Loading...

Loading...
کتب
۳۹۰ احادیث
قبیلہ بنو تیم اللہ بن ثعلبہ کے ایک شخص جمیع بن عمیر کہتے ہیں میں اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، تو ان میں سے ایک نے آپ سے پوچھا: آپ لوگ غسل جنابت کس طرح کرتی تھیں؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( پہلے ) وضو کرتے تھے جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے اور ہم اپنے سروں پر چوٹیوں کی وجہ سے پانچ بار پانی ڈالتے تھے۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا عبد الرحمن، - يعني ابن مهدي - عن زايدة بن قدامة، عن صدقة، حدثنا جميع بن عمير، - احد بني تيم الله بن ثعلبة - قال دخلت مع امي وخالتي على عايشة فسالتها احداهما كيف كنتم تصنعون عند الغسل فقالت عايشة كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا وضوءه للصلاة ثم يفيض على راسه ثلاث مرات ونحن نفيض على رءوسنا خمسا من اجل الضفر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے ( سلیمان کی روایت میں ہے: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے، اور مسدد کی روایت میں ہے: برتن کو اپنے داہنے ہاتھ پر انڈیل کر دونوں ہاتھ دھوتے، پھر دونوں سیاق حدیث کے ذکر میں متفق ہیں کہ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس کے بعد ) اپنی شرمگاہ دھوتے ( اور مسدد کی روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بائیں ہاتھ پر پانی بہاتے، کبھی ام المؤمنین عائشہ نے فرج ( شرمگاہ ) کو کنایۃً بیان کیا ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ برتن میں داخل کرتے اور ( پانی لے کر ) اپنے بالوں کا خلال کرتے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ جان لیتے کہ پانی پوری کھال کو پہنچ گیا ہے یا کھال کو صاف کر لیا ہے، تو اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے، پھر جو پانی بچ جاتا اسے اپنے اوپر بہا لیتے۔
حدثنا سليمان بن حرب الواشحي، ومسدد، قالا حدثنا حماد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اغتسل من الجنابة - قال سليمان يبدا فيفرغ من يمينه على شماله . وقال مسدد غسل يديه يصب الاناء على يده اليمنى ثم اتفقا فيغسل فرجه . - قال مسدد - يفرغ على شماله وربما كنت عن الفرج ثم يتوضا وضوءه للصلاة ثم يدخل يديه في الاناء فيخلل شعره حتى اذا راى انه قد اصاب البشرة او انقى البشرة افرغ على راسه ثلاثا فاذا فضل فضلة صبها عليه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے تو پہلے اپنے دونوں پہونچوں کو، پھر اپنے جوڑوں کو دھوتے ( مثلاً کہنی بغل وغیرہ جہاں میل جم جاتا ہے ) اور ان پر پانی بہاتے، جب دونوں ہاتھ صاف ہو جاتے تو انہیں ( مٹی سے ) دیوار پر ملتے، ( تاکہ مکمل صاف ہو جائے ) پھر وضو شروع کرتے اور اپنے سر پر پانی ڈالتے۔
حدثنا عمرو بن علي الباهلي، حدثنا محمد بن ابي عدي، حدثني سعيد، عن ابي معشر، عن النخعي، عن الاسود، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اراد ان يغتسل من الجنابة بدا بكفيه فغسلهما ثم غسل مرافغه وافاض عليه الماء فاذا انقاهما اهوى بهما الى حايط ثم يستقبل الوضوء ويفيض الماء على راسه
شعبی کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کا نشان دیوار پر دکھاؤں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کیا کرتے تھے ( اور دیوار پر اپنا ہاتھ ملتے تھے ) ۔
حدثنا الحسن بن شوكر، حدثنا هشيم، عن عروة الهمداني، حدثنا الشعبي، قال قالت عايشة رضى الله عنها لين شيتم لارينكم اثر يد رسول الله صلى الله عليه وسلم في الحايط حيث كان يغتسل من الجنابة
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل جنابت کا پانی رکھا، تاکہ آپ غسل کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن کو اپنے داہنے ہاتھ پر جھکایا اور اسے دوبار یا تین بار دھویا، پھر اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالا، اور بائیں ہاتھ سے اسے دھویا، پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر مارا اور اسے دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنے سر اور جسم پر پانی ڈالا، پھر کچھ ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے، میں نے بدن پونچھنے کے لیے رومال دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں لیا، اور پانی اپنے بدن سے جھاڑنے لگے۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے اس کا ذکر ابراہیم سے کیا، تو انہوں نے کہا: رومال سے بدن پونچھنے میں لوگ کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، لیکن اسے عادت بنا لینا برا جانتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد نے کہا: اس پر عبداللہ بن داود سے میں نے پوچھا «العادة» یا «للعادة» ؟ تو انہوں نے جواب دیا «للعادة» ہی صحیح ہے، لیکن میں نے اپنی کتاب میں اسی طرح پایا ہے۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا عبد الله بن داود، عن الاعمش، عن سالم، عن كريب، حدثنا ابن عباس، عن خالته، ميمونة قالت وضعت للنبي صلى الله عليه وسلم غسلا يغتسل به من الجنابة فاكفا الاناء على يده اليمنى فغسلها مرتين او ثلاثا ثم صب على فرجه فغسل فرجه بشماله ثم ضرب بيده الارض فغسلها ثم تمضمض واستنشق وغسل وجهه ويديه ثم صب على راسه وجسده ثم تنحى ناحية فغسل رجليه فناولته المنديل فلم ياخذه وجعل ينفض الماء عن جسده . فذكرت ذلك لابراهيم فقال كانوا لا يرون بالمنديل باسا ولكن كانوا يكرهون العادة . قال ابو داود قال مسدد فقلت لعبد الله بن داود كانوا يكرهونه للعادة فقال هكذا هو ولكن وجدته في كتابي هكذا
شعبہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما جب غسل جنابت کرتے تو اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر سات مرتبہ پانی ڈالتے، پھر اپنی شرمگاہ دھوتے، ایک بار وہ بھول گئے کہ کتنی بار پانی ڈالا، تو آپ نے مجھ سے پوچھا کہ میں نے کتنی بار پانی ڈالا؟ میں نے جواب دیا: مجھے یاد نہیں ہے، آپ نے کہا: تیری ماں نہ ہو ۱؎ تمہیں یہ یاد رکھنے میں کون سی چیز مانع ہوئی؟ پھر آپ وضو کرتے جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے، پھر کہتے: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طہارت حاصل کرتے تھے۔
حدثنا حسين بن عيسى الخراساني، حدثنا ابن ابي فديك، عن ابن ابي ذيب، عن شعبة، قال ان ابن عباس كان اذا اغتسل من الجنابة يفرغ بيده اليمنى على يده اليسرى سبع مرار ثم يغسل فرجه فنسي مرة كم افرغ فسالني كم افرغت فقلت لا ادري . فقال لا ام لك وما يمنعك ان تدري ثم يتوضا وضوءه للصلاة ثم يفيض على جلده الماء ثم يقول هكذا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتطهر
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں پہلے پچاس ( وقت کی ) نماز ( فرض ہوئی ) تھیں، اور غسل جنابت سات بار کرنے کا حکم تھا، اسی طرح پیشاب کپڑے میں لگ جائے تو سات بار دھونے کا حکم تھا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی امت پر برابر اللہ تعالیٰ سے تخفیف کا ) سوال کرتے رہے، یہاں تک کہ نماز پانچ کر دی گئیں، جنابت کا غسل ایک بار رہ گیا، اور پیشاب کپڑے میں لگ جائے تو اسے بھی ایک بار دھونا رہ گیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ايوب بن جابر، عن عبد الله بن عصم، عن عبد الله بن عمر، قال كانت الصلاة خمسين والغسل من الجنابة سبع مرار وغسل البول من الثوب سبع مرار فلم يزل رسول الله صلى الله عليه وسلم يسال حتى جعلت الصلاة خمسا والغسل من الجنابة مرة وغسل البول من الثوب مرة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بال کے نیچے جنابت ہے، لہٰذا تم ( غسل کرتے وقت ) بالوں کو اچھی طرح دھوو، اور کھال کو خوب صاف کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن وجیہ کی حدیث منکر ہے، اور وہ ضعیف ہیں ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي، حدثني الحارث بن وجيه، حدثنا مالك بن دينار، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان تحت كل شعرة جنابة فاغسلوا الشعر وانقوا البشر " . قال ابو داود الحارث بن وجيه حديثه منكر وهو ضعيف
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے غسل جنابت میں ایک بال برابر جگہ دھوئے بغیر چھوڑ دی، تو اسے آگ کا ایسا ایسا عذاب ہو گا ۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی وجہ سے میں نے اپنے سر ( کے بالوں ) سے دشمنی کر رکھی ہے، اس جملے کو انہوں نے تین مرتبہ کہا، وہ اپنے بال کاٹ ڈالتے تھے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا عطاء بن السايب، عن زاذان، عن علي، - رضى الله عنه - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من ترك موضع شعرة من جنابة لم يغسلها فعل به كذا وكذا من النار " . قال علي فمن ثم عاديت راسي فمن ثم عاديت راسي ثلاثا . وكان يجز شعره
