Loading...

Loading...
کتب
۳۲۵ احادیث
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ہدی پر سوار ہونے کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے، جب تم اس کے لیے مجبور کر دئیے جاؤ تو اس پر سوار ہو جاؤ بھلائی کے ساتھ یہاں تک کہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے ۱؎۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن جريج، اخبرني ابو الزبير، سالت جابر بن عبد الله عن ركوب الهدى، فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اركبها بالمعروف اذا الجيت اليها حتى تجد ظهرا
ناجیہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ہدی بھیجا اور فرمایا: اگر ان میں سے کوئی مرنے لگے تو اس کو نحر کر لینا پھر اس کی جوتی اسی کے خون میں رنگ کر اسے لوگوں کے واسطے چھوڑ دینا ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن هشام، عن ابيه، عن ناجية الاسلمي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث معه بهدى فقال " ان عطب منها شىء فانحره ثم اصبغ نعله في دمه ثم خل بينه وبين الناس
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں اسلمی کو ہدی کے اٹھارہ اونٹ دے کر بھیجا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کوئی ( چلنے سے ) عاجز ہو جائے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے نحر کر دینا پھر اس کے جوتے کو اسی کے خون میں رنگ کر اس کی گردن کے ایک جانب چھاپ لگا دینا اور اس میں سے کچھ مت کھانا ۱؎ اور نہ ہی تمہارے ساتھ والوں میں سے کوئی کھائے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: «من أهل رفقتك» یعنی تمہارے رفقاء میں سے کوئی نہ کھائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالوارث کی حدیث میں «اضربها» کے بجائے «ثم اجعله على صفحتها» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے ابوسلمہ کو کہتے سنا: جب تم نے سند اور معنی درست کر لیا تو تمہیں کافی ہے۔
حدثنا سليمان بن حرب، ومسدد، قالا حدثنا حماد، ح حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، - وهذا حديث مسدد - عن ابي التياح، عن موسى بن سلمة، عن ابن عباس، قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم فلانا الاسلمي وبعث معه بثمان عشرة بدنة فقال ارايت ان ازحف على منها شىء قال " تنحرها ثم تصبغ نعلها في دمها ثم اضربها على صفحتها ولا تاكل منها انت ولا احد من اصحابك " . او قال " من اهل رفقتك " . قال ابو داود الذي تفرد به من هذا الحديث قوله " ولا تاكل منها انت ولا احد من اهل رفقتك " . وقال في حديث عبد الوارث " ثم اجعله على صفحتها " . مكان " اضربها " . قال ابو داود سمعت ابا سلمة يقول اذا اقمت الاسناد والمعنى كفاك
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہدی کے اونٹوں کا نحر کیا تو اپنے ہاتھ سے تیس ( ۳۰ ) اونٹ نحر کئے پھر مجھے حکم دیا تو باقی سارے میں نے نحر کئے۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا محمد، ويعلى، ابنا عبيد قالا حدثنا محمد بن اسحاق، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن علي، - رضى الله عنه - قال لما نحر رسول الله صلى الله عليه وسلم بدنه فنحر ثلاثين بيده وامرني فنحرت سايرها
عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک سب سے عظیم دن یوم النحر ہے پھر یوم القر ہے ۱؎ ، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پانچ یا چھ اونٹنیاں لائی گئیں، تو ان میں سے ہر ایک آگے بڑھنے لگی کہ آپ نحر کی ابتداء اس سے کریں جب وہ گر گئیں تو آپ نے آہستہ سے کچھ کہا جو میں نہ سمجھ سکا تو میں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چاہے اس میں سے گوشت کاٹ لے ۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا عيسى، ح وحدثنا مسدد، اخبرنا عيسى، - وهذا لفظ ابراهيم - عن ثور، عن راشد بن سعد، عن عبد الله بن عامر بن لحى، عن عبد الله بن قرط، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان اعظم الايام عند الله تبارك وتعالى يوم النحر ثم يوم القر " . قال عيسى قال ثور وهو اليوم الثاني . قال وقرب لرسول الله صلى الله عليه وسلم بدنات خمس او ست فطفقن يزدلفن اليه بايتهن يبدا فلما وجبت جنوبها - قال فتكلم بكلمة خفية لم افهمها فقلت ما قال - قال " من شاء اقتطع
