Loading...

Loading...
کتب
۳۹۰ احادیث
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر، انه قال ذكر عمر بن الخطاب لرسول الله صلى الله عليه وسلم انه تصيبه الجنابة من الليل فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " توضا واغسل ذكرك ثم نم
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر، انه قال ذكر عمر بن الخطاب لرسول الله صلى الله عليه وسلم انه تصيبه الجنابة من الليل فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " توضا واغسل ذكرك ثم نم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں جب سونے کا ارادہ کرتے تو وضو کر لیتے، جیسے نماز کے لیے وضو کرتے تھے۔
حدثنا مسدد، وقتيبة بن سعيد، قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اراد ان ينام وهو جنب توضا وضوءه للصلاة
اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے، تو اپنے ہاتھ دھوتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن وہب نے بھی یونس سے روایت کیا ہے، اور کھانے کے تذکرہ کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول قرار دیا ہے، نیز اسے صالح بن ابی الاخضر نے بھی زہری سے روایت کیا ہے، جیسے ابن مبارک نے کیا ہے، مگر اس میں «عن عروة أو أبي سلمة» ( شک کے ساتھ ) ہے نیز اسے اوزاعی نے بھی یونس سے، یونس نے زہری سے، اور زہری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، جیسے ابن مبارک نے کیا ہے۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا ابن المبارك، عن يونس، عن الزهري، باسناده ومعناه زاد " واذا اراد ان ياكل وهو جنب غسل يديه " . قال ابو داود ورواه ابن وهب عن يونس فجعل قصة الاكل قول عايشة مقصورا ورواه صالح بن ابي الاخضر عن الزهري كما قال ابن المبارك الا انه قال عن عروة او ابي سلمة ورواه الاوزاعي عن يونس عن الزهري عن النبي صلى الله عليه وسلم كما قال ابن المبارك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے اور آپ حالت جنابت میں ہوتے، تو وضو کر لیتے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اراد ان ياكل او ينام توضا . تعني وهو جنب
حدثنا موسى، - يعني ابن اسماعيل - حدثنا حماد، - يعني ابن سلمة - اخبرنا عطاء الخراساني، عن يحيى بن يعمر، عن عمار بن ياسر، ان النبي صلى الله عليه وسلم رخص للجنب اذا اكل او شرب او نام ان يتوضا . قال ابو داود بين يحيى بن يعمر وعمار بن ياسر في هذا الحديث رجل وقال علي بن ابي طالب وابن عمر وعبد الله بن عمرو الجنب اذا اراد ان ياكل توضا
حدثنا موسى، - يعني ابن اسماعيل - حدثنا حماد، - يعني ابن سلمة - اخبرنا عطاء الخراساني، عن يحيى بن يعمر، عن عمار بن ياسر، ان النبي صلى الله عليه وسلم رخص للجنب اذا اكل او شرب او نام ان يتوضا . قال ابو داود بين يحيى بن يعمر وعمار بن ياسر في هذا الحديث رجل وقال علي بن ابي طالب وابن عمر وعبد الله بن عمرو الجنب اذا اراد ان ياكل توضا
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے پہلے حصہ میں غسل جنابت کرتے ہوئے دیکھا ہے یا آخری حصہ میں؟ کہا: کبھی آپ رات کے پہلے حصہ میں غسل فرماتے، کبھی آخری حصہ میں، میں نے کہا: اللہ اکبر! شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملہ میں وسعت رکھی ہے۔ پھر میں نے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے پہلے حصہ میں وتر پڑھتے دیکھا ہے یا آخری حصہ میں؟ کہا: کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے حصہ میں پڑھتے تھے اور کبھی آخری حصہ میں، میں نے کہا: اللہ اکبر! اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے۔ پھر میں نے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن زور سے پڑھتے دیکھا ہے یا آہستہ سے؟ کہا: کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم زور سے پڑھتے اور کبھی آہستہ سے، میں نے کہا: اللہ اکبر! اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس امر میں وسعت رکھی ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا المعتمر، ح حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، قالا حدثنا برد بن سنان، عن عبادة بن نسى، عن غضيف بن الحارث، قال قلت لعايشة ارايت رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يغتسل من الجنابة في اول الليل او في اخره قالت ربما اغتسل في اول الليل وربما اغتسل في اخره . قلت الله اكبر الحمد لله الذي جعل في الامر سعة . قلت ارايت رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يوتر اول الليل ام في اخره قالت ربما اوتر في اول الليل وربما اوتر في اخره . قلت الله اكبر الحمد لله الذي جعل في الامر سعة . قلت ارايت رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يجهر بالقران ام يخفت به قالت ربما جهر به وربما خفت . قلت الله اكبر الحمد لله الذي جعل في الامر سعة
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو، یا کتا ہو، یا جنبی ہو ۔
