Loading...

Loading...
کتب
۳۹۰ احادیث
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے درمیان بیٹھا ہوا تھا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! ( یہ عبداللہ بن مسعود کی کنیت ہے ) اس مسئلے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص جنبی ہو جائے اور ایک مہینے تک پانی نہ پائے تو کیا وہ تیمم کرتا رہے؟ عبداللہ بن مسعود نے کہا: تیمم نہ کرے، اگرچہ ایک مہینہ تک پانی نہ ملے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ سورۃ المائدہ کی اس آیت: «فلم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا» پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: اگر تیمم کی رخصت دی جائے تو قریب ہے کہ جب پانی ٹھنڈا ہو تو لوگ مٹی سے تیمم کرنے لگیں۔ اس پر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ نے اسی وجہ سے اسے ناپسند کیا ہے؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ نے عمار رضی اللہ عنہ کی بات ( جو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہی ) نہیں سنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا تو میں جنبی ہو گیا اور مجھے پانی نہیں ملا تو میں مٹی ( زمین ) پر لوٹا جیسے جانور لوٹتا ہے، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں تو بس اس طرح کر لینا کافی تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، پھر اسے جھاڑا، پھر اپنے بائیں سے اپنی دائیں ہتھیلی پر اور دائیں سے بائیں ہتھیلی پر مارا، پھر اپنے چہرے کا مسح کیا، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ عمر رضی اللہ عنہ، عمار رضی اللہ عنہ کی اس بات سے مطمئن نہیں ہوئے؟ ! ۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا ابو معاوية الضرير، عن الاعمش، عن شقيق، قال كنت جالسا بين عبد الله وابي موسى فقال ابو موسى يا ابا عبد الرحمن ارايت لو ان رجلا اجنب فلم يجد الماء شهرا . اما كان يتيمم فقال لا وان لم يجد الماء شهرا فقال ابو موسى فكيف تصنعون بهذه الاية التي في سورة المايدة { فلم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا } فقال عبد الله لو رخص لهم في هذا لاوشكوا اذا برد عليهم الماء ان يتيمموا بالصعيد . فقال له ابو موسى وانما كرهتم هذا لهذا قال نعم فقال له ابو موسى الم تسمع قول عمار لعمر بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم في حاجة فاجنبت فلم اجد الماء فتمرغت في الصعيد كما تتمرغ الدابة ثم اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال " انما كان يكفيك ان تصنع هكذا " . فضرب بيده على الارض فنفضها ثم ضرب بشماله على يمينه وبيمينه على شماله على الكفين ثم مسح وجهه . فقال له عبد الله افلم تر عمر لم يقنع بقول عمار
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کہتے ہیں کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: بسا اوقات ہم کسی جگہ ماہ دو ماہ ٹھہرے رہتے ہیں ( جہاں پانی موجود نہیں ہوتا اور ہم جنبی ہو جاتے ہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟ ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جہاں تک میرا معاملہ ہے تو جب تک مجھے پانی نہ ملے میں نماز نہیں پڑھ سکتا، وہ کہتے ہیں: اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب میں اور آپ اونٹوں میں تھے ( اونٹ چراتے تھے ) اور ہمیں جنابت لاحق ہو گئی، بہرحال میں تو مٹی ( زمین ) پر لوٹا، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں بس اس طرح کر لینا کافی تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر ان پر پھونک ماری اور اپنے چہرے اور اپنے دونوں ہاتھوں پر نصف ذراع تک پھیر لیا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عمار! اللہ سے ڈرو ۱؎، انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو قسم اللہ کی میں اسے کبھی ذکر نہ کروں، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہرگز نہیں، قسم اللہ کی ہم تمہاری بات کا تمہیں اختیار دیتے ہیں، یعنی معاملہ تم پر چھوڑتے ہیں تم اسے بیان کرنا چاہو تو کرو۔
