Loading...

Loading...
کتب
۳۹۰ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں عشاء کی نماز کی اقامت کہی گئی، اتنے میں ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے، اور کھڑے ہو کر آپ سے سرگوشی کرنے لگا یہاں تک کہ لوگوں کو یا بعض لوگوں کو نیند آ گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی۔ ثابت بنانی نے وضو کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، وداود بن شبيب، قالا حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت البناني، ان انس بن مالك، قال اقيمت صلاة العشاء فقام رجل فقال يا رسول الله ان لي حاجة . فقام يناجيه حتى نعس القوم او بعض القوم ثم صلى بهم ولم يذكر وضوءا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے اور (سجدہ میں) سو جاتے، اور خراٹے لینے لگتے تھے، پھر اٹھتے اور نماز پڑھتے، اور وضو نہیں کرتے تھے، (ایک بار) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہی ان لوگوں نے اس میں سے کچھ ذکر نہیں کیا ہے۔ نیز ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ( غفلت ) کی نیند سے محفوظ تھے۔ اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری دونوں آنکھیں سوتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا ۔ اور شعبہ کہتے ہیں کہ قتادہ نے ابوالعالیہ سے صرف چار حدیثیں سنی ہیں: ایک یونس بن متی کی، دوسری ابن عمر رضی اللہ عنہما کی جو نماز کے باب میں مروی ہے، تیسری حدیث «القضاة ثلاثة» ہے، اور چوتھی ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث: «حدثني رجال مرضيون منهم عمر وأرضاهم عندي عمر» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یزید دالانی کی روایت کا احمد بن حنبل سے ذکر کیا، تو انہوں نے مجھے اسے بڑی بات سمجھتے ہوئے ڈانٹا: اور کہا یزید دالانی کو کیا ہے؟ وہ قتادہ کے شاگردوں کی طرف ایسی باتیں منسوب کر دیتے ہیں جنہیں ان لوگوں نے روایت نہیں کی ہیں، امام احمد نے ( دالانی کے ضعیف ہونے کی وجہ سے ) اس حدیث کی پرواہ نہیں کی۔
حدثنا يحيى بن معين، وهناد بن السري، وعثمان بن ابي شيبة، عن عبد السلام بن حرب، - وهذا لفظ حديث يحيى - عن ابي خالد الدالاني، عن قتادة، عن ابي العالية، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يسجد وينام وينفخ ثم يقوم فيصلي ولا يتوضا . قال فقلت له صليت ولم تتوضا وقد نمت فقال " انما الوضوء على من نام مضطجعا " . زاد عثمان وهناد " فانه اذا اضطجع استرخت مفاصله " . قال ابو داود قوله " الوضوء على من نام مضطجعا " . هو حديث منكر لم يروه الا يزيد ابو خالد الدالاني عن قتادة وروى اوله جماعة عن ابن عباس ولم يذكروا شييا من هذا وقال كان النبي صلى الله عليه وسلم محفوظا وقالت عايشة - رضى الله عنها - قال النبي صلى الله عليه وسلم " تنام عيناى ولا ينام قلبي " . وقال شعبة انما سمع قتادة من ابي العالية اربعة احاديث حديث يونس بن متى وحديث ابن عمر في الصلاة وحديث القضاة ثلاثة وحديث ابن عباس حدثني رجال مرضيون منهم عمر وارضاهم عندي عمر . قال ابو داود وذكرت حديث يزيد الدالاني لاحمد بن حنبل فانتهرني استعظاما له وقال ما ليزيد الدالاني يدخل على اصحاب قتادة ولم يعبا بالحديث
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سرین کا بندھن دونوں آنکھیں ( بیداری ) ہیں، پس جو سو جائے وہ وضو کرے ۱؎۔
حدثنا حيوة بن شريح الحمصي، - في اخرين - قالوا حدثنا بقية، عن الوضين بن عطاء، عن محفوظ بن علقمة، عن عبد الرحمن بن عايذ، عن علي بن ابي طالب، - رضى الله عنه - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وكاء السه العينان فمن نام فليتوضا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم راستہ میں چل کر پاؤں نہیں دھلتے تھے، اور نہ ہی ہم بالوں اور کپڑوں کو سمیٹتے تھے ( یعنی اسی طرح نماز پڑھ لیتے تھے ) ۔
حدثنا هناد بن السري، وابراهيم بن ابي معاوية، عن ابي معاوية، ح وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثني شريك، وجرير، وابن، ادريس عن الاعمش، عن شقيق، قال قال عبد الله كنا لا نتوضا من موطي ولا نكف شعرا ولا ثوبا . قال ابو داود قال ابراهيم بن ابي معاوية فيه عن الاعمش عن شقيق عن مسروق او حدثه عنه قال قال عبد الله وقال هناد عن شقيق او حدثه عنه
علی بن طلق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو نماز میں ہوا خارج ہو جائے تو وہ نماز چھوڑ کر چلا جائے، پھر وضو کرے، اور نماز کا اعادہ کرے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير بن عبد الحميد، عن عاصم الاحول، عن عيسى بن حطان، عن مسلم بن سلام، عن علي بن طلق، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا فسا احدكم في الصلاة فلينصرف فليتوضا وليعد الصلاة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبيدة بن حميد الحذاء، عن الركين بن الربيع، عن حصين بن قبيصة، عن علي، - رضى الله عنه - قال كنت رجلا مذاء فجعلت اغتسل حتى تشقق ظهري فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم - او ذكر له - فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تفعل اذا رايت المذى فاغسل ذكرك وتوضا وضوءك للصلاة فاذا فضخت الماء فاغتسل