حدثنا حفص بن عمر النمري، حدثنا شعبة، عن علي بن مدرك، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن عبد الله بن نجى، عن ابيه، عن علي بن ابي طالب، - رضى الله عنه - عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تدخل الملايكة بيتا فيه صورة ولا كلب ولا جنب
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں بغیر غسل فرمائے سو جاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے حسن بن علی واسطی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے یزید بن ہارون کو کہتے سنا کہ یہ حدیث یعنی ابواسحاق کی حدیث وہم ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينام وهو جنب من غير ان يمس ماء . قال ابو داود حدثنا الحسن بن علي الواسطي قال سمعت يزيد بن هارون يقول هذا الحديث وهم . يعني حديث ابي اسحاق
عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں میں اور میرے ساتھ دو آدمی جن میں سے ایک کا تعلق میرے قبیلہ سے تھا اور میرا گمان ہے کہ دوسرا قبیلہ بنو اسد سے تھا، علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو آپ نے ان دونوں کو ( عامل بنا کر ) ایک علاقہ میں بھیجا، اور فرمایا: تم دونوں مضبوط لوگ ہو، لہٰذا اپنے دین کی خاطر جدوجہد کرنا، پھر آپ اٹھے اور پاخانہ میں گئے، پھر نکلے اور پانی منگوایا، اور ایک لپ لے کر اس سے ( ہاتھ ) دھویا، پھر قرآن پڑھنے لگے، تو لوگوں کو یہ ناگوار لگا، تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکل کر ہم کو قرآن پڑھاتے، اور ہمارے ساتھ بیٹھ کر گوشت کھاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن ( پڑھنے پڑھانے ) سے جنابت کے علاوہ کوئی چیز نہ روکتی یا مانع نہ ہوتی۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة، قال دخلت على علي - رضى الله عنه - انا ورجلان رجل منا ورجل من بني اسد - احسب فبعثهما علي - رضى الله عنه - وجها وقال انكما علجان فعالجا عن دينكما . ثم قام فدخل المخرج ثم خرج فدعا بماء فاخذ منه حفنة فتمسح بها ثم جعل يقرا القران فانكروا ذلك فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخرج من الخلاء فيقرينا القران وياكل معنا اللحم ولم يكن يحجبه - او قال يحجزه - عن القران شىء ليس الجنابة
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے تو آپ ( مصافحہ کے لیے ) ہاتھ پھیلاتے ہوئے ان کی طرف بڑھے، حذیفہ نے کہا: میں جنبی ہوں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان نجس نہیں ہوتا ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن مسعر، عن واصل، عن ابي وايل، عن حذيفة، ان النبي صلى الله عليه وسلم لقيه فاهوى اليه فقال اني جنب . فقال " ان المسلم لا ينجس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ کے ایک راستے میں مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہو گئی، میں اس وقت جنبی تھا، اس لیے پیچھے ہٹ گیا اور ( وہاں سے ) چلا گیا، پھر غسل کر کے واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ابوہریرہ! تم کہاں ( چلے گئے ) تھے؟ ، میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا، اس لیے ناپاکی کی حالت میں آپ کے پاس بیٹھنا مجھے نامناسب معلوم ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! مسلمان نجس نہیں ہوتا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، وبشر، عن حميد، عن بكر، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، قال لقيني رسول الله صلى الله عليه وسلم في طريق من طرق المدينة وانا جنب فاختنست فذهبت فاغتسلت ثم جيت فقال " اين كنت يا ابا هريرة " . قال قلت اني كنت جنبا فكرهت ان اجالسك على غير طهارة . فقال " سبحان الله ان المسلم لا ينجس " . وقال في حديث بشر حدثنا حميد حدثني بكر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور حال یہ تھا کہ بعض صحابہ کے گھروں کے دروازے مسجد سے لگتے ہوئے کھل رہے تھے ۱؎ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان گھروں کے رخ مسجد کی طرف سے پھیر کر دوسری جانب کر لو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( مسجد میں یا صحابہ کرام کے گھروں میں ) داخل ہوئے اور لوگوں نے ابھی کوئی تبدیلی نہیں کی تھی، اس امید پر کہ شاید ان کے متعلق کوئی رخصت نازل ہو، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ ان کے پاس آئے تو فرمایا: ان گھروں کے رخ مسجد کی طرف سے پھیر لو، کیونکہ میں حائضہ اور جنبی کے لیے مسجد کو حلال نہیں سمجھتا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا الافلت بن خليفة، قال حدثتني جسرة بنت دجاجة، قالت سمعت عايشة، رضى الله عنها تقول جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم ووجوه بيوت اصحابه شارعة في المسجد فقال " وجهوا هذه البيوت عن المسجد " . ثم دخل النبي صلى الله عليه وسلم ولم يصنع القوم شييا رجاء ان تنزل فيهم رخصة فخرج اليهم بعد فقال " وجهوا هذه البيوت عن المسجد فاني لا احل المسجد لحايض ولا جنب " . قال ابو داود وهو فليت العامري
