Loading...

Loading...
کتب
۳۲۵ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی کی، پھر آپ منیٰ میں اپنی قیام گاہ لوٹ آئے، پھر قربانی کے جانور منگا کر انہیں ذبح کیا، اس کے بعد حلاق ( سر مونڈنے والے کو بلایا ) ، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے داہنے حصے کو پکڑا، اور بال مونڈ دیئے ۱؎، پھر ایک ایک اور دو دو بال ان لوگوں میں تقسیم کئے جو آپ کے قریب تھے پھر بایاں جانب منڈوایا اور فرمایا: ابوطلحہ یہاں ہیں؟ اور وہ سب بال ابوطلحہ کو دے دیئے۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا حفص، عن هشام، عن ابن سيرين، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رمى جمرة العقبة يوم النحر ثم رجع الى منزله بمنى فدعا بذبح فذبح ثم دعا بالحلاق فاخذ بشق راسه الايمن فحلقه فجعل يقسم بين من يليه الشعرة والشعرتين ثم اخذ بشق راسه الايسر فحلقه ثم قال " ها هنا ابو طلحة " . فدفعه الى ابي طلحة
ہشام بن حسان سے اس سند سے بھی یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں اس طرح ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلاق ( سر مونڈنے والے ) سے فرمایا: میرے دائیں جانب سے شروع کرو اور اسے مونڈو ۔
حدثنا عبيد بن هشام ابو نعيم الحلبي، وعمرو بن عثمان المعنى، - قالا - حدثنا سفيان، عن هشام بن حسان، باسناده بهذا قال فيه قال للحالق " ابدا بشقي الايمن فاحلقه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ کے دن پوچھا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: کوئی حرج نہیں ، چنانچہ ایک شخص نے پوچھا: میں نے ذبح کرنے سے پہلے حلق کرا لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذبح کر لو، کوئی حرج نہیں ، دوسرے نے کہا: مجھے شام ہو گئی اور میں نے اب تک رمی نہیں کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمی اب کر لو، کوئی حرج نہیں ۱؎ ۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرنا يزيد بن زريع، اخبرنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يسال يوم منى فيقول " لا حرج " . فساله رجل فقال اني حلقت قبل ان اذبح . قال " اذبح ولا حرج " . قال اني امسيت ولم ارم . قال " ارم ولا حرج
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں پر حلق نہیں صرف «تقصير» ( بال کٹانا ) ہے ۔
حدثنا محمد بن الحسن العتكي، حدثنا محمد بن بكر، حدثنا ابن جريج، قال بلغني عن صفية بنت شيبة بن عثمان، قالت اخبرتني ام عثمان بنت ابي سفيان، ان ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس على النساء حلق انما على النساء التقصير
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں پر حلق نہیں بلکہ صرف «تقصير» ( بال کٹانا ) ہے ۔
حدثنا ابو يعقوب البغدادي، ثقة حدثنا هشام بن يوسف، عن ابن جريج، عن عبد الحميد بن جبير بن شيبة، عن صفية بنت شيبة، قالت اخبرتني ام عثمان بنت ابي سفيان، ان ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس على النساء الحلق انما على النساء التقصير
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کرنے سے پہلے عمرہ کیا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا مخلد بن يزيد، ويحيى بن زكريا، عن ابن جريج، عن عكرمة بن خالد، عن ابن عمر، قال اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل ان يحج
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو ذی الحجہ میں عمرہ صرف اس لیے کرایا کہ مشرکین کا خیال ختم ہو جائے اس لیے کہ قریش کے لوگ نیز وہ لوگ جو ان کے دین پر چلتے تھے، کہتے تھے: جب اونٹ کے بال بڑھ جائیں اور پیٹھ کا زخم ٹھیک ہو جائے اور صفر کا مہینہ آ جائے تو عمرہ کرنے والے کا عمرہ درست ہو گیا، چنانچہ وہ ذی الحجہ اور محرم ( اشہر حرم ) کے ختم ہونے تک عمرہ کرنا حرام سمجھتے تھے۔
حدثنا هناد بن السري، عن ابن ابي زايدة، حدثنا ابن جريج، ومحمد بن اسحاق، عن عبد الله بن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، قال والله ما اعمر رسول الله صلى الله عليه وسلم عايشة في ذي الحجة الا ليقطع بذلك امر اهل الشرك فان هذا الحى من قريش ومن دان دينهم كانوا يقولون اذا عفا الوبر وبرا الدبر ودخل صفر فقد حلت العمرة لمن اعتمر . فكانوا يحرمون العمرة حتى ينسلخ ذو الحجة والمحرم
