Loading...

Loading...
کتب
۳۹۰ احادیث
ابوبکر کے غلام سمیّ کہتے ہیں کہ قعقاع اور زید بن اسلم دونوں نے انہیں سعید بن مسیب کے پاس یہ مسئلہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا کہ مستحاضہ عورت کس طرح غسل کرے؟ تو انہوں نے کہا: وہ ایک ظہر سے دوسرے ظہر تک ایک غسل کرے، اور ہر نماز کے لیے وضو کرے، اور اگر استحاضہ کا خون زیادہ آئے تو کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عمر اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے کہ وہ ظہر سے ظہر تک ایک غسل کرے، اور اسی طرح داود اور عاصم نے شعبی سے، شعبی نے اپنی بیوی سے، انہوں نے قمیر سے، اور قمیر نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، مگر داود کی روایت میں لفظ «كل يوم» کا ( اضافہ ) ہے یعنی ہر روز غسل کرے، اور عاصم کی روایت میں «عند الظهر» کا لفظ ہے اور یہی قول سالم بن عبداللہ، حسن اور عطاء کا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ ابن مسیب کی حدیث: «من ظهرٍ إلى ظهرٍ» کے بجائے «من طهرٍ إلى طهرٍ» ہے، لیکن اس میں وہم داخل ہو گیا اور لوگوں نے اسے بدل کر «من ظهرٍ إلى ظهرٍ» کر دیا، نیز اسے مسور بن عبدالملک بن سعید بن عبدالرحمٰن بن یربوع نے روایت کیا ہے، اس میں انہوں نے «من طهر إلى طهر» کہا ہے، پھر لوگوں نے اسے «من ظهرٍ إلى ظهرٍ» میں بدل دیا۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن سمى، مولى ابي بكر ان القعقاع، وزيد بن اسلم، ارسلاه الى سعيد بن المسيب يساله كيف تغتسل المستحاضة فقال تغتسل من ظهر الى ظهر وتتوضا لكل صلاة فان غلبها الدم استثفرت بثوب . قال ابو داود وروي عن ابن عمر وانس بن مالك تغتسل من ظهر الى ظهر . وكذلك روى داود وعاصم عن الشعبي عن امراته عن قمير عن عايشة الا ان داود قال كل يوم . وفي حديث عاصم عند الظهر . وهو قول سالم بن عبد الله والحسن وعطاء . قال ابو داود قال مالك اني لاظن حديث ابن المسيب من طهر الى طهر . فقلبها الناس من ظهر الى ظهر ولكن الوهم دخل فيه ورواه المسور بن عبد الملك بن سعيد بن عبد الرحمن بن يربوع قال فيه من طهر الى طهر . فقلبها الناس من ظهر الى ظهر
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مستحاضہ کا حیض آنا بند ہو جائے تو ہر روز ( وقت کی تخصیص کے بغیر ) غسل کرے اور گھی یا روغن زیتون لگا ہوا روئی کا ٹکڑا شرمگاہ میں رکھ لے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الله بن نمير، عن محمد بن ابي اسماعيل، - وهو محمد بن راشد - عن معقل الخثعمي، عن علي، - رضى الله عنه - قال المستحاضة اذا انقضى حيضها اغتسلت كل يوم واتخذت صوفة فيها سمن او زيت
محمد بن عثمان سے روایت ہے کہ انہوں نے قاسم بن محمد سے مستحاضہ کے بارے میں پوچھا تو قاسم بن محمد نے کہا: وہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی، پھر غسل کرے گی اور نماز پڑھے گی، پھر باقی ایام میں غسل کرتی رہے گی۔
حدثنا القعنبي، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - عن محمد بن عثمان، انه سال القاسم بن محمد عن المستحاضة، فقال تدع الصلاة ايام اقرايها ثم تغتسل فتصلي ثم تغتسل في الايام