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل ( جنابت ) کرتے تھے، اور دو رکعتیں اور فجر کی نماز ادا کرتے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل جنابت کے بعد تازہ وضو کرتے نہ دیکھتی ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا ابو اسحاق، عن الاسود، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغتسل ويصلي الركعتين وصلاة الغداة ولا اراه يحدث وضوءا بعد الغسل
ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک مسلمان عورت نے کہا ( اور زہیر کی روایت میں ہے خود ام سلمہ نے ہی کہا ) : اللہ کے رسول! میں اپنے سر کی چوٹی مضبوطی سے باندھتی ہوں، کیا غسل جنابت کے وقت اسے کھولوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے تین لپ پانی اپنے سر پر ڈال لینا کافی ہے ، اور زہیر کی روایت میں ہے: تم اس پر تین لپ پانی ڈال لو، پھر سارے بدن پر پانی بہا لو اس طرح تم نے پاکی حاصل کر لی ۔
حدثنا زهير بن حرب، وابن السرح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن ايوب بن موسى، عن سعيد بن ابي سعيد، عن عبد الله بن رافع، مولى ام سلمة عن ام سلمة، ان امراة، من المسلمين - وقال زهير انها - قالت يا رسول الله اني امراة اشد ضفر راسي افانقضه للجنابة قال " انما يكفيك ان تحفني عليه ثلاثا " . وقال زهير " تحثي عليه ثلاث حثياث من ماء ثم تفيضي على ساير جسدك فاذا انت قد طهرت
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کے پاس ایک عورت آئی، پھر آگے یہی حدیث بیان ہوئی، ام سلمہ کہتی ہیں: تو میں نے اس کے لیے اسی طرح کی بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھی، اس روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بدلے میں فرمایا: ہر لپ کے وقت تم اپنی لٹیں نچوڑ لو ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، حدثنا ابن نافع، - يعني الصايغ - عن اسامة، عن المقبري، عن ام سلمة، ان امراة، جاءت الى ام سلمة بهذا الحديث . قالت فسالت لها النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه قال فيه " واغمزي قرونك عند كل حفنة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہم ( ازواج مطہرات ) میں سے جب کسی کو غسل جنابت کی ضرورت ہوتی تو وہ تین لپ پانی اس طرح لیتی یعنی اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ایک ساتھ کر کے، پھر اسے اپنے سر پر ڈالتی اور ایک ہاتھ سے پانی لیتی تو ایک جانب ڈالتی اور دوسرے سے لے کر دوسری جانب ڈالتی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن ابي بكير، حدثنا ابراهيم بن نافع، عن الحسن بن مسلم، عن صفية بنت شيبة، عن عايشة، قالت كانت احدانا اذا اصابتها جنابة اخذت ثلاث حفنات هكذا - تعني بكفيها جميعا - فتصب على راسها واخذت بيد واحدة فصبتها على هذا الشق والاخرى على الشق الاخر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہم غسل کرتے تھے اور ہمارے سروں پر لیپ لگا ہوتا تھا خواہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حالت احرام میں ہوتے یا حلال ( احرام سے باہر ) ۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا عبد الله بن داود، عن عمر بن سويد، عن عايشة بنت طلحة، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كنا نغتسل وعلينا الضماد ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم محلات ومحرمات
شریح بن عبید کہتے ہیں: جبیر بن نفیر نے مجھے غسل جنابت کے متعلق مسئلہ بتایا کہ ثوبان رضی اللہ عنہ نے ان سے حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل جنابت کے متعلق مسئلہ پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرد تو اپنا سر بالوں کو کھول کر دھوئے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، اور عورت اگر اپنے بال نہ کھولے تو کوئی مضائقہ نہیں، اسے چاہیئے کہ وہ اپنی دونوں ہتھیلیوں سے تین لپ پانی لے کر اپنے سر پر ڈال لے ۔
حدثنا محمد بن عوف، قال قرات في اصل اسماعيل بن عياش - قال ابن عوف - وحدثنا محمد بن اسماعيل، عن ابيه، حدثني ضمضم بن زرعة، عن شريح بن عبيد، قال افتاني جبير بن نفير عن الغسل، من الجنابة ان ثوبان، حدثهم انهم، استفتوا النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك فقال " اما الرجل فلينشر راسه فليغسله حتى يبلغ اصول الشعر واما المراة فلا عليها ان لا تنقضه لتغرف على راسها ثلاث غرفات بكفيها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں اپنا سر خطمی ۱؎ سے دھوتے اور اسی پر اکتفا کرتے، اور اس پر ( دوسرا ) پانی نہیں ڈالتے تھے۔