حدثنا محمد بن كثير العبدي، حدثنا سفيان، عن سلمة بن كهيل، عن ابي مالك، عن عبد الرحمن بن ابزى، قال كنت عند عمر فجاءه رجل فقال انا نكون بالمكان الشهر والشهرين . فقال عمر اما انا فلم اكن اصلي حتى اجد الماء . قال فقال عمار يا امير المومنين اما تذكر اذ كنت انا وانت في الابل فاصابتنا جنابة فاما انا فتمعكت فاتينا النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال " انما كان يكفيك ان تقول هكذا " . وضرب بيديه الى الارض ثم نفخهما ثم مسح بهما وجهه ويديه الى نصف الذراع . فقال عمر يا عمار اتق الله . فقال يا امير المومنين ان شيت والله لم اذكره ابدا . فقال عمر كلا والله لنولينك من ذلك ما توليت
ابن ابزی عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے اس حدیث میں یہ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمار! تمہیں اس طرح کر لینا کافی تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر ایک بار مارا پھر ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا پھر اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں پر دونوں کلائیوں کے نصف تک پھیرا اور کہنیوں تک نہیں پہنچے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وکیع نے اعمش سے، انہوں نے سلمہ بن کہیل سے اور سلمہ نے عبدالرحمٰن بن ابزی سے روایت کیا ہے، نیز اسے جریر نے اعمش سے، اعمش نے سلمہ بن کہیل سے، سلمہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور سعید نے اپنے والد سے روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا حفص، حدثنا الاعمش، عن سلمة بن كهيل، عن ابن ابزى، عن عمار بن ياسر، في هذا الحديث فقال " يا عمار انما كان يكفيك هكذا " . ثم ضرب بيديه الارض ثم ضرب احداهما على الاخرى ثم مسح وجهه والذراعين الى نصف الساعدين ولم يبلغ المرفقين ضربة واحدة . قال ابو داود ورواه وكيع عن الاعمش عن سلمة بن كهيل عن عبد الرحمن بن ابزى ورواه جرير عن الاعمش عن سلمة بن كهيل عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى يعني عن ابيه
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن ابزی سے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں بس اتنا کر لینا کافی تھا ، اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، پھر اس میں پھونک مار کر اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر پھیر لیا، سلمہ کو شک ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ اس میں «إلى المرفقين» ہے یا«إلى الكفين.» ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہنیوں تک پھیرا، یا پہونچوں تک ) ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد، - يعني ابن جعفر - اخبرنا شعبة، عن سلمة، عن ذر، عن ابن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، عن عمار، بهذه القصة فقال " انما كان يكفيك " . وضرب النبي صلى الله عليه وسلم بيده الى الارض ثم نفخ فيها ومسح بها وجهه وكفيه شك سلمة وقال لا ادري فيه الى المرفقين . يعني او الى الكفين
حجاج اعور کہتے ہیں کہ شعبہ نے اسی سند سے یہی حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر کہنیوں یا ذراعین ۱؎ تک پھیرا۔ شعبہ کا بیان ہے کہ سلمہ کہتے تھے: دونوں ہتھیلیوں، چہرے اور ذراعین پر پھیرا، تو ایک دن منصور نے ان سے کہا: جو کہہ رہے ہو خوب دیکھ بھال کر کہو، کیونکہ تمہارے علاوہ ذراعین کو اور کوئی ذکر نہیں کرتا۔
حدثنا علي بن سهل الرملي، حدثنا حجاج، - يعني الاعور - حدثني شعبة، باسناده بهذا الحديث قال ثم نفخ فيها ومسح بها وجهه وكفيه الى المرفقين او الى الذراعين . قال شعبة كان سلمة يقول الكفين والوجه والذراعين فقال له منصور ذات يوم انظر ما تقول فانه لا يذكر الذراعين غيرك