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہیں استحاضہ کی شکایت تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب حیض کا خون ہو ( جو کہ بالکل سیاہ ہوتا ہے اور پہچان لیا جاتا ہے ) تو تم نماز سے رک جاؤ اور جب دوسری طرح کا خون آنے لگے تو وضو کرو اور نماز پڑھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ ابن مثنی نے کہا ہے کہ ابن ابی عدی نے اسے ہم سے زبانی بیان کیا تو اس میں انہوں نے «عن عروة عن عائشة أن فاطمة» کہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز یہ حدیث علاء بن مسیب اور شعبہ سے مروی ہے انہوں نے حکم سے اور حکم نے ابو جعفر سے روایت کیا ہے مگر علاء نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً اور شعبہ نے ابو جعفر سے موقوفاً بیان کیا ہے، اس میں یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، عن محمد، - يعني ابن عمرو - حدثني ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن فاطمة بنت ابي حبيش، انها كانت تستحاض فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم " اذا كان دم الحيض فانه دم اسود يعرف فاذا كان ذلك فامسكي عن الصلاة فاذا كان الاخر فتوضيي وصلي " . قال ابو داود قال ابن المثنى وحدثنا به ابن ابي عدي حفظا فقال عن عروة عن عايشة ان فاطمة . قال ابو داود وروي عن العلاء بن المسيب وشعبة عن الحكم عن ابي جعفر قال العلاء عن النبي صلى الله عليه وسلم واوقفه شعبة على ابي جعفر توضا لكل صلاة
عکرمہ کہتے ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے ایام حیض ( کے ختم ہونے ) کا انتظار کریں پھر غسل کریں اور نماز پڑھیں، پھر اگر اس میں سے کچھ ۱؎ انہیں محسوس ہو تو وضو کر لیں اور نماز پڑھیں۔
حدثنا زياد بن ايوب، حدثنا هشيم، اخبرنا ابو بشر، عن عكرمة، ان ام حبيبة بنت جحش، استحيضت فامرها النبي صلى الله عليه وسلم ان تنتظر ايام اقرايها ثم تغتسل وتصلي فان رات شييا من ذلك توضات وصلت
ربیعہ سے روایت ہے کہ وہ مستحاضہ کے لیے ہر نماز کے وقت وضو ضروری نہیں سمجھتے تھے سوائے اس کے کہ اسے خون کے علاوہ کوئی اور حدث لاحق ہو تو وہ وضو کرے گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہی مالک بن انس کا قول ہے۔
حدثنا عبد الملك بن شعيب، حدثني عبد الله بن وهب، اخبرنا الليث، عن ربيعة، انه كان لا يرى على المستحاضة وضوءا عند كل صلاة الا ان يصيبها حدث غير الدم فتوضا . قال ابو داود هذا قول مالك يعني ابن انس
ام عطیہ رضی اللہ عنہا (انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی) کہتی ہیں ہم حیض سے پاک ہو جانے کے بعد زردی اور گدلے پن کو کچھ نہیں سمجھتے تھے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، اخبرنا حماد، عن قتادة، عن ام الهذيل، عن ام عطية، وكانت، بايعت النبي صلى الله عليه وسلم قالت كنا لا نعد الكدرة والصفرة بعد الطهر شييا
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مثل مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ام ہذیل حفصہ بنت سیرین ہیں، ان کے لڑکے کا نام ہذیل اور شوہر کا نام عبدالرحمٰن ہے ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا اسماعيل، اخبرنا ايوب، عن محمد بن سيرين، عن ام عطية، بمثله . قال ابو داود ام الهذيل هي حفصة بنت سيرين كان ابنها اسمه هذيل واسم زوجها عبد الرحمن
عکرمہ کہتے ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آتا تھا اور ان کے شوہر ان سے صحبت کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یحییٰ بن معین نے کہا ہے کہ معلی ثقہ ہیں اور احمد بن حنبل ان سے اس لیے روایت نہیں کرتے تھے کہ وہ قیاس و رائے میں دخل رکھتے تھے۔
حدثنا ابراهيم بن خالد، حدثنا معلى بن منصور، عن علي بن مسهر، عن الشيباني، عن عكرمة، قال كانت ام حبيبة تستحاض فكان زوجها يغشاها . قال ابو داود وقال يحيى بن معين معلى ثقة . وكان احمد بن حنبل لا يروي عنه لانه كان ينظر في الراى
حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ مستحاضہ ہوتی تھیں اور ان کے شوہر ان سے جماع کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم ( ۳۰۵ ) ، ( تحفة الأشراف: ۱۵۸۲۱ ) ( حسن)
حدثنا احمد بن ابي سريج الرازي، اخبرنا عبد الله بن الجهم، حدثنا عمرو بن ابي قيس، عن عاصم، عن عكرمة، عن حمنة بنت جحش، انها كانت مستحاضة وكان زوجها يجامعها
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نفاس والی عورتیں زچگی کے بعد چالیس دن یا چالیس رات تک بیٹھی رہتی تھیں ۱؎، ہم اپنے چہروں پر ورس ۲؎ ملا کرتے تھے یعنی جھائیوں کی وجہ سے۔
حدثنا احمد بن يونس، اخبرنا زهير، حدثنا علي بن عبد الاعلى، عن ابي سهل، عن مسة، عن ام سلمة، قالت كانت النفساء على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم تقعد بعد نفاسها اربعين يوما او اربعين ليلة وكنا نطلي على وجوهنا الورس يعني من الكلف
مسہازدیہ (ام بسہ) سے روایت ہے کہ میں حج کو گئی تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حاضر ہوئی، میں نے ان سے کہا: اے ام المؤمنین! سمرہ بن جندب عورتوں کو حیض کی نمازیں قضاء کرنے کا حکم دیتے ہیں، اس پر انہوں نے کہا: وہ قضاء نہ کریں ( کیونکہ ) عورت جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے ہوتی ۱؎ حالت نفاس میں چالیس دن تک بیٹھی رہتی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے نفاس کی نماز قضاء کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔
حدثنا الحسن بن يحيى، اخبرنا محمد بن حاتم، - يعني حبي - حدثنا عبد الله بن المبارك، عن يونس بن نافع، عن كثير بن زياد، قال حدثتني الازدية، - يعني مسة - قالت حججت فدخلت على ام سلمة فقلت يا ام المومنين ان سمرة بن جندب يامر النساء يقضين صلاة المحيض . فقالت لا يقضين كانت المراة من نساء النبي صلى الله عليه وسلم تقعد في النفاس اربعين ليلة لا يامرها النبي صلى الله عليه وسلم بقضاء صلاة النفاس . قال محمد يعني ابن حاتم واسمها مسة تكنى ام بسة . قال ابو داود كثير بن زياد كنيته ابو سهل
ایک غفاری عورت رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے اپنے کجاوے کے حقیبہ ۱؎ پر بٹھایا پھر اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح تک مسلسل چلتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ بٹھا دیا، میں کجاوے کے حقیبہ پر سے اتری تو اس میں حیض کے خون کا نشان پایا، یہ میرا پہلا حیض تھا جو مجھے آیا، وہ کہتی ہیں: میں شرم کی وجہ سے اونٹنی کے پاس سمٹ گئی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حال دیکھا اور خون بھی دیکھا تو فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ شاید حیض آ گیا ہے ، میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے آپ کو ٹھیک کر لو ( کچھ باندھ لو تاکہ خون باہر نہ نکلے ) پھر پانی کا ایک برتن لے کر اس میں نمک ڈال لو اور حقیبہ میں لگے ہوئے خون کو دھو ڈالو، پھر اپنی سواری پر واپس آ کر بیٹھ جاؤ ۔ وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو فتح کیا تو مال فی میں سے ہمیں بھی ایک حصہ دیا۔ وہ کہتی ہیں: پھر وہ جب بھی حیض سے پاکی حاصل کرتیں تو اپنے پاکی کے پانی میں نمک ضرور ڈالتیں، اور جب ان کی وفات کا وقت آیا تو اپنے غسل کے پانی میں بھی نمک ڈالنے کی وصیت کر گئیں۔
حدثنا محمد بن عمرو الرازي، حدثنا سلمة، - يعني ابن الفضل - اخبرنا محمد، - يعني ابن اسحاق - عن سليمان بن سحيم، عن امية بنت ابي الصلت، عن امراة، من بني غفار قد سماها لي قالت اردفني رسول الله صلى الله عليه وسلم على حقيبة رحله - قالت - فوالله لم يزل رسول الله صلى الله عليه وسلم الى الصبح فاناخ ونزلت عن حقيبة رحله فاذا بها دم مني فكانت اول حيضة حضتها - قالت - فتقبضت الى الناقة واستحييت فلما راى رسول الله صلى الله عليه وسلم ما بي وراى الدم قال " ما لك لعلك نفست " . قلت نعم . قال " فاصلحي من نفسك ثم خذي اناء من ماء فاطرحي فيه ملحا ثم اغسلي ما اصاب الحقيبة من الدم ثم عودي لمركبك " . قالت فلما فتح رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر رضخ لنا من الفىء - قالت - وكانت لا تطهر من حيضة الا جعلت في طهورها ملحا واوصت به ان يجعل في غسلها حين ماتت
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء ( اسماء بنت شکل انصاریہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی حیض سے پاک ہو تو وہ کس طرح غسل کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیر کی پتی ملا ہوا پانی لے کر وضو کرے، پھر اپنا سر دھوئے، اور اسے ملے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہائے، پھر روئی کا پھاہا لے کر اس سے طہارت حاصل کرے ۔ اسماء نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس ( پھاہے ) سے طہارت کس طرح حاصل کروں؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات کنایۃً کہی وہ میں سمجھ گئی، چنانچہ میں نے ان سے کہا: تم اسے خون کے نشانات پر پھیرو۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، اخبرنا سلام بن سليم، عن ابراهيم بن مهاجر، عن صفية بنت شيبة، عن عايشة، قالت دخلت اسماء على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله كيف تغتسل احدانا اذا طهرت من المحيض قال " تاخذ سدرها وماءها فتوضا ثم تغسل راسها وتدلكه حتى يبلغ الماء اصول شعرها ثم تفيض على جسدها ثم تاخذ فرصتها فتطهر بها " . قالت يا رسول الله كيف اتطهر بها قالت عايشة فعرفت الذي يكني عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت لها تتبعين بها اثار الدم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصار کی عورتوں کا ذکر کیا تو ان کی تعریف کی اور ان کے حق میں بھلی بات کہی اور بولیں: ان میں سے ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، پھر راوی نے سابقہ مفہوم کی حدیث بیان کی، مگر اس میں انہوں نے«فرصة ممسكة» ( مشک میں بسا ہوا پھاہا ) کہا۔ مسدد کا بیان ہے کہ ابوعوانہ «فرصة» ( پھاہا ) کہتے تھے اور ابوالاحوص «قرصة» ( روئی کا ٹکڑا ) کہتے تھے۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، اخبرنا ابو عوانة، عن ابراهيم بن مهاجر، عن صفية بنت شيبة، عن عايشة، انها ذكرت نساء الانصار فاثنت عليهن وقالت لهن معروفا وقالت دخلت امراة منهن على رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر معناه الا انه قال " فرصة ممسكة " . قال مسدد كان ابو عوانة يقول فرصة وكان ابو الاحوص يقول قرصة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، پھر آگے اسی مفہوم کی حدیث ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشک لگا ہوا روئی کا پھاہا ( لے کر اس سے پاکی حاصل کرو ) ، اسماء نے کہا: اس سے میں کیسے پاکی حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! اس سے پاکی حاصل کرو ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے سے ( اپنا چہرہ ) چھپا لیا۔ اس حدیث میں اتنا اضافہ ہے کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے غسل جنابت کے بارے میں بھی دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پانی لے لو، پھر اس سے خوب اچھی طرح سے پاکی حاصل کرو، پھر اپنے سر پر پانی ڈالو، پھر اسے اتنا ملو کہ پانی بالوں کی جڑوں میں پہنچ جائے، پھر اپنے اوپر پانی بہاؤ ۔ راوی کہتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: انصار کی عورتیں کتنی اچھی ہیں انہیں دین کا مسئلہ دریافت کرنے اور اس کو سمجھنے میں حیاء مانع نہیں ہوتی۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ العنبري، اخبرني ابي، عن شعبة، عن ابراهيم، - يعني ابن مهاجر - عن صفية بنت شيبة، عن عايشة، ان اسماء، سالت النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه قال " فرصة ممسكة " . قالت كيف اتطهر بها قال " سبحان الله تطهري بها واستتري بثوب " . وزاد وسالته عن الغسل من الجنابة فقال " تاخذين ماءك فتطهرين احسن الطهور وابلغه ثم تصبين على راسك الماء ثم تدلكينه حتى يبلغ شيون راسك ثم تفيضين عليك الماء " . قال وقالت عايشة نعم النساء نساء الانصار لم يكن يمنعهن الحياء ان يسالن عن الدين ويتفقهن فيه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ کچھ لوگوں کو وہ ہار ڈھونڈنے کے لیے بھیجا جسے عائشہ نے کھو دیا تھا، وہاں نماز کا وقت ہو گیا تو لوگوں نے بغیر وضو نماز پڑھ لی، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو تیمم کی آیت اتاری گئی۔ ابن نفیل نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے! آپ کو جب بھی کوئی ایسا معاملہ پیش آیا جسے آپ ناگوار سمجھتی رہیں تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے اور آپ کے لیے اس میں ضرور کشادگی پیدا کر دی ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، اخبرنا ابو معاوية، ح وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، اخبرنا عبدة، - المعنى واحد - عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم اسيد بن حضير واناسا معه في طلب قلادة اضلتها عايشة فحضرت الصلاة فصلوا بغير وضوء فاتوا النبي صلى الله عليه وسلم فذكروا ذلك له فانزلت اية التيمم زاد ابن نفيل فقال لها اسيد بن حضير يرحمك الله ما نزل بك امر تكرهينه الا جعل الله للمسلمين ولك فيه فرجا
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ لوگوں نے فجر کی نماز کے لیے پاک مٹی سے تیمم کیا، یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو انہوں نے مٹی پر اپنا ہاتھ مارا اور منہ پر ایک دفعہ پھیر لیا، پھر دوبارہ مٹی پر ہاتھ مارا اور اپنے پورے ہاتھوں پر پھیر لیا یعنی اپنی ہتھیلیوں سے لے کر کندھوں اور بغلوں تک ۱؎۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، حدثه عن عمار بن ياسر، انه كان يحدث انهم تمسحوا وهم مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالصعيد لصلاة الفجر فضربوا باكفهم الصعيد ثم مسحوا وجوههم مسحة واحدة ثم عادوا فضربوا باكفهم الصعيد مرة اخرى فمسحوا بايديهم كلها الى المناكب والاباط من بطون ايديهم
اس سند سے ابن وہب سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ، اس میں ہے کہ مسلمان کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو مٹی پر مارا اور مٹی بالکل نہیں لی ، پھر راوی نے اسی جیسی حدیث ذکر کی، اس میں انہوں نے «المناكب والآباط» ( کندھوں اور بغلوں ) کا ذکر نہیں کیا ۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، وعبد الملك بن شعيب، عن ابن وهب، نحو هذا الحديث قال قام المسلمون فضربوا باكفهم التراب ولم يقبضوا من التراب شييا فذكر نحوه ولم يذكر المناكب والاباط . قال ابن الليث الى ما فوق المرفقين
