Loading...

Loading...
کتب
۳۹۰ احادیث
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! بتائیے اگر ہم میں سے کسی کے کپڑے میں حیض کا خون لگ جائے تو وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے کپڑے میں حیض کا خون لگ جائے تو اسے چٹکیوں سے مل دے، پھر اسے پانی سے دھو ڈالے پھر ( اس میں ) نماز پڑھے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن فاطمة بنت المنذر، عن اسماء بنت ابي بكر، انها قالت سالت امراة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ارايت احدانا اذا اصاب ثوبها الدم من الحيضة كيف تصنع قال " اذا اصاب احداكن الدم من الحيض فلتقرصه ثم لتنضحه بالماء ثم لتصلي
اس سند سے بھی ہشام سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسے رگڑو پھر پانی سے کھرچ دو اور پھر اسے دھو ڈالو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد، ح وحدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، ح وحدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، - يعني ابن سلمة - عن هشام، بهذا المعنى قال " حتيه ثم اقرصيه بالماء ثم انضحيه
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے خون کے بارے میں جو کپڑے میں لگ جائے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کسی لکڑی سے رگڑ کر چھڑا دو، اور پانی اور بیر کی پتی سے اسے دھو ڈالو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، - يعني ابن سعيد القطان - عن سفيان، حدثني ثابت الحداد، حدثني عدي بن دينار، قال سمعت ام قيس بنت محصن، تقول سالت النبي صلى الله عليه وسلم عن دم الحيض يكون في الثوب قال " حكيه بضلع واغسليه بماء وسدر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم میں سے ایک کے پاس ایک قمیص ہوتی، اسی میں اسے حیض بھی آتا اور اسی میں اسے جنابت بھی لاحق ہوتی، پھر اس میں خون کا کوئی قطرہ اسے نظر آتا تو وہ اسے اپنے تھوک سے مل کر کھرچ ڈالتی۔
حدثنا النفيلي، حدثنا سفيان، عن ابن ابي نجيح، عن عطاء، عن عايشة، قالت قد كان يكون لاحدانا الدرع فيه تحيض وفيه تصيبها الجنابة ثم ترى فيه قطرة من دم فتقصعه بريقها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خولہ بنت یسار رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس سوائے ایک کپڑے کے کوئی اور کپڑا نہیں، اسی میں مجھے حیض آتا ہے، میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم پاک ہو جاؤ ( حیض رک جائے ) تو اسے دھو ڈالو، پھر اس میں نماز پڑھو ، اس پر خولہ نے کہا: اگر خون زائل نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خون کو دھو لینا تمہارے لیے کافی ہے، اس کا اثر ( دھبہ ) تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، اخبرنا ابن لهيعة، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عيسى بن طلحة، عن ابي هريرة، ان خولة بنت يسار، اتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله انه ليس لي الا ثوب واحد وانا احيض فيه فكيف اصنع قال " اذا طهرت فاغسليه ثم صلي فيه " . فقالت فان لم يخرج الدم قال " يكفيك غسل الدم ولا يضرك اثره
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بہن ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے جس میں آپ جماع کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں کوئی گندگی نہ دیکھتے۔
حدثنا عيسى بن حماد المصري، اخبرنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن سويد بن قيس، عن معاوية بن حديج، عن معاوية بن ابي سفيان، انه سال اخته ام حبيبة زوج النبي صلى الله عليه وسلم هل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في الثوب الذي يجامعها فيه فقالت نعم اذا لم ير فيه اذى
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے شعار یا لحافوں میں نماز نہیں پڑھتے تھے ۱؎۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ شک میرے والد ( معاذ ) کو ہوا ہے۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا الاشعث، عن محمد بن سيرين، عن عبد الله بن شقيق، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يصلي في شعرنا او في لحفنا . قال عبيد الله شك ابي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری چادروں میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن هشام، عن ابن سيرين، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يصلي في ملاحفنا . قال حماد وسمعت سعيد بن ابي صدقة قال سالت محمدا عنه فلم يحدثني وقال سمعته منذ زمان ولا ادري ممن سمعته ولا ادري اسمعته من ثبت او لا فسلوا عنه
