احادیث
#1778
سنن ابی داؤد - The Rites of Hajj
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ذی الحجہ کا چاند نکلنے کو ہوا تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب آپ ذی الحلیفہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو حج کا احرام باندھنا چاہے وہ حج کا احرام باندھے، اور جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے وہ عمرہ کا باندھے ۔ موسیٰ نے وہیب والی روایت میں کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ہدی نہ لے چلتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا ۔ اور حماد بن سلمہ کی حدیث میں ہے: رہا میں تو میں حج کا احرام باندھتا ہوں کیونکہ میرے ساتھ ہدی ہے ۔ آگے دونوں راوی متفق ہیں ( ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ) میں عمرے کا احرام باندھنے والوں میں تھی، آپ ابھی راستہ ہی میں تھے کہ مجھے حیض آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیوں رو رہی ہو؟ ، میں نے عرض کیا: میری خواہش یہ ہو رہی ہے کہ میں اس سال نہ نکلتی ( تو بہتر ہوتا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا عمرہ چھوڑ دو، سر کھول لو اور کنگھی کر لو ۔ موسیٰ کی روایت میں ہے: اور حج کا احرام باندھ لو ، اور سلیمان کی روایت میں ہے: اور وہ تمام کام کرو جو مسلمان اپنے حج میں کرتے ہیں ۔ تو جب طواف زیارت کی رات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کو حکم دیا چنانچہ وہ انہیں مقام تنعیم لے کر گئے۔ موسیٰ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے اس عمرے کے عوض ( جو ان سے چھوٹ گیا تھا ) دوسرے عمرے کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف کیا، اس طرح اللہ نے ان کے عمرے اور حج دونوں کو پورا کر دیا۔ ہشام کہتے ہیں: اور اس میں ان پر اس سے کوئی ہدی لازم نہیں ہوئی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: موسیٰ نے حماد بن سلمہ کی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ جب بطحاء ۱؎ کی رات آئی تو عائشہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہو گئیں۔
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد بن زيد، ح وحدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد يعني ابن سلمة، ح وحدثنا موسى، حدثنا وهيب، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، انها قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم موافين هلال ذي الحجة فلما كان بذي الحليفة قال " من شاء ان يهل بحج فليهل ومن شاء ان يهل بعمرة فليهل بعمرة " . قال موسى في حديث وهيب " فاني لولا اني اهديت لاهللت بعمرة " . وقال في حديث حماد بن سلمة " واما انا فاهل بالحج فان معي الهدى " . ثم اتفقوا فكنت فيمن اهل بعمرة فلما كان في بعض الطريق حضت فدخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا ابكي فقال " ما يبكيك " . قلت وددت اني لم اكن خرجت العام . قال " ارفضي عمرتك وانقضي راسك وامتشطي " . قال موسى " واهلي بالحج " . وقال سليمان " واصنعي ما يصنع المسلمون في حجهم " . فلما كان ليلة الصدر امر - يعني رسول الله صلى الله عليه وسلم - عبد الرحمن فذهب بها الى التنعيم . زاد موسى فاهلت بعمرة مكان عمرتها وطافت بالبيت فقضى الله عمرتها وحجها . قال هشام ولم يكن في شىء من ذلك هدى . قال ابو داود زاد موسى في حديث حماد بن سلمة فلما كانت ليلة البطحاء طهرت عايشة رضى الله عنها
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- The Rites of Hajj
- Hadith Index
- #1778
- Book Index
- 58
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidSahih
- Shuaib Al ArnautSahih
- Zubair Ali ZaiSahih