ابوبکر بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے مروان کے قاصد ( جسے ام معقل رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا گیا تھا ) نے خبر دی ہے کہ ام معقل کا بیان ہے کہ ابو معقل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کو نکلنے والے تھے جب وہ آئے تو ام معقل رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: آپ کو معلوم ہے کہ مجھ پر حج واجب ہے ۱؎، چنانچہ دونوں ( ام معقل اور ابو معقل رضی اللہ عنہما ) چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ام معقل نے کہا: اللہ کے رسول! ابو معقل کے پاس ایک اونٹ ہے اور مجھ پر حج واجب ہے؟ ابو معقل نے کہا: یہ سچ کہتی ہے، میں نے اس اونٹ کو اللہ کی راہ میں دے دیا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اونٹ اسے دے دو کہ وہ اس پر سوار ہو کر حج کر لے، یہ بھی اللہ کی راہ ہی میں ہے ، ابومعقل نے ام معقل کو اونٹ دے دیا، پھر وہ کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ اور بیمار عورت ہوں ۲؎ کوئی ایسا کام ہے جو حج کی جگہ میرے لیے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ کرنا ( میرے ساتھ ) حج کرنے کی جگہ میں کافی ہے ۳؎ ۔
حدثنا ابو كامل، حدثنا ابو عوانة، عن ابراهيم بن مهاجر، عن ابي بكر بن عبد الرحمن، اخبرني رسول مروان الذي ارسل الى ام معقل قالت كان ابو معقل حاجا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما قدم قالت ام معقل قد علمت ان على حجة فانطلقا يمشيان حتى دخلا عليه فقالت يا رسول الله ان على حجة وان لابي معقل بكرا . قال ابو معقل صدقت جعلته في سبيل الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اعطها فلتحج عليه فانه في سبيل الله " . فاعطاها البكر فقالت يا رسول الله اني امراة قد كبرت وسقمت فهل من عمل يجزي عني من حجتي قال " عمرة في رمضان تجزي حجة
ام معقل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کیا تو ہمارے پاس ایک اونٹ تھا لیکن ابومعقل رضی اللہ عنہ نے اسے اللہ کی راہ میں دے دیا تھا ہم بیمار پڑ گئے، اور ابومعقل رضی اللہ عنہ چل بسے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کو تشریف لے گئے، جب اپنے حج سے واپس ہوئے تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام معقل! کس چیز نے تمہیں ہمارے ساتھ ( حج کے لیے ) نکلنے سے روک دیا؟ ، وہ بولیں: ہم نے تیاری تو کی تھی لیکن اتنے میں ابومعقل کی وفات ہو گئی، ہمارے پاس ایک ہی اونٹ تھا جس پر ہم حج کیا کرتے تھے، ابومعقل نے اسے اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسی اونٹ پر سوار ہو کر کیوں نہیں نکلیں؟ حج بھی تو اللہ کی راہ میں ہے، لیکن اب تو ہمارے ساتھ تمہارا حج جاتا رہا تم رمضان میں عمرہ کر لو، اس لیے کہ یہ بھی حج کی طرح ہے ، ام معقل رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں حج حج ہے اور عمرہ عمرہ ہے ۱؎لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہی فرمایا اب مجھے نہیں معلوم کہ یہ حکم میرے لیے خاص تھا ( یا سب کے لیے ہے ) ۔
حدثنا محمد بن عوف الطايي، حدثنا احمد بن خالد الوهبي، حدثنا محمد بن اسحاق، عن عيسى بن معقل ابن ام معقل الاسدي، - اسد خزيمة - حدثني يوسف بن عبد الله بن سلام، عن جدته ام معقل، قالت لما حج رسول الله صلى الله عليه وسلم حجة الوداع وكان لنا جمل فجعله ابو معقل في سبيل الله واصابنا مرض وهلك ابو معقل وخرج النبي صلى الله عليه وسلم فلما فرغ من حجه جيته فقال " يا ام معقل ما منعك ان تخرجي معنا " . قالت لقد تهيانا فهلك ابو معقل وكان لنا جمل هو الذي نحج عليه فاوصى به ابو معقل في سبيل الله . قال " فهلا خرجت عليه فان الحج في سبيل الله فاما اذ فاتتك هذه الحجة معنا فاعتمري في رمضان فانها كحجة " . فكانت تقول الحج حجة والعمرة عمرة وقد قال هذا لي رسول الله صلى الله عليه وسلم ما ادري الي خاصة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ کیا، ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا: مجھے بھی اپنے اونٹ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرائیں، انہوں نے کہا: میرے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں حج کراؤں، وہ کہنے لگی: مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کراؤ، تو انہوں