Loading...

Loading...
کتب
۳۹۰ احادیث
عبداللہ بن معقل بن مقرن کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر انہوں نے اعرابی کے پیشاب کرنے کے اسی قصہ کو بیان کیا اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مٹی پر اس نے پیشاب کیا ہے وہ اٹھا کر پھینک دو اور اس کی جگہ پر پانی بہا دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت مرسل ہے اس لیے کہ ابن معقل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جرير، - يعني ابن حازم - قال سمعت عبد الملك، - يعني ابن عمير - يحدث عن عبد الله بن معقل بن مقرن، قال صلى اعرابي مع النبي صلى الله عليه وسلم بهذه القصة قال فيه وقال يعني النبي صلى الله عليه وسلم " خذوا ما بال عليه من التراب فالقوه واهريقوا على مكانه ماء " . قال ابو داود وهو مرسل ابن معقل لم يدرك النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں رات کو مسجد میں سوتا تھا، میں ایک نوجوان کنوارا ( غیر شادی شدہ ) تھا، اور کتے مسجد میں آتے جاتے اور پیشاب کرتے، کوئی اس پر پانی نہ بہاتا تھا ۱؎۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، حدثني حمزة بن عبد الله بن عمر، قال قال ابن عمر كنت ابيت في المسجد في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وكنت فتى شابا عزبا وكانت الكلاب تبول وتقبل وتدبر في المسجد فلم يكونوا يرشون شييا من ذلك
ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف کی ام ولد (حمیدہ) سے روایت ہے کہ کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ میں اپنا دامن لمبا رکھتی ہوں ( جو زمین پر گھسٹتا ہے ) اور میں نجس جگہ میں بھی چلتی ہوں؟ تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اس کے بعد کی زمین ( جس پر وہ گھسٹتا ہے ) اس کو پاک کر دیتی ہے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن محمد بن عمارة بن عمرو بن حزم، عن محمد بن ابراهيم، عن ام ولد، لابراهيم بن عبد الرحمن بن عوف انها سالت ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم فقالت اني امراة اطيل ذيلي وامشي في المكان القذر . فقالت ام سلمة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يطهره ما بعده
قبیلہ بنو عبدالاشھل کی ایک عورت کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا مسجد تک جانے کا راستہ غلیظ اور گندگیوں والا ہے تو جب بارش ہو جائے تو ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے آگے پھر کوئی اس سے بہتر اور پاک راستہ نہیں ہے؟ ، میں نے کہا: ہاں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ اس کا جواب ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، واحمد بن يونس، قالا حدثنا زهير، حدثنا عبد الله بن عيسى، عن موسى بن عبد الله بن يزيد، عن امراة، من بني عبد الاشهل قالت قلت يا رسول الله ان لنا طريقا الى المسجد منتنة فكيف نفعل اذا مطرنا قال " اليس بعدها طريق هي اطيب منها " . قالت قلت بلى . قال " فهذه بهذه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے جوتے سے نجاست روندے تو ( اس کے بعد کی ) مٹی اس کو پاک کر دے گی ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا ابو المغيرة، ح وحدثنا عباس بن الوليد بن مزيد، اخبرني ابي ح، وحدثنا محمود بن خالد، حدثنا عمر، - يعني ابن عبد الواحد - عن الاوزاعي، - المعنى - قال انبيت ان سعيد بن ابي سعيد المقبري، حدث عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا وطي احدكم بنعليه الاذى فان التراب له طهور
اس طریق سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے خف ( موزوں ) سے نجاست کو روندے تو ان کی پاکی مٹی ہے ( یعنی بعد والی زمین جس پر وہ چلے گا وہ اسے پاک کر دے گی ) ۔
حدثنا احمد بن ابراهيم، حدثني محمد بن كثير، - يعني الصنعاني - عن الاوزاعي، عن ابن عجلان، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه قال " اذا وطي الاذى بخفيه فطهورهما التراب
اس طریق سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا اسی مفہوم کی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتی ہیں۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا محمد، - يعني ابن عايذ - حدثني يحيى، - يعني ابن حمزة - عن الاوزاعي، عن محمد بن الوليد، اخبرني ايضا، سعيد بن ابي سعيد عن القعقاع بن حكيم، عن عايشة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بمعناه
ام یونس بنت شداد کہتی ہیں کہ میری ساس ام جحدر عامریہ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کپڑے میں لگ جانے والے حیض کے خون کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی اور ہم اپنا شعار ( اندر کا کپڑا ) پہنے ہوئے تھے، اس کے اوپر سے ہم نے ایک کمبل ڈال لیا تھا، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کمبل کو اوڑھ کر ( نماز کے لیے ) چلے گئے اور صبح کی نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! یہ خون کا نشان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے آس پاس کے حصہ کو مٹھی سے پکڑ کر غلام کے ہاتھ میں دے کر اسی طرح میرے پاس بھیجا اور فرمایا: اسے دھو کر اور سکھا کر میرے پاس بھیج دو ، چنانچہ میں نے پانی کا اپنا پیالہ منگا کر اس کو دھویا پھر سکھایا، اس کے بعد آپ کے پاس واپس بھجوا دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت وہی کمبل اوڑھے تشریف لائے۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثتنا ام يونس بنت شداد، قالت حدثتني حماتي ام جحدر العامرية، انها سالت عايشة عن دم الحيض يصيب الثوب فقالت كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلينا شعارنا وقد القينا فوقه كساء فلما اصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذ الكساء فلبسه ثم خرج فصلى الغداة ثم جلس فقال رجل يا رسول الله هذه لمعة من دم . فقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم على ما يليها فبعث بها الى مصرورة في يد الغلام فقال " اغسلي هذه واجفيها ثم ارسلي بها الى " . فدعوت بقصعتي فغسلتها ثم اجففتها فاحرتها اليه فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم بنصف النهار وهي عليه
ابونضرہ (منذر بن مالک) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے میں تھوکا اور اسی میں مل لیا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا ثابت البناني، عن ابي نضرة، قال بزق رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثوبه وحك بعضه ببعض
انس رضی اللہ عنہ نے اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا حماد، عن حميد، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثله