احادیث
#281
سنن ابی داؤد - Purification
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مجھ سے فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے اسماء رضی اللہ عنہا کو حکم دیا، یا اسماء نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کو فاطمہ بنت ابی حبیش نے حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( استحاضہ کے خون کے بارے میں ) دریافت کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جتنے دن وہ ( حیض کے لیے ) بیٹھتی تھیں بیٹھی رہیں، پھر غسل کر لیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے قتادہ نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے ایام حیض میں نماز چھوڑ دیں، پھر غسل کریں، اور نماز پڑھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قتادہ نے عروہ سے کچھ نہیں سنا ہے، اور ابن عیینہ نے زہری کی حدیث میں ( جسے انہوں نے عمرہ سے اور عمرہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے ) اضافہ کیا ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کی شکایت تھی، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایام حیض میں نماز چھوڑ دینے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن عیینہ کا وہم ہے، کیونکہ زہری سے روایت کرنے والے حفاظ کی روایتوں میں یہ نہیں ہے، اس میں صرف وہی ہے جس کا ذکر سہیل بن ابی صالح نے کیا ہے، حمیدی نے بھی اس حدیث کو ابن عیینہ سے روایت کیا ہے، اس میں ایام حیض میں نماز چھوڑ دینے کا ذکر نہیں ہے۔ مسروق کی بیوی قمیر ( قمیر بنت عمرو ) نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ مستحاضہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی، پھر غسل کرے گی۔ عبدالرحمٰن بن قاسم نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ
حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا جرير، عن سهيل، - يعني ابن ابي صالح - عن الزهري، عن عروة بن الزبير، حدثتني فاطمة بنت ابي حبيش، انها امرت اسماء - او اسماء حدثتني انها، امرتها فاطمة بنت ابي حبيش - ان تسال، رسول الله صلى الله عليه وسلم فامرها ان تقعد الايام التي كانت تقعد ثم تغتسل .1 قال ابو داود ورواه قتادة عن عروة بن الزبير عن زينب بنت ام سلمة ان ام حبيبة بنت جحش استحيضت فامرها النبي صلى الله عليه وسلم ان تدع الصلاة ايام اقرايها ثم تغتسل وتصلي . قال ابو داود لم يسمع قتادة من عروة شييا .2 وزاد ابن عيينة في حديث الزهري عن عمرة عن عايشة ان ام حبيبة كانت تستحاض فسالت النبي صلى الله عليه وسلم فامرها ان تدع الصلاة ايام اقرايها . قال ابو داود وهذا وهم من ابن عيينة ليس هذا في حديث الحفاظ عن الزهري الا ما ذكر سهيل بن ابي صالح وقد روى الحميدي هذا الحديث عن ابن عيينة لم يذكر فيه " تدع الصلاة ايام اقرايها " .1 وروت قمير بنت عمرو زوج مسروق عن عايشة المستحاضة تترك الصلاة ايام اقرايها ثم تغتسل .3 وقال عبد الرحمن بن القاسم عن ابيه ان النبي صلى الله عليه وسلم امرها ان تترك الصلاة قدر اقرايها .2 وروى ابو بشر جعفر بن ابي وحشية عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم ان ام حبيبة بنت جحش استحيضت فذكر مثله وروى شريك عن ابي اليقظان عن عدي بن ثابت عن ابيه عن جده عن النبي صلى الله عليه وسلم " المستحاضة تدع الصلاة ايام اقرايها ثم تغتسل وتصلي " .1 وروى العلاء بن المسيب عن الحكم عن ابي جعفر ان سودة استحيضت فامرها النبي صلى الله عليه وسلم اذا مضت ايامها اغتسلت وصلت .1 وروى سعيد بن جبير عن علي وابن عباس " المستحاضة تجلس ايام قريها " .1 وكذلك رواه عمار مولى بني هاشم وطلق بن حبيب عن ابن عباس 1 وكذلك رواه معقل الخثعمي عن علي رضي الله عنه 4 وكذلك روى الشعبي عن قمير امراة مسروق عن عايشة رضى الله عنها . قال ابو داود وهو قول الحسن وسعيد بن المسيب وعطاء ومكحول وابراهيم وسالم والقاسم ان المستحاضة تدع الصلاة ايام اقرايها . قال ابو داود لم يسمع قتادة من عروة شييا
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- Purification
- Hadith Index
- #281
- Book Index
- 281
Grades
- Al-AlbaniSahih Muquf
- Shuaib Al ArnautSahih Lighairihi
- Zubair Ali ZaiDaif