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اولات الجیش ۱؎ میں رات گزارنے کے لیے ٹھہرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، ان کا ہار جو ظفار کے مونگوں سے بنا تھا ٹوٹ کر گر گیا، چنانچہ ہار کی تلاش کے سبب لوگ روک لیے گئے یہاں تک کہ صبح روشن ہو گئی اور لوگوں کے پاس پانی موجود نہیں تھا، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر ناراض ہو گئے اور کہا: تم نے لوگوں کو روک رکھا ہے، حالانکہ ان کے پاس پانی نہیں ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پاک مٹی سے طہارت حاصل کرنے کی رخصت نازل فرمائی، مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے، اپنے ہاتھ زمین پر مار کر اسے اس طرح اٹھا لیا کہ مٹی بالکل نہیں لگی، پھر اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مونڈھوں تک اور ہتھیلیوں سے بغلوں تک مسح کیا۔ ابن یحییٰ نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ ابن شہاب نے اپنی روایت میں کہا: لوگوں کے نزدیک اس فعل کا اعتبار نہیں ہے ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسی طرح ابن اسحاق نے روایت کی ہے اس میں انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے دو ضربہ ۳؎ کا ذکر کیا ہے جس طرح یونس نے ذکر کیا ہے، نیز معمر نے بھی زہری سے دو ضربہ کی روایت کی ہے۔ مالک نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، عبیداللہ نے اپنے والد عبداللہ سے، عبداللہ نے عمار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور اسی طرح ابواویس نے زہری سے روایت کی ہے، اور ابن عیینہ نے اس میں شک کیا ہے: کبھی انہوں نے «عن عبيد الله عن أبيه» کہا، اور کبھی «عن عبيد الله عن ابن عباس» یعنی کبھی «عن أبيه» اور کبھی «عن ابن عباس» ذکر کیا۔ ابن عیینہ اس میں ۴؎ اور زہری سے اپنے سماع میں ۵؎ مضطرب ہیں نیز زہری کے رواۃ میں سے کسی نے دو ضربہ کا ذکر نہیں کیا ہے سوائے ان لوگوں کے جن کا میں نے نام لیا ہے ۶؎۔
حدثنا محمد بن احمد بن ابي خلف، ومحمد بن يحيى النيسابوري، - في اخرين - قالوا حدثنا يعقوب، اخبرنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، حدثني عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، عن عمار بن ياسر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم عرس باولات الجيش ومعه عايشة فانقطع عقد لها من جزع ظفار فحبس الناس ابتغاء عقدها ذلك حتى اضاء الفجر وليس مع الناس ماء فتغيظ عليها ابو بكر وقال حبست الناس وليس معهم ماء فانزل الله تعالى على رسوله صلى الله عليه وسلم رخصة التطهر بالصعيد الطيب فقام المسلمون مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فضربوا بايديهم الى الارض ثم رفعوا ايديهم ولم يقبضوا من التراب شييا فمسحوا بها وجوههم وايديهم الى المناكب ومن بطون ايديهم الى الاباط . زاد ابن يحيى في حديثه قال ابن شهاب في حديثه ولا يعتبر بهذا الناس . قال ابو داود وكذلك رواه ابن اسحاق قال فيه عن ابن عباس وذكر ضربتين كما ذكر يونس ورواه معمر عن الزهري ضربتين وقال مالك عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن ابيه عن عمار وكذلك قال ابو اويس عن الزهري وشك فيه ابن عيينة قال مرة عن عبيد الله عن ابيه او عن عبيد الله عن ابن عباس ومرة قال عن ابيه ومرة قال عن ابن عباس اضطرب ابن عيينة فيه وفي سماعه من الزهري ولم يذكر احد منهم في هذا الحديث الضربتين الا من سميت