اس طریق سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے بواسطہ عمار رضی اللہ عنہ اس حدیث میں مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مار کر انہیں اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر پھیر لینا تمہارے لیے کافی تھا ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے شعبہ نے حصین سے، حصین نے ابو مالک سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: میں نے عمار رضی اللہ عنہ کو اسی طرح خطبہ میں بیان کرتے ہوئے سنا ہے مگر اس میں انہوں نے کہا: پھونک نہیں ماری ، اور حسین بن محمد نے شعبہ سے اور انہوں نے حکم سے روایت کی ہے، اس میں انہوں نے کہا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو مارا اور اس میں پھونک ماری۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، حدثني الحكم، عن ذر، عن ابن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، عن عمار، في هذا الحديث قال فقال يعني النبي صلى الله عليه وسلم " انما كان يكفيك ان تضرب بيديك الى الارض فتمسح بهما وجهك وكفيك " . وساق الحديث . قال ابو داود ورواه شعبة عن حصين عن ابي مالك قال سمعت عمارا يخطب بمثله الا انه قال لم ينفخ . وذكر حسين بن محمد عن شعبة عن الحكم في هذا الحديث قال ضرب بكفيه الى الارض ونفخ
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تیمم کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے مجھے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے لیے ایک ضربہ ۱؎ کا حکم دیا۔
حدثنا محمد بن المنهال، حدثنا يزيد بن زريع، عن سعيد، عن قتادة، عن عزرة، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، عن عمار بن ياسر، قال سالت النبي صلى الله عليه وسلم عن التيمم فامرني ضربة واحدة للوجه والكفين
موسیٰ بن اسماعیل کہتے ہیں: ہم سے ابان نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں قتادہ سے سفر میں تیمم کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے ایک محدث نے بیان کیا ہے، اس نے شعبی سے شعبی نے عبدالرحمٰن بن ابزی سے ابزی نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہنیوں تک ( مسح کرے ) ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان، قال سيل قتادة عن التيمم، في السفر فقال حدثني محدث، عن الشعبي، عن عبد الرحمن بن ابزى، عن عمار بن ياسر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الى المرفقين
بداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر کہتے ہیں کہ میں اور ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ بن یسار دونوں ابوجہیم بن حارث بن صمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو ابوجہیم نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بئرجمل ( مدینے کے قریب ایک جگہ کا نام ) کی طرف سے تشریف لائے تو ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور اس نے آپ کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ ایک دیوار کے پاس آئے اور آپ نے ( دونوں ہاتھوں کو دیوار پر مار کر ) اپنے منہ اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا۔
حدثنا عبد الملك بن شعيب بن الليث، اخبرنا ابي، عن جدي، عن جعفر بن ربيعة، عن عبد الرحمن بن هرمز، عن عمير، مولى ابن عباس انه سمعه يقول اقبلت انا وعبد الله بن يسار، مولى ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم حتى دخلنا على ابي الجهيم بن الحارث بن الصمة الانصاري فقال ابو الجهيم اقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم من نحو بير جمل فلقيه رجل فسلم عليه فلم يرد رسول الله صلى الله عليه وسلم عليه السلام حتى اتى على جدار فمسح بوجهه ويديه ثم رد عليه السلام