نے کہا: وہ اونٹ تو اللہ کی راہ میں وقف ہے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میری بیوی آپ کو سلام کہتی ہے، اس نے آپ کے ساتھ حج کرنے کی مجھ سے خواہش کی ہے، اور کہا ہے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرائیں، میں نے اس سے کہا: میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں حج کراؤں، اس نے کہا: مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کرائیں، میں نے اس سے کہا: وہ تو اللہ کی راہ میں وقف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اگر تم اسے اس اونٹ پر حج کرا دیتے تو وہ بھی اللہ کی راہ میں ہوتا ۔ اس نے کہا: اس نے مجھے یہ بھی آپ سے دریافت کرنے کے لیے کہا ہے کہ کون سی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے سلام کہو اور بتاؤ کہ رمضان میں عمرہ کر لینا میرے ساتھ حج کر لینے کے برابر ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، عن عامر الاحول، عن بكر بن عبد الله، عن ابن عباس، قال اراد رسول الله صلى الله عليه وسلم الحج فقالت امراة لزوجها احجني مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على جملك . فقال ما عندي ما احجك عليه . قالت احجني على جملك فلان . قال ذاك حبيس في سبيل الله عز وجل . فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ان امراتي تقرا عليك السلام ورحمة الله وانها سالتني الحج معك قالت احجني مع رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقلت ما عندي ما احجك عليه . فقالت احجني على جملك فلان . فقلت ذاك حبيس في سبيل الله . فقال " اما انك لو احججتها عليه كان في سبيل الله " . قال وانها امرتني ان اسالك ما يعدل حجة معك . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقريها السلام ورحمة الله وبركاته واخبرها انها تعدل حجة معي " . يعني عمرة في رمضان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عمرے کئے: ایک ذی قعدہ میں اور دوسرا شوال میں ۱؎۔
حدثنا عبد الاعلى بن حماد، حدثنا داود بن عبد الرحمن، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتمر عمرتين عمرة في ذي القعدة وعمرة في شوال
مجاہد کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے؟ انہوں نے جواب دیا: دو بار۱؎، اس پر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمرے کے علاوہ جو آپ نے حجۃ الوداع کے ساتھ ملایا تھا تین عمرے کئے ہیں۔
حدثنا النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا ابو اسحاق، عن مجاهد، قال سيل ابن عمر كم اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال مرتين . فقالت عايشة لقد علم ابن عمر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد اعتمر ثلاثا سوى التي قرنها بحجة الوداع
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے: ایک عمرہ حدیبیہ کا، دوسرا وہ عمرہ جسے آئندہ سال کرنے پر اتفاق کیا تھا، تیسرا عمرہ جعرانہ کا ۱؎، اور چوتھا وہ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے ساتھ ملایا تھا۔
حدثنا النفيلي، وقتيبة، قالا حدثنا داود بن عبد الرحمن العطار، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم اربع عمر عمرة الحديبية والثانية حين تواطيوا على عمرة من قابل والثالثة من الجعرانة والرابعة التي قرن مع حجته
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے اور وہ تمام ذی قعدہ میں تھے سوائے اس کے جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہاں سے آگے کے الفاظ میں نے ابوالولید سے بھی سنے لیکن انہیں یاد نہیں رکھ سکا، البتہ ہدبہ کے الفاظ اچھی طرح یاد ہیں کہ: ایک حدیبیہ کے زمانے کا، یا حدیبیہ کا عمرہ، دوسرا ذی قعدہ میں قضاء کا عمرہ، تیسرا عمرہ ذی قعدہ میں جعرانہ کا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کا مال غنیمت تقسیم فرمایا، اور چوتھا وہ عمرہ جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، وهدبة بن خالد، قالا حدثنا همام، عن قتادة، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتمر اربع عمر كلهن في ذي القعدة الا التي مع حجته - قال ابو داود اتقنت من ها هنا من هدبة وسمعته من ابي الوليد ولم اضبطه - عمرة زمن الحديبية او من الحديبية وعمرة القضاء في ذي القعدة وعمرة من الجعرانة حيث قسم غنايم حنين في ذي القعدة وعمرة مع حجته
