Loading...

Loading...
کتب
۳۲۵ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال ( فرض ) ہے یا ایک بار؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( ہر سال نہیں ) بلکہ ایک بار ہے اور جو ایک سے زائد بار کرے تو وہ نفل ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوسنان سے مراد ابوسنان دؤلی ہیں، اسی طرح عبدالجلیل بن حمید اور سلیمان بن کثیر نے زہری سے نقل کیا ہے، اور عقیل سے ابوسنان کے بجائے صرف سنان منقول ہے۔
حدثنا زهير بن حرب، وعثمان بن ابي شيبة المعنى، قالا حدثنا يزيد بن هارون، عن سفيان بن حسين، عن الزهري، عن ابي سنان، عن ابن عباس، ان الاقرع بن حابس، سال النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله الحج في كل سنة او مرة واحدة قال " بل مرة واحدة فمن زاد فهو تطوع " . قال ابو داود هو ابو سنان الدولي كذا قال عبد الجليل بن حميد وسليمان بن كثير جميعا عن الزهري وقال عقيل عن سنان
ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں اپنی ازواج مطہرات سے فرماتے سنا: یہی حج ہے پھر چٹائیوں کے پشت ہیں ۱؎۔
حدثنا النفيلي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن زيد بن اسلم، عن ابن لابي، واقد الليثي، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لازواجه في حجة الوداع " هذه ثم ظهور الحصر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان عورت کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ ایک رات کی مسافت کا سفر کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم ہو ۱؎۔
حدثنا قتيبة بن سعيد الثقفي، حدثنا الليث بن سعد، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابيه، ان ابا هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحل لامراة مسلمة تسافر مسيرة ليلة الا ومعها رجل ذو حرمة منها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ ایک دن اور ایک رات کا سفر کرے ۔ پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی جو اوپر گزری۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، والنفيلي، عن مالك، ح وحدثنا الحسن بن علي، حدثنا بشر بن عمر، حدثني مالك، عن سعيد بن ابي سعيد، - قال الحسن في حديثه عن ابيه، ثم اتفقوا - عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر ان تسافر يوما وليلة " . فذكر معناه . قال ابو داود ولم يذكر القعنبي والنفيلي عن ابيه رواه ابن وهب وعثمان بن عمر عن مالك كما قال القعنبي
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر انہوں نے اسی جیسی روایت ذکر کی البتہ اس میں ( دن رات کی مسافت کے بجائے ) «بريدا» کہا ہے ۱؎۔
حدثنا يوسف بن موسى، عن جرير، عن سهيل، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر نحوه الا انه قال " بريدا
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ تین یا اس سے زیادہ دنوں کی مسافت کا سفر کرے سوائے اس صورت کے کہ اس کے ساتھ اس کا باپ ہو یا اس کا بھائی یا اس کا شوہر یا اس کا بیٹا یا اس کا کوئی محرم ۱؎ ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، وهناد، ان ابا معاوية، ووكيعا، حدثاهم عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر ان تسافر سفرا فوق ثلاثة ايام فصاعدا الا ومعها ابوها او اخوها او زوجها او ابنها او ذو محرم منها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: عورت تین دن کا سفر نہ کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبيد الله، قال حدثني نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تسافر المراة ثلاثا الا ومعها ذو محرم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں «صرورة» نہیں ہے ۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا ابو احمد، حدثنا سفيان، عن عبيد الله، عن نافع، ان ابن عمر، كان يردف مولاة له يقال لها صفية تسافر معه الى مكة
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد، - يعني سليمان بن حيان الاحمر - عن ابن جريج، عن عمر بن عطاء، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا صرورة في الاسلام
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد، - يعني سليمان بن حيان الاحمر - عن ابن جريج، عن عمر بن عطاء، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا صرورة في الاسلام