عرفہ بن حارث کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، ہدی کے اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوالحسن ( علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) کو بلاؤ ، چنانچہ آپ کے پاس علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم برچھی کا نچلا سرا پکڑو ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کا سرا پکڑا پھر اونٹوں کو نحر کیا جب فارغ ہو گئے تو اپنے خچر پر سوار ہوئے اور علی کو اپنے پیچھے سوار کر لیا۔
حدثنا محمد بن حاتم، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن حرملة بن عمران، عن عبد الله بن الحارث الازدي، قال سمعت غرفة بن الحارث الكندي، قال شهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع واتي بالبدن فقال " ادعوا لي ابا حسن " . فدعي له علي - رضى الله عنه - فقال له " خذ باسفل الحربة " . واخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم باعلاها ثم طعن بها في البدن فلما فرغ ركب بغلته واردف عليا رضى الله عنه
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ( ابن جریج کہتے ہیں: نیز مجھے عبدالرحمٰن بن سابط نے ( مرسلاً ) خبر دی ہے ) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام اونٹ کا بایاں پاؤں باندھ کر اور باقی پیروں پر کھڑا کر کے اسے نحر کرتے
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر، واخبرني عبد الرحمن بن سابط، ان النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه كانوا ينحرون البدنة معقولة اليسرى قايمة على ما بقي من قوايمها
یونس کہتے ہیں مجھے زیاد بن جبیر نے خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں میں منیٰ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ ان کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو اپنا اونٹ بٹھا کر نحر کر رہا تھا انہوں نے کہا: کھڑا کر کے ( بایاں پیر ) باندھ کر نحر کرو، یہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا هشيم، اخبرنا يونس، اخبرني زياد بن جبير، قال كنت مع ابن عمر بمنى فمر برجل وهو ينحر بدنته وهي باركة فقال ابعثها قياما مقيدة سنة محمد صلى الله عليه وسلم
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے ہدی کے اونٹوں کے پاس کھڑا ہو کر ان کی کھالیں اور جھولیں تقسیم کروں اور مجھے حکم دیا کہ اس میں سے قصاب کو کچھ بھی نہ دوں اور فرمایا: اسے ہم اپنے پاس سے ( اجرت ) دیں گے۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا سفيان، - يعني ابن عيينة - عن عبد الكريم الجزري، عن مجاهد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن علي، - رضى الله عنه - قال امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اقوم على بدنه واقسم جلودها وجلالها وامرني ان لا اعطي الجزار منها شييا وقال " نحن نعطيه من عندنا
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ابوالعباس! مجھے تعجب ہے کہ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھنے کے سلسلے میں اختلاف رکھتے ہیں کہ آپ نے احرام کب باندھا؟ تو انہوں نے کہا: اس بات کو لوگوں میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی حج کیا تھا اسی وجہ سے لوگوں نے اختلاف کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کی نیت کر کے مدینہ سے نکلے، جب ذی الحلیفہ کی اپنی مسجد میں آپ نے اپنی دو رکعتیں ادا کیں تو اسی مجلس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا اور دو رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد حج کا تلبیہ پڑھا، لوگوں نے اس کو سنا اور میں نے اس کو یاد رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پڑھا، بعض لوگوں نے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلبیہ پڑھتے ہوئے پایا، اور یہ اس وجہ سے کہ لوگ الگ الگ ٹکڑیوں میں آپ کے پاس آتے تھے، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر اٹھی تو انہوں نے آپ کو تلبیہ پکارتے ہوئے سنا تو کہا: آپ نے تلبیہ اس وقت کہا ہے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے، جب مقام بیداء کی اونچائی پر چڑھے تو تلبیہ کہا تو بعض لوگوں نے اس وقت اسے سنا تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت تلبیہ کہا ہے جب آپ بیداء کی اونچائی پر چڑھے حالانکہ اللہ کی قسم آپ نے وہیں تلبیہ کہا تھا جہاں آپ نے نماز پڑھی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تلبیہ کہا جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی ہوئی اور پھر آپ نے بیداء کی اونچائی چڑھتے وقت تلبیہ کہا۔ سعید کہتے ہیں: جس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات کو لیا تو اس نے اس جگہ پر جہاں اس نے نماز پڑھی اپنی دونوں رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد تلبیہ کہا۔
حدثنا محمد بن منصور، حدثنا يعقوب، - يعني ابن ابراهيم - حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، قال حدثني خصيف بن عبد الرحمن الجزري، عن سعيد بن جبير، قال قلت لعبد الله بن عباس يا ابا العباس عجبت لاختلاف اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم في اهلال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين اوجب . فقال اني لاعلم الناس بذلك انها انما كانت من رسول الله صلى الله عليه وسلم حجة واحدة فمن هناك اختلفوا خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم حاجا فلما صلى في مسجده بذي الحليفة ركعتيه اوجب في مجلسه فاهل بالحج حين فرغ من ركعتيه فسمع ذلك منه اقوام فحفظته عنه ثم ركب فلما استقلت به ناقته اهل وادرك ذلك منه اقوام وذلك ان الناس انما كانوا ياتون ارسالا فسمعوه حين استقلت به ناقته يهل فقالوا انما اهل رسول الله صلى الله عليه وسلم حين استقلت به ناقته ثم مضى رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما علا على شرف البيداء اهل وادرك ذلك منه اقوام فقالوا انما اهل حين علا على شرف البيداء وايم الله لقد اوجب في مصلاه واهل حين استقلت به ناقته واهل حين علا على شرف البيداء . قال سعيد فمن اخذ بقول عبد الله بن عباس اهل في مصلاه اذا فرغ من ركعتيه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ یہی وہ بیداء کا مقام ہے جس کے بارے میں تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غلط بیان کرتے ہو کہ آپ نے تو مسجد یعنی ذی الحلیفہ کی مسجد کے پاس ہی سے تلبیہ کہا تھا۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن موسى بن عقبة، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، انه قال بيداوكم هذه التي تكذبون على رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها ما اهل رسول الله صلى الله عليه وسلم الا من عند المسجد يعني مسجد ذي الحليفة
عبید بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! میں نے آپ کو چار کام ایسے کرتے دیکھا ہے جنہیں میں نے آپ کے اصحاب میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا ہے؟ انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہیں ابن جریج؟ وہ بولے: میں نے دیکھا کہ آپ صرف رکن یمانی اور حجر اسود کو چھوتے ہیں، اور دیکھا کہ آپ ایسی جوتیاں پہنتے ہیں جن کے چمڑے میں بال نہیں ہوتے، اور دیکھا آپ زرد خضاب لگاتے ہیں، اور دیکھا کہ جب آپ مکہ میں تھے تو لوگوں نے چاند دیکھتے ہی احرام باندھ لیا لیکن آپ نے یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کے آنے تک احرام نہیں باندھا، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رہی رکن یمانی اور حجر اسود کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف انہیں دو کو چھوتے دیکھا ہے، اور رہی بغیر بال کی جوتیوں کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی جوتیاں پہنتے دیکھی ہیں جن میں بال نہیں تھے اور آپ ان میں وضو کرتے تھے، لہٰذا میں بھی انہی کو پہننا پسند کرتا ہوں، اور رہی زرد خضاب کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زرد رنگ کا خضاب لگاتے دیکھا ہے، لہٰذا میں بھی اسی کو پسند کرتا ہوں، اور احرام کے بارے میں یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تک لبیک پکارتے نہیں دیکھا جب تک کہ آپ کی سواری آپ کو لے کر چلنے کے لیے کھڑی نہ ہو