Loading...

Loading...
کتب
۳۹۰ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دو ، تو میں نے عرض کیا: میں حائضہ ہوں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ثابت بن عبيد، عن القاسم، عن عايشة، قالت قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " ناوليني الخمرة من المسجد " . فقلت اني حايض . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان حيضتك ليست في يدك
معاذہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا حائضہ نماز کی قضاء کرے گی؟ تو اس پر آپ نے کہا: کیا تو حروریہ ہے ۱؎؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ہمیں حیض آتا تھا تو ہم نماز کی قضاء نہیں کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا ايوب، عن ابي قلابة، عن معاذة، ان امراة، سالت عايشة اتقضي الحايض الصلاة فقالت احرورية انت لقد كنا نحيض عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فلا نقضي ولا نومر بالقضاء
حدثنا الحسن بن عمرو، اخبرنا سفيان، - يعني ابن عبد الملك - عن ابن المبارك، عن معمر، عن ايوب، عن معاذة العدوية، عن عايشة، بهذا الحديث . قال ابو داود وزاد فيه فنومر بقضاء الصوم ولا نومر بقضاء الصلاة
حدثنا الحسن بن عمرو، اخبرنا سفيان، - يعني ابن عبد الملك - عن ابن المبارك، عن معمر، عن ايوب، عن معاذة العدوية، عن عايشة، بهذا الحديث . قال ابو داود وزاد فيه فنومر بقضاء الصوم ولا نومر بقضاء الصلاة
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، حدثني الحكم، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن، عن مقسم، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم في الذي ياتي امراته وهي حايض قال " يتصدق بدينار او نصف دينار " . قال ابو داود هكذا الرواية الصحيحة قال " دينار او نصف دينار " . وربما لم يرفعه شعبة
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، حدثني الحكم، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن، عن مقسم، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم في الذي ياتي امراته وهي حايض قال " يتصدق بدينار او نصف دينار " . قال ابو داود هكذا الرواية الصحيحة قال " دينار او نصف دينار " . وربما لم يرفعه شعبة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب وہ بیوی سے شروع حیض میں جماع کرے، تو ایک دینار صدقہ کرے، اور جب خون بند ہو جانے پر اس سے جماع کرے، تو آدھا دینار صدقہ کرے۔
حدثنا عبد السلام بن مطهر، حدثنا جعفر، - يعني ابن سليمان - عن علي بن الحكم البناني، عن ابي الحسن الجزري، عن مقسم، عن ابن عباس، قال اذا اصابها في اول الدم فدينار واذا اصابها في انقطاع الدم فنصف دينار . قال ابو داود وكذلك قال ابن جريج عن عبد الكريم عن مقسم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی سے حالت حیض میں جماع کرے تو آدھا دینار صدقہ کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح علی بن بذیمہ نے مقسم سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، اور اوزاعی نے یزید ابن ابی مالک سے، یزید نے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن سے، عبدالحمید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے انہیں دو خمس دینار صدقہ کرنے کا حکم فرمایا، اور یہ روایت معضل ہے۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا شريك، عن خصيف، عن مقسم، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا وقع الرجل باهله وهي حايض فليتصدق بنصف دينار " . قال ابو داود وكذا قال علي بن بذيمة عن مقسم عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا وروى الاوزاعي عن يزيد بن ابي مالك عن عبد الحميد بن عبد الرحمن عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " امره ان يتصدق بخمسى دينار " . وهذا معضل
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے حیض کی حالت میں مباشرت ( اختلاط و مساس ) کرتے تھے جب ان کے اوپر نصف رانوں تک یا دونوں گھٹنوں تک تہبند ہوتا جس سے وہ آڑ کئے ہوتیں۔
حدثنا يزيد بن خالد بن عبد الله بن موهب الرملي، حدثنا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن حبيب، مولى عروة عن ندبة، مولاة ميمونة عن ميمونة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يباشر المراة من نسايه وهي حايض اذا كان عليها ازار الى انصاف الفخذين او الركبتين تحتجز به
