Loading...

Loading...
کتب
۳۲۵ احادیث
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو مسجد الاقصیٰ سے مسجد الحرام تک حج اور عمرہ کا احرام باندھے تو اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، یا اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی ، راوی عبداللہ کو شک ہے کہ انہوں نے دونوں میں سے کیا کہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اللہ وکیع پر رحم فرمائے کہ انہوں نے بیت المقدس سے مکہ تک کے لیے احرام باندھا۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن ابي فديك، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن يحنس، عن يحيى بن ابي سفيان الاخنسي، عن جدته، حكيمة عن ام سلمة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من اهل بحجة او عمرة من المسجد الاقصى الى المسجد الحرام غفر له ما تقدم من ذنبه وما تاخر " . او " وجبت له الجنة " . شك عبد الله ايتهما قال . قال ابو داود يرحم الله وكيعا احرم من بيت المقدس يعني الى مكة
حارث بن عمرو سہمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ منیٰ میں تھے یا عرفات میں، اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر رکھا تھا، تو اعراب ( دیہاتی ) آتے اور جب آپ کا چہرہ دیکھتے تو کہتے یہ برکت والا چہرہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عراق کے لیے ذات عرق کو میقات مقرر کیا۔
حدثنا ابو معمر عبد الله بن عمرو بن ابي الحجاج، حدثنا عبد الوارث، حدثنا عتبة بن عبد الملك السهمي، حدثني زرارة بن كريم، ان الحارث بن عمرو السهمي، حدثه قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بمنى او بعرفات وقد اطاف به الناس قال فتجيء الاعراب فاذا راوا وجهه قالوا هذا وجه مبارك . قال ووقت ذات عرق لاهل العراق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیوی ) کو مقام شجرہ میں محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی ( ولادت کی ) وجہ سے نفاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ( اسماء سے کہو کہ ) وہ غسل کر لے پھر تلبیہ پکارے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبدة، عن عبيد الله، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت نفست اسماء بنت عميس بمحمد بن ابي بكر بالشجرة فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم ابا بكر ان تغتسل فتهل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حائضہ اور نفاس والی عورتیں جب میقات پر آ جائیں تو غسل کریں، احرام باندھیں اور حج کے تمام مناسک ادا کریں سوائے بیت اللہ کے طواف کے ۱؎ ۔ ابومعمر نے اپنی حدیث میں «حتى تطهر» یہاں تک کہ پاک ہو جائیں کا اضافہ کیا۔ ابن عیسیٰ نے عکرمہ اور مجاہد کا ذکر نہیں کیا، بلکہ یوں کہا: «عن عطاء عن ابن عباس» اور ابن عیسیٰ نے «كلها» کا لفظ بھی نقل نہیں کیا بلکہ صرف «المناسك إلا الطواف بالبيت» مناسک پورے کریں بجز خانہ کعبہ کے طواف کے کہا۔
حدثنا محمد بن عيسى، واسماعيل بن ابراهيم ابو معمر، قالا حدثنا مروان بن شجاع، عن خصيف، عن عكرمة، ومجاهد، وعطاء، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الحايض والنفساء اذا اتتا على الوقت تغتسلان وتحرمان وتقضيان المناسك كلها غير الطواف بالبيت " . قال ابو معمر في حديثه حتى تطهر ولم يذكر ابن عيسى عكرمة ومجاهدا قال عن عطاء عن ابن عباس ولم يقل ابن عيسى " كلها " . قال " المناسك الا الطواف بالبيت
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ احرام باندھتے تو احرام باندھنے سے پہلے اور احرام کھولنے کے بعد اس سے پہلے کہ آپ طواف کریں خوشبو لگایا کرتی تھی ۱؎۔
حدثنا القعنبي، واحمد بن يونس، قالا حدثنا مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت كنت اطيب رسول الله صلى الله عليه وسلم لاحرامه قبل ان يحرم ولاحلاله قبل ان يطوف بالبيت
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ احرام باندھے ہوئے ہیں۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا اسماعيل بن زكريا، عن الحسن بن عبيد الله، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كاني انظر الى وبيص المسك في مفرق رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو محرم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلبیہ پڑھتے سنا اور آپ اپنے سر کی تلبید ۱؎ کئے ہوئے تھے۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن سالم، - يعني ابن عبد الله - عن ابيه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يهل ملبدا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کے بال شہد سے جمائے۔
حدثنا عبيد الله بن عمر، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا محمد بن اسحاق، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم لبد راسه بالعسل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے سال ہدی ۱؎ کے لیے جو اونٹ بھیجا ان میں ایک اونٹ ابوجہل کا ۲؎ تھا، اس کے سر میں چاندی کا چھلا پڑا تھا، ابن منہال کی روایت میں ہے کہ سونے کا چھلا تھا ، نفیلی کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کو غصہ دلا رہے تھے ۳؎ ۔
حدثنا النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، حدثنا محمد بن اسحاق، ح وحدثنا محمد بن المنهال، حدثنا يزيد بن زريع، عن ابن اسحاق، - المعنى - قال قال عبد الله - يعني ابن ابي نجيح - حدثني مجاهد عن ابن عباس ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اهدى عام الحديبية في هدايا رسول الله صلى الله عليه وسلم جملا كان لابي جهل في راسه برة فضة . قال ابن منهال برة من ذهب زاد النفيلي يغيظ بذلك المشركين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آل ۱؎ کی طرف سے ایک گائے کی قربانی کی ۲؎۔
حدثنا ابن السرح، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عمرة بنت عبد الرحمن، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نحر عن ال محمد في حجة الوداع بقرة واحدة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ان تمام ازواج مطہرات کی طرف سے جنہوں نے عمرہ کیا تھا ( حجۃ الوداع کے موقعہ پر ) ایک گائے ذبح کی۔