جاتی۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن عبيد بن جريج، انه قال لعبد الله بن عمر يا ابا عبد الرحمن رايتك تصنع اربعا لم ار احدا من اصحابك يصنعها . قال ما هن يا ابن جريج قال رايتك لا تمس من الاركان الا اليمانيين ورايتك تلبس النعال السبتية ورايتك تصبغ بالصفرة ورايتك اذا كنت بمكة اهل الناس اذا راوا الهلال ولم تهل انت حتى كان يوم التروية . فقال عبد الله بن عمر اما الاركان فاني لم ار رسول الله صلى الله عليه وسلم يمس الا اليمانيين واما النعال السبتية فاني رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبس النعال التي ليس فيها شعر ويتوضا فيها فانا احب ان البسها واما الصفرة فاني رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصبغ بها فانا احب ان اصبغ بها واما الاهلال فاني لم ار رسول الله صلى الله عليه وسلم يهل حتى تنبعث به راحلته
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعت اور ذی الحلیفہ میں عصر دو رکعت ادا کی، پھر ذی الحلیفہ میں رات گزاری یہاں تک کہ صبح ہو گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھے اور وہ آپ کو لے کر سیدھی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پڑھا۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا محمد بن بكر، حدثنا ابن جريج، عن محمد بن المنكدر، عن انس، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر بالمدينة اربعا وصلى العصر بذي الحليفة ركعتين ثم بات بذي الحليفة حتى اصبح فلما ركب راحلته واستوت به اهل
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر اپنی سواری پر بیٹھے جب بیداء کے پہاڑ پر چڑھے تو تلبیہ پڑھا۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا روح، حدثنا اشعث، عن الحسن، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى الظهر ثم ركب راحلته فلما علا على جبل البيداء اهل
عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص کہتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرع کا راستہ ( جو مکہ کو جاتا ہے ) اختیار کرتے تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری آپ کو لے کر سیدھی ہو جاتی تو آپ تلبیہ پڑھتے اور جب آپ احد کا راستہ اختیار کرتے تو بیداء کی پہاڑی پر چڑھتے وقت تلبیہ پڑھتے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا وهب، - يعني ابن جرير - قال حدثنا ابي قال، سمعت محمد بن اسحاق، يحدث عن ابي الزناد، عن عايشة بنت سعد بن ابي وقاص، قالت قال سعد بن ابي وقاص كان نبي الله صلى الله عليه وسلم اذا اخذ طريق الفرع اهل اذا استقلت به راحلته واذا اخذ طريق احد اهل اذا اشرف على جبل البيداء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میں حج میں شرط لگانا چاہتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ( لگا سکتی ہو ) ، انہوں نے کہا: تو میں کیسے کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو! «لبيك اللهم لبيك، ومحلي من الأرض حيث حبستني» حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں، اور میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عباد بن العوام، عن هلال بن خباب، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان ضباعة بنت الزبير بن عبد المطلب، اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله اني اريد الحج ااشترط قال " نعم " . قالت فكيف اقول قال " قولي لبيك اللهم لبيك ومحلي من الارض حيث حبستني
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، حدثنا مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم افرد الحج