نافع کہتے ہیں: میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کسی ضرورت کے تحت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی ضرورت پوری کی اور اس دن ان کی گفتگو میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ایک آدمی ایک گلی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہو کر گزرا اور آپ ( ابھی ) پاخانہ یا پیشاب سے فارغ ہو کر نکلے تھے کہ اس آدمی نے سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ جب وہ شخص گلی میں آپ کی نظروں سے اوجھل ہو جانے کے قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مارے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرا، پھر دوسری بار اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مارے اور اس سے دونوں ہاتھوں کا مسح کیا پھر اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: مجھے تیرے سلام کا جواب دینے میں کوئی چیز مانع نہیں تھی سوائے اس کے کہ میں پاکی کی حالت میں نہیں تھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا کہ محمد بن ثابت نے تیمم کے باب میں ایک منکر حدیث روایت کی ہے۔ ابن داسہ کہتے ہیں کہ ابوداؤد نے کہا ہے کہ اس قصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو ضربہ پر محمد بن ثابت کی متابعت ( موافقت ) نہیں کی گئی ہے، صرف انہوں نے ہی دو ضربہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل قرار دیا ہے، ان کے علاوہ دیگر حضرات نے اسے ابن عمر رضی اللہ عنہما کا فعل روایت کیا ہے۔
حدثنا احمد بن ابراهيم الموصلي ابو علي، اخبرنا محمد بن ثابت العبدي، اخبرنا نافع، قال انطلقت مع ابن عمر في حاجة الى ابن عباس فقضى ابن عمر حاجته فكان من حديثه يوميذ ان قال مر رجل على رسول الله صلى الله عليه وسلم في سكة من السكك وقد خرج من غايط او بول فسلم عليه فلم يرد عليه حتى اذا كاد الرجل ان يتوارى في السكة ضرب بيديه على الحايط ومسح بهما وجهه ثم ضرب ضربة اخرى فمسح ذراعيه ثم رد على الرجل السلام وقال " انه لم يمنعني ان ارد عليك السلام الا اني لم اكن على طهر " . قال ابو داود سمعت احمد بن حنبل يقول روى محمد بن ثابت حديثا منكرا في التيمم . قال ابن داسة قال ابو داود لم يتابع محمد بن ثابت في هذه القصة على ضربتين عن النبي صلى الله عليه وسلم ورووه فعل ابن عمر
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاخانہ سے فارغ ہو کر آئے تو بئر جمل کے پاس ایک آدمی کی ملاقات آپ سے ہو گئی، اس نے آپ کو سلام کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ ایک دیوار کے پاس آئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو دیوار پر مارا پھر اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے سلام کا جواب دیا۔
حدثنا جعفر بن مسافر، حدثنا عبد الله بن يحيى البرلسي، حدثنا حيوة بن شريح، عن ابن الهاد، ان نافعا، حدثه عن ابن عمر، قال اقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم من الغايط فلقيه رجل عند بير جمل فسلم عليه فلم يرد عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اقبل على الحايط فوضع يده على الحايط ثم مسح وجهه ويديه ثم رد رسول الله صلى الله عليه وسلم على الرجل السلام
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ بکریاں جمع ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! تم ان بکریوں کو جنگل میں لے جاؤ ، چنانچہ میں انہیں ہانک کر مقام ربذہ کی طرف لے گیا، وہاں مجھے جنابت لاحق ہو جایا کرتی تھی اور میں پانچ پانچ چھ چھ روز یوں ہی رہا کرتا، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: ابوذر! ، میں خاموش رہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں تم پر روئے، ابوذر! تمہاری ماں کے لیے بربادی ہو ۱؎ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے ایک کالی لونڈی بلائی، وہ ایک بڑے پیالے میں پانی لے کر آئی، اس نے میرے لیے ایک کپڑے کی آڑ کی اور ( دوسری طرف سے ) میں نے اونٹ کی آڑ کی اور غسل کیا، ( غسل کر کے مجھے ایسا لگا ) گویا کہ میں نے اپنے اوپر سے کوئی پہاڑ ہٹا دیا ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو ( کے پانی کے حکم میں ) ہے، اگرچہ دس برس تک پانی نہ پائے، جب تم پانی پا جاؤ تو اس کو اپنے بدن پر بہا لو، اس لیے کہ یہ بہتر ہے ۔ مسدد کی روایت میں «غنيمة من الصدقة» کے الفاظ ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو کی روایت زیادہ کامل ہے۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا خالد الواسطي، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، ح وحدثنا مسدد، اخبرنا خالد، - يعني ابن عبد الله الواسطي - عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن عمرو بن بجدان، عن ابي ذر، قال اجتمعت غنيمة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " يا ابا ذر ابد فيها " . فبدوت الى الربذة فكانت تصيبني الجنابة فامكث الخمس والست فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ابو ذر " . فسكت فقال " ثكلتك امك ابا ذر لامك الويل " . فدعا لي بجارية سوداء فجاءت بعس فيه ماء فسترتني بثوب واستترت بالراحلة واغتسلت فكاني القيت عني جبلا فقال " الصعيد الطيب وضوء المسلم ولو الى عشر سنين فاذا وجدت الماء فامسه جلدك فان ذلك خير " . وقال مسدد غنيمة من الصدقة . قال ابو داود وحديث عمرو اتم
قبیلہ بنی عامر کے ایک آدمی کہتے ہیں کہ میں اسلام میں داخل ہوا تو مجھے اپنا دین سیکھنے کی فکر لاحق ہوئی لہٰذا میں ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے کہا: مجھے مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ اونٹ اور بکریاں دینے کا حکم دیا اور مجھ سے فرمایا: تم ان کا دودھ پیو ، ( حماد کا بیان ہے کہ مجھے شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیشاب بھی پینے کے لیے کہا یا نہیں، یہ حماد کا قول ہے ) ، پھر ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پانی سے ( اکثر ) دور رہا کرتا تھا اور میرے ساتھ میری بیوی بھی تھی، مجھے جنابت لاحق ہوتی تو میں بغیر طہارت کے نماز پڑھ لیتا تھا، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوپہر کے وقت آیا، آپ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد کے سائے میں ( بیٹھے ) تھے، آپ نے فرمایا: ابوذر؟ ، میں نے کہا: جی، اللہ کے رسول! میں تو ہلاک و برباد ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس چیز نے تمہیں ہلاک و برباد کیا؟ ، میں نے کہا: میں پانی سے دور رہا کرتا تھا اور میرے ساتھ میری بیوی تھی، مجھے جنابت لاحق ہوتی تو میں بغیر طہارت کے نماز پڑھ لیتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے پانی لانے کا حکم دیا، چنانچہ ایک کالی لونڈی بڑے برتن میں پانی لے کر آئی جو برتن میں ہل رہا تھا، برتن بھرا ہوا نہیں تھا، پھر میں نے اپنے اونٹ کی آڑ کی اور غسل کیا، پھر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! پاک مٹی پاک کرنے والی ہے، اگرچہ تم دس سال تک پانی نہ پاؤ، لیکن جب تمہیں پانی مل جائے تو اسے اپنی کھال پر بہاؤ ( غسل کرو ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن زید نے ایوب سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے پیشاب کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ صحیح نہیں ہے اور پیشاب کا ذکر صرف انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، جس میں اہل بصرہ منفرد ہیں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، اخبرنا حماد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن رجل، من بني عامر قال دخلت في الاسلام فاهمني ديني فاتيت ابا ذر فقال ابو ذر اني اجتويت المدينة فامر لي رسول الله صلى الله عليه وسلم بذود وبغنم فقال لي " اشرب من البانها " . قال حماد واشك في " ابوالها " . هذا قول حماد . فقال ابو ذر فكنت اعزب عن الماء ومعي اهلي فتصيبني الجنابة فاصلي بغير طهور فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بنصف النهار وهو في رهط من اصحابه وهو في ظل المسجد فقال " ابو ذر " . فقلت نعم هلكت يا رسول الله . قال " وما اهلكك " . قلت اني كنت اعزب عن الماء ومعي اهلي فتصيبني الجنابة فاصلي بغير طهور فامر لي رسول الله صلى الله عليه وسلم بماء فجاءت به جارية سوداء بعس يتخضخض ما هو بملان فتسترت الى بعيري فاغتسلت ثم جيت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ابا ذر ان الصعيد الطيب طهور وان لم تجد الماء الى عشر سنين فاذا وجدت الماء فامسه جلدك " . قال ابو داود رواه حماد بن زيد عن ايوب لم يذكر " ابوالها " . قال ابو داود هذا ليس بصحيح وليس في ابوالها الا حديث انس تفرد به اهل البصرة