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ( ایک دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھانی شروع کر دی، پھر ہاتھ سے اشارہ کیا کہ تم سب لوگ اپنی جگہ پر رہو، ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گھر تشریف لے گئے، غسل فرما کر ) واپس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اس کے بعد آپ نے انہیں نماز پڑھائی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن زياد الاعلم، عن الحسن، عن ابي بكرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل في صلاة الفجر فاوما بيده ان مكانكم ثم جاء وراسه يقطر فصلى بهم
اس طریق سے بھی حماد بن سلمہ نے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس کے شروع میں ہے: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی ، اور آخر میں یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: میں بھی انسان ہی ہوں، میں جنبی تھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زہری نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: جب آپ مصلیٰ پر کھڑے ہو گئے اور ہم آپ کی تکبیر ( تحریمہ ) کا انتظار کرنے لگے، تو آپ ( وہاں سے ) یہ فرماتے ہوئے پلٹے کہ تم جیسے ہو اسی حالت میں رہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ایوب بن عون اور ہشام نے اسے محمد سے، محمد بن سیرین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہی، پھر اپنے ہاتھ سے لوگوں کو اشارہ کیا کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے اور غسل فرمایا۔ اور اسی طرح اسے مالک نے اسماعیل بن ابوحکیم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے ( مرسلاً ) روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ: ہم سے ابان نے بیان کیا ہے، ابان یحییٰ سے، اور یحییٰ ربیع بن محمد سے اور ربیع بن محمد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( مرسلاً ) روایت کرتے ہیں کہ آپ نے تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا حماد بن سلمة، باسناده ومعناه قال في اوله فكبر . وقال في اخره فلما قضى الصلاة قال " انما انا بشر واني كنت جنبا " . قال ابو داود رواه الزهري عن ابي سلمة بن عبد الرحمن عن ابي هريرة قال فلما قام في مصلاه وانتظرنا ان يكبر انصرف ثم قال " كما انتم " . قال ابو داود ورواه ايوب وابن عون وهشام عن محمد مرسلا عن النبي صلى الله عليه وسلم قال فكبر ثم اوما بيده الى القوم ان اجلسوا فذهب فاغتسل . وكذلك رواه مالك عن اسماعيل بن ابي حكيم عن عطاء بن يسار ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كبر في صلاة . قال ابو داود وكذلك حدثناه مسلم بن ابراهيم حدثنا ابان عن يحيى عن الربيع بن محمد عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كبر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( ایک مرتبہ ) نماز کے لیے اقامت ہو گئی اور لوگوں نے صفیں باندھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، یہاں تک کہ جب اپنی جگہ پر ( آ کر ) کھڑے ہو گئے، تو آپ کو یاد آیا کہ آپ نے غسل نہیں کیا ہے، آپ نے لوگوں سے کہا: تم سب اپنی جگہ پر رہو ، پھر آپ گھر واپس گئے اور ہمارے پاس ( واپس ) آئے، تو آپ کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا اور حال یہ تھا کہ آپ نے غسل کر رکھا تھا اور ہم صف باندھے کھڑے تھے۔ یہ ابن حرب کے الفاظ ہیں، عیاش نے اپنی روایت میں کہا ہے: ہم لوگ اسی طرح ( صف باندھے ) کھڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائے، آپ غسل کئے ہوئے تھے۔
حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا محمد بن حرب، حدثنا الزبيدي، ح وحدثنا عياش بن الازرق، اخبرنا ابن وهب، عن يونس، ح وحدثنا مخلد بن خالد، حدثنا ابراهيم بن خالد، - امام مسجد صنعاء - حدثنا رباح، عن معمر، ح وحدثنا مومل بن الفضل، حدثنا الوليد، عن الاوزاعي، كلهم عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال اقيمت الصلاة وصف الناس صفوفهم فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اذا قام في مقامه ذكر انه لم يغتسل فقال للناس " مكانكم " . ثم رجع الى بيته فخرج علينا ينطف راسه وقد اغتسل ونحن صفوف . وهذا لفظ ابن حرب وقال عياش في حديثه فلم نزل قياما ننتظره حتى خرج علينا وقد اغتسل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ایک شخص ( کپڑے پر ) تری دیکھے اور اسے احتلام یاد نہ ہو تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ غسل کرے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص کو ایسا محسوس ہو رہا ہو کہ اسے احتلام ہوا ہے، مگر وہ تری نہ دیکھے، تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر غسل نہیں ہے ۔ یہ سن کر ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر عورت ( خواب میں ) یہی دیکھے تو کیا اس پر بھی غسل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، کیونکہ عورتیں ( اصل خلقت اور طبیعت میں ) مردوں ہی کی طرح ہیں ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا حماد بن خالد الخياط، حدثنا عبد الله العمري، عن عبيد الله، عن القاسم، عن عايشة، قالت سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الرجل يجد البلل ولا يذكر احتلاما قال " يغتسل " . وعن الرجل يرى انه قد احتلم ولا يجد البلل قال " لا غسل عليه " . فقالت ام سليم المراة ترى ذلك اعليها غسل قال " نعم انما النساء شقايق الرجال
