Loading...

Loading...
کتب
۳۹۰ احادیث
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ ( مسلمان ) پر واجب ہے۱؎ ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب، عن مالك، عن صفوان بن سليم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " غسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بالغ پر جمعہ کی حاضری اور جمعہ کے لیے ہر آنے والے پر غسل ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب آدمی طلوع فجر کے بعد غسل کر لے تو یہ غسل جمعہ کے لیے کافی ہے اگرچہ وہ جنبی رہا ہو۔
حدثنا يزيد بن خالد الرملي، اخبرنا المفضل، - يعني ابن فضالة - عن عياش بن عباس، عن بكير، عن نافع، عن ابن عمر، عن حفصة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " على كل محتلم رواح الجمعة وعلى كل من راح الى الجمعة الغسل " . قال ابو داود اذا اغتسل الرجل بعد طلوع الفجر اجزاه من غسل الجمعة وان اجنب
ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، اپنے کپڑوں میں سے اچھے کپڑے پہنے، اور اگر اس کے پاس ہو تو خوشبو لگائے، پھر جمعہ کے لیے آئے اور لوگوں کی گردنیں نہ پھاندے، پھر اللہ نے جو نماز اس کے لیے مقدر کر رکھی ہے پڑھے، پھر امام کے ( خطبہ کے لیے ) نکلنے سے لے کر نماز سے فارغ ہونے تک خاموش رہے، تو یہ ساری چیزیں اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہوں گی جو اس جمعہ اور اس کے پہلے والے جمعہ کے درمیان اس سے سرزد ہوئے ہیں ، راوی کہتے ہیں: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اور مزید تین دن کے گناہوں کا بھی، اس لیے کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن سلمہ کی حدیث زیادہ کامل ہے اور حماد نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا کلام ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا يزيد بن خالد بن يزيد بن عبد الله بن موهب الرملي الهمداني، ح وحدثنا عبد العزيز بن يحيى الحراني، قالا حدثنا محمد بن سلمة، ح وحدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، - وهذا حديث محمد بن سلمة - عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، - قال ابو داود قال يزيد وعبد العزيز في حديثهما عن ابي سلمة بن عبد الرحمن وابي امامة بن سهل - عن ابي سعيد الخدري وابي هريرة قالا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اغتسل يوم الجمعة ولبس من احسن ثيابه ومس من طيب - ان كان عنده - ثم اتى الجمعة فلم يتخط اعناق الناس ثم صلى ما كتب الله له ثم انصت اذا خرج امامه حتى يفرغ من صلاته كانت كفارة لما بينها وبين جمعته التي قبلها " . قال ويقول ابو هريرة " وزيادة ثلاثة ايام " . ويقول " ان الحسنة بعشر امثالها " . قال ابو داود وحديث محمد بن سلمة اتم ولم يذكر حماد كلام ابي هريرة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بالغ پر جمعہ کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا اور خوشبو لگانا جو اسے نصیب ہو لازم ہے ، مگر بکیر نے ( عمرو بن سلیم اور ابو سعید خدری کے درمیان ) عبدالرحمٰن بن ابی سعید کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، اور خوشبو کے بارے میں انہوں نے کہا: اگرچہ عورت ہی کی خوشبو سے ہو۔
حدثنا محمد بن سلمة المرادي، حدثنا ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، ان سعيد بن ابي هلال، وبكير بن عبد الله بن الاشج، حدثاه عن ابي بكر بن المنكدر، عن عمرو بن سليم الزرقي، عن عبد الرحمن بن ابي سعيد الخدري، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الغسل يوم الجمعة على كل محتلم والسواك ويمس من الطيب ما قدر له " . الا ان بكيرا لم يذكر عبد الرحمن وقال في الطيب " ولو من طيب المراة
اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص جمعہ کے دن نہلائے اور خود بھی نہائے ۱؎ پھر صبح سویرے اول وقت میں ( مسجد ) جائے، شروع سے خطبہ میں رہے، پیدل جائے، سوار نہ ہو اور امام سے قریب ہو کر غور سے خطبہ سنے، اور لغو بات نہ کہے تو اس کو ہر قدم پر ایک سال کے روزے اور شب بیداری کا ثواب ملے گا ۔
حدثنا محمد بن حاتم الجرجرايي، حبي حدثنا ابن المبارك، عن الاوزاعي، حدثني حسان بن عطية، حدثني ابو الاشعث الصنعاني، حدثني اوس بن اوس الثقفي، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من غسل يوم الجمعة واغتسل ثم بكر وابتكر ومشى ولم يركب ودنا من الامام فاستمع ولم يلغ كان له بكل خطوة عمل سنة اجر صيامها وقيامها
اس سند سے بھی اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن اپنا سر دھویا اور غسل کیا ، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن ابي هلال، عن عبادة بن نسى، عن اوس الثقفي، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " من غسل راسه يوم الجمعة واغتسل " . ثم ساق نحوه
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، اپنی عورت کی خوشبو میں سے اگر اس کے پاس ہو لگائے، اپنے اچھے کپڑے زیب تن کرے، پھر لوگوں کی گردنیں نہ پھاندے اور خطبہ کے وقت بیکار کام نہ کرے، تو یہ اس جمعہ سے اس ( یعنی پچھلے ) جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہو گا، اور جو بلا ضرورت ( بیہودہ ) باتیں بکے، اور لوگوں کی گردنیں پھاندے، تو وہ جمعہ اس کے لیے ظہر ہو گا ۔
حدثنا ابن ابي عقيل، ومحمد بن سلمة المصريان، قالا حدثنا ابن وهب، - قال ابن ابي عقيل - اخبرني اسامة، - يعني ابن زيد - عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " من اغتسل يوم الجمعة ومس من طيب امراته - ان كان لها - ولبس من صالح ثيابه ثم لم يتخط رقاب الناس ولم يلغ عند الموعظة كانت كفارة لما بينهما ومن لغا وتخطى رقاب الناس كانت له ظهرا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں کی وجہ سے غسل کرتے تھے: ( ا ) جنابت کی وجہ سے، ( ۲ ) جمعہ کے دن ( ۳ ) پچھنے لگانے سے، ( ۴ ) اور میت کو نہلانے سے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا زكريا، حدثنا مصعب بن شيبة، عن طلق بن حبيب العنزي، عن عبد الله بن الزبير، عن عايشة، انها حدثته ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يغتسل من اربع من الجنابة ويوم الجمعة ومن الحجامة ومن غسل الميت
علی بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے مکحول سے اس قول «غسل واغتسل» کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنا سر اور بدن دھوئے۔
حدثنا محمود بن خالد الدمشقي، اخبرنا مروان، حدثنا علي بن حوشب، قال سالت مكحولا عن هذا القول، " غسل واغتسل " . فقال غسل راسه وغسل جسده
سعید بن عبدالعزیز سے «غسل واغتسل» کے بارے میں مروی ہے، ابومسہر کہتے ہیں کہ سعید کا کہنا ہے کہ «غسل واغتسل» کے معنی ہیں: وہ اپنا سر اور اپنا بدن خوب دھلے۔
حدثنا محمد بن الوليد الدمشقي، حدثنا ابو مسهر، عن سعيد بن عبد العزيز، في " غسل واغتسل " . قال قال سعيد غسل راسه وغسل جسده
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے جمعہ کے دن غسل جنابت کی طرح غسل کیا پھر ( پہلی گھڑی میں ) جمعہ کے لیے ( مسجد ) گیا تو گویا اس نے ایک اونٹ اللہ کی راہ میں پیش کیا، جو دوسری گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک گائے اللہ کی راہ میں پیش کی، اور جو تیسری گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک سینگ دار مینڈھا اللہ کی راہ میں پیش کیا، جو چوتھی گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک مرغی اللہ کی راہ میں پیش کی، اور جو پانچویں گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک انڈا اللہ کی راہ میں پیش کیا، پھر جب امام ( خطبہ کے لیے ) نکل آتا ہے تو فرشتے بھی آ جاتے ہیں اور ذکر ( خطبہ ) سننے لگتے ہیں ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن سمى، عن ابي صالح السمان، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من اغتسل يوم الجمعة غسل الجنابة ثم راح فكانما قرب بدنة ومن راح في الساعة الثانية فكانما قرب بقرة ومن راح في الساعة الثالثة فكانما قرب كبشا اقرن ومن راح في الساعة الرابعة فكانما قرب دجاجة ومن راح في الساعة الخامسة فكانما قرب بيضة فاذا خرج الامام حضرت الملايكة يستمعون الذكر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ اپنے کام خود کرتے تھے، اور جمعہ کے لیے اسی حالت میں چلے جاتے تھے ( ان کی بو سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی، جب اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا ) تو ان لوگوں سے کہا گیا: کاش تم لوگ غسل کر کے آتے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة، عن عايشة، قالت كان الناس مهان انفسهم فيروحون الى الجمعة بهييتهم فقيل لهم لو اغتسلتم
عکرمہ کہتے ہیں کہ عراق کے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے: اے ابن عباس! کیا جمعہ کے روز غسل کو آپ واجب سمجھتے ہیں؟ آپ نے کہا: نہیں، لیکن جو غسل کرے اس کے لیے یہ بہتر اور پاکیزگی کا باعث ہے، اور جو غسل نہ کرے اس پر واجب نہیں ہے، اور میں تم کو بتاتا ہوں کہ غسل کی ابتداء کیسے ہوئی: لوگ پریشان حال تھے، اون پہنا کرتے تھے، اپنی پیٹھوں پر بوجھ ڈھوتے تھے، ان کی مسجد بھی تنگ تھی، اس کی چھت نیچی تھی بس کھجور کی شاخوں کا ایک چھپر تھا، ( ایک بار ) ایسا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت گرمی کے دن نکلے، لوگوں کو کمبل پہننے کی وجہ سے بےحد پسینہ آیا یہاں تک کہ ان کی بدبو پھیلی اور اس سے ایک دوسرے کو تکلیف ہوئی، تو جب یہ بو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محسوس ہوئی تو آپ نے فرمایا: لوگو! جب یہ دن ہوا کرے تو تم غسل کر لیا کرو، اور اچھے سے اچھا جو تیل اور خوشبو میسر ہو لگایا کرو ، ابن عباس کہتے ہیں: پھر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو وسعت دی، وہ لوگ اون کے علاوہ کپڑے پہننے لگے، خود محنت کرنے کی ضرورت نہیں رہی، ان کی مسجد بھی کشادہ ہو گئی، اور پسینے کی بو سے ایک دوسرے کو جو تکلیف ہوتی تھی ختم ہو گئی۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - عن عمرو بن ابي عمرو، عن عكرمة، ان اناسا، من اهل العراق جاءوا فقالوا يا ابن عباس اترى الغسل يوم الجمعة واجبا قال لا ولكنه اطهر وخير لمن اغتسل ومن لم يغتسل فليس عليه بواجب وساخبركم كيف بدء الغسل كان الناس مجهودين يلبسون الصوف ويعملون على ظهورهم وكان مسجدهم ضيقا مقارب السقف انما هو عريش فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم في يوم حار وعرق الناس في ذلك الصوف حتى ثارت منهم رياح اذى بذلك بعضهم بعضا فلما وجد رسول الله صلى الله عليه وسلم تلك الريح قال " ايها الناس اذا كان هذا اليوم فاغتسلوا وليمس احدكم افضل ما يجد من دهنه وطيبه " . قال ابن عباس ثم جاء الله بالخير ولبسوا غير الصوف وكفوا العمل ووسع مسجدهم وذهب بعض الذي كان يوذي بعضهم بعضا من العرق
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن وضو کیا، تو اس نے سنت پر عمل کیا اور یہ اچھی بات ہے، اور جس نے غسل کیا تو یہ افضل ہے ۱؎۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا همام، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من توضا يوم الجمعة فبها ونعمت ومن اغتسل فهو افضل
قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسلام لانے کے ارادے سے حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پانی اور بیر کی پتی سے غسل کرنے کا حکم دیا۔
حدثنا محمد بن كثير العبدي، اخبرنا سفيان، حدثنا الاغر، عن خليفة بن حصين، عن جده، قيس بن عاصم قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم اريد الاسلام فامرني ان اغتسل بماء وسدر
کلیب کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے: میں اسلام لے آیا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اپنے ( بدن ) سے کفر کے بال صاف کراؤ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: بال منڈوا لو ، عثیم کے والد کا بیان ہے کہ ایک دوسرے شخص نے مجھے یہ خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شخص سے جو ان کے ساتھ تھا فرمایا: تم اپنے ( بدن ) سے کفر کے بال صاف کرو اور ختنہ کرو ۔
حدثنا مخلد بن خالد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، قال اخبرت عن عثيم بن كليب، عن ابيه، عن جده، انه جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال قد اسلمت . فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " الق عنك شعر الكفر " . يقول احلق . قال واخبرني اخر ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لاخر معه " الق عنك شعر الكفر واختتن
معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس حائضہ کے بارے میں دریافت کیا جس کے کپڑے پر ( حیض کا ) خون لگ جائے، تو انہوں نے کہا: وہ اسے دھو ڈالے اور اگر اس کا اثر زائل نہ ہو تو اسے کسی زرد چیز سے ( رنگ کر ) بدل دے ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تین تین حیض اکٹھے لگاتار آتے تھے، میں ( ایام حیض میں پہنا ہوا ) اپنا کپڑا نہیں دھوتی تھی ۔
حدثنا احمد بن ابراهيم، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثني ابي، حدثتني ام الحسن، - يعني جدة ابي بكر العدوي - عن معاذة، قالت سالت عايشة - رضى الله عنها - عن الحايض يصيب ثوبها الدم . قالت تغسله فان لم يذهب اثره فلتغيره بشىء من صفرة . قالت ولقد كنت احيض عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث حيض جميعا لا اغسل لي ثوبا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم میں سے کسی کے پاس سوائے ایک کپڑے کے کوئی اور کپڑا نہیں ہوتا تھا، اسی کپڑے میں اسے حیض ( بھی ) آتا تھا، اگر اس میں ( حیض کا ) کچھ خون لگ جاتا تو وہ اپنے تھوک سے اسے تر کرتی پھر اسے تھوک کے ذریعہ ناخن سے کھرچ دیتی تھی۔
حدثنا محمد بن كثير العبدي، اخبرنا ابراهيم بن نافع، قال سمعت الحسن، - يعني ابن مسلم - يذكر عن مجاهد، قال قالت عايشة ما كان لاحدانا الا ثوب واحد تحيض فيه فان اصابه شىء من دم بلته بريقها ثم قصعته بريقها
بکار بن یحییٰ کی دادی سے روایت ہے کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی تو قریش کی ایک عورت نے ان سے حیض کے کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا، تو ام سلمہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں حیض آتا تو ہم میں سے ( جسے حیض آتا ) وہ اپنے حیض کے دنوں میں ٹھہری رہتی، پھر وہ حیض سے پاک ہو جاتی تو ان کپڑوں کو جن میں وہ حیض سے ہوتی تھی دیکھتی، اگر ان میں کہیں خون لگا ہوتا تو ہم اسے دھو ڈالتے، پھر اس میں نماز پڑھتے، اور اگر ان میں کوئی چیز نہ لگی ہوتی تو ہم انہیں چھوڑ دیتے اور ہمیں ان میں نماز پڑھنے سے یہ چیز مانع نہ ہوتی، رہی ہم میں سے وہ عورت جس کے بال گندھے ہوتے تو وہ جب غسل کرتی تو اپنی چوٹی نہیں کھولتی، البتہ تین لپ پانی لے کر اپنے سر پر ڈالتی، جب وہ بال کی جڑوں تک تری دیکھ لیتی تو ان کو ملتی، پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہاتی۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا عبد الرحمن، - يعني ابن مهدي - حدثنا بكار بن يحيى، حدثتني جدتي، قالت دخلت على ام سلمة فسالتها امراة من قريش عن الصلاة في ثوب الحايض فقالت ام سلمة قد كان يصيبنا الحيض على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فتلبث احدانا ايام حيضها ثم تطهر فتنظر الثوب الذي كانت تقلب فيه فان اصابه دم غسلناه وصلينا فيه وان لم يكن اصابه شىء تركناه ولم يمنعنا ذلك من ان نصلي فيه واما الممتشطة فكانت احدانا تكون ممتشطة فاذا اغتسلت لم تنقض ذلك ولكنها تحفن على راسها ثلاث حفنات فاذا رات البلل في اصول الشعر دلكته ثم افاضت على ساير جسدها
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نے ایک عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے سنا: جب ہم میں سے کوئی عورت پاکی دیکھ لے تو ایام حیض میں پہنے ہوئے کپڑوں کو وہ کیا کرے؟ کیا اس میں نماز پڑھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اسے دیکھے اگر اس کپڑے میں خون لگا ہوا نظر آئے تو تھوڑے سے پانی سے اسے کھرچ دے اور دھو لے یہاں تک کہ وہ چھوٹ جائے، اور اس میں نماز پڑھے ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن فاطمة بنت المنذر، عن اسماء بنت ابي بكر، قالت سمعت امراة، تسال رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف تصنع احدانا بثوبها اذا رات الطهر اتصلي فيه قال " تنظر فان رات فيه دما فلتقرصه بشىء من ماء ولتنضح ما لم تر ولتصل فيه