حدثنا محمد بن جعفر بن زياد، حدثنا شريك، عن قيس بن وهب، عن رجل، من بني سواءة بن عامر عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يغسل راسه بالخطمي وهو جنب يجتزي بذلك ولا يصب عليه الماء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ مرد اور عورت کے ملاپ سے نکلنے والی منی کے متعلق کہتی ہیں: ( اگر وہ کپڑے یا جسم پر لگ جاتی تو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چلو پانی لے کر لگی ہوئی منی پر ڈالتے، پھر ایک اور چلو پانی لیتے، اور اسے بھی اس پر ڈال لیتے۔
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا شريك، عن قيس بن وهب، عن رجل، من بني سواءة بن عامر عن عايشة، فيما يفيض بين الرجل والمراة من الماء قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ياخذ كفا من ماء يصب على الماء ثم ياخذ كفا من ماء ثم يصبه عليه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کی عورتوں میں جب کسی کو حیض آتا تو وہ اسے گھر سے نکال دیتے تھے، نہ اس کو ساتھ کھلاتے پلاتے، نہ اس کے ساتھ ایک گھر میں رہتے تھے، اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض» اے محمد! لوگ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، تو کہہ دیجئیے کہ وہ گندگی ہے، لہٰذا حالت حیض میں تم عورتوں سے الگ رہو ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے ساتھ گھروں میں رہو اور سارے کام کرو سوائے جماع کے ، یہ سن کر یہودیوں نے کہا: یہ شخص کوئی بھی ایسی چیز نہیں چھوڑنا چاہتا ہے جس میں وہ ہماری مخالفت نہ کرے، چنانچہ اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہود ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں، پھر ہم کیوں نہ ان سے حالت حیض میں جماع کریں؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا، یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں پر خفا ہو گئے ہیں، وہ دونوں ابھی نکلے ہی تھے کہ اتنے میں آپ کے پاس دودھ کا ہدیہ آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بلا بھیجا اور ( جب وہ آئے تو ) انہیں دودھ پلایا، تب جا کر ہم کو یہ پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں سے ناراض نہیں ہیں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، حدثنا ثابت البناني، عن انس بن مالك، ان اليهود، كانت اذا حاضت منهم امراة اخرجوها من البيت ولم يواكلوها ولم يشاربوها ولم يجامعوها في البيت فسيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فانزل الله سبحانه { ويسالونك عن المحيض قل هو اذى فاعتزلوا النساء في المحيض } الى اخر الاية فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " جامعوهن في البيوت واصنعوا كل شىء غير النكاح " . فقالت اليهود ما يريد هذا الرجل ان يدع شييا من امرنا الا خالفنا فيه . فجاء اسيد بن حضير وعباد بن بشر الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالا يا رسول الله ان اليهود تقول كذا وكذا افلا ننكحهن في المحيض فتمعر وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى ظننا ان قد وجد عليهما فخرجا فاستقبلتهما هدية من لبن الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فبعث في اثارهما فسقاهما فظننا انه لم يجد عليهما
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں حالت حیض میں ہڈی سے گوشت نوچتی، پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اسی جگہ پر رکھتے جہاں میں رکھتی تھی اور میں پانی پی کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی تو آپ اپنا منہ اسی جگہ پر رکھ کر پیتے جہاں سے میں پیتی تھی۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الله بن داود، عن مسعر، عن المقدام بن شريح، عن ابيه، عن عايشة، قالت كنت اتعرق العظم وانا حايض، فاعطيه النبي صلى الله عليه وسلم فيضع فمه في الموضع الذي فيه وضعته واشرب الشراب فاناوله فيضع فمه في الموضع الذي كنت اشرب منه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک میری گود میں رکھ کر قرآن پڑھتے اور میں حائضہ ہوتی۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، عن منصور بن عبد الرحمن، عن صفية، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يضع راسه في حجري فيقرا وانا حايض