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ حج کو جاتے اور زاد راہ نہیں لے جاتے۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اہل یمن یا اہل یمن میں سے کچھ لوگ حج کو جاتے اور زاد راہ نہیں لیتے اور کہتے: ہم متوکل ( اللہ پر بھروسہ کرنے والے ) ہیں تو اللہ نے آیت کریمہ«وتزودوا فإن خير الزاد التقوى» ۱؎ ( زاد راہ ساتھ لے لو اس لیے کہ بہترین زاد راہ یہ ہے کہ آدمی سوال سے بچے ) نازل فرمائی۔
حدثنا احمد بن الفرات، - يعني ابا مسعود الرازي - ومحمد بن عبد الله المخرمي - وهذا لفظه - قالا حدثنا شبابة، عن ورقاء، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال كانوا يحجون ولا يتزودون - قال ابو مسعود كان اهل اليمن او ناس من اهل اليمن يحجون ولا يتزودون - ويقولون نحن المتوكلون فانزل الله سبحانه { وتزودوا فان خير الزاد التقوى } الاية
حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا جرير، عن يزيد بن ابي زياد، عن مجاهد، عن عبد الله بن عباس، قال قرا هذه الاية { ليس عليكم جناح ان تبتغوا فضلا من ربكم } قال كانوا لا يتجرون بمنى فامروا بالتجارة اذا افاضوا من عرفات
حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا جرير، عن يزيد بن ابي زياد، عن مجاهد، عن عبد الله بن عباس، قال قرا هذه الاية { ليس عليكم جناح ان تبتغوا فضلا من ربكم } قال كانوا لا يتجرون بمنى فامروا بالتجارة اذا افاضوا من عرفات
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حج کا ارادہ کرے تو اسے جلدی انجام دے لے ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو معاوية، محمد بن خازم عن الاعمش، عن الحسن بن عمرو، عن مهران ابي صفوان، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اراد الحج فليتعجل
ابوامامہ تیمی کہتے ہیں کہ میں لوگوں کو سفر حج میں کرائے پر جانور دیتا تھا، لوگ کہتے تھے کہ تمہارا حج نہیں ہوتا، تو میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ملا اور ان سے عرض کیا: ابوعبدالرحمٰن! میں حج میں لوگوں کو جانور کرائے پر دیتا ہوں اور لوگ مجھ سے کہتے ہیں تمہارا حج نہیں ہوتا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم احرام نہیں باندھتے؟ تلبیہ نہیں کہتے؟ بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے؟ عرفات جا کر نہیں لوٹتے؟ رمی جمار نہیں کرتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، تو انہوں نے کہا: تمہارا حج درست ہے، ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے آپ سے اسی طرح کا سوال کیا جو تم نے مجھ سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا اور اسے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ آیت کریمہ «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» تم پر کوئی گناہ نہیں اس میں کہ تم اپنے رب کا فضل ڈھونڈو نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا بھیجا اور اسے یہ آیت پڑھ کر سنائی اور فرمایا: تمہارا حج درست ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا العلاء بن المسيب، حدثنا ابو امامة التيمي، قال كنت رجلا اكري في هذا الوجه وكان ناس يقولون لي انه ليس لك حج فلقيت ابن عمر فقلت يا ابا عبد الرحمن اني رجل اكري في هذا الوجه وان ناسا يقولون لي انه ليس لك حج فقال ابن عمر اليس تحرم وتلبي وتطوف بالبيت وتفيض من عرفات وترمي الجمار قال قلت بلى . قال فان لك حجا جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فساله عن مثل ما سالتني عنه فسكت عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يجبه حتى نزلت هذه الاية { ليس عليكم جناح ان تبتغوا فضلا من ربكم } فارسل اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وقرا عليه هذه الاية وقال " لك حج