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے فرمایا: عبدالرحمٰن! اپنی بہن عائشہ کو بٹھا کر لے جاؤ اور انہیں تنعیم ۱؎ سے عمرہ کرا لاؤ، جب تم ٹیلوں سے تنعیم میں اترو تو چاہیئے کہ وہ احرام باندھے ہو، کیونکہ یہ مقبول عمرہ ہے ۔
حدثنا عبد الاعلى بن حماد، حدثنا داود بن عبد الرحمن، حدثني عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن يوسف بن ماهك، عن حفصة بنت عبد الرحمن بن ابي بكر، عن ابيها، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لعبد الرحمن " يا عبد الرحمن اردف اختك عايشة فاعمرها من التنعيم فاذا هبطت بها من الاكمة فلتحرم فانها عمرة متقبلة
محرش کعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں داخل ہوئے تو مسجد آئے اور وہاں اللہ نے جتنی چاہا نماز پڑھی، پھر احرام باندھا، پھر اپنی سواری پر جم کر بیٹھ گئے اور وادی سرف کی طرف بڑھے یہاں تک کہ مدینہ کے راستہ سے جا ملے، پھر آپ نے صبح مکہ میں اس طرح کی جیسے کوئی رات کو مکہ میں رہا ہو۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سعيد بن مزاحم بن ابي مزاحم، حدثني ابي مزاحم، عن عبد العزيز بن عبد الله بن اسيد، عن محرش الكعبي، قال دخل النبي صلى الله عليه وسلم الجعرانة فجاء الى المسجد فركع ما شاء الله ثم احرم ثم استوى على راحلته فاستقبل بطن سرف حتى لقي طريق المدينة فاصبح بمكة كبايت
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ قضاء میں تین دن قیام فرمایا۔
حدثنا داود بن رشيد، حدثنا يحيى بن زكريا، حدثنا محمد بن اسحاق، عن ابان بن صالح، وعن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اقام في عمرة القضاء ثلاثا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو طواف افاضہ کیا پھر منی میں ظہر ادا کی یعنی ( طواف سے ) لوٹ کر۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم افاض يوم النحر ثم صلى الظهر بمنى يعني راجعا
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری وہ رات جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے یوم النحر کی شام تھی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اتنے میں وہب بن زمعہ اور ان کے ساتھ ابوامیہ کی اولاد کا ایک شخص دونوں قمیص پہنے میرے یہاں آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہب سے پوچھا: ابوعبداللہ! کیا تم نے طواف افاضہ کر لیا؟ وہ بولے: قسم اللہ کی! نہیں اللہ کے رسول، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنی قمیص اتار دو ، چنانچہ انہوں نے اپنی قمیص اپنے سر سے اتار دی اور ان کے ساتھی نے بھی اپنے سر سے اپنی قمیص اتار دی پھر بولے: اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دن ہے کہ جب تم جمرہ کو کنکریاں مار لو تو تمہارے لیے وہ تمام چیزیں حلال ہو جائیں گی جو تمہارے لیے حالت احرام میں حرام تھیں سوائے عورتوں کے، پھر جب شام کر لو اور بیت اللہ کا طواف نہ کر سکو تو تمہارا احرام باقی رہے گا، اسی طرح جیسے رمی جمرات سے پہلے تھا یہاں تک کہ تم اس کا طواف کر لو ۔
حدثنا احمد بن حنبل، ويحيى بن معين، - المعنى واحد - قالا حدثنا ابن ابي عدي، عن محمد بن اسحاق، حدثنا ابو عبيدة بن عبد الله بن زمعة، عن ابيه، وعن امه، زينب بنت ابي سلمة عن ام سلمة، - يحدثانه جميعا ذاك عنها - قالت كانت ليلتي التي يصير الى فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم مساء يوم النحر فصار الى ودخل على وهب بن زمعة ومعه رجل من ال ابي امية متقمصين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لوهب " هل افضت ابا عبد الله " . قال لا والله يا رسول الله . قال صلى الله عليه وسلم " انزع عنك القميص " . قال فنزعه من راسه ونزع صاحبه قميصه من راسه ثم قال ولم يا رسول الله قال " ان هذا يوم رخص لكم اذا انتم رميتم الجمرة ان تحلوا " . يعني من كل ما حرمتم منه الا النساء " فاذا امسيتم قبل ان تطوفوا هذا البيت صرتم حرما كهييتكم قبل ان ترموا الجمرة حتى تطوفوا به
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کا طواف رات تک مؤخر کیا۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن ابي الزبير، عن عايشة، وابن، عباس ان النبي صلى الله عليه وسلم اخر طواف يوم النحر الى الليل