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اپنے لیے ) یہ مسئلہ پوچھنے کا حکم دیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے اور مذی نکل آئے تو کیا کرے؟ ( انہوں نے کہا ) چونکہ میرے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ) ہیں، اس لیے مجھے آپ سے یہ مسئلہ پوچھنے میں شرم آتی ہے۔ مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے جا کر پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اپنی شرمگاہ کو دھو ڈالے اور وضو کرے جیسے نماز کے لیے وضو کرتا ہے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي النضر، عن سليمان بن يسار، عن المقداد بن الاسود، ان علي بن ابي طالب، - رضى الله عنه - امره ان يسال له رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الرجل اذا دنا من اهله فخرج منه المذى ماذا عليه فان عندي ابنته وانا استحيي ان اساله . قال المقداد فسالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فقال " اذا وجد احدكم ذلك فلينضح فرجه وليتوضا وضوءه للصلاة
عروہ سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا، پھر راوی نے آگے اسی طرح کی روایت ذکر کی، اس میں ہے کہ مقداد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاہیئے کہ وہ شرمگاہ ( عضو مخصوص ) اور فوطوں کو دھو ڈالے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثوری اور ایک جماعت نے ہشام سے، ہشام نے اپنے والد عروہ سے، عروہ نے مقداد رضی اللہ عنہ سے، مقداد رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے، اور علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، عن هشام بن عروة، عن عروة، ان علي بن ابي طالب، قال للمقداد وذكر نحو هذا قال فساله المقداد فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليغسل ذكره وانثييه " . قال ابو داود ورواه الثوري وجماعة عن هشام عن ابيه عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال فيه : " والانثيين
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے مفضل بن فضالہ، ایک جماعت، ثوری اور ابن عیینہ نے ہشام سے، ہشام نے اپنے والد عروہ سے، عروہ نے علی بن ابی طالب سے روایت کیا ہے، نیز اسے ابن اسحاق نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد عروہ سے، عروہ نے مقداد رضی اللہ عنہ سے اور مقداد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، مگر اس میں لفظ «أنثييه» دونوں فوطوں کا ذکر نہیں ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، قال حدثنا ابي، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن حديث، حدثه عن علي بن ابي طالب، قال قلت للمقداد . فذكر معناه . قال ابو داود ورواه المفضل بن فضالة وجماعة والثوري وابن عيينة عن هشام عن ابيه عن علي بن ابي طالب ورواه ابن اسحاق عن هشام بن عروة عن ابيه عن المقداد عن النبي صلى الله عليه وسلم لم يذكر " انثييه
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے مذی سے بڑی تکلیف ہوتی تھی، باربار غسل کرتا تھا، لہٰذا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: اس میں صرف وضو کافی ہے ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کپڑے میں جو لگ جائے اس کا کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک چلو پانی لے کر کپڑے پر جہاں تم سمجھو کہ مذی لگ گئی ہے چھڑک لو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا اسماعيل، - يعني ابن ابراهيم - اخبرنا محمد بن اسحاق، حدثني سعيد بن عبيد بن السباق، عن ابيه، عن سهل بن حنيف، قال كنت القى من المذى شدة وكنت اكثر منه الاغتسال فسالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فقال " انما يجزيك من ذلك الوضوء " . قلت يا رسول الله فكيف بما يصيب ثوبي منه قال " يكفيك بان تاخذ كفا من ماء فتنضح بها من ثوبك حيث ترى انه اصابه
عبداللہ بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں پوچھا جو غسل کو واجب کرتی ہے، اور اس پانی کے بارے میں پوچھا جو غسل کے بعد عضو مخصوص سے نکل آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی مذی ہے، اور ہر مرد کو مذی نکلتی ہے، لہٰذا تم اپنی شرمگاہ اور اپنے دونوں فوطوں کو دھو ڈالو، اور وضو کرو جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہو ۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا عبد الله بن وهب، حدثنا معاوية، - يعني ابن صالح - عن العلاء بن الحارث، عن حرام بن حكيم، عن عمه عبد الله بن سعد الانصاري، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عما يوجب الغسل وعن الماء يكون بعد الماء فقال " ذاك المذى وكل فحل يمذي فتغسل من ذلك فرجك وانثييك وتوضا وضوءك للصلاة
عبداللہ بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: جب میری بیوی حائضہ ہو تو اس کی کیا چیز میرے لیے حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے لنگی ( تہبند ) کے اوپر والے حصہ ( سے لطف اندوز ہونا ) درست ہے ، نیز اس کے ساتھ حائضہ کے ساتھ کھانے کھلانے کا بھی ذکر کیا، پھر راوی نے ( سابقہ ) پوری حدیث بیان کی۔