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کو جب وہ حائضہ ہوتی ازار ( تہبند ) باندھنے کا حکم دیتے، پھر اس کا شوہر ۱؎ اس کے ساتھ سوتا، ایک بار راوی نے «يضاجعها» کے بجائے «يباشرها» کے الفاظ نقل کئے ہیں۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا شعبة، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامر احدانا اذا كانت حايضا ان تتزر ثم يضاجعها زوجها وقال مرة يباشرها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں رات میں ایک کپڑے میں سوتے اور میں پورے طور سے حائضہ ہوتی، اگر میرے حیض کا کچھ خون آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( کے بدن ) کو لگ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اسی مقام کو دھو ڈالتے، اس سے زیادہ نہیں دھوتے، پھر اسی میں نماز پڑھتے، اور اگر اس میں سے کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے کو لگ جاتا، تو آپ صرف اسی جگہ کو دھو لیتے، اس سے زیادہ نہیں دھوتے، پھر اسی میں نماز پڑھتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن جابر بن صبح، سمعت خلاسا الهجري، قال سمعت عايشة، - رضى الله عنها - تقول كنت انا ورسول الله، صلى الله عليه وسلم نبيت في الشعار الواحد وانا حايض طامث فان اصابه مني شىء غسل مكانه ولم يعده ثم صلى فيه وان اصاب - تعني ثوبه - منه شىء غسل مكانه ولم يعده ثم صلى فيه
عمارہ بن غراب کہتے ہیں: ان کی پھوپھی نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ ہم میں سے ایک عورت کو حیض آتا ہے، اور اس کے اور اس کے شوہر کے پاس صرف ایک ہی بچھونا ہے ( ایسی صورت میں وہ حائضہ عورت کیا کرے؟ ) ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتاتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے اور اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں چلے گئے ( ابوداؤد کہتے ہیں: مسجد سے مراد گھر کے اندر نماز کی جگہ مصلی ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے پہلے مجھے نیند آ گئی، ادھر آپ کو سردی نے ستایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے قریب آ جاؤ ، تو میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی ران کھولو ، میں نے اپنی رانیں کھول دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخسار اور سینہ میری ران پر رکھ دیا، میں اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئی، یہاں تک کہ آپ کو گرمی پہنچ گئی، اور سو گئے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد الله، - يعني ابن عمر بن غانم - عن عبد الرحمن، - يعني ابن زياد - عن عمارة بن غراب، ان عمة، له حدثته انها، سالت عايشة قالت احدانا تحيض وليس لها ولزوجها الا فراش واحد قالت اخبرك بما صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل ليلا وانا حايض فمضى الى مسجده - قال ابو داود تعني مسجد بيته - فلم ينصرف حتى غلبتني عيني واوجعه البرد فقال " ادني مني " . فقلت اني حايض . فقال " وان اكشفي عن فخذيك " . فكشفت فخذى فوضع خده وصدره على فخذى وحنيت عليه حتى دفي ونام
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں جب حائضہ ہوتی تو بچھونے سے چٹائی پر چلی آتی، اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب نہ ہوتے، جب تک کہ ہم پاک نہ ہو جاتے۔
حدثنا سعيد بن عبد الجبار، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - عن ابي اليمان، عن ام ذرة، عن عايشة، انها قالت كنت اذا حضت نزلت عن المثال على الحصير فلم نقرب رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم ندن منه حتى نطهر
عکرمہ بعض ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حائضہ سے جب کچھ کرنا چاہتے تو ان کی شرمگاہ پر ایک کپڑا ڈال دیتے تھے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ايوب، عن عكرمة، عن بعض، ازواج النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اراد من الحايض شييا القى على فرجها ثوبا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے حیض کی شدت میں ہمیں ازار ( تہبند ) باندھنے کا حکم فرماتے تھے پھر ہم سے مباشرت کرتے تھے، اور تم میں سے کون اپنی خواہش پر قابو پا سکتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی خواہش پر قابو تھا؟ ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الشيباني، عن عبد الرحمن بن الاسود، عن ابيه، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامرنا في فوح حيضنا ان نتزر ثم يباشرنا وايكم يملك اربه كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يملك اربه
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت کو استحاضہ کا خون آتا تھا، تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کو چاہیئے کہ اس بیماری کے لاحق ہونے سے پہلے مہینے کی ان راتوں اور دنوں کی تعداد کو جن میں اسے حیض آتا تھا ذہن میں رکھ لے اور ( ہر ) ماہ اسی کے بقدر نماز چھوڑ دے، پھر جب یہ دن گزر جائیں تو غسل کرے، پھر کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے پھر اس میں نماز پڑھے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن نافع، عن سليمان بن يسار، عن ام سلمة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان امراة كانت تهراق الدماء على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستفتت لها ام سلمة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " لتنظر عدة الليالي والايام التي كانت تحيضهن من الشهر قبل ان يصيبها الذي اصابها فلتترك الصلاة قدر ذلك من الشهر فاذا خلفت ذلك فلتغتسل ثم لتستثفر بثوب ثم لتصل فيه