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ شروع شروع میں منیٰ، عرفہ اور ذوالمجاز کے بازاروں اور حج کے موسم میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے پھر انہیں حالت احرام میں خرید و فروخت کرنے میں تامل ہوا، تو اللہ نے «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو نازل کیا یعنی حج کے موسم میں۔ عطا کہتے ہیں: مجھ سے عبید بن عمیر نے بیان کیا کہ وہ ( ابن عباس ) اسے «في مواسم الحج» اپنے مصحف میں پڑھا کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا حماد بن مسعدة، حدثنا ابن ابي ذيب، عن عطاء بن ابي رباح، عن عبيد بن عمير، عن عبد الله بن عباس، ان الناس، في اول الحج كانوا يتبايعون بمنى وعرفة وسوق ذي المجاز ومواسم الحج فخافوا البيع وهم حرم فانزل الله سبحانه { ليس عليكم جناح ان تبتغوا فضلا من ربكم } في مواسم الحج . قال فحدثني عبيد بن عمير انه كان يقراها في المصحف
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ حج کے ابتدائی زمانے میں خرید و فروخت کرتے تھے پھر انہوں نے اسی مفہوم کی روایت ان کے قول «مواسم الحج» تک ذکر کیا۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن ابي فديك، اخبرني ابن ابي ذيب، عن عبيد بن عمير، - قال احمد بن صالح كلاما معناه انه مولى ابن عباس - عن عبد الله بن عباس، ان الناس، في اول ما كان الحج كانوا يبيعون فذكر معناه الى قوله مواسم الحج
بداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام روحاء میں تھے کہ آپ کو کچھ سوار ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور پوچھا: کون لوگ ہو؟ ، انہوں نے جواب دیا: ہم مسلمان ہیں، پھر ان لوگوں نے پوچھا: آپ کون ہو؟ لوگوں نے انہیں بتایا کہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو ایک عورت گھبرا گئی پھر اس نے اپنے بچے کا بازو پکڑا اور اسے اپنے محفے ۱؎ سے نکالا اور بولی: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہو جائے گا ۲؎؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اور اجر تمہارے لیے ہے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابراهيم بن عقبة، عن كريب، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم بالروحاء فلقي ركبا فسلم عليهم فقال " من القوم " . فقالوا المسلمون . فقالوا فمن انتم قالوا رسول الله صلى الله عليه وسلم . ففزعت امراة فاخذت بعضد صبي فاخرجته من محفتها فقالت يا رسول الله هل لهذا حج قال " نعم ولك اجر
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لیے جحفہ اور اہل نجد کے لیے قرن کو میقات ۱؎ مقرر کیا، اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لیے یلملم ۲؎ کو میقات مقرر کیا۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، ح وحدثنا احمد بن يونس، حدثنا مالك، عن نافع، عن ابن عمر، قال وقت رسول الله صلى الله عليه وسلم لاهل المدينة ذا الحليفة ولاهل الشام الجحفة ولاهل نجد قرنا وبلغني انه وقت لاهل اليمن يلملم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات مقرر کیا پھر ان دونوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، ان دونوں ( راویوں میں سے ) میں سے ایک نے کہا: اہل یمن کے لیے یلملم ، اور دوسرے نے کہا: «ألملم» ، اس روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان لوگوں کی میقاتیں ہیں اور ان کے علاوہ لوگوں کی بھی جو ان جگہوں سے گزر کر آئیں اور حج و عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں، اور جو لوگ ان کے اندر رہتے ہوں ۔ ابن طاؤس ( اپنی روایت میں ) کہتے ہیں: ان کی میقات وہ ہے جہاں سے وہ سفر شروع کریں یہاں تک کہ اہل مکہ مکہ ہی ۱؎ سے احرام باندھیں گے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، وعن ابن طاوس، عن ابيه، قالا وقت رسول الله صلى الله عليه وسلم بمعناه قال احدهما ولاهل اليمن يلملم . وقال احدهما الملم قال " فهن لهم ولمن اتى عليهن من غير اهلهن ممن كان يريد الحج والعمرة ومن كان دون ذلك . - قال ابن طاوس - من حيث انشا قال وكذلك حتى اهل مكة يهلون منها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عراق کے لیے ذات عرق ۱؎ کو میقات مقرر کیا۔
حدثنا هشام بن بهرام المدايني، حدثنا المعافى بن عمران، عن افلح، - يعني ابن حميد - عن القاسم بن محمد، عن عايشة، رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم وقت لاهل العراق ذات عرق
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مشرق کے لیے عقیق کو میقات مقرر کیا۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن يزيد بن ابي زياد، عن محمد بن علي بن عبد الله بن عباس، عن ابن عباس، قال وقت رسول الله صلى الله عليه وسلم لاهل المشرق العقيق