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ ذات السلاسل کی ایک ٹھنڈی رات میں مجھے احتلام ہو گیا اور مجھے یہ ڈر لگا کہ اگر میں نے غسل کر لیا تو مر جاؤں گا، چنانچہ میں نے تیمم کر کے اپنے ساتھیوں کو فجر پڑھائی، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: عمرو! تم نے جنابت کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی؟ ، چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل نہ کرنے کا سبب بتایا اور کہا: میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنا کہ «ولا تقتلوا أنفسكم إن الله كان بكم رحيما» ( سورۃ النساء: ۲۹ ) تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر رحم کرنے والا ہے یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور آپ نے کچھ نہیں کہا۔
حدثنا ابن المثنى، اخبرنا وهب بن جرير، اخبرنا ابي قال، سمعت يحيى بن ايوب، يحدث عن يزيد بن ابي حبيب، عن عمران بن ابي انس، عن عبد الرحمن بن جبير المصري، عن عمرو بن العاص، قال احتلمت في ليلة باردة في غزوة ذات السلاسل فاشفقت ان اغتسلت ان اهلك فتيممت ثم صليت باصحابي الصبح فذكروا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " يا عمرو صليت باصحابك وانت جنب " . فاخبرته بالذي منعني من الاغتسال وقلت اني سمعت الله يقول { ولا تقتلوا انفسكم ان الله كان بكم رحيما } فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يقل شييا . قال ابو داود عبد الرحمن بن جبير مصري مولى خارجة بن حذافة وليس هو ابن جبير بن نفير
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے غلام ابو قیس سے روایت ہے کہ عمرو بن العاص ایک سریہ کے سردار تھے، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے: تو انہوں نے اپنی شرمگاہ کے آس پاس کا حصہ دھویا، پھر وضو کیا جس طرح نماز کے لیے وضو کرتے ہیں پھر لوگوں کو نماز پڑھائی، آگے راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی مگر اس میں تیمم کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ واقعہ اوزاعی نے حسان بن عطیہ سے روایت کیا ہے، اس میں «فتيمم» کے الفاظ ہیں ( یعنی انہوں نے تیمم کیا ) ۔
حدثنا محمد بن سلمة المرادي، اخبرنا ابن وهب، عن ابن لهيعة، وعمرو بن الحارث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عمران بن ابي انس، عن عبد الرحمن بن جبير، عن ابي قيس، مولى عمرو بن العاص ان عمرو بن العاص، كان على سرية وذكر الحديث نحوه . قال فغسل مغابنه وتوضا وضوءه للصلاة ثم صلى بهم فذكر نحوه ولم يذكر التيمم . قال ابو داود ورويت هذه القصة عن الاوزاعي عن حسان بن عطية قال فيه فتيمم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نکلے، تو ہم میں سے ایک شخص کو ایک پتھر لگا، جس سے اس کا سر پھٹ گیا، پھر اسے احتلام ہو گیا تو اس نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا: کیا تم لوگ میرے لیے تیمم کی رخصت پاتے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم تمہارے لیے تیمم کی رخصت نہیں پاتے، اس لیے کہ تم پانی پر قادر ہو، چنانچہ اس نے غسل کیا تو وہ مر گیا، پھر جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس واقعہ کی خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ ان کو مارے، جب ان کو مسئلہ معلوم نہیں تھا تو انہوں نے کیوں نہیں پوچھ لیا؟ نہ جاننے کا علاج پوچھنا ہی ہے، اسے بس اتنا کافی تھا کہ تیمم کر لیتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھ لیتا ( یہ شک موسیٰ کو ہوا ہے ) ، پھر اس پر مسح کر لیتا اور اپنے باقی جسم کو دھو ڈالتا ۔
حدثنا موسى بن عبد الرحمن الانطاكي، حدثنا محمد بن سلمة، عن الزبير بن خريق، عن عطاء، عن جابر، قال خرجنا في سفر فاصاب رجلا منا حجر فشجه في راسه ثم احتلم فسال اصحابه فقال هل تجدون لي رخصة في التيمم فقالوا ما نجد لك رخصة وانت تقدر على الماء فاغتسل فمات فلما قدمنا على النبي صلى الله عليه وسلم اخبر بذلك فقال " قتلوه قتلهم الله الا سالوا اذ لم يعلموا فانما شفاء العي السوال انما كان يكفيه ان يتيمم ويعصر " . او " يعصب " . شك موسى " على جرحه خرقة ثم يمسح عليها ويغسل ساير جسده