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت کو ( استحاضہ کا ) خون آتا تھا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے کہ: پھر جب یہ ایام گزر جائیں اور نماز کا وقت آ جائے تو غسل کرے …. الخ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، ويزيد بن خالد بن يزيد بن عبد الله بن موهب، قالا حدثنا الليث، عن نافع، عن سليمان بن يسار، ان رجلا، اخبره عن ام سلمة، ان امراة، كانت تهراق الدم . فذكر معناه قال " فاذا خلفت ذلك وحضرت الصلاة فلتغتسل " . بمعناه
سلیمان بن یسار ایک انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت کو ( استحاضہ ) کا خون آتا تھا۔ پھر انہوں نے لیث کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی، اس میں ہے کہ: جب وہ انہیں گزار لے ( حیض کے ایام ) ، اور نماز کا وقت آ جائے، تو چاہیئے کہ وہ غسل کرے ، پھر راوی نے اسی کے ہم معنی پوری حدیث بیان کی۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا انس، - يعني ابن عياض - عن عبيد الله، عن نافع، عن سليمان بن يسار، عن رجل، من الانصار ان امراة، كانت تهراق الدماء فذكر معنى حديث الليث قال " فاذا خلفتهن وحضرت الصلاة فلتغتسل " . وساق الحديث بمعناه
اس طریق سے بھی لیث والی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے، اس میں ہے پھر چاہیئے کہ وہ اس کے بقدر نماز چھوڑ دے، پھر جب نماز کا وقت آ جائے تو غسل کرے، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے، پھر نماز پڑھے ۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا صخر بن جويرية، عن نافع، باسناد الليث وبمعناه قال " فلتترك الصلاة قدر ذلك ثم اذا حضرت الصلاة فلتغتسل ولتستثفر بثوب ثم تصلي
اس سند سے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہی واقعہ مروی ہے، اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نماز چھوڑ دے گی، اور اس کے علاوہ میں ( یعنی حیض کے خون کے بند ہو جانے کے بعد ) غسل کرے گی، اور کپڑا باندھ کر نماز پڑھے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے ایوب سے اس حدیث میں اس مستحاضہ عورت کا نام فاطمہ بنت ابی حبیش بتایا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا ايوب، عن سليمان بن يسار، عن ام سلمة، بهذه القصة قال فيه " تدع الصلاة وتغتسل فيما سوى ذلك وتستثفر بثوب وتصلي " . قال ابو داود سمى المراة التي كانت استحيضت حماد بن زيد عن ايوب في هذا الحديث قال فاطمة بنت ابي حبيش
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( استحاضہ ) کے خون کے بارے میں سوال کیا، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ان کے لگن کو خون سے بھرا دیکھا، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنے دنوں تک تمہیں تمہارا حیض پہلے روکتا تھا اسی کے بقدر رکی رہو، پھر غسل کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے قتیبہ نے جعفر بن ربیعہ کی حدیث کے آخر میں بین السطور یا حاشیہ میں روایت کیا ہے نیز اسے علی بن عیاش، اور یونس بن محمد نے لیث سے روایت کیا ہے، اور دونوں نے ( جعفر کے بجائے ) جعفر بن ربیعہ کہا ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن جعفر، عن عراك، عن عروة، عن عايشة، انها قالت ان ام حبيبة سالت النبي صلى الله عليه وسلم عن الدم - فقالت عايشة فرايت مركنها ملان دما - فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " امكثي قدر ما كانت تحبسك حيضتك ثم اغتسلي " . قال ابو داود رواه قتيبة بين اضعاف حديث جعفر بن ربيعة في اخرها ورواه علي بن عياش ويونس بن محمد عن الليث فقالا جعفر بن ربيعة
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( استحاضہ کے ) خون آنے کی شکایت کی اور مسئلہ پوچھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ تو صرف ایک رگ ہے، پس تم دیکھتی رہو، جب تمہیں حیض آ جائے تو نماز نہ پڑھو، پھر جب حیض ختم ہو جائے تو غسل کرو، پھر دوسرا حیض آنے تک نماز پڑھتی رہو ۔
حدثنا عيسى بن حماد، اخبرنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن بكير بن عبد الله، عن المنذر بن المغيرة، عن عروة بن الزبير، ان فاطمة بنت ابي حبيش، حدثته انها، سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فشكت اليه الدم فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما ذلك عرق فانظري اذا اتى قروك فلا تصلي فاذا مر قروك فتطهري ثم صلي ما بين القرء الى القرء