احادیث
#300
سنن ابی داؤد - Purification
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں عدی بن ثابت اور اعمش کی حدیث جو انہوں نے حبیب سے روایت کیا ہے، اور ایوب ابوالعلاء کی حدیث یہ سب کی سب ضعیف ہیں، صحیح نہیں ہیں، اور اعمش کی حدیث جسے انہوں نے حبیب سے روایت کیا ہے، اس کے ضعف پر یہی حدیث دلیل ہے، جسے حفص بن غیاث نے اعمش سے موقوفاً روایت کیا ہے، اور حفص بن غیاث نے حبیب کی حدیث کے مرفوعاً ہونے کا انکار کیا ہے، نیز اسے اسباط نے بھی اعمش سے، اور اعمش نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوفاً روایت کیا ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس کے ابتدائی حصہ کو ابن داود نے اعمش سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور اس میں ہر نماز کے وقت وضو کے ہونے کا انکار کیا ہے۔ حبیب کی حدیث کے ضعف کی دلیل یہ بھی ہے کہ زہری کی روایت بواسطہ عروہ، عائشہ رضی اللہ عنہا سے مستحاضہ کے متعلق مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ ابوالیقظان نے عدی بن ثابت سے، عدی نے اپنے والد ثابت سے، ثابت نے علی رضی اللہ عنہ سے، اور بنو ہاشم کے غلام عمار نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے، اور عبدالملک بن میسرہ، بیان، مغیرہ، فراس اور مجالد نے شعبی سے اور شعبی نے قمیر کی حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ: تم ہر نماز کے لیے وضو کرو ۔ اور داود اور عاصم کی روایت میں جسے انہوں نے شعبی سے، شعبی نے قمیر سے، اور قمیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ وہ روزانہ ایک بار غسل کرے۔ ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ: مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے وضو کرے ۔ یہ ساری حدیثیں ضعیف ہیں سوائے تین حدیثوں کے: ایک قمیر کی حدیث ( جو عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ) ، دوسری عمار مولی بنی ہاشم کی حدیث ( جو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ) ، اور تیسری ہشام بن عروہ کی حدیث جو ان کے والد سے مروی ہے، ابن عباس سے مشہور ہر نماز کے لیے غسل ہے ۲؎۔
حدثنا احمد بن سنان القطان الواسطي، حدثنا يزيد، عن ايوب ابي العلاء، عن ابن شبرمة، عن امراة، مسروق عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله . قال ابو داود وحديث عدي بن ثابت والاعمش عن حبيب وايوب ابي العلاء كلها ضعيفة لا تصح ودل على ضعف حديث الاعمش عن حبيب هذا الحديث اوقفه حفص بن غياث عن الاعمش وانكر حفص بن غياث ان يكون حديث حبيب مرفوعا واوقفه ايضا اسباط عن الاعمش موقوف عن عايشة . قال ابو داود ورواه ابن داود عن الاعمش مرفوعا اوله وانكر ان يكون فيه الوضوء عند كل صلاة ودل على ضعف حديث حبيب هذا ان رواية الزهري عن عروة عن عايشة قالت فكانت تغتسل لكل صلاة . في حديث المستحاضة وروى ابو اليقظان عن عدي بن ثابت عن ابيه عن علي - رضي الله عنه - وعمار مولى بني هاشم عن ابن عباس وروى عبد الملك بن ميسرة وبيان والمغيرة وفراس ومجالد عن الشعبي عن حديث قمير عن عايشة " توضيي لكل صلاة " . ورواية داود وعاصم عن الشعبي عن قمير عن عايشة " تغتسل كل يوم مرة " . وروى هشام بن عروة عن ابيه المستحاضة تتوضا لكل صلاة . وهذه الاحاديث كلها ضعيفة الا حديث قمير وحديث عمار مولى بني هاشم وحديث هشام بن عروة عن ابيه والمعروف عن ابن عباس الغسل
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- Purification
- Hadith Index
- #300
- Book Index
- 300
Grades
- Al-AlbaniDaif
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidSahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Sahih