حدثنا عمرو بن عثمان، ومحمد بن مهران الرازي، قالا حدثنا الوليد، عن الاوزاعي، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ذبح عمن اعتمر من نسايه بقرة بينهن
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی الحلیفہ میں ظہر پڑھی پھر آپ نے ہدی کا اونٹ منگایا اور اس کے کوہان کے داہنی جانب اشعار ۱؎ کیا، پھر اس سے خون صاف کیا اور اس کی گردن میں دو جوتیاں پہنا دیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی جب آپ اس پر بیٹھ گئے اور وہ مقام بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پڑھا۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، وحفص بن عمر، - المعنى - قالا حدثنا شعبة، عن قتادة، - قال ابو الوليد - قال سمعت ابا حسان، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الظهر بذي الحليفة ثم دعا ببدنة فاشعرها من صفحة سنامها الايمن ثم سلت عنها الدم وقلدها بنعلين ثم اتي براحلته فلما قعد عليها واستوت به على البيداء اهل بالحج
اس سند سے بھی شعبہ سے یہی حدیث ابوالولید کے روایت کے مفہوم کی طرح مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: «ثم سلت الدم بيده» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے خون صاف کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہمام کی روایت میں «سلت الدم عنها بإصبعه»کے الفاظ ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف اہل بصرہ کی سنن میں سے ہے جو اس میں منفرد ہیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، بهذا الحديث بمعنى ابي الوليد قال ثم سلت الدم بيده . قال ابو داود رواه همام قال سلت الدم عنها باصبعه . قال ابو داود هذا من سنن اهل البصرة الذي تفردوا به
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما اور مروان دونوں سے روایت ہے، وہ دونوں کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال نکلے جب آپ ذی الحلیفہ پہنچے تو ہدی ۱؎ کو قلادہ پہنایا اور اس کا اشعار کیا اور احرام باندھا۔
حدثنا عبد الاعلى بن حماد، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عروة، عن المسور بن مخرمة، ومروان، انهما قالا خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الحديبية فلما كان بذي الحليفة قلد الهدى واشعره واحرم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی بکریاں قلادہ پہنا کر ہدی میں بھیجیں۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن منصور، والاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اهدى غنما مقلدة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک بختی اونٹ ہدی کیا پھر انہیں اس کی قیمت تین سو دینار دی گئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میں نے بختی اونٹ ہدی کیا اس کے بعد مجھے اس کی قیمت تین سو دینار مل رہی ہے، کیا میں اسے بیچ کر اس کی قیمت سے ( ہدی کے لیے ) ایک اونٹ خرید لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں اسی کو نحر کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ممانعت ( نہی ) اس لیے تھی کہ وہ اس کا اشعار کر چکے تھے۔
حدثنا النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن ابي عبد الرحيم، - قال ابو داود ابو عبد الرحيم خالد بن ابي يزيد خال محمد بن سلمة روى عنه، حجاج بن محمد - عن جهم بن الجارود، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، قال اهدى عمر بن الخطاب نجيبا فاعطي بها ثلاثماية دينار فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني اهديت نجيبا فاعطيت بها ثلاثماية دينار افابيعها واشتري بثمنها بدنا قال " لا انحرها اياها " . قال ابو داود هذا لانه كان اشعرها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے لیے قلادے بٹے پھر آپ نے انہیں اشعار کیا اور قلادہ ۱؎ پہنایا پھر انہیں بیت اللہ کی طرف بھیج دیا اور خود مکہ میں مقیم رہے اور کوئی چیز جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال تھی آپ پر حرام نہیں ہوئی ۲؎۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، حدثنا افلح بن حميد، عن القاسم، عن عايشة، قالت فتلت قلايد بدن رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدى ثم اشعرها وقلدها ثم بعث بها الى البيت واقام بالمدينة فما حرم عليه شىء كان له حلا
عروہ اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی بھیجتے تو میں آپ کی ہدی کے قلادے بٹتی اس کے بعد آپ کسی چیز سے اجتناب نہیں کرتے جس سے محرم اجتناب کرتا ہے۔
حدثنا يزيد بن خالد الرملي الهمداني، وقتيبة بن سعيد، ان الليث بن سعد، حدثهم عن ابن شهاب، عن عروة، وعمرة بنت عبد الرحمن، ان عايشة، - رضى الله عنها - قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يهدي من المدينة فافتل قلايد هديه ثم لا يجتنب شييا مما يجتنب المحرم
ام المؤمنین (عائشہ) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی روانہ کئے تو میں نے اپنے ہاتھ سے اس اون سے ان کے قلادے بٹے جو ہمارے پاس تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال ہو کر ہم میں صبح کی آپ نے وہ تمام کام کئے جو ایک حلال ( غیر مُحرم ) آدمی اپنی بیوی سے کرتا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا ابن عون، عن القاسم بن محمد، وعن ابراهيم، - زعم انه سمعه منهما، جميعا ولم يحفظ حديث هذا من حديث هذا ولا حديث هذا من حديث هذا - قالا قالت ام المومنين بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم بالهدى فانا فتلت قلايدها بيدي من عهن كان عندنا ثم اصبح فينا حلالا ياتي ما ياتي الرجل من اهله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ہدی کا اونٹ ہانک کر لے جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ ، وہ بولا: یہ ہدی کا اونٹ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ، تمہارا برا ہو ۱؎ ، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری یا تیسری بار میں فرمایا۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى رجلا يسوق بدنة . فقال " اركبها " . قال انها بدنة . فقال " اركبها ويلك " . في الثانية او في الثالثة