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام سلیم انصاریہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ عزوجل حق سے نہیں شرماتا، آپ ہمیں بتائیے اگر عورت سوتے میں وہ چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو کیا وہ غسل کرے یا نہیں؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں جب وہ تری دیکھے تو ضرور غسل کرے ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں ام سلیم کی طرف متوجہ ہوئی اور میں نے ان سے کہا: تجھ پر افسوس! کیا عورت بھی ایسا دیکھتی ہے؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: عائشہ! تیرا داہنا ہاتھ خاک آلود ہو ۱؎ ( والدین اور ان کی اولاد میں ) مشابہت کہاں سے ہوتی ہے ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عنبسة، حدثنا يونس، عن ابن شهاب، قال قال عروة عن عايشة، ان ام سليم الانصارية، - وهي ام انس بن مالك - قالت يا رسول الله ان الله عز وجل لا يستحيي من الحق ارايت المراة اذا رات في النوم ما يرى الرجل اتغتسل ام لا قالت عايشة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " نعم فلتغتسل اذا وجدت الماء " . قالت عايشة فاقبلت عليها فقلت اف لك وهل ترى ذلك المراة فاقبل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " تربت يمينك يا عايشة ومن اين يكون الشبه " . قال ابو داود وكذلك روى عقيل والزبيدي ويونس وابن اخي الزهري عن الزهري وابراهيم بن ابي الوزير عن مالك عن الزهري ووافق الزهري مسافع الحجبي قال عن عروة عن عايشة . واما هشام بن عروة فقال عن عروة عن زينب بنت ابي سلمة عن ام سلمة ان ام سليم جاءت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت ایک ایسے برتن سے کرتے تھے جس کا نام فرق ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عیینہ نے بھی مالک کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: معمر نے اس حدیث میں زہری سے روایت کی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرتے، جس میں ایک فرق ( پیمانہ ) کی مقدار پانی ہوتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا کہ فرق سولہ رطل کا ہوتا ہے، میں نے انہیں یہ بھی کہتے سنا کہ ابن ابی ذئب کا صاع پانچ رطل اور تہائی رطل کا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کس نے کہا ہے کہ صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے؟ فرمایا: اس کا یہ ( قول ) محفوظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ہے: جس شخص نے صدقہ فطر ہمارے اس رطل سے پانچ رطل اور تہائی رطل دیا اس نے پورا دیا، ان سے کہا گیا: صیحانی ۱؎ وزنی ہوتی ہے، ابوداؤد نے کہا: صیحانی عمدہ کھجور ہے، آپ نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يغتسل من اناء - هو الفرق - من الجنابة . قال ابو داود قال معمر عن الزهري في هذا الحديث قالت كنت اغتسل انا ورسول الله صلى الله عليه وسلم من اناء واحد فيه قدر الفرق . قال ابو داود وروى ابن عيينة نحو حديث مالك . قال ابو داود سمعت احمد بن حنبل يقول الفرق ستة عشر رطلا . وسمعته يقول صاع ابن ابي ذيب خمسة ارطال وثلث . قال فمن قال ثمانية ارطال قال ليس ذلك بمحفوظ . قال ابو داود وسمعت احمد يقول من اعطى في صدقة الفطر برطلنا هذا خمسة ارطال وثلثا فقد اوفى . قيل الصيحاني ثقيل قال الصيحاني اطيب . قال لا ادري
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غسل جنابت کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو تین چلو اپنے سر پر ڈالتا ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے چلو بنا کر اشارہ کیا۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا ابو اسحاق، اخبرني سليمان بن صرد، عن جبير بن مطعم، انهم ذكروا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم الغسل من الجنابة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما انا فافيض على راسي ثلاثا " . واشار بيديه كلتيهما
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو ایک برتن منگواتے جیسے دودھ دوہنے کا برتن ہوتا ہے، پھر اپنے دونوں ہاتھ سے پانی لے کر سر کی داہنی جانب ڈالتے، پھر بائیں جانب ڈالتے، پھر دونوں ہاتھوں سے پانی لے کر ( بیچ ) سر پر ڈالتے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابو عاصم، عن حنظلة، عن القاسم، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اغتسل من الجنابة دعا بشىء نحو الحلاب فاخذ بكفه فبدا بشق راسه الايمن ثم الايسر ثم اخذ بكفيه فقال بهما على راسه