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ذی الحجہ کا چاند نکلنے کو ہوا تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب آپ ذی الحلیفہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو حج کا احرام باندھنا چاہے وہ حج کا احرام باندھے، اور جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے وہ عمرہ کا باندھے ۔ موسیٰ نے وہیب والی روایت میں کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ہدی نہ لے چلتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا ۔ اور حماد بن سلمہ کی حدیث میں ہے: رہا میں تو میں حج کا احرام باندھتا ہوں کیونکہ میرے ساتھ ہدی ہے ۔ آگے دونوں راوی متفق ہیں ( ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ) میں عمرے کا احرام باندھنے والوں میں تھی، آپ ابھی راستہ ہی میں تھے کہ مجھے حیض آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیوں رو رہی ہو؟ ، میں نے عرض کیا: میری خواہش یہ ہو رہی ہے کہ میں اس سال نہ نکلتی ( تو بہتر ہوتا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا عمرہ چھوڑ دو، سر کھول لو اور کنگھی کر لو ۔ موسیٰ کی روایت میں ہے: اور حج کا احرام باندھ لو ، اور سلیمان کی روایت میں ہے: اور وہ تمام کام کرو جو مسلمان اپنے حج میں کرتے ہیں ۔ تو جب طواف زیارت کی رات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کو حکم دیا چنانچہ وہ انہیں مقام تنعیم لے کر گئے۔ موسیٰ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے اس عمرے کے عوض ( جو ان سے چھوٹ گیا تھا ) دوسرے عمرے کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف کیا، اس طرح اللہ نے ان کے عمرے اور حج دونوں کو پورا کر دیا۔ ہشام کہتے ہیں: اور اس میں ان پر اس سے کوئی ہدی لازم نہیں ہوئی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: موسیٰ نے حماد بن سلمہ کی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ جب بطحاء ۱؎ کی رات آئی تو عائشہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہو گئیں۔
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد بن زيد، ح وحدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد يعني ابن سلمة، ح وحدثنا موسى، حدثنا وهيب، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، انها قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم موافين هلال ذي الحجة فلما كان بذي الحليفة قال " من شاء ان يهل بحج فليهل ومن شاء ان يهل بعمرة فليهل بعمرة " . قال موسى في حديث وهيب " فاني لولا اني اهديت لاهللت بعمرة " . وقال في حديث حماد بن سلمة " واما انا فاهل بالحج فان معي الهدى " . ثم اتفقوا فكنت فيمن اهل بعمرة فلما كان في بعض الطريق حضت فدخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا ابكي فقال " ما يبكيك " . قلت وددت اني لم اكن خرجت العام . قال " ارفضي عمرتك وانقضي راسك وامتشطي " . قال موسى " واهلي بالحج " . وقال سليمان " واصنعي ما يصنع المسلمون في حجهم " . فلما كان ليلة الصدر امر - يعني رسول الله صلى الله عليه وسلم - عبد الرحمن فذهب بها الى التنعيم . زاد موسى فاهلت بعمرة مكان عمرتها وطافت بالبيت فقضى الله عمرتها وحجها . قال هشام ولم يكن في شىء من ذلك هدى . قال ابو داود زاد موسى في حديث حماد بن سلمة فلما كانت ليلة البطحاء طهرت عايشة رضى الله عنها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہم میں کچھ ایسے لوگ تھے جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا، اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا، اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے صرف حج کا احرام باندھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا، چنانچہ جن لوگوں نے حج کا یا حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا انہوں نے یوم النحر ( یعنی دسویں ذی الحجہ ) تک احرام نہیں کھولا۔
حدثنا القعنبي عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي الاسود، محمد بن عبد الرحمن بن نوفل عن عروة بن الزبير، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام حجة الوداع فمنا من اهل بعمرة ومنا من اهل بحج وعمرة ومنا من اهل بالحج واهل رسول الله صلى الله عليه وسلم بالحج فاما من اهل بالحج او جمع الحج والعمرة فلم يحلوا حتى كان يوم النحر
اس سند سے بھی ابوالاسود سے اسی طریق سے اسی کے مثل مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: رہے وہ لوگ جنہوں نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا تو ان لوگوں نے ( عمرہ کر کے ) احرام کھول دیا ۔
حدثنا ابن السرح، اخبرنا ابن وهب، اخبرني مالك، عن ابي الاسود، باسناده مثله زاد فاما من اهل بعمرة فاحل