن توبة العنبري، انه سمع انس بن مالك، يقول ان رسول الله صلى الله عليه وسلم شرب لبنا فلم يمضمض ولم يتوضا وصلى . قال زيد دلني شعبة على هذا الشيخ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں نکلے، تو ایک مسلمان نے کسی مشرک کی عورت کو قتل کر دیا، اس مشرک نے قسم کھائی کہ جب تک میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی کا خون نہ بہا دوں باز نہیں آ سکتا، چنانچہ وہ ( اسی تلاش میں ) نکلا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم ڈھونڈتے ہوئے آپ کے پیچھے پیچھے چلا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل میں اترے، اور فرمایا: ہماری حفاظت کون کرے گا؟ ، تو ایک مہاجر اور ایک انصاری اس مہم کے لیے مستعد ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم دونوں گھاٹی کے سرے پر رہو ، جب دونوں گھاٹی کے سرے کی طرف چلے ( اور وہاں پہنچے ) تو مہاجر ( صحابی ) لیٹ گئے، اور انصاری کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، وہ مشرک آیا، جب اس نے ( دور سے ) اس انصاری کے جسم کو دیکھا تو پہچان لیا کہ یہی قوم کا محافظ و نگہبان ہے، اس کافر نے آپ پر تیر چلایا، جو آپ کو لگا، تو آپ نے اسے نکالا، یہاں تک کہ اس نے آپ کو تین تیر مارے، پھر آپ نے رکوع اور سجدہ کیا، پھر اپنے مہاجر ساتھی کو جگایا، جب اسے معلوم ہوا کہ یہ لوگ ہوشیار اور چوکنا ہو گئے ہیں، تو بھاگ گیا، جب مہاجر نے انصاری کا خون دیکھا تو کہا: سبحان اللہ! آپ نے پہلے ہی تیر میں مجھے کیوں نہیں بیدار کیا؟ تو انصاری نے کہا: میں ( نماز میں قرآن کی ) ایک سورۃ پڑھ رہا تھا، مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اسے بند کروں۱؎۔
حدثنا ابو توبة الربيع بن نافع، حدثنا ابن المبارك، عن محمد بن اسحاق، حدثني صدقة بن يسار، عن عقيل بن جابر، عن جابر، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم - يعني في غزوة ذات الرقاع - فاصاب رجل امراة رجل من المشركين فحلف ان لا انتهي حتى اهريق دما في اصحاب محمد فخرج يتبع اثر النبي صلى الله عليه وسلم فنزل النبي صلى الله عليه وسلم منزلا فقال من رجل يكلونا فانتدب رجل من المهاجرين ورجل من الانصار فقال " كونا بفم الشعب " . قال فلما خرج الرجلان الى فم الشعب اضطجع المهاجري وقام الانصاري يصلي واتى الرجل فلما راى شخصه عرف انه ربيية للقوم فرماه بسهم فوضعه فيه فنزعه حتى رماه بثلاثة اسهم ثم ركع وسجد ثم انتبه صاحبه فلما عرف انهم قد نذروا به هرب ولما راى المهاجري ما بالانصاري من الدم قال سبحان الله الا انبهتني اول ما رمى قال كنت في سورة اقراها فلم احب ان اقطعها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی تیاری میں مصروفیت کی بناء پر عشاء کی نماز میں دیر کر دی، یہاں تک کہ ہم مسجد میں سو گئے، پھر جاگے پھر سو گئے، پھر جاگے پھر سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور فرمایا: ( اس وقت ) تمہارے علاوہ کوئی اور نماز کا انتظار نہیں کر رہا ہے ۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا ابن جريج، اخبرني نافع، حدثني عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم شغل عنها ليلة فاخرها حتى رقدنا في المسجد ثم استيقظنا ثم رقدنا ثم استيقظنا ثم رقدنا ثم خرج علينا فقال " ليس احد ينتظر الصلاة غيركم
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب عشاء کی نماز کا انتظار کرتے تھے، یہاں تک کہ ان کے سر ( نیند کے غلبہ سے ) جھک جھک جاتے تھے، پھر وہ نماز ادا کرتے اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس میں شعبہ نے قتادہ سے یہ اضافہ کیا ہے کہ: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نماز کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے نیند کے غلبہ کی وجہ سے جھک جھک جاتے تھے، اور اسے ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے دوسرے الفاظ میں روایت کیا ہے۔
حدثنا شاذ بن فياض، حدثنا هشام الدستوايي، عن قتادة، عن انس، قال كان اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ينتظرون العشاء الاخرة حتى تخفق رءوسهم ثم يصلون ولا يتوضيون . قال ابو داود زاد فيه شعبة عن قتادة قال كنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم . ورواه ابن ابي عروبة عن قتادة بلفظ اخر