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی کو زخم لگا، پھر اسے احتلام ہو گیا، تو اسے غسل کرنے کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو وہ مر گیا، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا: ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ انہیں مارے، کیا لاعلمی کا علاج مسئلہ پوچھ لینا نہیں تھا؟ ۔
حدثنا نصر بن عاصم الانطاكي، حدثنا محمد بن شعيب، اخبرني الاوزاعي، انه بلغه عن عطاء بن ابي رباح، انه سمع عبد الله بن عباس، قال اصاب رجلا جرح في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم احتلم فامر بالاغتسال فاغتسل فمات فبلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " قتلوه قتلهم الله الم يكن شفاء العي السوال
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخص ایک سفر میں نکلے تو نماز کا وقت آ گیا اور ان کے پاس پانی نہیں تھا، چنانچہ انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھی، پھر وقت کے اندر ہی انہیں پانی مل گیا تو ان میں سے ایک نے نماز اور وضو دونوں کو دوہرایا، اور دوسرے نے نہیں دوہرایا، پھر دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان دونوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی: تم نے سنت کو پا لیا اور تمہاری نماز تمہیں کافی ہو گئی ، اور جس شخص نے وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھی تھی اس سے فرمایا: تمہارے لیے دوگنا ثواب ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن نافع کے علاوہ دوسرے لوگ اس حدیث کو لیث سے، وہ عمیر بن ابی ناجیہ سے، وہ بکر بن سوادہ سے، وہ عطاء بن یسار سے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( مرسلاً ) روایت کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا ذکر محفوظ نہیں ہے، یہ مرسل ہے۔
حدثنا محمد بن اسحاق المسيبي، اخبرنا عبد الله بن نافع، عن الليث بن سعد، عن بكر بن سوادة، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، قال خرج رجلان في سفر فحضرت الصلاة وليس معهما ماء فتيمما صعيدا طيبا فصليا ثم وجدا الماء في الوقت فاعاد احدهما الصلاة والوضوء ولم يعد الاخر ثم اتيا رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرا ذلك له فقال للذي لم يعد " اصبت السنة واجزاتك صلاتك " . وقال للذي توضا واعاد " لك الاجر مرتين " . قال ابو داود وغير ابن نافع يرويه عن الليث عن عميرة بن ابي ناجية عن بكر بن سوادة عن عطاء بن يسار عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود وذكر ابي سعيد الخدري في هذا الحديث ليس بمحفوظ وهو مرسل
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ دو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( سفر میں تھے ) ، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا ابن لهيعة، عن بكر بن سوادة، عن ابي عبد الله، مولى اسماعيل بن عبيد عن عطاء بن يسار، ان رجلين، من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بمعناه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی ۱؎ داخل ہوا تو آپ نے کہا: کیا تم لوگ نماز ( میں اول وقت آنے ) سے رکے رہتے ہو؟ اس شخص نے کہا: جوں ہی میں نے اذان سنی ہے وضو کر کے آ گیا ہوں، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اچھا صرف وضو ہی؟ کیا تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا ہے: جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے آئے تو چاہیئے کہ غسل کرے ۔
حدثنا ابو توبة الربيع بن نافع، اخبرنا معاوية، عن يحيى، اخبرنا ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، اخبره ان عمر بن الخطاب بينا هو يخطب يوم الجمعة اذ دخل رجل فقال عمر اتحتبسون عن الصلاة فقال الرجل ما هو الا ان سمعت النداء فتوضات . فقال عمر والوضوء ايضا اولم تسمعوا رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا اتى احدكم الجمعة فليغتسل