احادیث
#287
سنن ابی داؤد - Purification
حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے استحاضہ کا خون کثرت سے آتا تھا، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ سے مسئلہ پوچھنے، اور آپ کو اس کی خبر دینے آئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بہن زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے گھر پایا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بہت زیادہ خون آتا ہے، اس سلسلے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ اس نے مجھے نماز اور روزے سے روک دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں ( شرمگاہ پر ) روئی رکھنے کا مشورہ دیتا ہوں، کیونکہ اس سے خون بند ہو جائے گا ، حمنہ نے کہا: وہ اس سے بھی زیادہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لنگوٹ باندھ کر اس کے نیچے کپڑا رکھ لو ، انہوں نے کہا: وہ اس سے بھی زیادہ ہے، بہت تیزی سے نکلتا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں، ان دونوں میں سے جس کو بھی تم اختیار کر لو وہ تمہارے لیے کافی ہے، اور اگر تمہارے اندر دونوں پر عمل کرنے کی طاقت ہو تو تم اسے زیادہ جانتی ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ تو شیطان کی لات ہے، لہٰذا تم ( ہر ماہ ) اپنے آپ کو چھ یا سات دن تک حائضہ سمجھو، پھر غسل کرو، اور جب تم اپنے آپ کو پاک و صاف سمجھ لو تو تیئس یا چوبیس روز نماز ادا کرو اور روزے رکھو، یہ تمہارے لیے کافی ہے، اور جس طرح عورتیں حیض و طہر کے اوقات میں کرتی ہیں اسی طرح ہر ماہ تم بھی کر لیا کرو، اور اگر تم ظہر کی نماز مؤخر کرنے اور عصر کی نماز جلدی پڑھنے پر قادر ہو تو غسل کر کے ظہر اور عصر کو جمع کر لو اور مغرب کو مؤخر کرو، اور عشاء میں جلدی کرو اور غسل کر کے دونوں نماز کو ایک ساتھ ادا کرو، اور ایک نماز فجر کے لیے غسل کر لیا کرو، تو اسی طرح کرو، اور روزہ رکھو، اگر تم اس پر قادر ہو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں باتوں میں سے یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عمرو بن ثابت نے ابن عقیل سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ حمنہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے، انہوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نہیں بلکہ حمنہ رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو بن ثابت رافضی برا آدمی ہے، لیکن حدیث میں صدوق ہے- اور ثابت بن مقدام ثقہ آدمی ہیں- ۱؎، اس کا ذکر انہوں نے یحییٰ بن معین کے واسطے سے کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا: ابن عقیل کی حدیث کے بارے میں میرے دل میں بے اطمینانی ہے ۲؎۔
حدثنا زهير بن حرب، وغيره، قالا حدثنا عبد الملك بن عمرو، حدثنا زهير بن محمد، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن ابراهيم بن محمد بن طلحة، عن عمه، عمران بن طلحة عن امه، حمنة بنت جحش قالت كنت استحاض حيضة كثيرة شديدة فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم استفتيه واخبره فوجدته في بيت اختي زينب بنت جحش فقلت يا رسول الله اني امراة استحاض حيضة كثيرة شديدة فما ترى فيها قد منعتني الصلاة والصوم فقال " انعت لك الكرسف فانه يذهب الدم " . قالت هو اكثر من ذلك . قال " فاتخذي ثوبا " . فقالت هو اكثر من ذلك انما اثج ثجا . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سامرك بامرين ايهما فعلت اجزا عنك من الاخر وان قويت عليهما فانت اعلم " . فقال لها " انما هذه ركضة من ركضات الشيطان فتحيضي ستة ايام او سبعة ايام في علم الله ثم اغتسلي حتى اذا رايت انك قد طهرت واستنقات فصلي ثلاثا وعشرين ليلة او اربعا وعشرين ليلة وايامها وصومي فان ذلك يجزيك وكذلك فافعلي في كل شهر كما تحيض النساء وكما يطهرن ميقات حيضهن وطهرهن وان قويت على ان توخري الظهر وتعجلي العصر فتغتسلين وتجمعين بين الصلاتين الظهر والعصر وتوخرين المغرب وتعجلين العشاء ثم تغتسلين وتجمعين بين الصلاتين فافعلي وتغتسلين مع الفجر فافعلي وصومي ان قدرت على ذلك " . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وهذا اعجب الامرين الى " .1 قال ابو داود ورواه عمرو بن ثابت عن ابن عقيل قال فقالت حمنة فقلت هذا اعجب الامرين الى .2 لم يجعله من قول النبي صلى الله عليه وسلم جعله كلام حمنة . قال ابو داود وعمرو بن ثابت رافضي رجل سوء ولكنه كان صدوقا في الحديث وثابت بن المقدام رجل ثقة وذكره عن يحيى بن معين . قال ابو داود سمعت احمد يقول حديث ابن عقيل في نفسي منه شىء
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- Purification
- Hadith Index
- #287
- Book Index
- 287
Grades
- Al-AlbaniDaif
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidHasan
- Shuaib Al ArnautHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiDaif