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور آپ کے جسم پر ایک چادر تھی جس کا کچھ حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی پر پڑا ہوا تھا، وہ حائضہ تھیں اور آپ اسے اوڑھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔
حدثنا محمد بن الصباح بن سفيان، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق الشيباني، سمعه من عبد الله بن شداد، يحدثه عن ميمونة، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى وعليه مرط وعلى بعض ازواجه منه وهي حايض وهو يصلي وهو عليه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز پڑھتے، میں حالت حیض میں آپ کے پہلو میں ہوتی، اور میرے اوپر میری ایک چادر ہوتی جس کا کچھ حصہ آپ پر ہوتا تھا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع بن الجراح، حدثنا طلحة بن يحيى، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بالليل وانا الى جنبه وانا حايض وعلى مرط لي وعليه بعضه
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، ہمام کو احتلام ہو گیا، تو عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک لونڈی نے انہیں دیکھ لیا کہ وہ اپنے کپڑے سے جنابت کے اثر کو یا اپنے کپڑے کو دھو رہے ہیں، اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا تو انہوں نے کہا: میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچتے دیکھا ہے۔
حدثنا حفص بن عمر، عن شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن همام بن الحارث، انه كان عند عايشة - رضى الله عنها - فاحتلم فابصرته جارية لعايشة وهو يغسل اثر الجنابة من ثوبه او يغسل ثوبه فاخبرت عايشة فقالت لقد رايتني وانا افركه من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود رواه الاعمش كما رواه الحكم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچ ڈالتی تھی، پھر آپ اسی میں نماز پڑھتے تھے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد بن سلمة، عن حماد بن ابي سليمان، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كنت افرك المني من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيصلي فيه . قال ابو داود وافقه مغيرة وابو معشر وواصل
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی دھوتی تھیں، کہتی ہیں کہ پھر میں اس میں ایک یا کئی دھبے اور نشان دیکھتی تھی۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا زهير، ح حدثنا محمد بن عبيد بن حساب البصري، حدثنا سليم، - يعني ابن اخضر المعنى والاخبار في حديث سليم - قالا حدثنا عمرو بن ميمون بن مهران سمعت سليمان بن يسار يقول سمعت عايشة تقول انها كانت تغسل المني من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالت ثم ارى فيه بقعة او بقعا
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ اپنے ایک چھوٹے اور شیر خوار بچے کو لے کر جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، اور اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر چھینٹا ما ر لیا اور اسے دھویا نہیں۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، عن ام قيس بنت محصن، انها اتت بابن لها صغير لم ياكل الطعام الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاجلسه رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجره فبال على ثوبه فدعا بماء فنضحه ولم يغسله
لبابہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں تھے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا تو میں نے عرض کیا کہ آپ کوئی دوسرا کپڑ ا پہن لیجئے اور اپنا تہہ بند مجھے دے دیجئیے تاکہ میں اسے دھو دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے ۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، والربيع بن نافع ابو توبة، - المعنى - قالا حدثنا ابو الاحوص، عن سماك، عن قابوس، عن لبابة بنت الحارث، قالت كان الحسين بن علي - رضى الله عنه - في حجر رسول الله صلى الله عليه وسلم فبال عليه فقلت البس ثوبا واعطني ازارك حتى اغسله قال " انما يغسل من بول الانثى وينضح من بول الذكر
ابو سمح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، جب آپ غسل کرنا چاہتے تو مجھ سے فرماتے: تم اپنی پیٹھ میری جانب کر لو ، چنانچہ میں چہرہ پھیر کر اپنی پیٹھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کر کے آپ پر آڑ کئے رہتا، ( ایک مرتبہ ) حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کو آپ کی خدمت میں لایا گیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر پیشاب کر دیا، میں اسے دھونے کے لیے بڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے ۔ حسن بصری کہتے ہیں: ( بچوں اور بچیوں کے ) پیشاب سب برابر ہیں ۱؎۔
حدثنا مجاهد بن موسى، وعباس بن عبد العظيم العنبري، - المعنى - قالا حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثني يحيى بن الوليد، حدثني محل بن خليفة، حدثني ابو السمح، قال كنت اخدم النبي صلى الله عليه وسلم فكان اذا اراد ان يغتسل قال " ولني قفاك " . فاوليه قفاى فاستره به فاتي بحسن او حسين - رضى الله عنهما - فبال على صدره فجيت اغسله فقال " يغسل من بول الجارية ويرش من بول الغلام " . قال عباس حدثنا يحيى بن الوليد . قال ابو داود وهو ابو الزعراء . قال هارون بن تميم عن الحسن قال الابوال كلها سواء
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لڑکی کا پیشاب دھویا جائے گا، اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا جب تک وہ کھانا نہ کھانے لگے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن ابي عروبة، عن قتادة، عن ابي حرب بن ابي الاسود، عن ابيه، عن علي، - رضى الله عنه - قال يغسل من بول الجارية وينضح من بول الغلام ما لم يطعم
اس سند سے علی رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے، پھر ہشام نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی اور اس میں انہوں نے «ما لم يطعم» ( جب تک کھانا نہ کھائے ) کا ذکر نہیں کیا، اس میں انہوں نے اضافہ کیا ہے کہ قتادہ نے کہا: یہ حکم اس وقت کا ہے جب وہ دونوں کھانا نہ کھاتے ہوں، اور جب کھانا کھانے لگیں تو دونوں کا پیشاب دھویا جائے گا۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن قتادة، عن ابي حرب بن ابي الاسود، عن ابيه، عن علي بن ابي طالب، - رضى الله عنه - ان النبي صلى الله عليه وسلم قال فذكر معناه ولم يذكر " ما لم يطعم " . زاد قال قتادة هذا ما لم يطعما الطعام فاذا طعما غسلا جميعا
حسن (حسن بصری) اپنی والدہ (خیرہ جو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی تھیں) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ وہ لڑکے کے پیشاب پر پانی بہا دیتی تھیں جب تک وہ کھانا نہ کھاتا اور جب کھانا کھانے لگتا تو اسے دھوتیں، اور لڑکی کے پیشاب کو ( دونوں صورتوں میں ) دھوتی تھیں۔
حدثنا عبد الله بن عمرو بن ابي الحجاج ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، عن يونس، عن الحسن، عن امه، انها ابصرت ام سلمة تصب الماء على بول الغلام ما لم يطعم فاذا طعم غسلته وكانت تغسل بول الجارية
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی مسجد میں آیا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اس نے نماز پڑھی ( ابن عبدہ نے اپنی روایت میں کہا: اس نے دو رکعت نماز پڑھی ) ، پھر کہا: اے اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کرنا ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اللہ کی وسیع رحمت کو تنگ اور محدود کر دیا ، پھر زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ مسجد کے ایک کونے میں وہ پیشاب کرنے لگا تو لوگ اس کی طرف دوڑے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اعرابی کو ڈانٹنے سے منع کیا اور فرمایا: تم لوگ لوگوں پر آسانی کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو، سختی کرنے کے لیے نہیں، اس پر ایک ڈول پانی ڈال دو ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، وابن، عبدة - في اخرين وهذا لفظ ابن عبدة - اخبرنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان اعرابيا، دخل المسجد ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس فصلى - قال ابن عبدة - ركعتين ثم قال اللهم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا احدا . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لقد تحجرت واسعا " . ثم لم يلبث ان بال في ناحية المسجد فاسرع الناس اليه فنهاهم النبي صلى الله عليه وسلم وقال " انما بعثتم ميسرين ولم تبعثوا معسرين صبوا عليه سجلا من ماء " . او قال " ذنوبا من ماء