حدثنا هارون بن محمد بن بكار، حدثنا مروان، - يعني ابن محمد - حدثنا الهيثم بن حميد، حدثنا العلاء بن الحارث، عن حرام بن حكيم، عن عمه، انه سال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما يحل لي من امراتي وهي حايض قال " لك ما فوق الازار " . وذكر مواكلة الحايض ايضا وساق الحديث
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: مرد کے لیے اس کی حائضہ بیوی کی کیا چیز حلال ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لنگی ( تہبند ) کے اوپر کا حصہ ( اس سے لطف اندوز ہونا ) جائز ہے، لیکن اس سے بھی بچنا افضل ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔
حدثنا هشام بن عبد الملك اليزني، حدثنا بقية بن الوليد، عن سعد الاغطش، - وهو ابن عبد الله - عن عبد الرحمن بن عايذ الازدي، - قال هشام وهو ابن قرط امير حمص - عن معاذ بن جبل، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عما يحل للرجل من امراته وهي حايض قال فقال " ما فوق الازار والتعفف عن ذلك افضل " . قال ابو داود وليس هو - يعني الحديث - بالقوي
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ رخصت ابتدائے اسلام میں کپڑوں کی کمی کی وجہ سے دی تھی ( کہ اگر کوئی دخول کرے اور انزال نہ ہو تو غسل واجب نہ ہو گا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دخول کرنے اور انزال نہ ہونے کی صورت میں غسل کرنے کا حکم فرما دیا، اور غسل نہ کرنے کو منع فرما دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «نهى عن ذلك» یعنی ممانعت سے مراد «الماء من الماء» ( غسل منی نکلنے کی صورت میں واجب ہے ) والی حدیث پر عمل کرنے سے منع کر دیا ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني عمرو، - يعني ابن الحارث - عن ابن شهاب، حدثني بعض، من ارضى ان سهل بن سعد الساعدي، اخبره ان ابى بن كعب اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم انما جعل ذلك رخصة للناس في اول الاسلام لقلة الثياب ثم امر بالغسل ونهى عن ذلك . قال ابو داود يعني " الماء من الماء
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو یہ فتوی دیا کرتے تھے کہ منی کے انزال ہونے پر ہی غسل واجب ہوتا ہے، یہ رخصت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائے اسلام میں دی تھی پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کرنے کا حکم دیا۔
حدثنا محمد بن مهران البزاز الرازي، حدثنا مبشر الحلبي، عن محمد ابي غسان، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، حدثني ابى بن كعب، ان الفتيا التي، كانوا يفتون ان الماء من الماء كانت رخصة رخصها رسول الله صلى الله عليه وسلم في بدء الاسلام ثم امر بالاغتسال بعد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مرد عورت کی چاروں شاخوں ( دونوں پنڈلیوں اور دونوں رانوں یا دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں ) کے درمیان بیٹھے اور مرد کا ختنہ عورت کے ختنہ سے مل جائے ( یعنی مرد کے عضو تناسل کی سپاری عورت کی شرمگاہ کے اندر داخل ہو جائے ) تو غسل واجب ہو گیا ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم الفراهيدي، حدثنا هشام، وشعبة، عن قتادة، عن الحسن، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا قعد بين شعبها الاربع والزق الختان بالختان فقد وجب الغسل
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پانی سے ہے ( یعنی منی نکلنے سے غسل واجب ہوتا ہے ) اور ابوسلمہ ایسا ہی کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني عمرو، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الماء من الماء " . وكان ابو سلمة يفعل ذلك
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ایک ہی غسل سے اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے ہشام بن زید نے انس سے اور معمر نے قتادہ سے، اور قتادہ نے انس سے اور صالح بن ابی الاخضر نے زہری سے اور ان سب نے انس رضی اللہ عنہ سے اور انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا اسماعيل، حدثنا حميد الطويل، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم طاف ذات يوم على نسايه في غسل واحد . قال ابو داود وهكذا رواه هشام بن زيد عن انس ومعمر عن قتادة عن انس وصالح بن ابي الاخضر عن الزهري كلهم عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنی بیویوں کے پاس گئے، ہر ایک کے پاس غسل کرتے تھے ۱؎۔ ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! ایک ہی بار غسل کیوں نہیں کر لیتے؟ آپ نے فرمایا: یہ زیادہ پاکیزہ، عمدہ اور اچھ
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن عبد الرحمن بن ابي رافع، عن عمته، سلمى عن ابي رافع، ان النبي صلى الله عليه وسلم طاف ذات يوم على نسايه يغتسل عند هذه وعند هذه . قال فقلت له يا رسول الله الا تجعله غسلا واحدا قال " هذا ازكى واطيب واطهر " . قال ابو داود وحديث انس اصح من هذا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے ۱؎ پھر دوبارہ صحبت کرنا چاہے، تو ان دونوں کے درمیان وضو کرے ۔
حدثنا عمرو بن عون، حدثنا حفص بن غياث، عن عاصم الاحول، عن ابي المتوكل، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اتى احدكم اهله ثم بدا له ان يعاود فليتوضا بينهما وضوءا